بوسنیا کی چشم دید کہانی (44)
عید کے دوسرے دن موسطار میں ایک ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس نے پرانے زخموں کو تازہ اور نفرتوں کو اور گہرا کر دیا۔ مغربی موسطار میں جہاں اب کروایٹوں کی اکثریت تھی، مسلمانوں کا ایک بڑا قبرستان واقع تھا۔ مشرقی موسطار کے مسلمانوں نے جنگ کے خاتمے کے بعد آج پہلی مرتبہ دریائے نرٹوا عبور کر کے اپنے اجداد کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے جانا تھا۔ اس دورے کا اہتمام یو این انتظامیہ کی کوششوں سے کروایٹوں کو اعتماد میں لے کر کیا گیا تھا۔ صبح نو بجے کے لگ بھگ مشرقی موسطار کے مسلمانوں کا کوئی پچاس کے قریب، مردوزن اور بچوں پر مشتمل قافلہ چند راہنماؤں کی قیادت میں IPTF کے اعلیٰ حکام کی معیت میں مغربی موسطار کے لیے پیدل روانہ ہوا۔ مارشل ٹیٹو پل کو عبور کرنے کے بعد وہ شہر کے غربی حصہ میں داخل ہوئے ہی تھے کہ پلک جھپکنے میں ایک طرف سے کروایٹوں کا ایک مسلح گروہ نمودار ہوا اور قافلے پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ ایک شخص جاں بحق ہو گیا اور کچھ زخمی ہوئے۔ باقی قافلہ الٹے قدموں بھاگ نکلا۔
جنگ کے بعد پورے بوسنیا میں کھلی جارحیت کا یہ پہلا واقعہ تھا، جس کی خبر جنگل کی آگ کی طرح بوسنیا کی سرحدوں سے باہر تک پھیل گئی۔ مغربی یورپ کے نشریاتی اداروں نے اسے بار بار نشر کر کے اور نمایاں کر دیا۔ اس واقعے کا بنیادی ذمہ دار تو اگرچہ کروایٹ انتظامیہ کو ٹھہرایا گیا لیکن IPTF کی انتظامی نا اہلی کو بھی نظر انداز نہ کیا گیا۔ یوں ایک ایسا شخص سزاوار ٹھہرا جس کی انتظامی اہلیت کا اعتراف اس کے مخالفین بھی کرتے تھے۔ ریجنل کمانڈر فرینک سرور کو اس کے عہدے سے ہٹا کر سرائیوو بھیج دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد وہ ایک ماہ کی چھٹی لے کر امریکہ چلا گیا۔ جب واپس آیا تو یہ محسوس کرتے ہوئےکہ اب اسے عام حیثیت میں یو این کے ساتھ کام کرنا پڑے گا اس نے مشن چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
وطن واپسی سے قبل وہ سٹولک ہمیں ملنے آیا۔ میں، بل، میرا اور سلاجہ اسے لبِ بریگا وا واقع اس کے پسندیدہ کیفے بار میں کھانا کھلانے لے گئے۔ کھانے کے دوران بل نے اس سے پوچھا
فرینک وطن واپسی کے بعد کیا ارادے ہیں
قبل از وقت مشن کےختم ہونے سے جو مالی نقصان ہوا ہے اس کی پریشانی ہے۔ کوشش ہو گی کہ اس کی تلافی کی کوئی صورت بن جائے۔ وہ بولا
اس کے امکانات تو شاید نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بل بولا
نہیں صورت حال کچھ ایسی مایوس کن بھی نہیں۔ ہالی وڈ میں ایسے خبطی فلم سازوں کی کمی نہیں جن کے لیے میری کہانی دل چسپی کا باعث ہو گی۔ فرینک نے پر اعتماد لہجے میں کہا
تمہاری کہانی یقینی طور پر دلچسپ ہے لیکن جو کچھ تم نے عملی زندگی میں کیا ہے عام آدمی کے لیے اس کی اداکاری بھی کچھ ایسی آسان نہیں۔ بل بولا
نہ معلوم یہ طنز تھا کہ تعریف۔ لیکن سب کھل کھلا کر ہنس پڑے
موسطار کے واقعے کے بعد مسلمان بار بار یہ سوال اُٹھاتے تھے کہ اگر کروایٹ علاقے میں ان کا جزوقتی قیام بھی غیر محفوظ رہا تو پھر سٹولک میں مستقل آباد کاری کے بعد تحفظ کی کیا ضمانت ہے۔ اس سوال کا جواب چونکہ ایسا آسان نہ تھا لہٰذا سٹولک میں مسلمانوں کی واپسی کا منصوبہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گیا۔
انھی دنوں اسٹیشن کمانڈر کرس، اس کے ساتھی بولک اور ہسپانوی ساتھیوں مینوئیل اور رُوقے کے مشن کی مدت ختم ہوئی۔ ہسپانوی ساتھی تو بس رسمی انداز میں ہیلو ہائے کرتے اپنے دیس کو سدھار گئے، لیکن کرس اور بولک کا معاملہ مختلف ٹھہرا۔ کرس اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود ایک ہر دل عزیز کمانڈر تھا۔ اس حوالے سے اگر اس کا کوئی حریف تھا تو بس بولک۔ وہ دونوں چند ہی دن قبل اپنی آخری چھٹی پولینڈ میں گزار کر واپس لوٹے تھے۔ کرس واپسی پر اپنی بیوی کو بھی اپنے ہمراہ لایا تھا۔ میں نے پہلے بھی ایک جگہ اس مشاہدے کو بیان کیا تھا کہ پرکشش مردوں اور دل کش عورتوں کے حوالے سے جو بات عمومی طور پر دیکھنے میں آتی ہے وہ یی ہے کہ ان کے جیون ساتھی اکثر نظر بٹُو ہوتے ہیں، کچھ ایسا ہی معاملہ مسز کرس کا بھی تھا۔ سیکا تو اسے دیکھ کر اس قدر مایوس ہوئی کہ اس نے اپنے گھر پر جوڑے کی دعوت کا عرصے سے جو منصوبہ بنایا ہوا تھا، منسوخ کر دیا۔ باقی ترجمان خواتین کی رائے بھی اس بارے میں سیکا سے کچھ مختلف نہیں تھی۔
بعد میں قیام کوسود کے دوران اپنے ایک Zambian ساتھی پُنزا سے ایک مرتبہ اس بارے میں پوچھا کہ ایسا کیوں ہے کہ خوبصورت مرد یا پرکشش خاتون کا جیون ساتھی اکثر ماٹھا ہوتا ہے۔ حضرت نے حسبِ عادت پہلے ایھ کیا اور پھر بولے۔ دنیا میں اگر تمام جوڑے خوب صورت ہوتے تو مجھ جیسے بد شکلوں کے لیے یہاں کیسے گنجائش نکلتی۔ پھر ذرا سنجیدہ ہوئے اور پتے کی بات کی۔ کائنات کا توازن بدصورتی اور خوب صورتی کے امتزاج پر قائم ہے۔ جس دن یہ توازن ختم ہو گیا، یہ کائنات بھی نہ رہے گی۔سلمان اختر یاد آ گئے۔
یہ کہہ کے میں نے رکھا ہے ہر آئینے کا دل
اگلے جنم میں روپ ملے گا نیا مجھے۔
باقی ترجمانوں نے بہر حال ترک رسمِ وضع داری میں سیکا کی پیروی نہ کی اور مشترکہ طور پر کرس اور مسز کرس کے لیے طعام وداع کا اہتمام کیا۔
میں، اقبال، پریم اور شیوا نے مل کر اپنے ان ساتھیوں کے لیے الوداعی دعوت کا اہتمام کیا جن کا اور ہمارا ساتھ سب سے لمبے عرصے پر محیط رہا تھا۔ اسی دوران میری تعیناتی بطورِ ڈپٹی اسٹیشن کمانڈر کر دی گئی تھی۔ چوں کہ اسٹیشن کمانڈر کا عہدہ ابھی تک خالی تھا لہٰذا وقتی طور پر یہ ذمہ داری بھی میں ہی نباہ رہا تھا۔ پیٹی بندھی کے دیسی معیار پر پورا اُترتے ہوئے میں نے کرس اور بولک کی چھٹی سے واپسی سے لے کر تاریخِ روانگی تک ایک گاڑی انھیں کل وقتی طور پر دے دی۔ کرس تو گاڑی کا ایسا دلدادہ نہ تھا لیکن گاڑی اور وہ بھی سرکاری گاڑی کے باب میں بولک کے دل کی بے اختیاری کا معاملہ ویسا ہی تھا جیسا خُوب روؤں سے یاری کے معاملے میں ہمارے شاعر کا ۔ چنانچہ وہ خیر سگالی کے اس اظہار پر بہت خوش اور شکرگزار تھا۔ ہمارے عشائیے کی اگلی صبح ان کی روانگی تھی۔ وہ کوئی دس بجے کے قریب ہم سے آخری بار ملنے اسٹیشن آئے۔ میں اپنے دفتر میں موجود تھا، جب کہ دیگر ساتھی ڈیوٹی روم میں تھے۔ کرس ان کے پاس کافی دیر تک بیٹھا رہا اور بولک میرے پاس آ گیا۔ اس کی جذباتی کیفیت واضح تھی۔ تھوڑی دیر میرے پاس گم سم بیٹھے رہنے کے بعد بولا
دوستوں سے جدا ہوتے وقت ہماری ایک رسم ہے کہ ہم ان کے چہرے پر اشارے سے صلیب کا نشان بناتے ہیں۔ کیا وہ یہ رسم میرے حوالے سے نبھا سکتا ہے
بہ صد شوق۔ میں نے کہا
اس نے کھڑے ہو کر میرے چہرے پر اشاروں سے صلیب کا نشان بنایا اور پھر مجھے گلے لگایا۔ تھوڑی ہی دیر بعد دونوں اکٹھے روانہ ہونے لگے۔ اسٹیشن پر جو یورپی ساتھی موجود تھے ان میں سے کوئی بھی انہیں باہر تک چھوڑنے نہ گیا۔ ایسے مواقع پر میں اپنی روایات کی وضع داری کا کچھ زیادہ ہی پاس دار ہو جاتا تھا۔ چنانچہ میں اکیلا انھیں باہر ان کی کار تک چھوڑنے گیا اور اس وقت تک انھیں ہاتھ ہلا کر الوداع کہتا رہا جب تک ان کی گاڑی پووگرادا کے سامنے قصبے سے باہر جاتی سڑک پر نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی۔
کرس کے بعد فرانسیسی افسر ژاں فرانسوا کچھ عرصے کے لیے ہمارا اسٹیشن کمانڈر رہا۔ لیکن جلد ہی اس کا اور پروزور کے اسٹیشن کمانڈر کا باہمی تبادلہ ہو گیا۔ ہمارا نیا اسٹیشن کمانڈر ایک امریکی جِین رائیفن برگ تھا وہ یہاں اکیلا نہیں آیا بلکہ امریکی خاتون پولیس افسر کو ہمراہ لایا تھا جس کا نام پیگی مرچنٹ تھا۔ پروزور (Prozor) کی طرح یہاں بھی جِین نے اُسے ایڈمن افسر مقرر کیا تھا۔
اب تک ہمارا جن امریکی افسروں سے واسطہ رہا تھا جین اور پیگی ان سب سے مختلف تھے۔ جین مکمل طور پر ایک مجموعہ اضداد شخص تھا۔ شکل و صورت کا وہ کافی ماٹھا تھا۔ فضول خرچی اور عاشق مزاجی سے پرہیز اس کے اختیار سے باہر کے معاملات تھے۔ وہ اپنی ان کمزوریوں کو کبھی چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتا تھا۔ اس کا یہ دعویٰ تھا کہ اگر یورپ اور امریکہ میں جنسی آزادی نہ ہوتی تو وہاں کے اکثر مرد چار شادیوں کی کشش کے نتیجے میں مسلمان ہو چکے ہوتے۔
سٹولک کی پہلی خاتون پولیس افسر پیگی مرچنٹ کی نہ تو شکل میں نسوانیت تھی اور نہ ہی انداز میں۔ اُس کا رویہ بھی مکمل طور پر آمرانہ تھا۔ ایڈمن افسر کا عہدہ سنبھالتے ہی اس نے وہ اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے لیے جو SC اور DSC کو حاصل ہوتے تھے۔ DSC ہونے کے باوجود وہ مجھے کسی خاطر میں نہ لاتی تھی جب کہ ساتھی افسروں کے ساتھ بھی اس کا رویہ غیر دوستانہ تھا۔
ادھر وہ اردو مافیا جو پریم اور شیوا کے موسطار تبادلے کے بعد کچھ کمزور سا ہو گیا تھا سٹولک میں چار نیپالی اور دو بنگلہ دیشی افسران کی آمد سے اور زیادہ مضبوط ہو گیا۔ کیرولا، بالاجی، سری کانت اور امریش تمام نیپالیوں کی طرح عاجز سے لوگ تھے۔ بنگلہ دیشی افسران میں یوسف پکا تھانیدار تھا جبکہ عالم نہایت کم گو اور سادہ قسم کا آدمی تھا۔ وہ گشت نامہ بڑے اہتمام سے لکھا کرتا تھا۔ کوئی دس سطروں کے گشت نامے کے لیے اسے کم از کم ایک گھنٹہ چاہیے تھا۔ جو لفظ وہ ٹائپ کرتا اس کا ایک ایک حرف بہ آوازِ بلند ادا کرتا۔ ہر چار پانچ لفظوں کے بعد اس سے کوئی نہ کوئی غلطی سر زد ہو جاتی جس پر وہ "اوہ شٹ” کہتے ہوئے اس غلطی کو دور کرتا اور پھر آگے بڑھ جاتا۔ وہ جب بھی گشت نامہ ٹائپ کرنے بیٹھتا تو اقبال اور ایشور خصوصی طور پر ہمہ تن گوش ہو جاتے۔ اور اوہ شٹ کی آمد کا انتظار کرتے۔ ادھر یہ آمد ہوتی، ادھر اقبال اور ایشور کا مشترکہ قہقہہ بلند ہوتا۔لیکن اپنے گردو پیش سے بے نیاز عالم صورت کا مشقِ نامہ اور اوہ شٹ کی تکرار جاری رہتی۔


