جشن آزادی
میری اس پوسٹ سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہو گا اور ان کے ذاتی حملوں کی بم باری بھی شروع ہو جائے گی۔ لیکن میرے پاس اظہار رائے کا حق ہے۔ اس لیے میں جو مناسب سمجھتی ہوں اس بارے میں ضرور لکھوں گی۔
اگرچہ میں نے آزادی کی جنگ یا جدوجہد دیکھی نہیں مگر اپنے بڑوں سے اس کی کہانیاں سنی ہیں اور جن لوگوں نے اس وطن کے حصول کے لیے قربانیاں دیں ان کی باتیں پڑھی ہیں۔ لوگوں نے اپنے گھر بار کاروبار چھوڑے اور بے سروسامانی کی حالت میں پاکستان کے لیے عازم سفر ہوئے۔ سفر کی صعوبتیں سہتے اپنے پیاروں کو اپنی نظروں کے سامنے قتل اور ریپ ہوتے دیکھتے جب اپنے وطن پہنچے تو سارے دکھ تکالیف بھول گئے۔ آج شاید ان سب میں سے گنے چنے لوگ ہی بچے ہوں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نئی نسل اس وطن کے حصول کا مقصد بھلائے ہر اس چیز میں مگن ہے جس سے بچنے کے لیے قائد اعظم نے دن رات محنت کی تھی۔
پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ قائداعظم کا خیال تھا، خیال اس لیے لکھ رہی ہوں کہ ان کا پاکستان تو دو سال بعد ہی کہیں گم ہو گیا تھا، کہ پاکستان میں مسلمان آزادی کے ساتھ اسلام پر عمل کر سکیں گے۔ کسی حد تک ایسا ہوا بھی۔ ہم یہاں عبادات، قربانی اور کچھ شعائر اللہ کی ادائیگی کے لیے آزاد ہیں۔ لیکن اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک مسلم ملک کہا جائے تو افسوس کے ساتھ یہاں ایک بھی کام اسلام کے مطابق نہیں ہو رہا۔
کرپشن، چوری ناپ تول میں کمی، تجارت میں فراڈ، جھوٹ، کساد بازاری، منافع خوری، رشوت، اقربا پروری، بے حجابی، شوبز، ناچ گانا نامحرموں کا اختلاط، جادو، پیری فقیری، مزار، درگاہیں، پامسٹ، شراب خانے، ڈرگز، جواء، رشتے داروں کا حق مارنا، قتل، ریپ، بدعات اور وہ سب جو اللہ اور رسول نے حرام قرار دیا تھا آج پاکستان میں نہ صرف رائج ہے بلکہ اگر کوئی ان سب کو برا کہے تو وہ شدت پسند کہلاتا ہے۔
اس سوچ نے ہمیں یہ بھی بھلا دیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں خوشی کے صرف دو دن عطا فرمائے ہیں عیدین۔ لیکن ہم نے کئی عیدیں اور جشن کے دن بنا لیے اور پھر ان دنوں کو منانے میں بھی کوئی حرام نہیں چھوڑا۔ شروعات جھنڈیوں، جھنڈے والے لباس، اسٹیکرز، بینڈز، ماسکس، کیپس، اور کئی اور اشیاء سے ہوتی ہے۔ پاں پاں کرنے والے باجے، بغیر سائلنسر کے موٹر بائیکس، ون ویلنگ، میوزک شوز، ڈانس گانے، شراب نوشی، کھانے، چراغاں، آتش بازی، فائرنگ اس جشن کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کے عوام اربوں کے قرضے تلے دبے ہوئے ہیں جو ہر وقت مہنگائی کا رونا روتے رہتے ہیں۔ جشن آزادی پر اربوں اڑا دیتے ہیں۔ اس وقت مہنگائی کہاں جاتی ہے کچھ خبر نہیں۔
خوشی منانے کے آداب نبی ﷺ نے بڑی تصریح سے بیان فرما دیے۔ جن میں سب سے اہم ہے کہ کسی بھی ایسے کام سے بچیں جس میں اللہ تعالٰی کی نافرمانی ہو۔ جب نبی ﷺ مکہ فتح کرتے ہیں تو تلاوت قرآن کرتے مکہ میں داخل ہوتے ہیں اور کعبہ میں نوافل شکرانہ ادا فرماتے ہیں۔ دشمنوں کو معاف فرماتے ہیں غلام آزاد کرتے ہیں۔ جب بھی نبی ﷺ کو یا صحابہ کرام کو کوئی خوشی ملتی تھی تو وہ نوافل ادا کرتے تھے تسبیح کرتے تھے۔ عبادات و صدقات کی کثرت کرتے تھے۔ کیا کبھی ہم نے بھی اس سنت کو فالو کرتے ہوئے آزادی کی نعمت پر رب کا شکر ادا کیا ہے؟
کیا کبھی ہم نے اپنے بچوں کو آزادی کے لیے دی گئی قربانیاں بتا کر انہیں یہ احساس دلایا کہ یہ ملک ہمارے لیے کتنی بڑی نعمت ہے۔ اگر ہم پاکستان میں نہ ہوتے انڈیا یا کسی بھی اور غیر مسلم ملک میں ہوتے تو کیسی زندگی ہوتی۔ کیا پاکستان ان سب کاموں کے لیے ہی حاصل کیا گیا تھا؟ اس جشن آزادی جھنڈے لگائیں یا نہ لگائیں۔ پودے لگائیں یا نہ لگائیں۔ اپنے بچوں کو آزادی کی جدوجہد سے ضرور آگاہ کریں۔ چند واقعات ضرور بتائیں تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ آزاد وطن میں رہنا کتنی بڑی نعمت ہے اور اس کی ہمارے بڑوں نے کیا قیمت ادا کی ہے۔ اور دو نفل شکرانے کے ادا کیجئے صدقہ کیجئے اپنے ملک میں سے ان تمام حرام کاموں کے خاتمے کی دعا کیجئے۔ اس کی سلامتی اور بقا کی دعا کیجئے۔


