محبت کی آزادی

آزادی کی قدروقیمت ان معتوب فلسطینیوں اور مغلوب کشمیریوں سے پوچھیں جو کئی دہائیوں سے محکوم اور حق آزادی سے محروم ہیں۔ آزادی جیسی نعمت کی کیا اہمیت ہے یہ ان سے سوال کریں جو پرچم میں اپنے باپ، شوہر یا بھائی کا جسد خاکی وصول کرتے ہیں۔ یہ ملک باپ دادا کی جان کی قربانیوں، اپنی بہنوں کی عزتیں گنوا کر، اپنے بیٹوں اور بچوں کو نیزوں پر اچھلتا دیکھ کر حاصل ہوا ہے۔ اندھیرا پس منظر میں گزرنے والا وقت ہے جس کی صبح روشن ہوتی ہے۔
دور وہ بھی تھا جب آنگن میں چراغ جلا کر 14 اگست کی رات کو سر سبز ہلالی جھنڈیوں سے سجے آنگن میں اترتی صبح کے انتظار کی بے چینی میرا بچپن تھا۔ ہم ریاستی نظام سے نفرت کر سکتے ہیں لیکن ریاست ہماری ماں جیسی ہے۔ حکومت کو اس کی نااہلی اور ناکامی کے سبب نفرت سے دھتکار سکتے ہیں لیکن اس پاک سرزمین سے محبت ہماری فطرت میں شامل ہے۔ ہاں محبت کے اظہار کا انداز یقیناً بدل گیا ہے۔ معصوم محبت کو اب ہوش اور جوش آ گیا ہے، پرجوش پاکستانیوں نے رات بھر جاگ جاگ اور بھاگ بھاگ کر آنگن میں جھنڈیاں لگانا، چھت پر جھنڈا لہرانا اور دیپ جلانا چھوڑ دیے ہیں۔
اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر سٹیٹس لگا کر مادر وطن سے محبت کا اظہار اور اعلان کیا جاتا ہے۔ اس مٹی نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔ کئی کئی برسوں سے روزگار کے لئے بیرون ملک مقیم میں اوورسیز پاکستانیوں کو جب بڑھاپا آ دبوچتا ہے تو پھر انہیں وطن یاد آ نے لگتا ہے، ان سے وطن واپسی کا مقصد پوچھو تو بتاتے ہیں کہ انہیں موت کے بعد اپنی سرزمین میں دفن ہونا ہے۔
اس مٹی کی آغوش ہماری ماں جیسی ہے نرم گرم اور محفوظ ہے۔ ہر آغوش کی ایک قیمت اور اہمیت ہے میرے لیے میری ماں کی محبت بے لوث ہے اور جس کی میں ساری زندگی بھی خدمت کروں تو اس کی ایک رات کا بدلہ نہیں دے سکتی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے اپنے طور پر اپنی ماں سے نسبت اور اس کی محبت کا حق ادا کیا ہے یا کر رہے ہیں۔ ہمیں اختلاف ہے پاک آرمی کے کچھ افسرز سے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے ملک کی حفاظتی دیوار کمزور ہے۔
ہمیں اختلاف ہے مٹھی بھر بدعنوان پولیس اہلکاروں سے لیکن اس کا بھی ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مجرمان پر گرفت نہیں ہے۔ ہمیں اختلاف ہے مخصوص نجی ٹی وی چینل اور ان میں بیٹھے چند بکاؤ صحافیوں سے مگر اس کا بھی ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو مرضی اٹھ کر میرے ملک کی پیشانی پر اپنی خود ساختہ نیوز اور تحریروں کی کالک ملتا رہے گا اور محب وطن خاموش رہیں گے۔ انسان کا انسان سے اختلاف ہی ایک دوسرے کو ایک دوسرے سے مختلف کرتا ہے۔ حکومت سے بھی اختلاف ہے مگر اتنا نہیں کہ میں اپنی پاک سرزمین پر شر پھیلانے کی خود کو بھی اجازت دوں۔ قومی تہوار اور قومی اثاثے میرے وطن کی شان ہیں۔ اس کی وقار اور عزت پر سب قربان اختلاف رائے کی وجہ بہتری کے ممکنہ امید ہوتی ہے اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ میرے نزدیک وطن سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔

