مصلی کا بیٹا اور دانشور


جب میں چھوٹا تھا تو گھر میں یہی سکھایا گیا تھا کہ ہم مسلمان ہیں، ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں، بڑائی صرف اللہ کی ہے اور حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ کہ اللہ کے نزدیک سب انسان برابر ہیں۔ وہ تو جب سکول میں داخلہ ہوا اور محرم کی چھٹیاں ہوئیں تو معلوم ہوا کہ دراصل ہم سنی ہیں اور کچھ انسان ہم سے مختلف بھی ہوتے ہیں جنہیں شیعہ کہتے ہیں۔ غالباً گھر سے باہر کی تعلیم، گھر میں ملی تعلیم سے فرق تھی۔

ہمارے سامنے والے گھر میں دو بوڑھی بہنیں رہتی تھیں۔ چھوٹی بہن کا ایک بیٹا بھی تھا جنہیں سب محمد میاں کہتے تھے لیکن وہ کہیں الگ رہتے تھے اور دن میں ایک آدھ دفعہ ہی دفتر جاتے ہوئے یا واپسی پہ چکر لگاتے تھے۔ بڑی بہن کا تکیہ کلام اللہ مارے یا اللہ ماری تھا۔ اور اسی نسبت سے محلے والے انہیں ”اللہ ماری“ کے نام سے بلاتے تھے۔ تاہم ہم سب بہن بھائی انہیں پھوپھی اماں کہتے تھے۔ انہیں بازار کا کوئی بھی کام ہوتا تو وہ وہیں سے آواز لگا کے بلا لیتی تھیں۔ پاکی ناپاکی کا بہت خیال رکھتی تھیں اور اسی وجہ سے باقی محلے والوں کی بجائے ہم بہن بھائیوں سے ہی کام کرواتی تھیں۔

اس گھر میں ایک بڑا سا صحن تھا اور آخر میں دو تین کمرے تھے، درمیان والا کمرہ خاصا بڑا تھا جس کی ایک جانب ڈیڑھ دو فٹ اونچا بڑا سا چبوترا بنا ہوا تھا۔ چبوترے کے ساتھ ہی دروازہ ایک اور چھوٹے کمرے میں کھلتا تھا جس میں بہت سے کالے علم اور چاندی کے بنے دوسرے نشانات رکھے ہوتے تھے۔ محرم شروع ہونے سے پہلے ہمیں بلا کر اس بڑے کمرے کی دھلائی کی جاتی تھی، بڑی بڑی دریاں بچھائی جاتی تھیں، چبوترے پہ سفید چاندنی بچھتی اور محرم شروع ہوتے ہی وہاں عورتوں کی مجلس کا اہتمام ہوتا تھا۔ روزانہ سہ پہر کو باقاعدگی سے یہ سلسلہ آٹھ دس دن چلتا۔ ہم اپنے گھر کی کھڑکی سے کمرے کے اندر کا منظر تو نہیں دیکھ پاتے کیونکہ وہ کمرہ عمودی رخ پہ واقع تھا لیکن اس بڑے سے صحن میں ہمیں عورتوں کے ساتھ آئے بچے کالے کپڑوں میں ملبوس کھیلتے کودتے ضرور نظر آتے تھے۔

کبھی کبھی امی بھی ان مجلسوں میں چلی جاتی تھیں۔ اور اس دن ہمارے لئے موقع ہوتا کہ ہم بھی کسی بہانے امی کو بلانے وہاں چلے جاتے یا صحن میں کھڑے ہو کر باہر ہی سے اندر کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے۔ ایک عجیب سا احساس ہوتا تھا۔ یہ سب کچھ مختلف سا تھا۔ کچھ ایسا مختلف تو کبھی کسی پاس پڑوس کے گھر میں محفل میلاد میں بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ جب سب عورتیں کھڑے ہو کر سلام پڑھتی تھیں تو بھی یہ احساس بڑھتا گیا کہ گھر کی تعلیم کے مطابق سب لوگ برابر تو ہیں لیکن شاید کچھ لوگ زیادہ برابر ہیں اور کچھ کم۔

سکول میں دوسرے درجے میں پتہ چلا کہ جماعت میں ایک لڑکی عیسائی ہے۔ اس کا نام سیلیا تھا۔ بہت ہنس مکھ اور خوش مزاج لڑکی تھی لیکن اس کے بارے میں کچھ مختلف ہونے کا احساس ایک اور درجے کا تھا۔ عیسائی ہونا کیا ہوتا ہے یہ ٹھیک سے معلوم نہیں تھا لیکن یہ احساس ضرور تھا کہ یہ کچھ زیادہ مختلف ہے۔ گھر میں روزانہ ایک جمعدارنی بھی آتی تھی جو تیسری منزل پہ جا کے گھر کا گند اپنے ٹوکرے میں رکھ کے سر پہ لاد کے لے جاتی تھی۔ اس کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ بھی عیسائی ہے لیکن وہ سیلیا سے بھی زیادہ مختلف ہونے کا احساس تھا جو اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی پیدا ہوتا تھا۔ اس کے لئے ایک جگہ ایک گلاس اور پلیٹ رکھی ہوتی تھی جس میں کبھی کبھی اسے پینے کو پانی یا کھانے کو کچھ دیا جاتا تھا۔ ہم بچوں کو اجازت نہیں ہوتی تھی کہ ہم اس کے برتنوں کو ہاتھ لگا سکیں۔

جمعدارنی کا ایک بیٹا بھی کبھی کبھی اس کے ساتھ آ جاتا تھا اس کا نام فیروز تھا۔ عمر میں مجھ سے چار پانچ سال بڑا ہو گا۔ وہ آر اے بازار میں کسی سکول میں پڑھتا تھا۔ کبھی کبھی سکول سے چھٹی کی درخواست لکھنی ہوتی تو فیروز مجھ سے کاپی اور پین مانگ لیتا۔ درخواست لکھنے کے بعد مجھ سے چیک کرواتا۔ اور میں کسی کو نہیں بتاتا تھا کہ فیروز نے میری کاپی یا پین کو چھوا ہے۔ بعد میں فیروز نے کسی گرجا گھر میں داخلہ لے لیا۔ پتہ چلا کہ وہ وہیں کسی پادری کے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پہ کام کرتا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ اب وہ بھی کچھ سال میں پادری بن جائے گا۔ یہ کچھ اور طرح کا ”مختلف“ تھا۔

انہی دنوں میں ہماری گلی میں گٹر اور سیوریج لائن بچھ گئی۔ اور رفتہ رفتہ گھر کے اندر جمعدارنیوں کا کام ختم ہو گیا۔ کافی برس بعد ایک دفعہ سڑک پہ فیروز نظر آیا۔ موٹر سائیکل پہ جاتے ہوئے وہ مجھے دیکھ کر رک گیا، حال احوال کے بعد مجھے گھر تک چھوڑنے کا پوچھا لیکن میرے انکار کرنے کے بعد وہ چلا گیا۔

میٹرک کے بعد ہائی سکول سے کالج جانا ہوا تو مختلف پن کا ایک اور پہلو اجاگر ہوا۔ گورنمنٹ کالج میں پہلی بار ایسے ہم جماعتوں سے ملنا ہوا جو ہمارے شہر کے رہنے والے نہیں تھے۔ دوسرے علاقوں کے ان لڑکوں میں زیادہ تر گاؤں یا چھوٹے چھوٹے قصبوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ویسے تو جماعت میں ایک دو پارسی یا عیسائی بھی تھے۔ لیکن اب ان میں مختلف پن کا وہ احساس نہیں ہوتا تھا۔

اس کے برعکس ہاسٹل میں رہنے والے سبھی لڑکے مسلمان تھے لیکن مسلمان ہونے کے باوجود ان میں کچھ مختلف تھا۔ ان کے ناموں کے ساتھ لگے ہوئے کچھ لاحقے اور سابقے پہلی دفعہ سننے کو ملے۔ پھر ان کی آپس کی گفتگو سے پتہ چلتا کہ ان کے اندر ایک دوسرے کو عزت دینے کا طریقہ کچھ فرق ہے جس کا دار و مدار ان کے نام کے ساتھ جڑے سابقے یا لاحقے سے ہے۔ دل میں کسی کے کچھ بھی ہو تاہم کچھ کو صرف اس کے نام (ذات) کی وجہ سے ہی زیادہ معزز جانا جاتا تھا۔

بہت سال بعد اخبار میں کام کے دوران کچھ اور طرح کے ”مختلف“ سے بھی شناسائی ہوئی جب دوسرے علاقوں سے آنے والے ہمکاروں سے ان کی گفتگو میں پہلی دفعہ ”مصلی“ کا لفظ سننے کو ملا۔ ہوا یوں کہ بات چیت کے دوران ایک ہمکار نے کسی شخص کے بارے میں بات کرتے ہوئے حقارت بھرے لہجے میں کہا کہ فلاں تو مصلی کا بیٹا ہے۔ گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ چونکہ فلاں شخص کسی مصلی کا بیٹا ہے اس لئے وہ ہمارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کے لائق نہیں۔ میں نے پوچھا کیا مصلی مسلمان نہیں ہوتے۔ جواب آیا مسلمان ہی ہوتے ہیں مگر نیچی ذات کے ہوتے ہیں۔

سیدنا جابر رضى اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایام تشریق کے درمیانے دن کو خطبۃ الوداع ارشاد فرمایا: ”لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ، جیسا کہ ارشاد باری تعالىٰ ہے :اللہ تعالىٰ کے ہاں تم میں سے وہ شخص سب سے زیادہ معزز ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ “

تحقیق ہے کہ گندا انڈا باقی انڈوں سے مختلف ہوجاتا ہے اور اس کی پہچان یہ ہے کہ اگر انڈوں کو پانی میں ڈالا جائے تو گندا انڈا ہلکا ہو کر پانی کی سطح پہ تیرتا ہے، جب کہ تازہ انڈا ڈوب جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ایسے دانشور پائے جاتے ہیں جو بزعم خود کو باقی شہریوں سے مختلف سمجھتے ہیں۔ کسی گندے انڈے کی طرح یہ خود کو معاشرے میں موجود باقی لوگوں سے بالاتر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا ڈی این اے غلط طور پہ انہیں یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اعلیٰ النسل ہیں اور باقی سب کمی کمین ہیں، مصلی کے لڑکے ہیں۔ ایسے لوگ برخود غلط صحافی ہوں، یا اپھرے ہوئے عدالتی منصب دار ہوں یا وردی میں ملبوس کوئی متکبر مخلوق ہوں، جان لیجئیے کہ دراصل ان کے اجزائے ترکیبی میں پراگندگی دخل پا چکی ہے اور معاشرے میں باقی لوگوں سے ان کا میل جول نقصان کا باعث ہے۔ ان سے فاصلہ رکھئیے کہیں غلطی سے آپ کو چھو نہ جائیں!

Facebook Comments HS