پھوہڑ عورت


اسے یقین ہو گیا تھا کہ عورت کی تعریف صرف اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے اس کی ماں نے اس کی تعریف کی کہ وہ بہت اچھا کھانا بناتی ہے۔ کبھی تعریف نہ کرنے والی ماں کے منہ سے تعریف سن کر وہ ہواوں میں اڑنے لگی تھی۔ وہ شوق اور محنت سے سارے خاندان کے لیے پکاتی رہی۔ ماں کو باورچی خانے کی قید سے رہائی مل گئی اور اسے تعریف کے بول۔ شاید ماں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

جب شادی ہوئی تو ایک دہائی ماں کے گھر پکا پکا کر شوق ختم ہو چکا تھا اب صرف احساس ذمہ داری نے لے لی تھی۔ احساس ذمہ داری کی اچھی بات یہ ہے کہ انسان بے دلی سے کام کرتا رہتا ہے روبوٹ کی طرح۔ کوئی تعریف نہ بھی کرے تب بھی۔

مگر شوہر تعریف ضرور کرتا تھا۔ اور اسے اچھی لگتی تھی۔ مگر اب کوئی شوقین نہیں صرف ایک اچھی بیوی اور ماں کھانا بناتی تھی۔ خوشی میں غم میں۔ صحت میں بیماری میں۔ کام میں چھٹی میں۔ صبح میں رات میں۔ آنکھ کھلتی تو سب سے پہلے خیال آتا کیا پکے گا۔ میں کچن میں کھانے پینے کی کوئی چیز باہر ہی تو نہیں بھول گئی، نیند میں ڈوب جانے سے پہلے آخری خیال آتا۔

نہانے کے دو تین گھنٹے بعد ہی چولہے کے سامنے جسم دوبارہ پسینے میں شرابور ہو جاتا اور اگلے چند گھنٹوں میں دوبارہ کپڑوں سے مصالحوں، لہسن، ادرک کی بُو آنے لگتی۔ کئی بار چولہے پر چڑھے گوشت یا سبزی کی بُو ناک میں ایسے گھستی کہ قے اس کے حلق میں دوڑی دوڑی چلی آتی۔ پسینے، لہسن ادرک اور مصالحوں کی ملی جلی ناگوار بُو نے اس کے اعصاب کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر نا شروع کر دیا تھا اور چولہے کی حدت اس کی ہڈیاں پگھلا رہی تھی۔

وہ باورچی خانے میں موجود ہو کر بھی نہیں ہوتی تھی۔ اور جب باورچی خانے سے باہر ہوتی تب بھی باورچی خانے سے فرار کی راہیں کھوجتی رہتی اور اس فرار کے گستاخ خیال کے بعد اپنا سر کئی کئی بار قلم کرتی، خون کا فوارہ بلند ہوتا اور وہ تکلیف سے آنکھیں سختی سے بھینچ لیتی، خراب عورت! خراب عورت!

فرار ڈھونڈتے اور اپنا سر قلم کرتے کرتے وقت گزرتا رہا۔ پہلے اس کے کھانوں سے ورائٹی غائب ہو گئی۔ صرف گنتی کی پانچ چھ ڈشز تھیں جنہیں وہ ادل بدل کر کے پکا رہی تھی۔ مسور کی دال، چنے کی دال، آلو گوشت، چکن کڑھائی، چکن بریانی یا آلو کی بھجیا۔ گھر میں کسی نے نوٹس نہیں کیا۔ نوالہ پلیٹ سے منہ تک پہنچنے تک نگاہیں فون سے ہٹتیں تو کسی کو معلوم ہوتا کہ کیا کھا رہے ہیں۔ سب کو وقت پر پیٹ بھر کر کھانا مل جاتا تھا کسی کو کوئی پریشانی نہیں تھی۔

مگر اسے پریشانی تھی۔ لگتا تھا کہ دنیا کی ساری قوتیں اسے باورچی خانے میں محصور ہونے پر مجبور کرتیں، چاروں طرف سے حملہ آور ہو کر اسے اتنی شدت سے بھینچتیں کہ اس کی سانسیں رُکتی محسوس ہوتیں۔ کھانا پکانا شروع کرنے سے پہلے اس کی بے کلی عروج پر ہوتی۔ وہ پیر جلی بلی کی طرح کئی بار باورچی خانے کے چکر لگاتی۔ کبھی بیڈ پر کافی دیر چاروں شانے چت پڑی رہتی۔ کبھی کئی بار ریفریجریٹر کھول کے اس میں رکھی اشیاء کا جائزہ لیتی کہ کیا کیا پکایا جا سکتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ کسی ایک ہانڈی کا سامان باہر نکال کر شیلف پر رکھتی، اسے کچھ لمحے گھورتی رہتی اور پھر اسے واپس ریفریجریٹر میں رکھ کر کوئی اور ہانڈی کو پکانا شروع کر دیتی۔ اس ساری مشقت کے دوران اس کا ذہن اتنا نڈھال ہو جاتا کہ اسے نیند آ جاتی۔

اب اس کے بس دو کام ہی رہ گئے تھے سونا اور کھانا بنانا۔

آہستہ آہستہ، اس کے بنائے ہوئے کھانوں سے ذائقہ بھی روٹھنے لگا۔ کبھی مرچیں زیادہ ہو جاتیں کبھی شوربہ بے تحاشا ۔ کبھی گوشت سبزی پوری طرح سے پکی ہوئی نہیں ہوتیں۔ یا جلدی جلدی پکا کر جان چھڑانے کی وجہ سے کچھ نہ کچھ کھانے میں کسر رہ جاتی۔ پہلے وہ پکانے کی جسمانی مشقت کرتی اور پھر خود کو ملامت کرنے کی ذہنی مشقت، ”کیا ضرورت تھی اتنی دیر سے ہانڈی چڑھانے کی۔ کچھ منٹ پہلے اٹھ جاتی تو چاول کتنے اچھے سے مزید نرم ہو جاتے۔ مگر کاہلی ختم ہے تم۔ چار بچے اور ایک شوہر نہیں پالا جا رہا تم سے۔ یہ خود غرضی ہے۔ کیسی خراب عورت ہو تم! ساری دنیا کی عورتیں یہی کام خوشی خوشی سے کرتی ہیں۔ تم انوکھی ہو کیا! “

کھانا کھاتے ہوئے وہ سب کے چہرے ٹٹولتی کہ اب تو کوئی کچھ بولے، عیب نکالے تاکہ وہ بد ذائقہ کھانا بنانے کا جواز دے سکے۔ یہ بتا سکے کہ کھانا پکانا اس کی توانائی کا قطرہ قطرہ نچوڑ لیتا ہے۔ وہ نڈھال ہے۔ اسے طویل آرام کی ضرورت ہے۔ تھکن اس کی روح میں اتر گئی ہے کوئی ہے جو اسے آرام دے سکے۔

مگر شوہر اور بچے کھانا ختم کرتے اور روبوٹس کی طرح اٹھ کر اپنے اپنے کمروں میں خود کو محصور کر لیتے اور وہ کچن سمیٹ کر اگلے دن کے لیے سوچنا شروع کر دیتی کہ کل کیا پکاؤں؟

وہ آئے دن بیمار رہنے لگی۔ اس کی نظر نہ آنے والی بیماریاں، جن میں سر چکرانا، اختلاج قلب، سردرد اور کمر درد شامل تھیں عموماً کسی بھی دن صبح میں شروع ہوتیں اور اگلے دن رات کے کھانے کے بعد اچانک ختم ہو جاتیں۔ کبھی بیمار نہ ہونے والی بیوی اگر دو چار دن کے لیے لاچار ہو جائے تو شوہر کو بھی احساس ہو جاتا ہے کہ وہ انسان ہے اور بیمار بھی ہو جاتی ہے، اسے بھی آرام کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس دوران جب کھانا باہر سے آتا تو شوہر بھی خود کو بہت اچھا اچھا شوہر محسوس کرتا، پیار کرنے والا خدمت گزار شوہر، یکتا وہ یگانہ شوہر۔ اور وہ بھی بیماری کی اگلی قسط تک کچھ ہشاش بشاش رہتی۔

مگر ایک دن شوہر کا پیار کا کوٹا بھی پورا ہو گیا۔

اس نے بیوی کو اپنے سامنے بٹھایا اور خود کرسی لا کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ ”اگر تمہارا گھر میں دل نہیں لگتا، گھر کے کام کرنے کا دل نہیں کرتا تو بتاؤ۔ مگر یہ بیماری کا تماشا کرنے کی کیا ضروری ہے؟

”میں تماشا نہیں کرتی۔ میری طبیعت واقعی خراب رہتی ہے۔ “ اس نے نظریں جھکائے اپنے دوپٹے کی لیس سے کھیلتے ہوئے کہا۔

” بات سنو، میں پندرہ سال سے تمہارے ساتھ رہ رہا ہوں۔ کل کی بات نہیں۔ “ شوہر نے نرمی سے کہا۔ ”ڈاکٹر کے پاس چلو، یا بتاؤ کہ مسئلہ کیا ہے؟“

آخر اس نے کہے دیا، ”میں کھانا پکانا نہیں چاہتی۔“

”ہونہہ، تم نہیں پکاؤ گی تو کون پکائے گا۔ تمہیں پتا ہے میں نہیں پکا سکتا۔“ اس نے کرسی کی پشت سے لگاتے ہوئے کہا۔

” مجھے نہیں معلوم کون بنائے گا۔ مگر میں نہیں بنانا چاہتی۔ میں بناتی ہوں تو میرا جسم برف کی مانند گھلنا شروع ہو جاتا ہے۔ سنو! پلیز مجھے غلط مت سمجھنا۔ میں خراب عورت نہیں ہوں مگر میں مرنا بھی نہیں چاہتی۔ اس لیے میں کھانا نہیں بنا سکتی۔ “ اس نے مصمم لہجے میں کہا۔

”کیسی جاہلوں جیسی باتیں کرتی ہوں۔ آج تک کون عورت کھانا پکانے کی وجہ سے پگھل کر مری ہے۔ “ معدوم ہنسی کے ساتھ اس سے کہا۔

”بالکل مر جاتی ہیں، روز بہت سی عورتیں مر جاتی ہیں چپ چاپ، کچھ کہے سنے بغیر۔ بظاہر ان کی موت قدرتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اگر پوسٹ مارٹم کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ آہستہ آہستہ گھل کر جھلس کر مری تھیں۔ مصالحوں کی بُو نے ان کی حس شامہ سے تعلق رکھنے والے اعضاء گلا دیے تھے۔ چولہے کی مسلسل حدت نے ان کا سارا خون خشک کر دیا تھا، ان کی ہڈیوں کو دھیرے دھیرے نرم ملائم گودا بنا دیا اور آخر ایک دن وہ ڈھیر ہو گئیں۔ زمین میں جذب ہو گئیں، مٹی میں مل کر مٹی ہو گئیں۔ “ اس کی نگاہیں فرش پر ایسے جمی اور چہرے پہ ایسے خوف تھا جیسے اس وقت بھی وہ کسی عورت کو ڈھیر ہوتے دیکھ رہی ہو۔

” آخر چاہتی کیا ہو؟“

” میں ہفتے میں دو دن باورچی خانے سے چھٹی چاہتی ہوں۔ تاکہ پانچ دن میں گُھل جانے والی ہڈیوں کو دو دن مرمت کا موقع مل سکے اور میری جان بچ جائے۔“

”میرا تو خیال ہے تمہیں مزید مصروف رہنے کی ضرورت ہے۔ شاید فضول فلمیں ڈرامے دیکھ دیکھ کر تمہارا دماغ خراب ہو گیا۔ بلکہ اسی بات پر یاد آیا آج رات شاہی قورمہ بنا ڈالو، بہت دن ہو گئے کھائے ہوئے۔ “ اس نے کہے کر موبائل اسکرین پر توجہ کر لی۔

”مگر میں پہلے ہی رات کا کھانا بنا چکی ہوں۔ “ اس کے لہجے میں احتجاج تھا۔

” ہاں مگر مجھے معلوم ہے تم میری خواہش کا خیال رکھو گی۔ اچھی بیوی جو ہو۔“ اس نے مکمل اعتماد اور یقین کے ساتھ کہا۔

شاہی قورمہ بن گیا۔
اس کو دو دن کی چھٹی نہیں ملی۔ اس کی ہڈیاں مسلسل گھلتی گئیں۔

کبھی وہ زیادہ ضرورت سے بہت زیادہ پکاتی، کچھ فریز کرتی، کبھی روز پکاتی، دن میں کئی کئی ڈشز بناتی۔ اور پھر کبھی بیماری اس پر سوار ہو جاتی۔ کبھی ایک دن میں بیماری ٹھیک ہو جاتی، کبھی بیماری کا دورانیہ طویل ہو جاتا کبھی بیماریوں کے درمیان کا وقفہ۔

لیکن ایک دن وہ صبح جاگا تو بیوی غائب تھی۔ چھٹی کا دن تھا۔ بچے سو رہے تھے اور وہ گیارہ بجے سو کر اٹھا تھا۔ بیڈ پر اس کی غیرموجودگی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ سے سحر خیز تھی اور پہلے اٹھ کر گھر کے اور کچن کے کاموں میں مصروف ہو جاتی تھی۔ لیکن ٹوائلٹ سے نکل کر اس کا دھیان اس کی طرف گیا تو اسے خیال آیا کہ کچن سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ یہ انہونی سی بات تھی۔

اس نے کچن میں جھانک کر دیکھا تو دودھ کا پتیلا دھیمی آنچ پر رکھا تھا۔ پراٹھے کا توا چولہے پر رکھا تھا لیکن آگ نہیں جل رہی تھی۔ ادھورا گندھا ہوا آٹا پرات میں موجود تھا اور ساتھ پانی کا پیالہ بھی رکھا تھا۔ مگر انتہائی عجیب بات تھی اس کا وجود کہیں نظر نہیں آ رہا۔ اور اس سے بھی عجیب بات یہ تھی کہ اس کے کپڑے فرش پر ڈھیر پڑے تھے۔ اس نے دودھ کا چولہا بند کیا اور کپڑے اٹھا کر لانڈری باسکٹ میں ڈال دیے ”پھوہڑ عورت۔“

صبح سے شام ہو گئی۔ دن پر دن گزرے اور ہفتوں گزر گئے مگر وہ نہیں ملی۔ پھر مہینوں بھی گزر گئے۔ بچے کچھ دن رو کر برگر پزا سے بہل گئے۔ اس نے بھی کچھ دن بیوی کو بہت یاد کیا خاص کر بھوک میں۔ پھر ایک کھانا بنانے والی رکھ لی، مگر وہ بہت فضول خرچ تھی۔ مہینے کا راشن پندرہ دن میں خرچ کر دیتی تھی اور اس فضول خرچی کی بھی تنخواہ دینی پڑتی تھی۔

جیب پر زور زیادہ پڑا تو اس نے مجبوراً کھانا بنانا سیکھ لیا۔ اسے خود یقین نہیں آتا تھا کہ وہ اتنا لذیذ کھانا بنا سکتا ہے۔ اب وہ اکثر کھانا بناتا ہے۔ لیکن لاشعوری طور پر باورچی خانے میں اس جگہ پاؤں رکھنے سے گریز کرتا جہاں اسے اپنی بیوی کے کپڑے ڈھیر ملے تھے۔ مگر کبھی کبھی ترنگ میں اس کا پیر وہاں پڑ جائے تو اسے کافی دیر تک دھیمی دھیمی سسکیوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments