ہیگل ایک فلسفیانہ معما ( 4 )


ترجمہ و تخلیص : نعیم اشرف

نرمبرگ میں ہیگل اس قدر معروف ہو گئے کہ وہ شہر کے معززین میں شمار ہونے لگے۔ ان کو مختلف گروپ اور کنبے اپنی تقریبات میں مدعو کرتے اور وہ ان میں خوشی خوشی شامل ہوتے۔ اس طرح وہ شرفاء کے کلب کے ممبر بھی بن گئے اسی شہر میں ان کی ملاقات ’میری واں ٹوشر‘ سے ہوئی اور وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ بالآخر ہیگل اپنی جذباتی بدرُوح سے نجات پانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے۔

اپنے دل کے گرد وہ اونچی دیوار جو انھوں نے اپنی والدہ کی وفات کے بعد تعمیر کر رکھی تھی گرا دی۔ معاشقے کے زمانے میں انھوں نے میری پر چند نظمیں بھی لکھیں، مگر وہ ہر چیز کو دلیل، علم اور فلسفے کی عینک سے دیکھنے کی عادت پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ اپنے رُومانوی احساسات سے تعلق جوڑ رہے تھے اور یہ سیکھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ”ایک بھر پور بوسہ الفاظ سے زیادہ کہہ جاتا ہے۔“ ہیگل محبت کرنے اور چاہے جانے کی کوشش کر رہے تھے مگر یہ سب کچھ اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ میری کی جذباتی دعوت کو ہیگل نے اپنی پرانی عادت سے مجبور ہو کر ایک فلسفیانہ لیکچر کی نذر کر دیا جس سے اس کا دل ٹوٹ گیا۔ وہ دو دلوں کو ملانے کی کوشش کر رہی تھی جب کہ ہیگل دو دماغوں کو ۔

ایک دفعہ میری یہ بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ محبت ایک جوڑے کی زندگی میں کتنی خوشی لاتی ہے، اس کے جواب میں ہیگل اپنا فلسفہ لے کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے خوشی اور قناعت کے فرق پر ایک لیکچر دے ڈالا۔

ہیگل نے میری کو بتایا کہ تمام غیر سطحی اور حقیقی حالتوں میں خوشی کے تمام جذبے اور حساسیت غم اور اداسی سے جڑی ہے۔ گویا خوشی اور غم ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں جبکہ قناعت کا احساس خوشی سے برتر جذبہ ہے۔ مگر دونوں کا اس بات پر اتفاق نہ ہو سکا۔

جب میری ناخوش ہوئی تو ہیگل نے معافی مانگ لی۔ اس طرح کی کئی معذرتوں کے بعد ہیگل نے ہار مان لی اور میری سے اپنا جذباتی مسیحا بننے کی درخواست کر ڈالی تاکہ وہ جذباتی طور پر شفایاب ہو کر حقیقی دنیا میں لوٹ آئیں اور اپنے باطن سے بھی ملاقات کریں۔ انھوں نے میری سے کہا کہ وہ ان کو محبت کے چند اسباق سکھائے۔ جب ہیگل اور میری اپنی شادی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تو ہیگل نے اس کو بتایا کہ کچھ مذہبی قوانین شادی کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ ان کا خیال تھا :

” شادی بھی ایک مذہبی فریضے کی طرح ہونی چاہیے یہ ’محض محبت‘ سے بڑھ کر عمل ہے۔ اس میں فرض کی ادائیگی اور وفاداری اہم ہیں۔ جس کو ہم مکمل خوشی کہتے ہیں وہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم مذہب پر کار بند اور فرائض کا احساس کریں۔“

بالآخر 15 ستمبر 1811 ء کو ہیگل اور میری نے شادی کر لی دونوں اپنی زندگی کا نیا باب شروع کرنے پر بہت خوش تھے۔ 27 جون 1812 ء ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سوزانہ رکھا گیا۔ میری اور ہیگل بہت خوش تھے مگر یہ خوشی زیادہ دیر پا ثابت نہ ہو سکی۔ سوزانہ ابھی صرف تین ماہ کی تھی کہ اچانک مر گئی بیٹی کی وفات پر ہیگل جہاں غمزدہ ہوئے وہاں میری پہ جیسے غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

ایک سال کے بعد ان کے ہاں ایک بیٹے کا جنم ہوا۔ انھوں نے اس کا نام کارل رکھا۔ 1814 ء میں ان کا دوسرا بیٹا تھامس پیدا ہوا چند ہی سالوں میں میری اور ہیگل اپنے لیے ایک آرام دہ اور معقول طرزِ زندگی حاصل کر نے میں کامیاب ہو گئے۔ ہیگل خوش تھے کے ان کے پاس ایک باوقار نوکری تھی پیار کرنے والی بیوی تھی دو خوبصورت بیٹے تھے اور معاشرے میں تعظیم اور وقار تھا۔

اُن دنوں جب ہیگل اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ خوش حال زندگی بسر کر رہے تھے ان کو خبر ملی کہ ان کی بہن کرسٹین بیمار پڑ گئی ہیں وہ نفسیاتی عارضے کا شکار تھیں۔ جب ہیگل ان سے ملنے گئے تو ان کو معلوم ہوا کہ کرسٹین ڈپریشن کا شکار تھیں۔ ہیگل یہ جان کر اتنے فکر مند ہوئے کہ اپنی بہن کو اپنے گھر میں رکھنے کی خواہش کر دی تاکہ وہ اس کی بہتر دیکھ بھال کی جا سکے۔ وہ مان گئی اور 1815 ء میں ان کے ہاں آ کر رہنے لگی۔ مگر بہت کم عرصے میں کرسٹین اور میری کے تعلقات کشیدہ ہو گئے وہ دونوں ہیگل سے محبت کرتی تھیں۔ اور چاہتی تھیں کہ اس محبت میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو۔ ہیگل کو احساس ہوا کہ دونوں عورتیں جن سے وہ پیار کرتے ہیں، آپس میں حسد کرنے لگی ہیں۔ ہیگل اگرچہ ایک بڑے فلسفی تھے مگر افراد کے باہمی اور جذباتی قضیے سلجھانے کا تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کنبے کا ماحول ابتر ہوتا گیا۔ کرسٹین کی ذہنی صحت مزید بگڑ گئی چنانچہ ہیگل کو اپنی بہن کو واپس چھوڑنا پڑا۔ گھر لوٹنے کے بعد کر سٹین نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو گئی۔ اس کی بظاہر وجہ اپنے بھائی اور اس کی بیوی کی طرف سے مسترد کیا جانا نظر آتا ہے۔ کرسٹین کو پہلے ایک نفسیاتی ہسپتال اور پھر سیناٹوریم میں داخل کروا دیا گیا۔

اگرچہ ہیگل جمنازیم میں بطور معلم خوش تھے مگر ان کے دل کے نہاں خانوں میں یونیورسٹی پروفیسر بن کر اعلی ترین علمی دنیا میں قدم رکھنے اور رائے ساز افراد میں شامل ہونے کی خواہش جاگزین تھی۔ بالآخر 1816 ء میں جب ان کی عمر 46 سال تھی ان کا یہ خواب حقیقت کا رُوپ دھار گیا۔ ان کو ہیڈل برگ یونیورسٹی میں ایک پوزیشن پیش کی گئی جو انھوں نے احسن طریقے سے قبول کر لی۔ ہیڈل برگ میں ہیگل نے جب زندگی کا نیا باب شروع کیا تو انھوں نے اپنے ماضی پر غور کرنا شروع کر دیا۔ اپنے دل کے تاریک نہاں خانوں میں کہیں ایک پشیمانی چُھپی بیٹھی تھی اور وہ پشیمانی اپنے ناجائز بیٹے لُوڈوگ کو چھوڑ دینے کی تھی۔ جس کو انھوں نے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا تھا۔ ان کو اب شدت سے یہ خیال آیا کہ لُوڈوگ کو یتیم خانے کی بجائے ان کے ساتھ رہنا چاہیے۔ میری نے بادلِ ناخواستہ اور کسی قدر ناراضگی کے ساتھ لوڈوگ کو گھر میں قبول کر لیا۔ میری لوڈوگ کو وہ پیار نہ دے پائی جو وہ اپنے سگے بیٹوں کے لیے رکھتی تھی۔ حتٰی کہ ہیگل بھی اپنے دوسرے دو بیٹوں کی نسبت لوڈوگ سے کم پیار کرتے تھے۔ لوڈوگ کی تربیت و پرورش بھی آسان نہیں تھی کیونکہ یتیم خانے میں رہتے ہوئے اس کے رویے میں کئی قسم کی کجیاں پیدا ہو چکی تھیں۔ 8 سال گزارنے کے بعد لُوڈوگ نے ہیگل خاندان چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا اس وقت اس کی عمر 18 سال تھی۔ یہ سال 1825 ء کی بات ہے وہ ہیگل خاندان سے اس قدر مایوس ہو چکا تھا کہ اس نے ایک خط میں لکھا: ”میں والدین سے محبت حاصل کرنے کی بجائے اس گھر کے اندر ہمیشہ ایک خوف کی سی کیفیت میں رہا۔“

پروفیسر بننے کے بعد ہیگل پر علمی اور فلسفیانہ ہریالی آ گئی۔
اُنھوں نے ایک کتاب: SCIENCE OF LOGIC لکھی۔ ان کو اپنے فلسفے کا خاکہ مل گیا تھا۔

یونیورسٹی میں ان کو تین مضامین، ’تاریخ کا فلسفہ‘ مابعدالطبیعات و منطق ’اور‘ فلسفیانہ علوم کا انسائیکلو پیڈیا ’جیسے مضامین پڑھانے کو ملے۔ کثرت سے لیکچر دینے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ان کی خیالات واضح کرنے اور کتابیں لکھنے کی صلاحیت نکھر گئی۔ جہاں تک ہیگل اور ان کے شاگردوں کے تعلقات کی نوعیت کا تعلق ہے اس کے کچھ روشن پہلو بھی تھے اور کچھ تاریک بھی۔ روشن پہلو ہیگل کی شخصیت تھی کیونکہ وہ ایک شفیق خیال رکھنے والے اور متاثر کن استاد تھے۔ شاگرد ان سے محبت کرتے تھے کیونکہ وہ ان کی تعلیم اور کردار سازی میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ پھر جمنازیم میں بطور معلم گزرے دنوں کا تجربہ بھی ان کے بہت کام آ رہا تھا۔ تاریک گوشہ ان کا پڑھانے کا طریقہ تھا۔ اکثر کمرہ جماعت میں کوئی فکر انگیز بات کرتے ہوئے ان کو گھبراہٹ آ گھیرتی ایسے میں وہ ہکلانے لگتے۔ اس کے ساتھ ان کا سوچنے اور بات کرنے کا طریقہ بھی کافی پیچیدہ تھا لہٰذا شاگردوں کے لیے ان کی بات کو سمجھنا خاصا دشوار تھا۔ بلکہ کچھ طلباء تو ان کے طرزِ تعلیم کو ‘ ہیگل کا اذیت ناک اندازِ لیکچر ’کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ 1818 ء میں کچھ عرصہ بعد ( جرمن آئیڈلزم کے بانی) یوہان فتشے کی وفات کے بعد ان کی جگہ خالی ہونے پر ہیگل کو برلن میں فلسفے کے شعبے کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ اس مقام پر پہنچنے تک ہیگل اپنے آپ کو ، اپنے خاندان کو اور باقی دنیا کو یہ باور کر واچکے تھے کہ وہ فلسفے کی دنیا کے ایک معروف عالم اور کئی معتبر کتب کے مصنف تھے۔ زندگی کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے ہیگل نے علمی اور سماجی حلقوں میں نام پیدا کر لیا تھا اور وہ ایک مشہور شخصیت بن چکے تھے۔

یونیورسٹی کے ایک معزز پروفیسر کی بیوی ہونے کے ناتے میری بھی بہت مسرور تھی۔ اس نے اپنی ایک دوست کو خط میں لکھا: ”میں ہیگل کو اپنے پیشے سے خوش اور مطمئن دیکھتی ہوں، وہ مجھ پر اور بچو ں پر محبت نچھاور کرتے ہیں۔ اور ان کی اپنی ایک پہچان ہے۔ ایک باوقار و خود دار عورت کو زندگی میں اور کیا چاہیے؟“ مگر 1829 ء میں ہیگل کی صحّت گرنا شروع ہو گئی اور 1831 ء میں وہ ہیضے کی وبا کا شکار ہو کر 14 نومبر 1831 ء کو اس جہاں سے کوچ کر گئے۔ اس کے ایک ماہ بعد ان کی بہن کرسٹین نے دریائے ناگولڈ میں چھلانگ لگا کر خود کُشی کر لی۔

ہیگل کا فلسفہ اور نظریات ان کی زندگی اور بعد از موت بھی ایک معمہّ رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا خیال تھا کہ ہیگل ایک دہریہ تھے مگر بعض لوگ ان کو کٹر مذہبی شخص سمجھتے تھے۔ میں، بطور ایک انسان دوست نفسیات داں جب ہیگل کی تحریروں پر غور کرتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ شاید ہیگل نے اپنے اندر موجود تخلیقیت، روحانیت اور دیوانگی کو اپنے فلسفے میں سمونے کی کوشش کی۔ جب میں ان کی نفسیات پر غور کرتا ہوں تو اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ گیارہ سال کی عمر میں والدہ کی وفات نے ہیگل کی شخصیت پر دور رس اثرات مرتب کیے۔ چنانچہ اپنی جذباتی اور خاندانی محرومیوں کے ازالے کے لیے انھوں نے لاشعوری طور پر عقلیت اور فکریت کے طریقہ کار اپنا لیے۔ وہ اپنی عمر کی تیسویں دہائی میں اس وقت ذہنی بحران کا شکار ہو گئے جب اپنے پیارے دوست کی ذہنی بیماری اور اپنی کتاب کا مسؤدہ مکمل نہ کرنے جیسے کٹھن مرحلوں سے گزر رہے تھے۔ اپنی بہن کی طرح ہیگل بھی شدید ڈپریشن میں مبتلا ہو گئے۔ مگر جب وہ اپنے ذہنی بحران سے صحت مند ہو رہے تھے تو ان کو کئی ایک پراسرار تجربات ہوئے۔ جب وہ مکمل صحت یاب ہو گئے تو اپنے روحانی تجربات کو ذاتی انداز میں بیان کرنے کی بجائے فلسفے کی صورت میں ڈھالنے لگے اور وہ اپنے موضوعی تجربات کو مقصدیت کا لبادہ پہنانے لگے۔ لیٔو ٹالسٹائے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ ٹالسٹائے جب ذہنی بحران میں مبتلا ہوئے تو وہ اپنی عمر کی پچاسویں دہائی میں تھے۔ اس دوران ان کو بھی کچھ پُراسرار تجربات ہوئے تھے جس نے ان کی شخصیت اور فلسفے کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ ٹالسٹائے نے ان تمام تجربات کو اپنی کتاب ”ایک اعتراف“ : A CONFESSION میں ایک آپ بیتی کی صورت میں تحریر کیا ہے۔ لیوٹالسٹائے ایک ناول نگار اور ادیب تھے۔ لہٰذا ان کے لیے اپنے جذباتی اور روحانی تجربات سرگزشت کی صورت میں لکھنا آسان تھا۔ مگر ہیگل نہ تو ادیب تھے اور نہ ہی شاعر۔ وہ تمام عمر اپنے شدید جذبات سے نمٹنے کی کوشش کرتے رہے۔ جس سے مزید نفسیاتی الجھنیں پیدا ہوئیں اور ان کے بہت سے روحانی تجربات فلسفے کی بھول بھلیوں میں کھو گئے۔

اس کی ایک مثال یہ دی جاتی ہے کہ ہیگل نے ”کانٹ“ ، ”سپینوزا“ اور ”شیلنگ“ کے فلسفے کو حضرت عیسیٰ کی تعلیمات میں گڈ مڈ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ ہیگل نے سائنس، آرٹ اور مذہب کو یکجا کرنے کی سعیٔ ناکام بھی کی۔ پھر انھوں نے پروٹیسٹنٹ عیسائیت کو لوگوں کے لیے ایک جدید مذہب کے طور پر پیش کیا۔ ہیگل نے تمام عمر کوشش کی وہ اپنے ”فلسفۂ نظام“ کے نظریے کو لیکچر اور کتب کی صورت میں دوسرے لوگوں تک پہنچائیں مگر وہ تمام عمر روحانیات اور تخلیقیت کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہے۔ وہ اپنے خیالات و افکار پر مبنی مواد اور اس کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے طریقہ کار کے درمیان قضیے کو ساری عمر سُلجھا نہ پائے۔ بلاشبہ ہیگل گزشتہ دو صدیوں کے دوران ایک پر اسرا فلسفہ داں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

(ختم شد)
بحوالہ کتاب : CREATIVE MINORITY
مصنف : ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments HS