ڈاکٹر حسن زی: بین الاقوامی فلمی میلے


” ڈاکٹر صاحب فلمی میلے یا فلم فیسٹیول کیا ہوتا ہے؟ یہ کیسے شروع ہوئے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” جس طرح فنون کی ترویج کے لئے تنظیمیں ہوتی ہیں اسی طرح فلم کی ترویج کے لئے دنیا کے مختلف ممالک میں فلمی میلے اور فیسٹیول منعقد کیے جاتے ہیں۔ اِن کے ذریعے فلمیں نمائش کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ یہ فیسٹیول ایک یا ایک سے زیادہ تھیٹروں میں

ہو سکتے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ، فرانس، جرمنی، اطالیہ جیسے بڑے ممالک میں فلمی میلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ وِینَس فلم فیسٹیول دنیا میں سب سے قدیم فلمی میلہ مانا جاتا ہے جو اطالیہ میں 1932 میں شروع ہوا تھا اور آج تک ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ دی یورپین انڈی پینڈنٹ فلم فیسٹیول، یورپ کا سب سے بڑا فلم فیسٹیول ہے۔ یہ 2006 میں شروع ہوا تھا اور ہر سال فرانس میں منعقد ہوتا ہے۔ ایڈنبرگ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول برطانیہ کا سب سے بڑا اور سب سے قدیم فلم فیسٹیول ہے۔ میلبرن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آسٹریلیا کا سب سے بڑا فلمی میلہ ہے جس کا آغاز 1952 میں ہوا۔ اسی طرح 1954 میں سِڈنی فلم فیسٹیول بھی شروع کیا گیا۔ سَن ڈانس فلم فیسٹیول ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا سب سے مشہور ترین فلم فیسٹیول ہے۔ اس کا انعقاد ریاست یوٹا میں کیا جاتا ہے۔ اس میں نامور اداکار خصوصی طور پر شرکت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے فلم تقسیم کار ہر سال سَن ڈانس فلم فیسٹیول کا رُخ کرتے ہیں۔ نئی فلموں کی نمائش یہیں پر پہلی مرتبہ کی جاتی ہے۔ تقسیم کار ان فلموں کے بڑے اچھے پیسوں میں سودے کرتے ہیں۔ فلموں کی باقاعدہ قیمتیں لگائی جاتی ہیں۔ پھر تقسیم کار اِن فلموں کو دنیا بھر میں نمائش کے لئے پیش کرتے ہیں۔ ریاست یوٹا میں انڈیپینڈنٹ فلموں کا ایک اور فلمی میلہ سَیلم ڈانس فیسٹیول بھی مشہور ہے۔ سن ڈانس فلمی میلہ اتنا مشہور ہو چکا ہے کہ اسٹوڈیو سے باہر دس ملین ڈالر بجٹ سے بننے والی بڑی انڈیپینڈنٹ امریکی فلمیں اس میلے میں چلتی ہیں۔ عین اس کے سامنے سَیلم ڈانس فلمی میلے میں بہت چھوٹے اور مائکرو بجٹ فلمیں لگتی ہیں۔ گویا بڑے اور چھوٹے بجٹ کی فلموں کے مابین بہت سخت مقابلہ ہوتا ہے ”۔

” امریکہ میں مختلف لوگ مختلف قسم کی فلمیں دیکھتے ہیں۔ لوگ جب نوجوان ہوتے ہیں تو وہ ہالی ووڈ کی ایکشن فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے ویسے ویسے وہ کم بجٹ والی فلموں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ اس طرح امریکہ چھوٹے بجٹ کی انڈی فلموں کی ایک بہت بڑی منڈی ہے۔ ایسی فلموں کے لئے الگ تھیٹر مختص ہیں۔ یہاں صرف آرٹ فلمیں یا مائکرو بجٹ موویز چلتی ہیں۔ ریاست فلاڈلفیا کا ٹیرر فلم فیسٹیول، خوفناک اور ڈراؤنی فلموں کا ایک مشہور میلہ ہے“ ۔

دیگر ممتاز فلمی میلے :

” برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول جرمنی، ٹورانٹو فلم فیسٹیول کینیڈا کے بھی نام ہیں جہاں بڑے اور چھوٹے بجٹ کی فلمیں ساتھ ساتھ دکھائی جاتی ہیں۔ یہاں نئے لوگوں کو بھی متعارف کرایا جاتا ہے۔ یہ فلمی میلے نئی انڈی فلموں کی نمائش اور تشہیر میں قابلِ تعریف کام کرتے اور انڈی فلموں کے لئے ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ثابت ہوتے ہیں۔ اِن سے نیا فلمساز اور ہدایتکار عالمی شہرت پاتا ہے۔ اِن بڑے فلمی میلوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی باقاعدگی سے میلے منعقد ہوتے ہیں۔ جیسے گوا، بھارت میں گوا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کارلووی واری چیکو سلوواکیہ کا بڑا فلمی میلہ ہے۔ سوئٹزرلینڈ کا لوکارنو فلم فیسٹیول بھی کسی سے کم نہیں! روس کے ماسکو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ عوامی جمہوریہ چین میں منعقد ہونے والا شنگھائی انٹرنیشنل فلمی میلہ، جاپان کا ٹوکیو بین الاقوامی فلمی میلہ اور وارسا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول پولینڈ اہمیت کے حامل بین الاقوامی فلمی میلے ہیں“ ۔

بین الاقوامی فلمی میلے پورا سال:

” ڈاکٹر صاحب کیا بین الاقوامی فلمی میلے موسموں کے لحاظ سے کرائے جاتے ہیں؟“ ۔

” فلمی میلے دنیا کے مختلف ممالک میں پورا سال ہی چلتے ہیں! عام طور پر بڑے میلے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے پر منعقد نہیں کروائے جاتے۔ جیسے سَن ڈانس فلم فیسٹیول جنوری میں ہوتا ہے تو بڑے فلم تقسیم کار یا اداکار جنہوں نے اس میلے میں شرکت کرنا ہوتی ہے وہ جنوری میں سن ڈانس کا رُخ کرتے ہیں۔ اسی طرح فرانس کے کینز فلمی میلے کا انعقاد مئی میں کیا جاتا ہے۔ اس میلے میں فلمی تنظیمیں، اداکار اور تقسیم کار فرانس کا رُخ کرتے ہیں۔ وینس فلم فیسٹیول جون جولائی میں ہوتا ہے۔ برلن بین الاقوامی فلمی میلے کا زمانہ فروری ہے۔ اس طرح پورا سال ہی دنیا کے مختلف ممالک اور شہروں میں فلمی میلوں کا ایک مستقل انتظام رہتا ہے۔ ان میلوں کو بین الاقوامی اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ اس پلیٹ فارم سے دنیا کے مختلف ممالک کی ثقافت ان فلموں کے وسیلے سے دیکھنے کو ملتی ہے۔ یوں شائقین جب دوسرے ممالک کی فلمیں دیکھتے ہیں تو انہیں اُن ممالک کی ثقافت سے آگاہی ملتی ہے۔ میں خود ہر سال دوسرے ممالک کی کئی فلمیں دیکھتا ہوں۔ جیسے جاپانی فلموں نے مجھے جاپانی ثقافت سے روشناس کرایا“ ۔

فلمی میلوں میں فلم بھیجنے کا طریقۂ کار:

” کسی بین الاقوامی فلمی میلہ میں فلم بھیجنے کا طریقۂ کار کیا ہوتا ہے؟“ ۔

” یہ فلمی میلے تنظیم کرواتی ہے۔ میں نے اپنی فلم“ سان فرانسسکو کاؤ بوائے ”کی عکس بندی رواں سال مارچ میں کی۔ جب میری فلم تیار ہو گئی تو میں نے دیکھنا شروع کیا کہ کون کون سے فلمی میلوں میں شمولیت ابھی جاری ہے۔ پھر میں نے ایسے میلوں کی ایک فہرست تیار کی۔ فی درخواست پچاس سے ساٹھ ڈالر فیس بھی لی جاتی ہے۔ فلمی میلے کے قواعد و ضوابط میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں تاریخ تک آپ کو مطلع کر دیا جائے گا کہ آیا آپ کی فلم میلے میں منتخب ہو گئی ہے یا نہیں! جیسے میری فلم“ سان فرانسسکو کاؤ بوائے ”کو ’سینیمیٹِک یورپین فلم فیسٹیول‘ میں منتخب کیا گیا۔ اس فلم کا شو ڈائریکٹر کی موجودگی میں یا غیر موجودگی دونوں میں چلایا جا سکتا ہے۔ فلمی میلوں میں فلمیں دیکھنے والی عام پبلک کے لئے ووٹ کا ایک نظام ہوتا ہے۔ یہ ووٹنگ عوام کے ساتھ میلے کی جیوری ممبران بھی کرتے ہیں لہٰذا تمام آنے والی فلمیں ایک دوسرے سے مقابلے میں ہوتی ہیں۔ اس کے بعد دونوں کے ووٹوں کی مدد سے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون سی فلموں کو ایوارڈ ملنا چاہیے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میری فلم“ سان فرانسسکو کاؤ بوائے ”نے ’سینیمیٹِک یورپین فلم فیسٹیول‘ میں بہترین سنیماٹاگرافی کا ایوارڈ جیتا۔ تو بین الاقوامی فلمی میلوں میں ایوارڈ اس طرح حاصل ہوتے ہیں“ ۔

بین الاقوامی فلمی میلے اور فلم ایوارڈ کا فرق:

” ایک طرف تو فلم فیسٹیول ہے تو دوسری طرف فلموں کو صرف ایوارڈ بھی دیے جاتے ہیں جِن کی الگ تنظیمیں ہیں۔ اِن میں سب سے بڑی تنظیم ہالی ووڈ کی ’اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹ اینڈ سائنسز‘ المعروف ’آسکر‘ ہے جو ’اکیڈمی ایوارڈ‘ دیتی ہے۔ اِن میں فرق یہ ہے کہ فلمی میلے میں عوام کو مکمل فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ پھر میلے کے اختتام میں ’آرڈیئنس‘ اور ’جیوری‘ ایوارڈ دیے جاتے ہیں۔ لیکن جو ہالی ووڈ کی آسکر ایوارڈ کی تنظیم ہے وہ صرف ایوارڈ دیتی ہے فلمیں نہیں دکھاتی! ہر سال پوری دنیا سے مختلف ممالک اپنی اپنی فلمیں ’اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹ اینڈ سائنسز‘ کو بھیجتے ہیں۔ یہاں پوری دنیا سے فلموں کی شرکت کرنے سے متعلق درخواستیں آتی ہیں۔ پھر اُن تمام وصول شدہ فلموں میں سے کچھ بہترین فلمیں منتخب کی جاتی ہیں۔ انہی میں سے پانچ چھ فلموں کی ایوارڈ کے لئے نامزدگی ہوتی ہے۔ پھر ان میں سے ایک کو ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ رواں سال 2023 میں“ آل کوائٹ آن ویسٹرن فرنٹ ”،“ آواتار: دی وے آف واٹر ”۔ وغیرہ نامزد ہوئی تھیں۔ ایسی ہی نامزدگیاں فلم کے دیگر شعبوں کے لئے بھی ہوتی ہیں۔ اکیڈمی ایوارڈ حاصل ہونا بے شک ایک اعزاز کی بات ہے لیکن کسی بھی اداکار کے لئے اکیڈمی ایوارڈ نامزد ہونا بھی کوئی کم اعزاز نہیں! “ ۔

انڈی پینڈنٹ اسپیریٹ ایوارڈ:

” کیا انڈی پینڈنٹ فلموں کے کوئی الگ ایوارڈ ہوتے ہیں“ ؟

” جی ہاں! جس طرح آسکر، اکیڈمی ایوارڈ دینے والی ایک بہت بڑی تنظیم ہے جس میں بڑے فلمی ستاروں کے ساتھ نئے اور اُبھرتے ہوئے فنکاروں کو بھی نامزد کیا جاتا ہے اسی طرح امریکہ میں ’انڈی پینڈنٹ اسپیریٹ ایوارڈ‘ ہوتا ہے۔ یہ چھوٹے بجٹ کی خاص اہمیت والی انڈی فلموں کو دیے جاتے ہیں جو میلے میں مشہور ہو جاتی ہیں۔ یہ ایوارڈ مختلف یانرا یعنی انداز کی فلموں کو دیے جاتے ہیں۔ جیسے اوپر ہارر فلموں کا ذکر ہوا تھا۔ اسی طرح فیملی فلموں، جاسوسی فلموں، مائکرو بجٹ فلموں کے الگ الگ ایوارڈ ہوتے ہیں۔ انڈی پینڈنٹ اسپیریٹ ایوارڈ کی تنظیم 1984 میں بنائی گئی۔ اس نے سینٹا مونیکا، کیلیفورنیا میں اپنے پہلے ایوارڈ کا آغاز کیا۔ پھر آہستہ آہستہ یہ بھی بہت بڑی تنظیم بن گئی۔ اب انڈی پینڈنٹ اسپیریٹ ایوارڈ کی تقریب میں ہالی ووڈ کے ستاروں کو بلوا کر اُن سے نئے اداکاروں کو ایوارڈ دلوائے جاتے ہیں۔ جیسے پاکستان میں نگار ایوارڈ کی تقریب میں نامور فلمی شخصیات جیسے ندیم، شبنم، وحید مراد، دیبا سے ابھرتے ہوئے اداکاروں کو نگار دلوائے جاتے تھے۔ یہاں امریکہ میں جان ٹریوولٹا، نِکول گِبمین، باربرا بوائل، ڈول ہڈسن جیسے جید اور مستند اداکاروں سے نئے فنکاروں کو ایوارڈ دلوائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سان فرانسسکو کا“ سان فرانسسکو انڈی پینڈنٹ فلم فیسٹیول ”ہر سال دسمبر میں ہوتا ہے۔ اس کے بانی جیف راس ہیں“ ۔

ڈاکٹر حسن زی کے ایوارڈ:
” آپ کی کِن فلموں کو ایوارڈ ملے؟“ ۔

” آپ جانتے ہیں کہ میں پچھلے بیس سالوں سے امریکہ میں فلمیں بنا رہا ہوں۔ جب میں نے پہلی فلم“ نائٹ آف حِنا ” ( 2005 ) بنائی تو اسے“ ڈیلیس ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول ”کے لئے پیش کیا اور وہ منتخب ہو گئی۔ مجھے بھی ڈیلیس، ٹیکساس جانے کا موقع ملا۔ ہال تقریباً“ تین سو افراد سے مکمل بھرا ہوا تھا جو میری فلم دیکھنے کو منتظر تھے۔ وہ ایک بہت خوبصورت شام تھی۔ مجھے پہلی دفعہ ریڈ کارپیٹ پر چلنے کا موقع ملا۔ ایسی شاندار شام میں کبھی بھول نہیں سکتا۔ یہی دن تھا جب میری فلم بڑی اسکرین پر اتنے سارے لوگوں نے دیکھی! اس لئے وہ ایک جذباتی شام تھی۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں لال قالین پر چل رہا تھا تو آنکھ سے خوشی کے آنسو جاری تھے کہ میں نے ایک خواب دیکھا اور اب اُس خواب کو پورا ہوتے دیکھ رہا ہوں! فلم ”نائٹ آف حنا“ کو ”ڈیلیس ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول“ میں ایوارڈ بھی ملا۔ اس کے بعد میری دوسری فلم ”بائیسیکل برائڈ“ ( 2010 ) کو امریکہ کی ریاست ویسٹ ورجینیا میں منعقد ہونے والے ”ساؤتھ اپالیچین فلم فیسٹیول“ میں سال کی بہترین فیچر فلم کا ایوارڈ حاصل ہوا۔ یہ بھی ایک خوبصورت تقریب تھی۔ وہ ایک کامیڈی فلم تھی اور مجھے یاد ہے کہ لوگوں کے ہنس ہنس کے کمر میں بل پڑ رہے تھے۔ وہیں پر فرانس کے ایک فلم تقسیم کار نے اس فلم کو منتخب کر لیا اور اسے فرانس، امریکہ اور دوسرے ممالک میں ریلیز کیا۔ میری حالیہ فلم ”سان فرانسسکو کاؤ بوائے“ کو انڈو فرنچ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں سال کی بہترین بین الاقوامی فلم کا ایوارڈ حاصل ہوا ہے۔ اسی فلم کا بلبا تھیٹر سان فرانسسکو میں 26 اگست 2023 شام پانچ بجے ریڈ کارپیٹ پریمئیر بھی ہے ”۔

” اَین اَدر ہول اِن دِی ہیڈ“ فلم فیسٹیول :

” میں نے تیسری فلم“ ہاؤس آف ٹمپٹیشن ” ( 2014 ) اُن ہی جگہوں پر شوٹ کی جہاں نامور ہدایتکار الفریڈ ہچکاک نے فلم“ دی برڈز ” ( 1963 ) کی عکس بندی کی تھی۔ فلم“ دی برڈز ”کی لوکیشن شوٹنگ دھند میں گھرے ہوئے بورڈیگا نامی گاؤں میں سینٹ ٹیریسا اسکول میں بھی کی گئی تھی۔ چوں کہ مجھے الفریڈ ہچکاک بے حد پسند ہیں اور اُن کی فلموں سے متاثر ہوں اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ میں بھی اپنی فلم کے کچھ مناظر اُسی سمندر کنارے واقع چھوٹے سے گاؤں بورڈیگا میں فلماؤں! یوں میں نے گاؤں کے کیفے اور اُسی اسکول میں وہ مناظر شوٹ کیے۔ ڈراؤنی اور خوفناک فلموں کے لئے سان فرانسسکو کا مشہور“ اَین اَدر ہول اِن دی ہیڈ ”فلم فیسٹیول میں میری فلم دکھائی گئی۔ شائقین نے اس فلم کو بے حد پسند بھی کیا۔ فلم“ ہاؤس آٓف ٹمپٹیشن ” ( 2014 ) کو سال کی بہترین فیچر فلم کا ’اَین اَدر ہول اِن دی ہیڈ‘ ایوارڈ دیا گیا۔ میری پہلی دو فلموں کے موضوع اُن کہانیوں پر مبنی تھے جن کے کردار پاکستان سے امریکہ آ کر مصیبتوں کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن فلم“ ہاؤس آف ٹمپٹیشن ”ہارر فلموں کے زمرے میں آتی ہے۔ خوفناک فلموں کا یہاں بے حد رواج ہے۔ ایسی فلموں کو ایک بہت بڑی تعداد دیکھتی ہے۔ ہدایتکار ولیم فریڈکِن کی فلم“ ایگزرسسٹ ” ( 1973 ) اور فلم“ ایول ڈیڈ ” ( 1981 ) ، الفریڈ ہچکاک کی فلم“ دی برڈز ” ( 1963 ) ، ہچکاک ہی کی فلم“ سائکو ” ( 1960 ) سُپر ہِٹ ہوئیں۔ میری فلم“ ہاؤس آف ٹمپٹیشن ”آج 9 سال بعد بھی تقریباً 25 چینل پر دنیا کے مختلف ممالک میں دکھائی جا رہی ہے۔ مجھے ہر مہینے ایک رپورٹ موصول ہوتی ہے کہ کتنے لوگوں نے کس ملک میں فلم دیکھی۔ کیا انہوں نے اسے پسند کیا یا کوئی تبصرے کیے۔ یہ میرے لئے بہت خوشی کی بات ہے کہ لوگ اب بھی اس فلم کو سر اہ رہے ہیں! “ ۔

ہریانہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول:

” میں نے 2018 میں ایک فلم“ گُڈ مارننگ پاکستان ”بنائی۔ اُس فلم کو ہریانہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول بھارت میں سراہا گیا۔ خوشی کی بات تھی کہ ایک پاکستانی کی فلم کو بھارت میں پذیرائی ملی! میں سمجھتا ہوں کہ ثقافت کے فروغ کے لئے پاکستان اور بھارت میں باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے فلم کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ“ گُڈ مارننگ پاکستان ”ہریانہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں منتخب ہو گئی ہے تو میں نے اس خوشی میں نندیتا داس اور شبانہ اعظمی کو فون کیا تو وہ بھی بہت خوش ہوئیں۔ اداکار، فلمساز اور ہدایتکار اپنے ملک کے نمائندے ہوتے ہیں۔ میں امریکہ میں جب کسی سے بات کرتا ہوں تو وہ سب سے پہلا سوال یہی کرتے ہیں کہ تم پیدا کہاں ہوئے؟ گویا میں بنیادی طور پر اپنے ملک کا نمائندہ ہوں۔ پھر جب لوگ بیرونی ممالک میں میری فلمیں دیکھتے ہیں تو میں اپنی فلموں کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہوں۔ وہ میری فلموں کو دیکھ کر میری ثقافت سے آگاہ ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس دنیا میں محبت، حُسنِ سلوک کا درس دے سکتے ہیں“ ۔
( جاری ہے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).