رجعت پسند مسلم معاشرہ
خدا کا تصور بہت پرانا ہے اور اس نے تقریباً دس ہزار سال پہلے کی قدیم ترین تہذیبوں میں جنم لیا۔ خدا کی شکل وقت اور جگہ کے ساتھ بدلتی اور تیار ہوتی رہی ہے۔ قدیم معاشروں میں، سورج، چاند، ستاروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کے بنائے ہوئے بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ بتوں کی پوجا آج تک کچھ مشرقی معاشروں، جیسے ہندوستان میں، جاری ہے۔ ایک غیر مرئی اور طاقتور خدا کا نیا تصور تقریباً چار ہزار سال قبل یہودیت کی آمد کے ساتھ متعارف ہوا۔ اس غیر مرئی خدا کو مشرق وسطیٰ میں کچھ ایسے افراد نے متعارف کرایا جو مذہبی صحیفوں کے مطابق اس زمین پر خدا کے پیغمبر تھے۔ دو بڑے مذاہب، عیسائیت اور اسلام، صحیفوں کے ساتھ ایک قادر مطلق اور ہمہ گیر خدا کی روایات کے ساتھ نمودار ہوئے۔ حالیہ تاریخ کے دوران مذہب انسانی زندگی میں ایک بہت طاقتور قوت بن کر ابھرا ہے۔ آج بھی زیادہ تر معاشروں اور قوموں کی شناخت مخصوص مذاہب سے ہوتی ہے۔
اس مقالے کا مقصد عقلی دلائل کے ساتھ خدا کے وجود کے بارے میں سوالات کو حل کرنا نہیں ہے۔ یہ سوالات فلسفہ اور مابعدالطبیعات کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد معاشروں میں خدا پر یقین کے کردار کا جائزہ لینا ہے۔
یہاں میں اپنے آپ کو دو بڑے مذاہب، عیسائیت اور اسلام، پر مبنی معاشروں تک محدود رکھتا ہوں۔ ان دونوں مذاہب کی ابتداء بالکل مختلف تھی، اور آج بھی ان دونوں مذاہب کا دنیا میں کردار بہت مختلف ہے۔
سب سے پہلے، میں ان مذاہب پر مبنی معاشروں کے آغاز سے لے کر آج تک کے ارتقاء پر مختصراً گفتگو کرتا ہوں۔ پھر میں خدا اور صحیفوں میں عقیدہ کے کردار اور اثر پر، خاص طور پر مسلم معاشروں کے حوالے سے بات کروں گا۔
عیسائیت کی ابتداء 32 عیسوی میں یسوع مسیح کی مصلوبیت سے ہوتی ہے۔ شروع میں عیسائیت کے پیرو کاروں کو رومی سلطنت میں ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریباً تین سو سال تک مظلومیت کا شکار رہنے کے بعد عیسائیت اس وقت ایک ریاستی مذہب بن گیا جب رومی شہنشاہ کانسٹنٹائن نے 312 عیسوی میں عیسائیت کو اپنایا، عیسائی عقائد کو ایک مستقل شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا، اور عقائد کا ایک ایسا نظام تشکیل دیا جو آج تک جاری ہے۔ تاہم اس اہم واقعہ کے فوراً بعد رومی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور یورپ میں ایک تاریک دور کا آغاز ہو گیا۔ اگلے ہزار سالوں کے دوران جب یورپ پر عیسائیت کا غلبہ رہا تو یہ مذہب ایک غالب قوت بن گیا۔ مذہب کے نام پر بے شمار مظالم کیے گئے۔ مذہبی حکام کی مخالفت کرنے والے ان گنت لوگوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا گیا، اور بعض اوقات شہروں کے چوک میں زندہ جلا دیا گیا۔ صلیبی جنگوں نے مذہبی تسلط کے تاریک ترین پہلو کو ظاہر کیا۔ یورپ اپنی تاریک رات سے اس وقت نکلا جب اٹلی میں نشاۃ ثانیہ اور جرمنی میں تیرہویں صدی سے سولہویں صدی تک پھیلی اصلاحی تحریک نے جنم لیا۔ ان تبدیلیوں نے پوپ، چرچ کے پادریوں اور مذہبی حکام کی گرفت کو کمزور کر دیا۔ جب سولہویں صدی میں عقل کی بالا دستی کی تحریک شروع ہوئی، اس نے پورے یورپ میں سائنسی انقلاب برپا کر دیا۔ پچھلے پانچ سو سالوں کے دوران، فکری اور سائنسی کامیابیوں نے پورے یورپ کے ساتھ ساتھ شمالی اور جنوبی امریکہ کے براعظموں میں ایسے معاشرے بنانے میں مدد کی ہے جن کی خصوصیات جمہوریت، مذہبی رواداری، اور ریاست اور مذہب کی علیحدگی ہیں۔
اسلامی معاشروں کا ارتقا عیسائی دنیا میں ہونے والے ارتقاء سے تقریباً برعکس رہا ہے۔ رسول اللہ ( ص) کی وفات کے بعد پچاس سال کے اندر مسلمان ایک عظیم سلطنت کے حکمران بن گئے۔ جنوبی ایشیا سے بحر اوقیانوس اور سپین کے ساحلوں تک پھیلی مسلم سلطنت نے ایک سنہری دور کا آغاز کیا۔ اسلام ایک روادار مذہب تھا جو علم کی قدر کرتا تھا۔ سائنس، فلسفہ اور ریاضی جیسی علم کی تمام شاخوں میں ترقی کی گئی۔ تاہم، یہ سنہری دور تیرہویں صدی میں اس وقت ختم ہوا جب منگولوں نے مسلمانوں کو شکست دی اور اسلامی مراکز کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد جو معاشرہ ابھرا وہ عمومی طور پر سائنسی رویوں کے حوالے سے رجعت پسند تھا۔ نتیجہ یہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان فرقہ ورانہ تنازعات، تعصب اور عدم برداشت کے چنگل میں پھنس گئے۔
خلاصہ یہ کہ عیسائیت کی پیدائش نے مغربی تہذیب کو ایک تاریک دور میں داخل کیا جہاں سے وہ تقریباً دس صدیوں کے بعد نکل کر ایک سائنسی دور میں داخل ہو سکے۔ دوسری طرف اسلامی سلطنت نے اپنی پیدائش کے ساتھ ہی ایک سنہری دور پیدا کیا جو تقریباً پانچ سو سال بعد تاریک دور میں ڈوب گیا۔ یہ اندھیری رات آج تک جاری ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب پچھلے مضامین میں دینے کی کوشش کی ہے۔
اب میں اس مضمون کے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں، یعنی لوگوں کی زندگی میں خدا اور مذہب کا کردار۔ ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں مختلف عقائد کے لوگ اور کسی بھی مذہب کو نہ ماننے والے، باہمی احترام کی فضا میں موجود ہوں۔ خود راست بازی پر مبنی رویہ نفرت، تعصب اور تنازعات کا باعث بن سکتا ہے۔
مندرجہ بالا بحث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے کے مسائل جدید دنیا میں دیگر مذاہب بالخصوص عیسائیت کے مسائل سے بالکل مختلف ہیں۔
مسلم معاشرے کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ عقیدے کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں۔ پوری دنیا کے مسلمان اپنے مذہب کے بارے میں اتنے حساس ہیں کہ اہانت کا شائبہ تک تمام مسلم دنیا میں اشتعال کا باعث بنتا ہے۔ ان میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو مسلم ممالک میں رہ رہے ہیں اور وہ بھی جو مغرب میں رہ رہے ہیں۔ میرے تجربے میں، مذہب کے بارے میں بحث کا عنصر مسلمانوں میں کسی بھی دوسرے مذہبی گروہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ مذہبی عقیدے کے بارے میں حساسیت کا ایک عنصر ہے جو مسلمانوں میں منفرد ہے۔ اسلامی معاشروں میں پائی جانے والی اس حساسیت اور عدم برداشت کی چند اہم مثالیں یہ ہیں۔
· مسلمان خاندانوں میں پیدا ہونے والے افراد اگر اسلامی عقیدے کے بارے میں کسی قسم کے شکوک کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں دوستوں، خاندان اور معاشرے کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
· مسلمان اپنے مذہب اور قرآن کی حرمت کے بارے میں انتہائی حساس ہیں۔ اہانت مذہب اور قرآن کی بے حرمتی کا کوئی بھی عمل مسلم ممالک میں احتجاج کو بھڑکا سکتا ہے جس سے بعض اوقات جانی نقصان بھی ہوتا ہے۔ کچھ ممالک میں ان توہین آمیز اعمال کو ناقابل برداشت قرار دیا جاتا ہے اور ان کی سزا موت ہے۔
· قائم شدہ عقیدہ کے بارے میں فکری بحث کا تقریباً کوئی امکان نہیں۔ اسلام کے بنیادی عقائد کے بارے میں کسی قسم کے شکوک کا اظہار فوراً مذہب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
· کسی دوسرے مذہب سے اسلام میں تبدیلی کو سب سے زیادہ پاکیزہ اور شاندار عمل سمجھا جاتا ہے جسے اسلامی عقیدے کی برتری اور سچائی کے ثبوت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تاہم، کسی دوسرے مذہب کو قبول کرنے والے مسلمان کو مرتد سمجھا جاتا ہے اور اس عمل کی عمومی سزا موت ہے۔
· مسلم معاشرے عموماً کسی بھی ایسے عمل کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں جو ان کی رائے میں قرآن کے خلاف ہو۔ عدم برداشت مسلم معاشرے کا طرہ امتیاز بن چکی ہے۔ اسلامک سوسائٹی موجودہ زندگی میں کوئی بھی معاملہ اللہ پر چھوڑنے اور معاف کرنے کو تیار نہیں۔
یہ عدم برداشت کی کچھ ایسی مثالیں ہیں جو افسوسناک طور پر صرف اسلامی معاشروں میں منفرد ہیں۔ تقریباً تمام دیگر مذاہب نے اپنے ابتدائی تاریک دور میں اس طرح کے رویوں کو اپنایا ہو گا۔ تاہم، وہ موجودہ دنیا میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ روادار ہیں۔ عدم برداشت کا ایسا رویہ کسی دوسرے مذہب اور کسی معاشرے میں نہیں ملتا۔ مثال کے طور پر، عیسائی علما مسیح کے وجود پر شک کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ عدم برداشت کے رویے نے مسلم معاشروں میں رجعت پسندی کو فروغ دیا ہے۔ یہ رویہ مسلمانوں کی شناخت بن چکا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی کونے میں موجود ہوں۔
میں دو مثالوں سے اپنے نقطہ نظر کو واضح کرنا چاہوں گا۔
بہت سال پہلے مجھے دہلی میں واقع جواہر لال یونیورسٹی میں لیکچر دینے کی دعوت موصول ہوئی۔ اس ٹرپ کے دوران میزبان پروفیسر کے ہمراہ دہلی کی بہت سی تاریخی عمارات دیکھنے کا موقع ملا۔ ان عمارات میں قطب مینار بھی شامل تھا۔ قطب مینار سے ملی ہوئی ایک شکستہ مسجد کے آثار موجود ہیں جس کا نام قوت اسلام مسجد تھا۔ یہ مسجد قطب الدین ایبک نے بنوائی تھی۔ جس چیز نے مجھے بہت حیران کیا وہ اس کتبے پر لکھی ہوئی تحریر تھی جس میں مسجد کی مختصر تاریخ بیان کی گئی تھی۔ اس تحریر کے مطابق قوت اسلام مسجد جن ستونوں پر قائم تھی وہ ستائیس ہندو اور جین مندروں سے لائے گئے تھے۔ ایک ہندو اکثریت کے ملک میں، میں یہ دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کسی مسلم ملک میں کسی عمارت سے وابستہ اس نوع کی تحریر برداشت کی جائے گی کہ یہ مندر یا چرچ ان ستونوں پر قائم ہے جو مسجدوں کو تباہ کر کے لائے گئے تھے۔
میں ایک اور واقعہ بیان کرتا ہوں جسے پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم فیروز خان نون نے اپنی کتاب چشم دید میں بیان کیا ہے۔ وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہندوستان کے سرکاری دورے پر دہلی کے ہوائی اڈے پر پہنچے۔ جہاز کی سیڑھیاں اترتے ہوئے مسز نون پھسل گئیں اور ان کا جوتا گر گیا۔ یہ دیکھ کر بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو آگے بڑھے، جوتا اٹھایا اور جب مسز نون سیڑھی سے اتریں تو ان کے پاؤں میں پہنا دیا۔ نہرو کے اس اقدام کو ہر طرف سے سراہا گیا کہ کس طرح انہوں نے مسز نون کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد فیروز خان نون لکھتے ہیں کہ اگر صورت حال الٹی ہوتی اور وہ نہرو کی بیوی یا بیٹی کو جوتا پہناتے تو ان کو اور ان کی سات نسلوں کو اس گھناؤنے فعل پر معاف نہ کیا جاتا۔
یہ عام مشاہدات ہیں لیکن یہ احساس کمتری سے جڑی حساسیت کے گہرے احساس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر مسلمان اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو یہ عدم برداشت اور خود پرستی کا رویہ بہت گہرا جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سچائی پر ان کی اجارہ داری ہے اور وہ مذہب کے معاملے میں دوسروں کے ساتھ خود اعتمادی اور حسن سلوک کا مظاہرہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
اس طرح کا رویہ دوسروں کو تو متاثر نہیں کرتا، وہ اپنے معاشرے میں ہم آہنگی اور استحکام لانے میں کامیاب رہے ہیں، اور ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ تاہم دنیا بھر کے مسلم معاشرے عدم برداشت، رجعت پسندانہ خیالات اور تباہ کن رویوں کی علامت بن چکے ہیں۔ اکثر مسلم معاشرے غربت اور افلاس کا شکار ہیں، اور جو دولت مند ہیں وہ بھی معاشی، سماجی اور تعلیمی ترقی، اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے غیر مسلم معاشروں پر انحصار کر نے پر مجبور ہیں۔
ہم یہ تبلیغ کرتے کبھی نہیں تھکتے کہ مہذب معاشرے میں کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے کی ذمہ دار صرف ریاست کی ہے۔ تاہم ایمان کے معاملے میں مسلمان انصاف کا معاملہ خدا پر چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔
مسلمان انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر ایک انتہائی عدم برداشت کا شکار معاشرے کی تشکیل کے لیے خدائی قوانین کو نافذ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ عام طور پر مسلمان کبھی بھی کوئی معاملہ خدا اور اس کی مخلوق کے درمیان چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ مثلاً بہت سے مسلم معاشروں میں، اگر کوئی شخص رمضان کے مہینے میں عوام میں کھانا کھاتے ہوئے پایا جاتا ہے، تو اسے معاشرے کی طرف سے سخت اور سفاکانہ رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے باوجود کہ یہ ایک انفرادی فعل ہے۔
ایک صحت مند معاشرے میں مذہب طاقت اور سکون کا ذریعہ فراہم کر سکتا ہے۔ خدا کے ساتھ قربت کا احساس بحرانوں کے وقت ایک قیمتی اثاثہ بن سکتا ہے، جیسے کہ کسی عزیز کی موت کے وقت۔ خدا پر یقین اخلاقیات کی بنیاد بھی فراہم کر سکتا ہے جس میں صدقہ اور مساوات کے عناصر شامل ہیں۔ تاہم، مذہب کا مثبت رول صرف اس وقت ہوتا ہے جب اسے ذاتی سطح پر بغیر کسی خود راست بازی کے دعوے کے اپنایا جائے۔ مذہب اور خدا کا تصور انسان کی جذباتی ضروریات تو پوری کر سکتا ہے لیکن ایک ترقی یافتہ ملک یا معاشرے کی طرف لے جانے سے قاصر ہے۔
آج کی دنیا میں وہی معاشرہ ترقی کا ضامن ہے جس میں مذہب اور ریا ست ایک دوسرے سے آزاد ہوں، جہاں ہر شخص کو سوچنے، بولنے اور لکھنے کی آزادی ہو، اور جس کے قوانین روایات کی بجائے لوگوں کی عصری ضروریات پر مبنی ہوں۔
ایک ایسے مکالمے کی اشد ضرورت ہے جو تاریخ کے پس منظر میں مسلمانوں کو ان کی موجودہ حالت زار سے نجات کا راستہ دکھا سکے۔ ایک دوسرے کو کافر کہنے اور خود راستگی کے رویے سے نکل کر ایک آزاد فضا میں اپنے عقائد کا جائزہ لینا ہو گا۔


