پردے میں رہنے دو
جدت پسندی اور روشن خیالی کی ملمع کاری کیے تصنع زدہ پڑھے لکھے طبقہ کی ہیئت اور خدو خال تقریباً ہر زاویے سے ثقافتی سماجی و مذہبی اقدار کو مسخ کرنے میں پیش پیش ہیں۔ انواع و اقسام کی مخلوق خدا جس میں حیوان ناطق کو بفضل ربی اشرف المخلوقات کا شرف نصیب ہوا ہے۔ پھر قسام ازل نے صنف بندی بھی تو کر دی ہے انہی اصناف کی بنا پر ابن آدم اور بنت حوا کا مرتبہ اور مقام اپنی کلیدی شناخت کا حامل ٹھہرا ہے۔ راقم الحروف نے زندگی کے تلخ حقائق کے ساتھ ساتھ رنگین اور قدرت کے حسین و دلفریب نظاروں سے بھی دماغ کو معطر و دل کو فرحت بخشی ہے۔
مذکورہ بالا جملے کی مثال قلم و قرطاس کا سہارا لیتے ہوئے ذی شعور طبقہ تک ابلاغ کرنے کی حتی المقدور سعی کروں گا۔ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور عصر حاضر کی سہولیات سے مزین درسگاہوں میں جانے کا اتفاق اگر ہو آپ کو۔ تو راقم کی زیر نظر خامہ فرسائی بھی مدنظر رکھنا۔ گزشتہ روز ایک مدرسہ میں قدم رنجہ فرمایا۔ یہاں مدرسہ وہ مکتب ہے جسے جدید طرز تعلیم اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی اداروں کے نام سے پڑھا لکھا طبقہ جانتا ہے۔
اور قدم رنجہ فرمانے سے راقم کی نہیں ادارے کی عزت افزائی فرمائی ہے۔ داخلی دروازے سے اندر کو رخ کیا ہی تھا کہ سامنے کی دیوار پر عربی رسم الخط میں کنندہ تھا۔ ”انضافة نصف الایمان“ یعنی صفائی نصف ایمان ہے۔ دیوار پر پڑی نگاہ تو غیر دانستہ تھی مگر دانستہ پڑنے والی نگاہ اس صنف نازک پر جب پڑی تو یقین مانیں۔ اس قدر نفاست تازگی شفافیت رنگین اور بھڑکیلے لباس میں زیب تن دوشیزہ سے نگاہیں چرانا تو درکنار وہ نصف ایمان بچانا ہی محال ہو گیا۔
خود کو سنبھالنے کی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی جب اس پری چہرہ سے بالشت بھر آنچل نہ سنبھل سکا۔ اور دل مضطرب سے بے اختیار نکلا کہ اپنے کاندھے سے دوپٹہ نہ سرکنے دینا ورنہ بوڑھے بھی جوانی کے دعا مانگیں گے۔ یوں اس نے ہماری بھی حوصلہ افزائی کر ہی ڈالی کہ وہ بھی اولاد آدم ہی ہے جس سے ایک نا محرم کے رو برو گھڑی بھر کے لیے معمولی سا آنچل نہ سنبھل سکا تو ہم کون سا کوئی غیر معمولی شخصیت کے مالک ہیں جو ضبط جذبات کر پائیں گے۔
خیر آمدم بر سر مطلب ہم نے غیر ارادی فعل سمجھتے ہوئے قدرت کی کاریگری کو تو خوب بھانپا کہ خدا نے تو حسن دیا ہی ہے اور ہم نے تو اس کا بازار ہی سجا ڈالا ہے۔ تعین کردہ سمت کے مطابق استقبالیہ کا رخ کیا تو بڑھتے ہو قدم اس وقت ساکت ہو گئے جب روبرو نشست کی آغوش میں سامنے بے جان سی میز پر دو کہنیوں کے سہارے ایک تکون نما گلابی ہونٹوں اور ہلال ابرو سیاہ بکھری شانوں پر زلفوں کے عین وسط میں ایک جاندار کا چہرہ جسے دیکھتے ہی راقم الحروف نے مہذب ہونے کا احساس دلواتے ہوئے السلام علیکم کہا تو فی البدیہ ایک مہین آواز نے۔
”ہائے سر! پلیز ہیو آ سیٹ۔“ نے ہمیں ان پڑھ ثابت کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ یہاں شرمندگی سے تو جیسے ان پڑھ ہو کر زمیں بوس ہوتے ہوتے ایک غیر ارادی نظر اس محترمہ کے پیروں پر جیسے پڑی تو ہماری تو جیسے سٹی گم ہو گئی۔ چہرے کی رنگت اور پیروں کی رنگت میں واللہ زمین اور آسمان تضاد اول تو سیاہ جرابیں سمجھ کر دماغ کو سمجھایا مگر غور کرنے پر وہ قدرتی جلوے ہی تھے۔ پھر ایک دم سے ٹیلی وژن پر آنے والی کمرشل پر یقین آیا کہ گوری رنگت کا راز کیا ہے۔
خیر چہرے کی گوری رنگت کو راز ہی رکھتے ہیں۔ کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کے نائب جو ٹھہرے۔ اس نے بھی تو ہمارے بیسیوں راز پوشیدہ رکھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اس بات کو پردے میں رہنے دیں۔ جتنا وقت اس دوشیزہ کے روبرو رہا۔ تو اس قدر لب و لہجے میں نرمی شگفتگی اپنایت کہ بد اخلاق ہونے کی بو آ رہی تھی کیونکہ سننے کو آیا ہے کہ جب کوئی عورت نا محرم مرد سے نرم لہجے میں بات کرے گی تو اس جیسا بد اخلاق کوئی نہیں۔ مقصد جنت دوزخ کے ٹکٹ بانٹنا نہیں اس کی کوئی مجبوری بھی ہو سکتی۔
قصور تو ہمارا تھا جو ہم نے اس کو ترچھی نگاہوں کا نشانہ بنا ڈالا خیر سارا قصور ہمارا بھی نہیں تھا اس کی ملازمت کا ہی یہ حصہ تھا کہ استقبالیہ کے لیے خوبرو کمسن دوشیزہ کو ہی ترجیح دی جاتی ہے جو مشرقی روایات کی پاسدار نہ ہو اور روشن خیال نظریہ کی پیروکار ہو۔ اس کی با اثر شخصیت کا یہ خاصا ہوتا ہے کہ ہر آنے والے فرد کو ہر ممکن مطمئن کرنا ہوتا ہے دوسرے پڑھے لکھے زمرے میں میرے روشن خیال دوست اسے انٹرٹین کرنا کہتے ہیں۔
بات کی شرح رقم کرتے ہوئے ایک مثال سفر کی لازم طور پر شامل کیے دیتا کہ جس بس میں بس ہوسٹس ہوگی اس میں سواریاں بھی کھچا کھچ ہوں گی با نسبت گالی گلوچ والے تھرڈ کلاس کنڈکٹر والی بس کے۔ خیر آمدم بر سر مطلب ہم نے چھوٹتے ہی وجہ آمد بیان کر ڈالی جس پر انٹر کام کو استعمال میں لایا گیا۔ ہونے والی گفت و شنید کے روبرو فریق کے کلمات ملاحظہ فرمائیں۔ جی میڈم۔ اے جینٹل مین از ہیر ان مائی آفس فار انٹرویو۔ چند سانسوں کے توقف بعد ۔ ”اردو“ اوکے میڈم
اب ہمیں ایک اور جانب بھیج دیا جاتا ہے اتنا تو دماغ میں ہلچل مچ چکی تھی کہ خاتونستان میں آن ٹپکے ہیں۔ دماغ انہیں افکار میں مختل ہی تھا کہ پرنسپل آفس میں وارد ہو چکے تھے۔ یہاں بھی حسب روایت انگریزی لب و لہجے کی بھر پور مشق سخن جاری تھی۔ یوآر ایکسپیرینس سر۔ وٹ از یوآر کوالیفکییشن۔ ان تمام سوالات کے جواب بجائے انگریزی کے اردو میں دیے گئے۔ بے شک معیوب سمجھا گیا ہو گا مگر۔ نیمہ آستین۔ بالشت بھر آنچل۔ چست پاجامے، کھلے گلے۔ انگیا واضح۔ لباس ایسا کہ بدن کا ہر زاویہ شفاف۔ ملازمت کے لیے لازم ہو جائے تو ایسی درسگاہوں میں پھر پردہ میں ہی رہنے دو پردہ نہ اٹھاؤ جو اٹھ گیا پردہ تو۔ پھر خس و خاشاک ہو جائے گا۔ میرے برابر کی نشست پر براجمان ایک بھلے مانس اپنے فرزند ارجمند کو معیاری تعلیم کے حصول کے لیے داخل کرانے آئے ہوئے تھے مجھے لگ رہا تھا جیسے وہ خارج کرا رہے ہیں۔


