تنہائی
لوگ، لوگوں کی زندگی میں تنہا دوڑتے ہیں اور انسان لوگوں کے ہجوم میں دوڑتا ہے۔ تنہا انسان دیکھنے کو کچھ نہیں ہوتا مگر وہ کسی کی محفل ہوتا ہے، کسی کا راز ہوتا ہے، کسی کا خیال ہوتا ہے، وہ کسی شب کا ستارہ، کسی اندھیری رات کا مہ کامل، کسی صبح کی پہلی کرن، اور کسی امید کا استعارہ ضرور ہوتا ہے۔ چاند رات کے اندھیرے میں تنہا سفر کرتا ہے لیکن ہر آنکھ کی توجہ کا مرکز ہے کہ وہ اپنی روشنی کہکشاؤں کے ستارے سے وصول کرتا ہے، یونہی انسان کا باطن رات کی تنہائی میں ذکر کی روشنی سے جگمگاتا ہے۔ اور وہ جو راست پر چلنے والا ہے وہ اپنا محور بھی ہے اپنا منظر بھی ہے، اپنی راہ اور اپنی منزل بھی خود ہے۔ آئینہ کون ہے؟ آئینہ تیری اپنی ہی صورت ہے، تیرا اپنا ہی عکس ہے، تیری اپنی ہی تنہائی ہے، تیرا اپنا ہی من ہے جس میں تُو کبھی ڈوبا ہی نہیں، جو ڈوبا نہیں وہ گہرائی سے کیا واقف ہو، وہ اُبھرنا کیا جانے۔
منزلیں ٹھہر گئیں، لوگ آ کر آگے نکل گئے، تنہائی میں چلنے والے ہجوم کے مسافر بن کر پھر سے تنہا ہو گئے۔ تنہائی کیا ہے؟ یہ تُو خود ہی ہے، تیرا اپنا احساس ہے، وہ جاگ گیا تو تنہائی ورنہ ہجوم۔ اور جس پر راز کھل جائے جسے اللہ اپنا بنا لے اس کے لئے تنہائی محفل ہے اور محفل میں تنہائی ہے۔ اس کے لئے ہر راز پارسائی ہے، ہر نارسائی میں رسائی ہے۔ جسے ہم تنہا سمجھ کر مٹی تلے چھوڑ آتے ہیں کسے معلوم آگے جا کر وہ کس محفل میں پہنچ گیا۔ کون جانے اس کے اندیشے اور خوف اگلی محفل میں اُمید کی کرن بن کر اسے ملیں۔ جانے اس کا فَقر محفل میں داخلہ سے قبل پھولوں کی مالا لیے اس کے سامنے کھڑا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے جسے ہم تنہا سمجھتے ہوں اس نے ہمیں تنہا مانا ہو۔
مان الجھ جاتے ہیں، رُتیں بدل جاتی ہیں، پایا اور کھویا میں نُقطے ”پایا“ کو زیادہ ملیں تو سمجھ لیں کہ کھونے کی قدر کیا ہوتی ہے۔ ہاتھ سے لمحے نکل گئے، دن سے سورج نکل کر آگے جانے کہاں نکل گیا۔ رات کے سائے جانے کس سواری پر سفر کرتے ستاروں کو ساتھ لے گئے۔ دن، رات، مہینے، سال گزر گئے۔ وقت کی اس رفتار نے کتنا سفر طے کیا لیکن انسان وہیں کا وہیں رہا۔ یہ سب یوں تو سر سے گزر گیا مگر بالوں کو برف سی چمکتی سفیدی دے گیا۔
بولنے سے خاموشی تک اور خاموشی سے رِدا اوڑھنے تک سب کتنا بدلا سا لگتا ہے جیسے انسان کبھی بولا ہی نہ ہو۔ خاموشی تو الفاظ اور احساسات کو سَلب کر لینے کا نام ہے لیکن رِدا اوڑھنا ”فقیری“ ہے۔ جس میں آنکھ کھلی ہو کر بھی بند ہے۔ کان سنتے ہیں مگر الفاظ و آواز نہیں دہراتے، لب بولتے ہیں مگر مسکراہٹ کے سوا کچھ نہیں۔ خاموشی سے اگلی سیڑھی فقر کی ہے۔ جو یہاں نہیں بولتا وہ اللہ پاک کے سامنے آنسوؤں کی زبان بولتا ہے۔ جو آنکھ بند کر لے اس کی نگاہ دوسرے جلووں پر کھل جاتی ہے۔
تنہائی تو ہے مگر تنہائی میں اللہ ساتھ ہے، خاموشی اوڑھ لی ہے لیکن خاموشی میں اللہ ساتھ ہے۔ دنیا سے نگاہ پھیر لی ہے تو نگاہ میں اللہ ہے۔ رحم کی نظر دوڑائی تو رحم کی صفت میں اللہ ہے۔ جو ”تجھ“ سے بیگانہ ہو گیا وہ ”اُس“ سے آشنا ہو گیا۔ جو میرا نہ رہا وہ کسی کا تو ہوا اور جو میں تیرا نہ رہا تو اللہ کا ہو گیا۔ یہ صفت، یہ موڑ، یہ آشنائی، یہ طرزِ بندگی، یہ تنہائی، یہ ہجوم کچھ نہیں ہے یہ تیرا اپنا احساس ہے۔ جب تیرے ساتھ تنہائی میں اللہ ہے تو تنہائی کیسی؟ اور جو تیری محفل میں اللہ نہیں ہے تو کیسی محفل؟ تیرا آنا، تیرا جانا، رہنا اور پر سفر کرنا اللہ کے ساتھ تعلق سے منسوب ہے۔ جو تیرا ربط قائم ہے تو تُو اصل سے واقف ہے، ورنہ تیری ہی صورت جیسے کئی ہزار آئے اور چلے گئے مگر دنیا کے نظام پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ اور تعلق باللہ والے تو دنیا سے جاتے ہوئے بھی پیچھے رہ جانے والے ہجوم پر بوجھ نہیں ڈالتے، وہ جاتے ہوئے بھی شفقت کر جاتے ہیں۔
تنہا کون ہے؟ تنہا وہ ہے جو کسی کے خیال میں زندہ نہیں وہ تنہا پھول جو کھل گیا اور باغ میں تنہا رہا وہ تنہا کب ہے اس کی پنکھڑیاں ایک محفل کا پتہ دیتی ہیں۔ تنہا پیغمبران نے صحرا آباد کر دے، پیغامِ حق ان تک بھی پہنچا جو موجود نہ تھے۔ غار کی تنہائی محبت، عبادت، ملاقاتِ رب، اور آگہی کا ایک کرشمہ ہے۔ وہ جس کی یاد کے چراغ روشن ہیں وہ تو ہر جگہ موجود ہے پھر تنہائی کیسی؟ تنہا وہ ہے جسے شعور نہ ملا۔ شعور ملا تو راستہ نہ ملا۔ راستہ ملا تو رہبر نہ ملا۔ رہبر ملا تو ادب نہ ملا۔ ادب ملا تو حضوری نہ ملی۔ حضوری ملی تو ذِکر نہ ملا، ذکر ملا تو یاد کو وقت نہ ملا۔ اور جو سب کچھ ملا تو تنہائی کے خوف نے آ لیا، تو ساری زندگی یہ ہی نہ جان سکا کہ وہ کون ہے۔
تنہائی دل کی محفل کے ختم ہو جانے کا نام ہے۔ جس نے اپنا سب کچھ شریعت کی راہ پر وار دیا ہو اسے چلانے کو ایک نام کافی ہوتا ہے۔ صورتیں بدل جاتی ہیں، راہیں تبدیل ہو جاتی ہیں، منظر ڈھل جاتے ہیں، رات آ کر گزر جاتی ہے، جانے والے واپس نہیں آتے۔ مگر اللہ کی راہ کے مسافر ساتھ نہیں چھوڑتے۔ ان کے لیے اِس دنیا سے اُس دنیا تک کا سفر ”رنج“ سے ”خوشی“ میں ڈھل جانے کے مترادف ہے۔
بس یہ عہد کہ میں تو تنہا تھا مگر اللہ کریم میں ان مسافروں کے راستے کے نشان سے نقل کرتے ہوئے آپ تک پہنچا ہوں جو دنیا کے مصائب سے ہوتے ہوئے آپ تک پہنچے۔ جو انعام یافتہ لوگ ہیں۔ ان کے قدموں کے نشان پر چلتے ہوئے اور ان کے بتائے ہوئے سبق پر عمل کرتے ہوئے اس منزل کی رسائی ہوئی ہے۔ پس مجھے قبول کر لے۔ کہ میں نے تنہائی میں دل کی محفل اُن سے سجائی جو تیری یاد میں دن رات بیقرار رہے۔ جو دنیا سے قطع نظر خود کو آپ کے دربار میں حاضر رکھے ہوئے تھے اور پھر انھیں کیا خبر وہ تنہائی تھی یا محفل، وہ ہر خیال اور ہر تصور کو اپنے رب اور ان کے محبوبﷺ سے جوڑ کر چلتے رہے، میں انہی کے قدموں کی خاک ہوں بس تو اس خاک کو قبول کر لے کہ جہاں قدم ہوں گے وہیں خاک بھی ہوگی، یہی اس کی بخشش کا سبب بن جائے۔ اس تنہائی میں ایسی محفل کا سرور ہے جو کسی اور میں نہیں۔ اگر یہ خاک قبول ہو جائے اور وہ نظارہ مل جائے تو اس کی تنہائی بھی محفل ہے، پھر عرش کی پکار ہے، تیری یاد ہے اور یہ دل فنا کو تیار ہے۔


