زندگی تماشا بنی: دیر آید درست آید
میں اس یوم آزادی کچھ آزاد کرنا چاہتا ہوں۔ مالی نقصان تو جو ہوا، سو ہوا۔ بڑے پردے کا کام دکھانے کا خواب ٹوٹا، سو ٹوٹا۔ دل سے قریب موضوع کے منظور نہ ہونے کا دھچکا اس سے سوا۔ لیکن پھر بھی میں بلا قیمت ناظرین تک یہ لانا چاہتا ہوں تاکہ وہ خود فیصلہ کریں کہ یہ کیسی فلم اور کیسا کام ہے؟
یو ٹیوب پر ایک کانٹینٹ دیکھتے ہوئے اس نے یہ ٹکڑا دیکھا۔ جس میں ایکٹر، پروڈیوسر، ڈائریکٹر سرمد کھوسٹ بول رہا تھا۔ اسے اس کی اداکاری سے زیادہ ہدایت کاری پسند ہے۔ کیونکہ وہ عموماً اس راستے پر چلتا ہے جو شاہراہ عام نہیں ہوتی۔ ناظر صاف محسوس کر سکتا تھا کہ یہ سب کہتے اور بولتے ہوئے، وہ اپنے جذبات پر کیسے قابو پا رہا تھا۔ خیر، چونکہ حساسیت کا مادہ ادھر بھی بہت ہے تو اسے وہ الفاظ جو اس نے کہے اور وہ جو ان کہے رہ گئے۔ سب سنائی دیے۔ وہ ساری تکلیف جو چار پانچ سال اس نے بنانے سے آن ائر لانے تک سہی۔ اس کے ٹھیس لگے جذبات، افسردہ آنکھیں سب دکھائی دینے لگی۔
اسے ویسے بھی آرٹ اور خشک مواد بھلے وہ فلم، ڈرامہ ہو یا ڈاکومینٹری، ہمیشہ سے ہی محبوب رہا ہے۔ اس لئے اسی رات جب کچھ خاموشی ہوئی اور دن کے ہنگامے سو گئے تو اس نے یو ٹیوب پر اس فلم کو ’سرچ‘ کیا اور ملنے پر ’آن‘ کر دی۔ ابتدا میں پردہ تھوڑا ’ڈارک‘ لگا۔ بجھا بجھا۔ گدلا۔ یوں جیسے اسی، نوے کی دہائی میں ہوتا تھا۔ یا شاید اب کے ناظر کو لگتا ہے۔ لیکن جوں جوں کہانی کی بنت بننے لگی، کردار سامنے آنے لگے۔ ان کی پرتیں اترنے لگیں۔ تو سب مناسب اور ایک دوسرے سے جڑا لگنے لگا۔ عام بندے کی عام سی کہانی۔ عام ماحول جس میں ہم پاکستانی ہر وقت سانس لیتے، چلتے پھرتے اور ہنستے، روتے ہیں۔ عام گلی، محلے، چوبارے۔ جس میں سب کچھ عام تھا۔ ایک گھر، اس کے مکین، ان کے شوق، ذمہ داریاں، مسئلے، حلقہ احباب، بیماریاں، خوشیاں۔
کہانی کا مرکزی کردار ایک فربہ مائل، ڈھلتی عمر کا شخص خواجہ ہے۔ جس کی اولاد میں صرف تین بیاہی بیٹیاں ہیں۔ جن میں سے ایک اسی شہر میں مقیم ہے۔ جو والدین کی خبر گیری کرتی رہتی ہے۔ بیوی علیل اور چلنے سے معذور ہے۔ تاہم سہارے سے چند قدم اٹھا لیتی ہے جو ٹوائلٹ اور اندر باہر آنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ خواجہ صاحب عشق رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ نعتیں پڑھتے ہیں۔ میلاد کی جان ہیں۔ اپنی نعتوں کی البم ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ بلا تفریق ہر ایک کے لئے معاون اور نرم خو ہیں بھلے وہ کام کرنے والے ساتھی ہوں یا خواجہ سرا۔ بچے ہوں یا محلے دار۔ رفیق ہوں یا ہمدم۔ اور اپنی شریک حیات اور پاس موجود بیٹی کے لئے تو ہر گھڑی مہربان، غم گسار۔ معاشرے میں قابل عزت، قابل قدر۔ لیکن اس عام آدمی کا ایک خاص شوق ہے فلم بینی، پرانی فلمیں، ان کے گانے اور ناچتی، پھدکتی ہیروئینیں۔ جب رات کے پچھلے پہر بیوی سو جاتی ہے۔ تو وہ خود کو اس مشغلے سے بہلاتا ہے۔ لطف لیتا ہے۔ محظوظ ہوتا ہے۔ اور اس شغل کے نقش اس کے بچپن سے اس کے اندر ہیں۔
مسئلہ تو تب بنتا ہے جب ایک دوست کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں خواجہ صاحب سے کچھ بے تکلف دوست گئے رات کی گپ شپ کے دوران ڈانس کی فرمائش کرتے ہیں۔ اور یہ راز بھی تب افشاں ہوتا ہے، جب ان سب کا مشترکہ دوست اور ان کا عزیز حاضرین محفل کو یہ بتاتا ہے کہ ناچ گانا اسے بچپن سے پسند ہے۔ تب بصد اصرار وہ ناچتا ہے اور وہ بھی اپنے پسندیدہ گانے پر۔ زندگی تماشا بنی، دنیا دا ہاسہ بنی۔ اور یاری دوستی میں ہونے والے اس ڈانس کو صاحب خانہ کا ایک بیٹا موبائل پر ریکارڈ کر کے اگلے ہی دن سوشل میڈیا پر ڈال دیتا ہے۔ تب محبوب سے معتوب اور پھر مصلوب ہونے کا اذیت ناک سفر ہے۔ جس سے خواجہ صاحب دوچار ہوتے ہیں۔ سوائے بیوی کے ہر کوئی انھیں بد کاروں، گنہگاروں، بد خصلتوں اور دھتکارے ہووں میں شامل کر لیتا ہے۔ ذہنی، جذباتی اور جسمانی تشدد اور معاشرتی بائیکاٹ کی کند اور تند چھری۔ جو انھیں اکیلا اور تنہا کر دیتی ہے۔
جب اسکرین پر پردہ گرتا ہے تو اس کا انہماک ٹوٹتا ہے۔ اسے یہ فلم کئی پہلووں کو اجاگر کرتی محسوس ہوئی:
نمبر ایک، جنہیں ہم کسی پہلو سے اونچے سنگھاسن پر بٹھا دیتے ہیں، اس پر زبردستی معاشرتی اور خود ساختہ اخلاقی حدیں تجاوز کر دیتے ہیں۔ پھر ان کی کوئی انسانی خواہش یا بھول چوک قابل معافی نہیں۔ ہم ان پر فتوی لگاتے، اور حدود کا نفاذ کرتے ہیں۔
نمبر دو، انسانی زندگی کے کتنے رخ ہیں اور ہر رخ کے اپنے تقاضے۔ کسی ادارے کا سربراہ جتنا سنجیدہ اور نپا تلا عوام اور عملے کے سامنے ہوتا ہے۔ اپنے حلقہ احباب میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہو گا۔ اپنے خاندان، بچوں اور بیوی سے بے تکلفی کے لمحوں میں تو اور بچہ بنا ہو گا۔ بے ڈھنگا بھی ہو گا اور قہقہے لگاتا بھی۔ دوڑتا، بھاگتا بھی ہو گا۔ ٹھمکے بھی لگائے گا اور دل کی بھولی بسری آرزوئیں بھی پوری کرے گا۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایک باحجاب خاتون کا طرز و پیرہن سر محفل اور پس محفل یکسر مختلف ہو گا۔
نمبر تین رویوں کی شدت پسندی۔ یعنی ایک انسان یا بہترین ہے یا بد ترین۔ یا نیک ہے یا بد۔ یا عاشق رسول ہے یا توہین رسالت کا مرتکب۔ یا اللہ کا پسندیدہ ہے یا لعین۔ درمیان کی نرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔
نمبر چار، مرضی، منشا، ذاتی زندگی کی اہمیت ناپید ہے۔ بس جو اور جیسا لوگ اور ماحول آپ کو ہانکتا ہے، آپ بس اسی معیار کو ماننے کے پابند ہیں۔
نمبر پانچ، موبائل، انٹرنیٹ کا ناسمجھ اور بے دریغ استعمال اور عذاب۔ کسی کی بھی اور کیسی ہی ذاتی چیز کو بنا سوچے سمجھے، پوچھے جب چاہو، وائرل کر دو۔
جب اس نے لیپ ٹاپ بند کیا تو رات کافی بیت گئی تھی۔ لیکن وہ سوچ رہی تھی کہ اگر سرمد کھوسٹ اس کے سامنے ہوتا یا کبھی آئے گا تو وہ اس سے ضرور پوچھے گی کہ اس نے اس موضوع کو اٹھانے میں اتنی دیر کیوں کر دی؟ زندگی کے اس طرح کے پہلووں پر گفتگو میڈیا پر نہیں ہو گی تو انسان کیسے بنیں گے؟ اس نے یہ تعریفی تھپکی لینے میں اتنا وقت کیوں لگایا؟


