مذہب، سائنس اور نفسیات



میں سب سے پہلے ڈاکٹر خالد سہیل کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے نہ صرف مجھے کتاب پڑھنے کے لیے فراہم کی بلکہ اس پر میرے نقطہ نظر کو اتنی اہمیت دی کہ میں اس کو اس محفل میں بیان کر سکوں۔ جب ڈاکٹر صاحب نے پہلی مرتبہ مجھ سے اس بارے میں بات کی تو یہ میرے لیے قابل فخر بات بھی تھا اور تھوڑی خوفزدہ بھی تھی کیونکہ ڈاکٹر صاحب مجھے اپنا دوست اور میں انہیں اپنا استاد مانتی ہوں اور اپنے آپ کو ان کا چھوٹا کہتی ہوں ہمارے ہاں استاد اس کو کہا جاتا ہے جو لوگ اپنی فیلڈ کے بہت ماہر ہوں اور ان کا خاص شاگرد چھوٹا کہلاتا ہے اس حوالے سے میں ان کو کی مرتبہ اپنے دماغ کی اس تخیلاتی تصویر سے آگاہ کر چکی ہوں کہ میں آپ کے پیچھے پیچھے کان میں پینسل لگائے ہاتھ میں کاپی اٹھائے بھاگ رہی ہوں کہ جو بتائیں نوٹ کروں اور کچھ سیکھ لوں۔

اس پر سونے پر سہاگہ اگر آپ ایسی کتاب کا ریویو لکھنے اور پڑھنے جا رہے ہوں کہ دوسرے نام ڈاکٹر سہیل زبیری ہو اور دونوں مصنفین اپنی فیلڈز کر ماسٹر ہوں تو یقین مانیں یہ آبیل مجھے مار نہیں بلکہ خود بیل کے سینگوں پر بیٹھ کے پورے اسٹیڈیم کا چکر لگا کر اپنی مہارت اور قابلیت کا بھانڈا پھوڑنے کے مترادف ہے۔ لیکن میرے لیے اس کتاب میں دلچسپی کی وجوہات ذاتی بھی ہیں اور پروفیشنل بھی۔ سائنس سے سب سے پہلا تعارف میرا اسکول یا نصابی کتابوں سے نہیں بلکہ ڈان اخبار کے صفحے سائنس اور ٹیکنالوجی سے ہوا اس کو گھر میں میرے علاوہ اماں ابا شوق سے پڑھتے اور پرجوش تبصرہ کرتے میرے لیے سائنس کا یہ پہلا سبق تھا۔

جو واقعہ اس سلسلے میں سنگ میل ثابت ہوا کہ ایک دن اپنے ابا کی اسٹڈی میں داخل ہوتے ہی انہوں نے مجھے بہت پرجوش انداز میں کلوننگ اور سٹیم سیل ریسرچ کے بریک تھرو کے بارے میں بتایا اور ہالی وڈ کی ساری سائنس فکشن میرے آنکھوں کے آگے گھوم گئیں میری کوشش ہوتی تھی کہ میں ان سے پہلے یہ صفحہ پڑھ لوں تاکہ میں "مس نو اٹ آل” پہلے یہ بات بتا سکوں، لیکن اس کا دوسرا رخ یہ تھا کہ ان چیزوں کو سمجھنے کے لیے آپ کو سوال جواب کے عمل سے گزرنا پڑھتا تھا یہ وہ عمل ہے جس سے بطور معاشرہ ہم دور بھاگتے ہیں۔

ہم اندھی تقلید کی تربیت گھر سے دینا شروع کرتے ہیں بطور ماں باپ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہم جو کہیں جو کریں بچے اس پر آنکھ بند کر کے عمل کرے، سوال چاہے وہ سائنس کا ہو، سائیکالوجی کا ہو یا مذہب کا ہو ہم بطور بڑے اس کی اجازت اس لیے نہیں دیتے کہ ہم علم نہیں رکھتے اور جاننا بھی نہیں چاہتے کیونکہ اندھی تقلید آسان اور جاننے کا عمل دشوار گزار اور محنت طلب ہے۔ اگر آج کی جنریشن زی چیزوں کو جان اور پڑھ رہی ہے تو یہ انٹرنیٹ کی بدولت ہے اس میں ہمارا یا ہمارے بڑوں کا کوئی کردار نہیں کہ سفید بال حیاتیاتی عمر کی نشاندہی تو کرتے ہیں دماغ کی بلوغت کی نہیں۔

اس نے زنجیر مرے پاؤں میں دہری کر دی
میں نے پوچھا تھا کہ دیوار سے آگے کیا ہے

اس لیے اس کتاب کا ان سوالوں کو پرکھنا جس پر جھڑک دیا جاتا ہے میرے لیے بطور لکھاری دلچسپ بھی ہے اور اہم بھی۔ اس کتاب میں تین اہم مضامین کو زیر قلم لایا گیا ہے، مذہب جس کے بارے میں آج کل پوری دنیا میں انتہا پسندی کی لہر شدت سے واپس آ رہی ہے کہ یوسفی جہاں جتنی زیادہ غربت ہوتی ہے وہاں اتنا زیادہ آلو اور مذہب بکتا ہے، لیکن یہ انتہاپسندی اندھی تقلید کو جنم دے رہی ہے کیونکہ ہماری سہل پسندی ہمیں پڑھنے اور سوال کی جستجو کی اجازت نہیں دیتی۔

رہی سہی کسر ایک بورنگ نظام تعلیم پوری کر دیتا ہے، جس میں سارے محمود و ایاز بشمول رضیہ سلطانہ کے ایک صف میں کھڑے ہو کر نمبروں کے پیچھے سجدے کرتے ہیں جس کا کوئی پریکٹیکل لائف میں حاصل وصول نہیں، سائیکالوجی جس کے بارے میں آج کل مینٹل ہیلتھ کے حوالے سے کچھ آگاہی پھیل رہی ہے لیکن پھر بھی آج بھی اس کو پاگلوں کا مضمون سمجھا جاتا ہے اور بریک ڈاؤن یا برن آؤٹ کا شکار لوگوں کو آج بھی لوزر اور بزدل کے طعنے سننے پڑتے ہیں اس وجہ سے اتنا حوصلہ کم لوگوں میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے برن آؤٹ کو تسلیم کریں اور اپنی مینٹل ہیلتھ کی خاطر اپنی لائف سٹائل میں تبدیلیاں کریں۔

جہاں تک سائنس کا تعلق ہے کینیڈا آنے سے پہلے میں سائنس کے حوالے سے صرف اپنے خطے کے لوگوں کو دولے شاہ کا چوہا سمجھتی تھی کینیڈا کی زیارت اور کووڈ کی وبا نے میرے اس تعصب کو دور کر دیا اور میں اس امر سے آگاہ ہوئی کہ جہالت عالمی مرض ہے اور سائنس اور سائنس دان کی طرف تعصب وبائی ہے کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ ایوولوشن سے انکاری ہیں اور کینیڈا کے ہائی اسکول کا ٹیچر مون لینڈنگ سے، ثابت ہوا کہ جہالت کی کوئی قومیت نہیں۔ اس سارے تناظر میں یہ کتاب زیادہ اہم ہوجاتی ہے کیونکہ یہ ان تین مختلف مضامین سے جڑے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی طرف دوسرا قدم ہے اس ذہین بچے کا پہلا قدم پاکستان میں ہونے کی وجہ سے مس کر دیا تھا امید ہے اس دوسرے قدم کو پرجوش طریقے سے انصاف کر پاؤں گی۔

اس کتاب کی خصوصیت اس کا آسان بہاؤ ہے، اس کو دونوں مصنفین نے دو حصوں میں منقسم کیا ہے، ڈاکٹر سہیل زبیری کے تحریر کردہ مضامین Quantum Physicist کی ایک عام قاری کے ساتھ صبر کی تصویر ہے اور میری فزکس کے ساتھ بے پناہ محبت کے باوجود ان کی تحریر نے مجھے اپنے گوگل سرچ انجن کے مستقل استعمال پر مجبور کر کے دوبارہ ٹین ایجر کی طرح محسوس کروایا، جس کے لیے میں ان کی شکر گزار ہوں۔ ان کی تحریر میں میری دلچسپی Allegory of the cave کی اسٹوری سے شروع ہوئی اور Exploring the Universe کا مضمون پڑھتے ہوئے میں ایڈگر مچل کا نام پڑھ کر اپنی کرسی سے گرتے گرتے بچی وہ اس سے اپنی ٹیلیفون کال کا ذکر ایسے کر رہے تھے جیسے اپنے لنگوٹیا دوست کے ساتھ سائنس فکشن فلم ڈسکس کرتے ہیں۔ یہ تحریر ہر اس شخص کے لیے تحفہ ہے جس کو ڈیپ سپیس ٹریول سے دلچسپی ہے۔ ان کے آرٹیکل کی رجائیت نے میرے خلائی سفر کے شوق کو بڑھاوا دیا ہے، آپ ان آرٹیکل کو پڑھتے ہوتی اپنے دماغ میں انسانی ہمت اور لگن کے وہ بے مثال مناظر اپنی آنکھوں کے آگے دیکھ سکتے ہیں یہ انسانی عزم، ہمت اور لگن کا بے مثال سفر ہے ان کے مضامین پڑھنا ایسے ہے جیسے آپ سائنس میوزیم کی سیر پر گئے ہیں۔ جہاں آپ سچ کی تلاش میں جاتے ہیں اور آپ کو جابجا انسانی ذہن کی بے مثال کارگزاریوں کے نمونے ملتے ہیں۔ ڈاکٹر سہیل زبیری نے اپنے مضامین میں بہت سے مشکل سوالوں کے جواب دینے کی کو شش کی ہے جیسے سچ کیا ہے؟ فری ول کیا ہوتی ہے؟ ، صحیح راستہ کیا ہے؟ ، محبت کیا ہے؟ اس دنیا میں اتنی تکلیفیں کیوں ہیں؟ لیکن جن مضامین نے میرا دل جیتا وہ
Exploring the universe، ’eating the stranger اور what is time رہے۔ ان مضامین میں ہر اس شخص کی دلچسپی پنہاں ہے جس کو سیاروں، خلائی سفر اور وقت کے ڈائنامکس سے دلچسپی ہے۔ اس سائنسی میوزیم کا دوسرا دروازہ ڈاکٹر خالد سہیل کے کریئٹیو سائیکو تھراپی کلینک میں کھلتا ہے۔

اس کتاب کے دوسرے حصے میں ڈاکٹر خالد سہیل صرف ادیب، شاعر یا ماہر نفسیات کی نظر سے ان سوالوں کا جواب تحریر نہیں کیا بلکہ ان کی تحریروں میں قاری کو سائنس کا شائق، سوشل ایکٹوسٹ اور تاریخ دان بھی ملے گا۔
Richard Dawkins and mysteries of evolution پڑھتے ہوئے ہر بیالوجی کا شیدائی خوشی محسوس کرے گا لیکن ڈارون اور ڈاکنز کا امتزاج اس خوشی کے ساتھ آپ کو سینس آف ایڈونچر دیتا ہے کہ evolution of genes and concept of meme اس کے علاوہ آپ کے لیے اور کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کا human loving سائیکارٹسٹ ان سے Men ’s liberation better late then never میں یہ کلاسک جملہ لکھواتا ہے کہ ”in my opinion men are lagging behind in this evolution“ کیونکہ وہ evolution through education پر یقین رکھتے ہیں اور اس چیز کا ادراک رکھتے ہیں کہ وہ مرد جو آج بھی مردانگی کے کھوکھلے تصور میں سے نکل نہیں پا رہے وہ صرف اپنے سے منسلک خواتین کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خود بطور انسان کبھی گرو نہیں کر پاتے اور نہ ہی زندگی کا مزہ لے پاتے ہیں۔

وہ انہی مردانگی کی فرسودہ روایات کی جیل میں قید رہتے ہیں، جس طرح سے انہوں نے شادی شدہ جوڑوں میں ایموشنل ابیوز اور اس کے ٹراما کو ڈیل کیا ہے وہ میرے جیسے بہت سے سوشل ایکٹوسٹ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں کہ ہم physical marital violence کی بات کرتے کرتے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ خواتین جن کو اپنے رشتوں میں ایموشنل ابیوز کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ جسمانی تشدد سے کہیں زیادہ خوفناک ہوتا ہے کہ آپ کے دماغ پر جو چوٹیں لگتی ہیں وہ آپ کسی کو دیکھا بھی نہیں سکتے ساری عمر ایک abusive relationship میں اپنے آپ کو ناکردہ گناہوں کی سزا دیتے گزارتے ہیں اور ایسے رشتے صرف مرد اور عورت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے بلکہ بچوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں اور ایموشنل ابیوز کا ایک vicious cycle چلتا رہتا ہے

بقول ڈاکٹر صاحب ایسے کپلز کے بیڈ پر کیکٹس اگتے ہیں لیکن میں اس میں اتنی ترمیم ڈاکٹر صاحب کی اجازت سے کروں گی کہ کیکٹس پر تو پھر سال میں ایک دفعہ پھول کھل جاتا ہے میری رائے میں کیکر کے کانٹے اگتے ہیں جس سے دونوں بھی لہولہان رہتے ہیں اور بچے بھی، سائیکل آف لو، freedom and intimacy جہاں لو، personal boundaries جیسے حساس مضامین کو ڈسکس کرتے ہیں وہاں seven causes of human suffering ان کا بطور humanist انسانوں کی تکلیفوں کا ایک comprehensive analysis اور نجات کی ایک سیکولر دعا ہے اور میں یہ بات پہلے بھی کر چکہ ہوں کہ ڈاکٹر خالد سہیل وہ atheist ہیں جو ہر انسان کو اس کا خدا تلاش کرنے میں مدد کرتے ہیں اس لیے God is a metaphor کے ان دو صفحوں میں کہیں بھی ایک atheist اپنی علمی قابلیت جھاڑتا یا بھی مذیب اور مذہبی شخصیت کو نیچا دکھاتے نہیں ملے گیں بلکہ اس میں ایک خواہش ہے اس امید کے ساتھ کہ انسان مقدس اور تقدس کے آگے دیکھنے کے لیے دماغ کی آنکھ کھولیں تاکہ نفرت اور جنگ کا جو الاؤ ہوس کے سوداگروں نے بھڑکایا ہے اس پر پانی ڈالا جا سکے اور بطور انسان ہم اجتماعی ترقی کر سکیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر سہیل زبیری نے اس کتاب میں religion science and psychology سے جڑے مشکل سوالات کا بھرپور حساسیت سے جواب تلاش کیا ہے، دکھ مجھے اس بات کا ہے کہ میں اس میں بہتر حوروں کے قصے پڑھنے اور چسکے لینے سے محروم رہی لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ اس ایک کتاب میں اتنے diverse topics کو کور کیا گیا ہے کہ جہاں یہ آپ کے دماغ کی چولیں ہلا دیتے ہیں وہاں یہ اپنے پڑھنے والوں کو بغیر تکلیف پہنچائے ان مضامین پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے جن کو ہم مقدس قرار دے کر الماری کے سب سے اونچے شیلف پر رکھ دیتے ہیں کہ دونوں ڈاکٹر صاحبان مجھے جیسوں کی جہالت مٹانے کی ذمہ داری کا بیڑی اٹھائے ہیں اور اس کو خدا کی مرضی قرار دے کر انسانوں کے گناہوں اور ادھورے علم اور کام کا بوجھ خدا کے کندھے پر ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔

کہ بقول میر
خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن
رہے ہے خوف واں کی بے نیازی کا

یہ مضمون Religion, Science and Psychology Part 2 کی تقریب رونمائی سات اگست 2023 کو پڑھا گیا

Facebook Comments HS