مستقبل کا تصور اور فرد کی آزادی
یہ 29 اکتوبر 2021 ءکی بات ہے۔ جی، اُن دنوں میں سے ایک دن کی بات کہ ابھی عمران خان کا اقتدار پوری طرح قائم تھا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا رہا تھا کہ یہ حضرت اپوزیشن کی عدم اعتماد کی ایک تحریک منظور ہونے کے بعد اقتدار سے یوں نکال باہر کیے جائیں گے کہ ان کے لیے سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ فیصلے کرنا ممکن ہی نہ رہیں گے۔ یہ بھی بعد میں ہم نے دیکھا تھا کہ ادبدا کروہ ایسے فیصلے کیے چلے گئے جن سے خود ان کے راستے مسدود ہوئے۔ تاہم تب یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ اعلیٰ عدالت سے صادق و امین کی سند پانے والے کو آخر کار ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے خائن ثابت کر کے جیل بھیج دیا جائے گا۔ جس دن کی میں بات کر رہا ہوں تحریک لبیک والے لاہور سے دارالحکومت کی طرف محو خرام تھے۔ ہم آٹھویں اسلام آباد لٹریچر فیسٹول کے لیے اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں جمع تھے۔
پروگرام کے مطابق اس کے افتتاحی اجلاس میں سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی اور مجھے کلیدی خطبے دینا تھے۔ پہلے مجھے بعد میں ملیحہ لودھی کو۔ میں اردو میں لکھ کر لایا تھا اور ملیحہ لودھی انگریزی میں تاہم میں اپنا پرچہ پڑھ چکا تو انہوں نے کہا کہ وہ بھی اردو میں بات کرتیں تو اچھا ہوتا مگر لکھا ہوا انگریزی میں ہے۔ خیر دلچسپ اجلاس رہا۔ میری گزارشات کا عنوان تھا ”مستقبل کا تصور اور فرد کی آزادی“ ۔ یہ گفتگو جن کاغذات پر تھی وہ کہیں پڑے رہ گئے تھے۔ اب اچانک سامنے آئے ہیں تو ملکی منظر نامہ بدل گیا ہے۔ میں نے یہ مقالہ پڑھا اور مجموعی طور پر بہت ریلے وینٹ لگا، اس لیے کسی کاٹ پھانس کے بغیر آپ کے ذوق مطالعہ کی نذر کر رہا ہوں :
لائق تکریم خواتین و حضرات!
سب سے پہلے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے ذمہ داران اور آٹھویں اسلام آباد لٹریچر فیسٹول کے منتظمین کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے اس شاندار ایونٹ کے افتتاحی اجلاس میں آپ سے مخاطب ہونے اور اپنے دِل کی باتیں کہنے کا موقع فراہم کیا۔ میرے دِل میں کیا ہے ؛ بہت سارے وسوسے، بہت سارا خوف اور اُمید کی بس ایک موہوم کرن جس کی مدد سے میں مستقبل کی طرف دیکھتا ہوں۔ ایک عام آدمی کا اس کیفیت میں مستقبل کو دیکھنا اور لفظ کی تہذیبی کنہ سے وابستہ رہ کر بنتے بگڑتے مستقبل کو دیکھنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ رواں سیاسی اور سماجی مسائل ہی ہمارے عصر کے مزاج کو متشکل کرتے ہیں اور بس، مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ تو محض چہرے کی وہ خراشیں ہیں جنہیں وقت کا آئینہ فوری طور پر اُچھال دِیتا ہے ؛ اس کے سارے بھید تو اس کے عقب میں بکھرے پڑے ہوتے ہیں۔
خواتین و حضرات!
ہم سامنے کے مناظر میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ نیا زمانہ ہے، جا چکے وقت میں دفن ہو چکی آوازوں اور تصویروں کو پھر سے زندہ کر کے شرمسار کرنے کا زمانہ، تو اس میں یوں ہو رہا ہے کہ ”عدت پوری نہیں ہوئی تھی“ اور ”مدت پوری نہیں ہوگی“ کی آوازیں ماحول کو گدلا رہی ہیں، وہ جو فیض آباد کے دھرنوں میں فیض اور عطا کے سلسلے تھے اور یہ جو انہیں پھر سے شاہراہوں پر بڑھا لیا گیا ہے، وہ جو ایک صفحے کا قصہ تھا اور یہ جو ”چنتخب“ اور ”منتخب“ کے بیچ کے فاصلے، الزامات اور التزامات ہیں۔ وہ جو پاناما اور ڈان لیکس کے بعد ”احتساب احتساب“ کا شور مچا کر منھ سے جھاگ اُچھالی جا رہی تھی اور یہ جو پنڈورا لیکس کے بعد خامشی کی گمبھیرتا ہے اور وہ جو غالب نے کہا تھا کہ ”تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم/میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے“ تو یہ جو نامہ بر نہیں مل رہا تھا اور ندیم کچھ مزید دِنوں کے لیے ”لیکن“ ہو گیا ہے یہ سب ہمارے قریب کے عصر کے چہرے پر خراشیں ہیں۔ وقت گزرنے پر بھول جانے والی؛ تاہم ان سب کے عقب میں کٹھ پتلیوں کا تماشا دکھانے والوں کی ایسی کیمسٹری کام کر رہی ہے جس کا ہمارے قومی وجود یا اجتماعی زندگیوں سے کچھ لینا دِینا نہیں ہے۔ اگر ہم آنے والے وقت کا کوئی خواب دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ذرا گھوم کر اس تماشے کے عقب میں جاکر دیکھنا ہو گا۔
محض عقب میں نہیں جو کچھ ذرا فاصلے پر ہو رہا ہے وہ بھی؛ کہ یہ نیا زمانہ ہے۔ اب فاصلے، فاصلے نہیں رہے۔ میں یہاں بات کر رہا ہوں اور آپ میں سے کئی کہیں اور بیٹھے مانیٹر پر نظریں گاڑے اور سماعتیں بچھائے، وہاں سے مجھے سن اور دیکھ رہے ہیں۔ کیسا عجب زمانہ آ لگا ہے کہ ”گو گرین“ کے نعرے میں سب کچھ ڈیجیٹل ہوتا جا رہا ہے ؛ حتیٰ کہ میلے اور فیسٹول بھی۔ ہم خوش ہیں کہ وبا کے موسم میں ہم نے جینے اور زندگی کو ہر حال میں رواں رکھنے کا چلن سیکھ لیا ہے۔ ہم، دفتر میں، گھر میں، لاؤنج میں، خواب گاہ میں یا کہیں بھی لاسلکی وسیلے سے اپنی مرضی سے کہیں کا منظر بھی دیکھ سکتے ہیں، کوئی فلم، ڈرامہ یا میچ دیکھنا ہو، کچھ خریدنا یا بیچنا ہو، کسی دوست عزیز کا چہرہ دیکھنا ہو یا اس سے بات کرنی ہو؛ وہ جو منیر نیازی کو اپنے آپ سے شکایت رہی تھی کہ ”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں“ تو اب اس ”میں“ کو یہ شکایت نہیں رہی۔ جو جام جہاں نما اس ”میں“ کے ہاتھ لگا ہے اس نے سارے حجاب اُٹھا دیے ہیں۔ ہم اپنی اس جادوئی مشین کے سامنے شوق سے بیٹھتے ہیں یا اسے ہاتھ میں لیے لیے پھرتے ہیں تو اسے لیے کہ اب کوئی فاصلہ فاصلہ نہیں رہا، کوئی بھید بھید نہیں رہا اور ہم اس پر خوش ہیں کہ سب کچھ ہماری دسترس میں ہے۔
”ہم خوش ہیں۔“ میں جملہ دہراتا ہوں۔ ”واقعی ہم خوش ہیں“ میں اپنے آپ کو مسرت اور خوشی کا یقین دلانا چاہتا ہوں۔ مگر اس جملے کے سامنے کوئی کہیں سے آ کر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا جاتا ہے۔ ایک زمانے تک میں سمجھتا رہا ہوں کہ خوشی اور مسرت کا احساس ہی انسانی زندگی کی اعلیٰ ترین فضیلت ہے لیکن جب میں نے جون جیک مرے کا ایک مضمون پڑھا تو اندازہ ہوا کہ میں نادرست سوچ رکھتا تھا۔ آسائشیں، سہولتیں، خوشی یا مسرت یہ سب اپنی جگہ بہت دلفریب سہی مگر یہ زندگی کی اعلیٰ اقدار کی فہرست میں کہیں نیچے جاکر پڑتی ہیں۔
زندگی کی سب سے اعلیٰ قدر اگر کوئی ہے تو وہ آزادی ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو اِنسان کو باقی مخلوقات سے الگ اور ممتاز کرتی ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی آزادی، پڑھنے اور لکھنے کی آزادی، اپنی ترجیحات آپ مرتب کرنے کی آزادی۔ آزادی جس کے امکانات اس نئے زمانے میں معدوم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اب کوئی فرد یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ جو فیصلہ وہ کر رہا ہے، خود اُسی کا ہے یا کسی اور کے تشکیل دیے گئے بیانیے کے زیر اثر کیا گیا ہے۔ ہر سماج کو اپنی زبان اور اپنی تہذیبی اقدار پیاری ہوتی ہیں۔ کوئی سماج اپنی تہذیبی اقدار کو ساتھ لے کر نہیں چل پا رہا تو یہ اُس کا اپنا فیصلہ نہیں ہو سکتا مگر یہ اقدار یوں فرسودہ ہو کر پچھڑ رہی ہیں جیسے یہ فیصلہ اس سماج کا اپنا ہو۔
ریاستیں مستحکم نہیں رہیں، حکومتیں ڈانواں ڈول ہیں، سرحدیں پگھل رہی ہیں اور عقیدوں سے لے کر عقیدت اور خاندان سے لے کر رشتوں کی پاکیزگی تک سب کچھ یہاں تحلیل ہو رہا ہے تو کون ایسا چاہتا تھا؟ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا ہو رہا ہے۔ اور یہ کچھ یوں ہو رہا ہے جیسے یہ ہماری زندگیاں نہیں تھیٹر آف ایبسرڈ کا کھیل تماشا ہے۔ یوجین آئنسکو کے شہرہ آفاق ڈرامے ”دی چیئرز“ کا بوڑھا جوڑا ایک جزیرے کے اکلوتے مکان میں جس طرح خالی کرسیوں کی تعداد میں اضافہ کیے جاتا ہے اور اپنے مہمانوں کا خوش دِلی سے یوں استقبال کرتا ہے جیسے کوئی واقعی وہاں آ رہا ہو۔ وہاں کوئی نہیں آیا تھا۔ کرسیاں خالی تھیں، خالی رہیں۔ ہمارے سامنے بھی خالی کرسیاں ہیں۔ ہم اپنے وجود کے اندر سے یوں خالی ہو رہے ہیں کہ اندر ہمارا اپنا کچھ بھی نہیں بچ رہا۔
جس کسی نے بھی یہ کہا تھا کہ ”روئے زمین پر ظلم و تشدد سے بچاؤ کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے، کوئی حفاظتی حصار نہیں ہے“ درست ہی تو کہا تھا۔ آزادی کے مقابل یہ تشدد ہی ہے جس نے فرد اور سماج کو یوں پچھاڑا ہے کہ اسے اپنی آزادی کی نعمت سے محروم ہوتے چلے جانے کا ”احساس زیاں“ تک نہیں ہو پا رہا۔ وہی صورت حال ہے جس کا نقشہ اقبال نے ”شمع و شاعر“ میں یوں کھینچا تھا ”وائے ناکامی! متاع کارواں جاتا رہا/کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا“ ۔ دستوئیفیسکی کا کہا بھی یاد آ رہا ہے۔ اس نے کہا تھا:
نئی صدی کا ہر آدمی بزدل اور غلام ہے اور ہمیشہ بزدل اور غلام رہے گا اور یہ اس کی عمومی خصوصیت ہے۔ ماڈرن آدمی اسی مقصد کے لیے بنایا اور ڈھالا گیا ہے۔ ایسا کسی ناگہانی حالات کی وجہ سے نہیں ہوا۔ بلکہ جدید تعلیم یافتہ آدمی لازمی طور پر بزدل اور غلام ہے۔ ”
بہت تلخ بات۔ تعلیم یافتہ آدمی اور غلام؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ نہیں ہونا چاہیے مگر جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے اور نئے انسان کو غلامی میں جکڑنے والی زنجیریں ڈیجیٹل ہو رہی ہیں دستوئیفسکی کی تلخ بات حقیقت میں ڈھل رہی ہے۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ہم خوش ہیں کہ ہمیں خوشی کے گئے جیٹس مل گئے ہیں ؛ مگر حیف نہیں جانتے کہ یہی تو سرمایہ کار کے غلام ہو کر ہمیں بھی ایک پراڈکٹ بنا کر اس کے سرمائے میں بڑھوتری اور ارتکاز کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں وہ بھی یوں کہ اس کے صارف بھی اس کی اپنی ایک پراڈکٹ ہو گئے ہیں۔ پنجاب کے تھانوں میں، اور ان کے ہاں بھی جو بندے غائب کر لیا کرتے ہیں ؛ ایک اصطلاح عام ہے ”گجھی اور نگھی مار“ ؛ یہ وہ جادوئی حیلہ ہے جس سے کسی بھی فرد کا سافٹ ویئر بدل لیا جاتا ہے۔ جی گجھی اور نگھی مار یعنی ایسی کاری اندرونی ضربیں جو باہر نشان تک نہ چھوڑیں ؛ مگر مضروب کے وجود میں اُس کا اپنا کچھ نہ چھوڑیں۔ لیجیے سافٹ ویئر صاف سلیٹ ہوا، اب اس میں جو بھرنا ہے بھر لیں۔ تو یوں ہے کہ آج کا ہر فرد اسی گجھی اور نگھی مار کی زد میں ہے۔
معزز خواتین و حضرات!
اس گجھی اور نگھی مار سے بچنے کے لیے ہم آج یہاں جمع ہیں۔ ہم جو تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں سے اپنے وجود کی معنویت کشید کرتے ہیں اور ہم جو لفظ سے اور کتاب سے جڑے ہوئے لوگ ہیں۔ ہم اس پر نازاں ہیں کہ ہم نے سائنسی میدان میں بہت فتوحات پائیں اور ایسا بہت کچھ بنالیا جو انسانی فلاح و بہبود کے کام آ کر، اس کی آزادی سلب کیے بغیر انسانیت کا مستقبل تابناک بنا سکتا ہے اور چاہتے ہیں کہ اس ساری ترقی اور سائنسی ایجادات کے ثمرات کوئی اور نہ ہتھیا لے جائے کہ انہیں بہر حال انسانی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ ہمیں اس ساری علمی اور سائنسی ترقی کو غاصبوں اور اپنی تجوریاں بھرنے والوں کی رکھیل ہونے سے بچانا ہو گا۔ سو ہمیں اِس کے حیلے سوچیں گے اور اُن جادوئی لفظوں کا ذِکر کرنا ہو گا جو ہمارے اندر سے معدوم ہوتی انسانیت کی محافظت کر سکیں۔
توجہ سے سننے کے لیے، خواتین و حضرات آپ کا بہت بہت شکریہ




