وفا اور بے وفائی کی داستان اینا کاریننا


یہ ان دنوں کی بات ہے جب ایم اے میں عالمی کلاسیک کا مضمون پڑھتے ہوئے ہمارے استاد محترم ساجد خانصاحب نے کلاس میں سے ہر طالب علم کے ذمے عالمی کلاسیک کی ایک کتاب لگائی، جس پر اسے اپنی پریزینٹیشن پیش کرنا تھی۔ تب شیکسپیئر اور اس کا ڈرامہ ہیملٹ ہمارے حصے میں آیا تھا۔ اپنے مجوزہ موضوع پر گفتگو کرنے کے بعد جب ہماری ایک ساتھی کلاس فیلو نے ٹالسٹائی اور اس کے شہرہ آفاق ناول اینا کاریننا پر اپنی دلچسپ گفتگو پیش کی تو ہم سے رہا نہ گیا اور کلاس کے اختتام پر استاد محترم سے اینا کاریننا کا وہ قدیم اکلوتا نسخہ مستعار لے لیا جو خود انھوں نے جانے کہاں سے حاصل کر کے متعلقہ طالبہ کو دیا تھا۔

ساجد خانصاحب ہمارے ان اساتذہ میں سے تھے جو پڑھنے والے طالب علموں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ کمال فیاضی سے اپنی کتب ہمارے حوالے کر دیتے اور تب تک نہ پوچھتے، جب تک کہ خود ان کو اس کتاب کی ضرورت نہ پڑ جاتی۔ اس دن اینا کاریننا کا وہ ضخیم نسخہ فراخدلی سے ہمارے حوالے کرتے ہوئے وہ کلاس سے چلے گئے۔ فراغت ملتے ہی جونہی ہم نے اشتیاق سے ناول پڑھنا شروع کیا تو ٹالسٹائی کے دلچسپ انداز بیاں نے ہمیں ایسا جکڑا کہ وقت گزرنے کا بھی ہوش نہ رہا۔ ہاسٹل کی کچھ راتیں مسلسل جاگ کر ہم نے اس ناول کو مکمل پڑھا اور اختتام پہ اپنا دل تھام کر رہ گئے۔ ٹالسٹائی کا تخلیق کیا گیا، اینا کاریننا کا کردار پورے ناول پہ حاوی لاجواب کردار تھا، جس کے اثر سے اس وقت نکلنا ایسا آسان نہ تھا۔

خانگی زندگی، اس کے اسرار و رموز، پیچیدگیاں، الجھنیں، چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور بڑے بڑے غم کیسے پتھر جیسے مضبوط لوگوں کو بھی توڑ ڈالتے ہیں، دل کے ہاتھوں ہارتا انسان نصیب کے ہاتھوں بھی ہار جاتا ہے اور دوسرے رشتوں کو ہمیشہ نبھانے اور سنبھالنے والے کیسے خود اپنی زندگی کے رشتے ناتے نہیں سنبھال پاتے یہ سب المیے، دکھ، لاحاصلی، پچھتاووں کی بازگشت اور ان کا فلسفیانہ بیان اس ناول کا خاصا ہے، جسے ٹالسٹائی نے اپنے قلم کے زور سے دوام عطا کیا ہے۔

پھر وقت کے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزرا، اگر کچھ نہیں بھولا تو عالمی کلاسیک کے اور بہت سے جاندار کرداروں کے ساتھ اینا کاریننا کا یہ بھرپور اور لازوال کردار تھا، جس کی دلکشی، رعنائی، حسن اور بغاوت آج بھی حافظے میں جوں کی توں موجود ہے۔

چند دن قبل جب بک کارنر جہلم سے اس ناول کی اشاعت مکرر کی خبر ملی تو دلی خوشی ہوئی کہ ٹالسٹائی کے عالمی کلاسیک کے اس شاہکار کو ایسی ہی شاندار اشاعت و طباعت سے منظر عام پر آنا چاہیے اور اس کی ایسی ہی تزئین، آرائش اور پذیرائی ہونی چاہیے جو اینا کے کردار کا جوہر ہے۔ اینا کے خوبصورت تصویری خاکوں سے مزین اس اشاعت کے بعد جب یہ ناول ہمارے ہاتھ تک پہنچا تو کتاب کھول کر پڑھتے پڑھتے ماضی کا وہ لمحہ پھر عود آیا جب کچھ راتیں مسلسل جاگ کر ہم نے یہ ناول پڑھا تھا۔ اب کی بار پھر وہی دلچسپی تھی، وہی برقراری اور وہی درد بھرا دل۔

اینا کاریننا کی زندگی کی اس دردناک کہانی کو آپ جتنی بار پڑھ لیں اس کا اثر زائل نہیں ہوتا۔ ہر بار آپ کی ملاقات ایک نئی اینا سے ہوتی ہے۔ وہ اینا جو معزز ہے، پاکیزہ اور عالی اخلاق کی مالک ہے۔ وہ جو بگڑے رشتے سنوار دیتی ہے، جس کے چہرے پر چھایا شفقت اور ممتا کا نور اسے دوسروں سے ممتاز بنا دیتا ہے۔ وہ جو معاشرے میں اعلیٰ و ممتاز مگر اوسط شکل و صورت کے حامل اپنے خاوند کے ساتھ بخوشی نباہ کرتی ہے، جسے دیکھ کر لوگ اس جیسا ہونے کی دعا کرتے ہیں اور پھر وہی اینا دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کیسے دوسروں کی ہی نہیں خود اپنی خوشیاں بھی خاک میں ملا دیتی ہے، جس کی پاکیزگی پر لگے بے اختیاری کے داغوں کی ایک دنیا منتظر ہے۔ جس کی مامتا اس کے ہر ذاتی جذبے کے آگے رکاوٹ بنتی ہے اور جو آخر میں خود کو سب سے بھیانک سزا سے نوازتی ہے، بلاشبہ ایسا بے باک کردار ٹالسٹائی کے ہی قلم کا شاہکار ہو سکتا ہے۔

ٹالسٹائی جس نے جنگ اور امن میں معاشرے کی ارتقاء اور نشو و نما جیسے تلخ اور المناک پہلوؤں پر لکھا، وہی ٹالسٹائی جس نے اینا کاریننا جیسے اس عظیم کثیر الجہت ناول میں روسی مراعات یافتہ اعلیٰ طبقے کے خانگی تمدن اور اخلاقی رویوں کی کج روی کو اس انداز سے اپنا موضوع بنایا کہ اینا کاریننا جیسا شاہکار وجود میں آیا۔ لیوِن اس ناول کا وہ دوسرا زور دار کردار ہے جس میں خود ٹالسٹائی اور اس کی سیرت کا عکس چھلکتا ہے۔

وہ اوسط شکل و صورت کا حامل، شرمیلا لیکن ذہین دیہی شخص ہے، جو سماج کے نمود و نمائش سے بھرے، ملمع شدہ دوہرے معیارات اور شہرت کے حصول کے بھونڈے ذرائع کا ناقد ہونے کے باعث، خود کو دیہاتی زندگی میں زیادہ خوش اور مطمئن محسوس کرتا ہے۔ ناول کے کئی فلسفیانہ مباحث اسی کردار سے جڑے نظر آتے ہیں۔ ذرا ان چند سطروں سے اس کے خیالات کا اندازہ لگائیں۔

”سرمایہ مزدور کو کچل دیتا ہے۔ ، ہمارے ہاں مزدور کسان محنت کا سارا بوجھ ڈھوتے ہیں، لیکن وہ چاہے کتنی بھی محنت کر لیں، اپنی مویشیوں جیسی حالت کو نہیں بدل سکتے۔ ان کی محنت سے حاصل ہونے والے سارے منافع سے، جس سے وہ اپنی حالت بہتر کر سکتے تھے یا تعلیم حاصل کر سکتے تھے، وہ سب سرمایہ دار اینٹھ لیتے ہیں۔ ہماری سماجی تشکیل ہی ایسی ہے کہ وہ جتنی زیادہ محنت کریں گے، سوداگر اور زمیندار اتنا ہی عیش کریں گے اور مزدور ہمیشہ جانور ہی رہیں گے۔“

اس ناول میں ٹالسٹائی کا فلسفہ زندگی کئی جگہوں پہ قاری کو اپنا اسیر کر لیتا ہے۔ ذرا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

”تم خود ایک کامل کردار ہو اور یہ چاہتے ہو کہ ساری زندگی کامل عناصر سے مل کر بنے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ تم چاہتے ہو کہ آدمی کے کام کا بھی ہمیشہ ایک مقصد ہو اور محبت اور خاندانی زندگی بھی ایک ہی ہو، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ زندگی کا سارا تنوع، ساری دلکشی و خوبصورتی اندھیرے اور اجالے دونوں کے ہونے سے ہے۔“

ورونسکی جیسے طبقہ امراء کے دل پھینک اور لا ابالی عاشق، کیٹی جیسی حساس دیانتدار روح، ابلوانسکی جیسا بے وفا شوہر، اور ڈولی جیسی شوہر پرست بیوی اور ننھے بچوں کی ماں، جس کا رشتوں سے اعتماد ٹوٹنے کے بعد پھر کبھی بحال نہ ہو پایا، ایسے انگنت دلچسپ، حیرت انگیز اور زندگی کے فطری رنگوں سے بھرپور کرداروں سے مزین، یہ ایک ایسا عظیم ناول ہے، جو ہر بار کے مطالعے پر اپنے نئے مفاہیم آشکار کرتا ہے۔

ایسے عمدہ اور کثیر الجہت کلاسیکی ناول کا ترجمہ محمد تقی حیدر نے کیا ہے، جس کو اطہر رسول حیدر نے بارد دگر اپنی تنقیدی نظر سے گزارا ہے۔ ناول میں موجود کئی روسی کہاوتوں، مشکل ناموں، نامانوس الفاظ، ضرب الامثال اور اشعار کے بھی حاشیے میں معنی درج کیے گئے ہیں۔ جن سے ترجمے کی تفہیم میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے نادر فن پارے کی اشاعت پر برادرانِ بک کارنر جہلم محترم گگن شاہد صاحب اور محترم امر شاہد صاحب کو دلی مبارکباد اور نیک تمنائیں۔

Facebook Comments HS