پسوڑی والے علی سیٹھی اور ہماری گٹر زدہ ذہنیت
ہمارے معاشرے میں ”حلال“ شادی کا تصور کیا ہے، حلال شادی سے مراد شادی کا وہ معاشرتی تصور ہے جو معاشرے میں رائج الوقت ہے، کبھی ہم نے اس حلال شادی کے تصور پر غور کیا یا جاننے کی کوشش کی کہ اس کی بنیادوں میں کیا فلسفہ و فکر پنہاں ہے؟ ہم ذرا پہلے حلال شادی کے تصور کو کھول لیتے ہیں۔
ہمارے سماج میں دو افراد کے مابین رشتہ طے کرنے کی رسم کچھ اس طرح سے ادا ہوتی ہے کہ لڑکے والے لڑکی کے گھر آتے ہیں اور لڑکی کی شکل و صورت کا بغور جائزہ لے کر اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ لڑکی ہمارے لڑکے کے لیے موزوں رہے گی یا نہیں؟ بعض دفعہ تو لڑکا بھی ہمراہ ہوتا ہے، لڑکی بیچاری شرماتے شرماتے چائے وغیرہ پیش کرنے کے لیے آتی ہے تو لڑکا بھی غور سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور بعض دفعہ تو وہ اسی وقت اپنے پاپا کے کان میں کہہ دیتا ہے کہ پاپا مجھے یہ لڑکی پسند ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس ساری منظر کشی کا مقصد یا لب لباب کیا ہوتا ہے؟ بچی کو بغور یا ٹٹولنے والی نگاہوں سے دیکھنے کے پیچھے فلسفہ یا سوچ کیا ہوتی ہے؟ بچی کو دیکھنے یا ٹٹولنے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ کوئی ”چیز“ ہے؟
لڑکی نجانے کتنی بار بننے سنورنے کی اذیت سے گزرتی ہے اور کون جانے کتنی بار اسے انکار کے ٹراما سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور پھر اگلی فیملی کہ لیے پھر سے بناوٹی ڈرامہ کرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کئی طرح کی قباحتوں کے باوجود بھی اس حلال شادی کا مقصد تو وہی ہوتا ہے کہ کمرہ عروسی میں جسمانی و ذہنی ملاپ ہو جائے۔ اس کے علاوہ تو کوئی دوسرا مقصد نہیں ہوتا نا! ایک طرح سے جنسی آرام و راحت کے ساتھ ساتھ فیملی شجرے کو آگے بڑھانے کا معاشرتی بندوبست ہوتا ہے۔
اب ذرا آگے بڑھتے ہیں کہ جب سٹیج پر دولہا بن ٹھن کے سو دو سو لوگوں کے سامنے بیٹھا ہوتا ہے تو دولہا یا سامنے بیٹھے لوگوں کو پتا نہیں ہوتا کہ آج کی رات ان دونوں کے ملاپ کی ہے؟
ولیمے کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ کیا یہ ایک طرح سے ملاپ کی ضیافت نہیں ہوتی؟ اور کیا لوگ باگ اس حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں جو اس بندھن کی وجہ سے ہوتا ہے؟
اب چلتے ہیں ”حرام“ شادی کی طرف، حرام سے مراد ایسی شادی ہے جو معاشرتی روایات سے ہٹ کر ہو، لیکن دو بالغ افراد کی مکمل رضامندی، مشاورت اور ان کے شعوری فیصلے کی روشنی میں سرانجام پائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس حرام شادی کے نتائج حلال شادی سے مختلف ہوں گے؟ کیا حرام شادی میں ملاپ کا کوئی اور طریقہ یا مقصد ہوتا ہے؟
سوائے اس فرق کے کہ انہوں نے اپنے ملن کے پروسیس میں کسی تیسرے کو فریق نہیں بنایا، باہمی رضا مندی سے ایک تعلق قائم کیا ہے۔ دیکھا جائے تو شادی کا مقصد تو یہی ہوتا ہے نا! کہ دو افراد باہمی رضامندی سے ہنسی خوشی زندگی بسر کریں، اولاد یا کنبہ بنانے کی چوائس تو ہر ایک کی اپنی اپنی ہوتی ہے۔ اب ہمیں کوئی یہ سمجھا دے کہ شادی کے ان دونوں طریقہ کار میں مسئلہ یا خلاف فطرت کیا ہے؟
خاندانی فوج کی موجودگی میں جو شادی طے پاتی ہے کیا اس میں دولہا دلہن کچھ خاص یا ہٹ کے پرفارم کرتے ہیں؟ اور جو باہمی رضامندی سے دو بالغ افراد ایک دوسرے کو منتخب کرتے ہیں وہ کچھ الگ پرفارم کرتے ہیں یا ان کی شادی کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے؟
اب رہا یہ سوال لڑکے کی لڑکے کے ساتھ شادی، یا لڑکی کی لڑکی کے ساتھ۔
تو اس بات کا تعلق اخلاقیات سے نہیں ہے بلکہ بائیولوجی سے ہے، جب تک سائنس نے پوری طرح سے اپنی آنکھیں نہیں کھولی تھی یا انسانی شعور ابھی پالنے میں تھا تو اس وقت ہم حقائق سے کوسوں دور تھے اور سنی سنائی باتوں پر تکیہ کیے رکھتے تھے مگر آج سائنس کی بدولت انسانی شعور انتہائی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور ہم آج جان چکے ہیں کہ دنیا میں فیمیل یا میل کے علاوہ گے، لیزبین، ٹرانس جینڈر اور اے سیکشول بھی پائے جاتے ہیں جن کے جنسی رجحانات بالکل ہی مختلف ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا نے ایل جی بی ٹی کمیونٹی کو بطور فرد کے تسلیم کیا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کو عزت دی ہے۔
اس لمبی چوڑی گفتگو کا حاصل یہی ہے کہ انسانی جبلت کو گالی بنا کر ان پر قدغنیں لگا دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہی سب کچھ خاموشی یا رازداری سے ہو رہا ہوتا ہے جسے ہم اپنے تئیں دبانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں، کیونکہ فطرت سے فرار ممکن نہیں۔
یاد رکھیں اگر ہم ”آج“ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں آج کے مسائل پر گفتگو کرنا ہوگی اور معاشرے کو آج کے چیلنجز بارے باشعور بنانا ہو گا۔ اگر ہم آج میں رہتے ہوئے ماضی میں دبکے رہنے کی کوشش کریں گے تو ہمارا کچھ بھی نہیں بچے گا۔
اس بحث کا پس منظر علی سیٹھی کے متعلق ایک مبہم سی خبر تھی جس میں کہا گیا کہ علی سیٹھی نے اپنے ہی ایک سنگر میل دوست سے شادی کر لی ہے، اس افواہ نما خبر کے لیک ہوتے ہی ہمارے بھائی بندوں نے علی سیٹھی کے رسپانس کا انتظار کیے بغیر ہی اسے ”گے“ ڈیکلیئر کر دیا اور اپنی توپوں کا رخ نجم سیٹھی کی طرف موڑ دیا اور وہ گھٹیا قسم کی بکواس بازی کی کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کس قسم کی ذہنیت کے لوگ ہیں۔ گندہ دہنی کی اس غلیظ مہم میں تمام حدیں پارکر دی گئیں اور نجم سیٹھی کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ تم حرام کا کھاتے تھے اور اب تمہاری اولاد بھی حرامی پیدا ہوئی۔
حالانکہ علی سیٹھی نے اس خبر کی تردید بھی کر دی ہے کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ فرض کر لیتے ہیں کہ اگر وہ تردید نہ کرتے تو ہماری صحت پر ان کے اس انتہائی نجی سے فیصلے کا کیا اثر پڑنا تھا؟
دنیا میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہوتا ہے جو بہت سوں کو پسند نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ تھوڑے ہوتا ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر بک بک کرنا شروع کر دیں۔ ایک بندہ یو کے، کینیڈا یا دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتے ہوئے اپنے آرٹ و فن کے ذریعے سے وطن عزیز کا نام بلند کیے ہوئے ہے ہمیں اس کی ذاتی زندگی میں گھسنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر کوئی شخص کسی بھی لحاظ سے ہم سے مختلف ہے تو کیا اس پر لازم ہے کہ وہ ہمارے سامنے اپنا کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی پیش کرے؟
انسانوں کو دائرہ انسانیت سے محض اس بنیاد پر بے دخل نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی بھی اینگل سے ہم سے ”مختلف یا ذرا ہٹ“ کے ہے۔ اگر وہ جنسی و ذہنی طور پر ہم سے مختلف ہے تو اس میں اس کا کیا قصور؟ فطرت نے جو کچھ اس کو ودیعت کیا ہے وہ اگر اسی میں رہنا چاہتے ہیں تو ہم کون ہوتے ہیں ان پر پابندیوں کی بوچھاڑ کرنے والے؟
مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے مسئلے کو محض مذہب کی عینک سے دیکھتے ہیں آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہم اس قدر اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ ہمیں اپنوں کے بیچ ہونے والی بڑی بڑی تبدیلیاں دکھائی نہیں دے رہیں۔ مثلاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر مڈل ایسٹرن ممالک بڑی تیزی سے اعتدال پسندی کی طرف بڑھ رہے ہیں، انہوں نے مذہب کے اثر و رسوخ کو کم سے کم کر کے دنیا کے دوسرے کلچر یا فکر کو اپنے درمیان خوش آمدید کہنا شروع کر دیا ہے، حتی کہ سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک نے تو ”گے“ کمیونٹی کو بھی اپنی سرزمین پر آنے کی اجازت دے دی ہے۔
یاد رہے کہ عرب ممالک نے اس قسم کے فیصلے کر کے ”گے“ کمیونٹی پر کوئی احسان نہیں کیا ہے بلکہ وقت کا فیصلہ ہے جو نجانے کب سے نوشتہ دیوار تھا۔ المیہ یہ ہے کہ عرب ممالک جن کے ہم گن گاتے نہیں تھکتے انہوں نے بھی اپنے رجعت پسندانہ تصورات سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے مگر ہم ابھی بھی اپنی انا اور ضد کے مابین معلق ہیں۔ خیر ہو گا تو وہی جو وقت کا فیصلہ ہو گا ورنہ ہمیں افغانستان بننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، جہاں آج کوئی جانا بھی پسند نہیں کرتا۔
باقی جن لوگوں نے اس بیہودہ قسم کی گندہ زبانی میں بھرپور حصہ ڈالا ہے آپ ان کی موبائل ہسٹری چیک کر لیں سب واضح ہو جائے گا کہ یہ کس قدر مہذب لوگ ہیں؟



آپ نے جس انداز میں بات کی ہے کسی گالی سے کم نہیں ہے اتنی گھٹیا گفتگو کر کے کس کو سمجھانا چاہ رہے ہیں