جڑانوالہ کے آزاد انتہا پسند


کچھ عرصے پرانی بات ہے میں اور ہمارے چند صحافی دوست ایک ڈھابے پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے گفتگو کے دوران عمران خان کی بات نکلی اور وہاں پر ایک دوست نے عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تسبیح پکڑنے سے کوئی سچا مسلمان ثابت نہیں ہوجاتا۔ اسی اثناء میں قریب بیٹھے ایک شخص نے جو ہماری گفتگو میں بار بار دخل دے رہا تھا اچانک سے زور سے کہنے لگا کے تم نے تسبیح کی بات کیوں کی، تم نے تسبیح کا مذاق کیوں اڑایا؟ ایسے میں اس نے قریب بیٹھے لوگوں کو متوجہ کرنا شروع کیا کہ یہ لوگ مذہب پر تنقید کر رہے ہیں۔ میرا دوست جو بظاہر سینئر اور پرانا صحافی تھا مگر غصے کے بھی تیز تھے انھوں نے اپنی سیاسی تنقید جاری رکھی۔ لیکن بات خراب ہونے لگی اور آواز بلند ہونے لگی تھی۔ مجھے کچھ خدشہ ہوا کہ معاملات بگڑ رہیں ہیں میں نے تمام دوستوں کو زبردستی اٹھایا اور وہاں سے جلدی سے نکل گئے۔

وہ میرا پہلا تجربہ تھا جب میں نے اچانک سے ایک جھوٹا مذہبی الزام لگتے ہوئے دیکھا اور دو چار منٹ میں اس کی شدت دیکھی۔ اندازہ ہوا کہ مذہبی انتہا پسندی کتنی راسخ ہو گئی ہے اور باقاعدہ منٹوں میں ایک جھوٹا الزام لگا دیا گیا اور آس پاس کے لوگوں کو بھی طیش دلانے کی کوشش کی گئی۔ خدا نہ خواستہ یہ بات بڑھ جاتی تو؟ یہ سوچ سوچ کر خوف آتا ہے۔ بالکل ایسا ہی معاملہ اکثر توہین مذہب پر مبنی الزامات میں ہوتا ہے جہاں پر اکثر جھوٹے الزامات ہی نکلتے ہیں، سیاسی شخصیت پسندی بھی ہوتی ہے، زمین کا چکر بھی ہوتا ہے اور ذاتی چپقلش بھی ہوتیں ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں ایک اور خوفناک واقعہ بدھ 16 اگست کو پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں پیش آیا جہاں توہین مذہب کی خبر چارسو پھیل گئی اور پوری تحصیل میں حالات کشیدہ ہو گئے، جس کے بعد شدت پسندوں نے مسیحی برادری کے علاقوں پر حملے کیے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق کئی گرجا گھروں سمیت درجنوں گھروں اور قیمتی اسباب کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 15 اگست بروز منگل کی رات کو تحصیل جڑانوالہ یہ ایک خبر پھیلی جس کے مطابق مبینہ طور پر دو مسیحی لڑکوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور بدھ کی صبح ہزاروں لوگ ایک ہجوم کی شکل میں مسیحی برادری کی آبادیوں پر حملہ آور ہو گئے اور گرجا گھر سمیت بہت کچھ جلا دیا۔

اب گھسے پیٹے بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے کہ ”ایسا کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے“ ۔ سب سے پہلے اس جھوٹ کو ختم کرنا ہو گا اور سچ بولنا پڑے گا کہ ایسے کرنے والے مسلمان ہی ہیں اور اس سے پہلے جو بم پھاڑتے تھے وہ بھی مسلمان تھے، جنھوں نے 80 ہزار پاکستانیوں کو قتل کیا وہ بھی مسلمان تھے۔ ابھی تک ہی جھوٹ بولا جاتا ہے کہ یہ مسلمان نہیں ہوسکتے اور ایسا کرنے والے کی دین میں کوئی جگہ نہیں ہے یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے اور مسلسل بولا جا رہا ہے۔

جب بھی کوئی اس طرح کا واقعہ ہوتا ہے اس میں مذہبی طبقہ سب سے آگے ہوتا ہے، یہ لوگ پورے ملک میں دندناتے پھرتے ہیں اور کھلے عام توہین توہین کھیل رہے ہوتے ہیں۔ ان جیسوں کے پاس جمعے کے محراب و منبر ہیں، ان جیسوں کے پاس بڑے بڑے مدرسوں کی کنجیاں ہے، ان جیسوں کے پاس بڑے بڑے فنڈز ہے، ان جیسوں کے پاس ہی قربانی کے جانوروں کی کھالیں ہیں۔ اس انتہا پسندی کی سوچ میں لاکھوں لوگ ڈوب گئے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس ملک میں سب سے آزاد یہ طبقہ ہے۔

غور کریں، قرآن کریم پر جان بھی قربان کرنے والے دعویدار خود قرآن کے حکم کے منافی کام کرتے ہیں اور بار بار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سب سے بڑے دیندار ہے لیکن حقیقت میں دین اسلام کی اصل روح اب تک سمجھ نہیں پائیں۔ دین اسلام امن کا دین ہے اس میں شدت پسندی کی گنجائش بالکل بھی نہیں۔ حیرت اس بات کی ہوتی ہے کہ رحمت اللعالمین سے محبت کے دعویدار ہے مگر پیارے نبی ﷺ کے بتائے ہوئے اخلاق کے راستے پر نہیں چلنا۔ یہ لوگ نہ صرف اپنی زندگیاں برباد کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے تشخص کو اور باہر ملک رہنے والوں مسلمانوں کو بھی مشکلات میں ڈالتے ہیں مگر وہی بات یہ اپنے آپ کو ہی حق مانتے ہیں بس۔

تمام باتیں ایک جانب دوسری طرف ریاست کو ہر حال میں بڑا فیصلہ کرنا ہو گا، ریاست نے توہین مذہب پر تو قانون بنایا ہے اور اس پر عمل بھی ہوتا ہے مگر جھوٹا الزام لگانے والوں کے بارے میں کوئی قانون نہیں۔ کوئی بھی اٹھتا ہے الزام لگاتا ہے اور خود ہی منصف بن جاتا ہے اور ہزاروں لوگوں کے ساتھ فیصلہ کر دیتا ہے۔ ریاست کو سب معلوم ہے کہ انتہا پسند فیکٹریاں کہاں کہاں ہے؟ اب اس کے خلاف ہر محاذ پر کام کریں کیونکہ ابھی والی نسل تو برباد ہو گئی ہے مگر 15، 20 سال بعد معاملات بہتر ہوسکتے ہیں اور وہ اسی صورت میں اگر ریاست حتمی فیصلہ کر لے۔

Facebook Comments HS