میرے مرشد! میرے دشمن، میرے قاتل
تعجب ہوتا ہے کہ ہم انسانوں کی بستی میں رہتے ہیں۔ ہماری خام خیالی یہ ہے کہ ہم خود کو اشرف المخلوقات سمجھتے ہیں۔ ایسی کیا بات ہے کہ ہم باقی دوسری مخلوقات سے خود کو افضل سمجھتے ہیں؟ کیا صرف شعور کی وجہ سے ہم دوسروں سے خود کو زیادہ افضل سمجھتے ہیں؟ کیا شعور یہ ہے کہ کروڑوں انسانوں کا قتل عام کر کے ہم خود کو افضل سمجھے؟ انسانی تاریخ انسانی خون سے رنگی پڑی ہے۔ انسان تہذیب کے دائرے میں نہ پھلے تھا نہ ہزاروں برس گزر جانے کے بعد بھی تہذیب یافتہ بن نہیں پایا!
مشہور روسی ناول نگار دوستو وسکی نے کہا تھا کہ انسان دو پاؤں والا جانور ہے۔ کیا اس بات سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم بھی جانور ہیں جانوروں کی بستی میں جاکر رہے۔ مگر مجھے اس بات کا دکھ ہو گا کہ ان میں بچارے جانوروں کا کیا قصور جن سے ہم دور رہتے ہیں اور کسی بھی غیر انسانی عمل میں بول دیتے ہیں کہ انسان نہیں جانور ہے حیوان ہے؟
جانور تو انسانوں کو نقصان نہیں دیتے پھر ہم جانوروں سے تشبیہ کیوں دیتے ہیں؟ ان میں بچارے جانوروں کا کیا قصور! اصل میں انسان کو شیطان صفت کہا جا سکتا ہے۔ انسان ابھی بھی وحشی اور درندگی سے نکل نہیں پایا۔ ہزاروں سالوں کی تہذیب یافتہ انسانی تاریخی سفر کے باوجود ہم آج بھی وحشی صفت جانور بنے ہوئے ہیں۔ جس کا بدترین مثال سندھ کے شہر رانی پور کے ایک مشہور پیر اور گدی نشین نے حویلی میں کام کرتی دس سالا معصوم فاطمہ فھرڑو کو تشدد کر کے مار دیا۔
ایس ایس پی نے معصوم بچی فاطمہ کے ساتھ زیادتی کا خدشہ ظاہر ہونے پر ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ اور ڈی آ جی سکھر نے ایس ایچ او رانی پور کو معطل کر دیا ہے۔ اور ڈاکٹر کو بھی جیل کی سلاخوں میں ڈالا گیا ہے۔ فاطمہ فھرڑو کی ماں کا کہنا ہے کہ میری بیٹی کا بازو ٹوٹا ہوا تھا۔ اس کے جسم پر چوٹیں اور کچھ نشانات تھے۔ بظاہر تشدد کے۔ اس کے جسم پر، خاص طور پر اس کی گردن اور پیٹ کے گرد، فاطمہ کی ماں شبانہ کا دعویٰ ہے کہ فاطمہ کو کئی دنوں تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور وہ متعدد زخموں کے نتیجے میں چل بسیں۔
سوشل میڈیا پر لوگوں کے احتجاج کے بعد مجرم اور گدی نشین اسد کو فاطمہ کے قتل کیس میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
جب میں نے فاطمہ پہ اسد شاہ نامی درندے کی ایک بڑے کمرے میں ہونے والے تشدد کی وڈیو دیکھی۔ وڈیو چلنے لگتی تو ایک طرف فاطمہ کی بے بسی پر رونا آیا۔ جو مرشد کے ظلم اور وحشت کا شکار ہوئی۔ دوسری طرف اس وحشی صفت انسان کو دیکھ کر انسانیت پر رونا آیا، دل کر رہا تھا کہ اب بہت ہو گیا اب آؤ مل کر انسانیت کا ماتم کریں۔ ہم آخر کب تک ایک دوسرے کو انسانیت کا درس دیتے رہیں گے؟ ہر روز سماج میں ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر انسانیت پر رونا آتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے ہم نے اب تک تو کروڑوں انسانوں کو تو موت کی نیند سلادی ہے۔ ہمارے اس تہذیبی سفر میں کب سیاسی نفرت مذہبی نفرت میں بدل گئی۔ کچھ پتا ہی نہیں چلا!
جیسے ہے فاطمہ کے قتل پر لکھنے لگا تو ظالم صفت اسد شاہ جیسے وحشی صفت درندے نے انسانیت پر ماتم کرنے پر مجبور کر دیا۔ اور معصوم فاطمہ کی وڈیو نے مجھے بے بس بنا دیا کہ ہوا کی معصوم بیٹی اتنی تکلیف میں مر کر دفن ہو گئی اور ہم خاموشی سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ہم اتنے بے بس ہو گئے ہیں یا بے حس ہو گئے ہیں۔ ہم ایک تو معصوم بچیوں کو درندوں کے پاس کام کرنے کیوں بھیجتے ہیں۔
نامِ فاطمہ کا بھرم رکھ لیتا!
رزاق عاصی
توں! حجاج کے کنبے سے مجھے لگتا ہے،
اگر رسول کے شجرے سے آپ ہوتے تو! ؟
اپنی پوش حویلی کی بیبیوں کی طرح،
میرے دامن، میری عصمت کا خیال آتا تمھیں،
میں فاطمہ تھی! اکیلی تھی، مجبور بھی تھی
تیری حویلی سے ہوتی تو! وہاں آتا کوئی،
بیٹیاں! بیٹیاں ہوتی ہیں، ہوں مریدوں کی،
آپ نے رسم نبھائی ہے بس یزیدوں کی۔
میری ردا بھی زینب کی طرح اتری ہے،
میری عصمت بھی یہاں، لہو بن کے بکھری ہے۔
اے پیر طریقت، اے مرشد! تو! بتا۔
تیری حویلی کی بیٹی بھی یوں ماری جاتی؟
اگر میں آج نہ مرتی تو بھی ماری جاتی۔
تیری اس پاک حویلی میں ہیں! کئی راز دفن۔
میرے نصیب آیا ہے فقط ایک کفن!
میرے مرشد! میرے دشمن، میرے قاتل!
تجھے پتہ ہے کہ، تیری اس پاک حویلی میں،
تیری کرامت سے؟ غیر محرموں کا ہجوم،
سائنسی دور کی دنیا کی بیبیوں کے پاس،
روز آتا تھا! روز ہوتا تھا!
میں غریب تھی، مرید تھی! بتا۔ نہ سکی،
میرے مرشد میرے رہبر! تم پہ لعنت ہو۔
تیرے پاس کسی کی بیٹی نہ اب امانت ہو۔
تیرے پاس کسی کی بیٹی نہ اب امانت ہو۔
سوال یہ ہے کہ ایسے وحشی صفت مجرم اور گدی نشین سماج میں کتنے ہوں گے جو پتا نہیں کتنی ساری فاطمہ ان کا شکار بنے گی؟ یاد رہے کہ فاطمہ کا مجرم ایک پیر اور گدی نشین گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ وہ اس کمزور سسٹم سے آرام سے نکل جائے گا۔ یہ سلاخیں اس کی حویلی کی دیواروں سے بہت کمزور ہے اسے پتا ہے کہ اتنے عرصے سے وہ عوام کے جذبات سے کھیلتے آ رہے ہیں عوام کو بیوقوف بناتے آ رہئے ہیں۔ اس کا یہ سسٹم تب تک کچھ نہیں بگاڑ سکے گا جب تک ہم کچھ دکھی افراد اس احتجاج کو ایک تحریک کی شکل نہیں دیتے۔ تب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ فاطمہ کا ناحق خون نہ صرف سندھیوں پر مگر انسانیت پر قرض ہے۔ کیوں کہ ہم ہر ظلم خاموشی سے برداشت کرتے ہیں۔ کیوں کہ ہم ظلم برداشت کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے یہ پیر اور جاگیرداری اب بھیڑیے بن چکے ہیں۔ جب تک جمہوری پارٹیاں ان پیر اور جاگیرداروں کے ووٹ کی محتاج ہیں تب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ یہ ووٹ کی سیاست ہی فاطمہ جیسی غریب اور لاچار بچوں کی زندگیوں کا سودا کرتی ہے۔ جمہوری پارٹیاں اپنے علاقوں میں انہیں لوگوں کو الیکشن کی ٹکٹ دیتے ہیں۔ جو حویلیوں میں معصوم فاطمہ جیسی بچیوں پر تشدد کرتے رہتے ہیں اور انہیں بغیر پوسٹ مارٹم دفن کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان جیسے جاگیرداروں اور گدی نشینوں کے ووٹوں کے ذریعے ہی یہ پارٹیاں اقتدار میں آتی ہیں۔ اور ان پارٹیوں کے نام نہاد جمہوریت کے سائے تلے لوگ بے بسی اور عبرتناک زندگیاں گزارتے ہیں۔ انہیں کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کی حویلیوں کے بہت سارے راز ایسے ہیں جو ابھی تک دفن ہیں۔ اکثر واقعات میں وحشی صفت درندوں کے خلاف ثبوت ہونے کے باوجود وہ با آسانی سے چھوٹ جاتے ہیں۔ فاطمہ کے قتل کے ذمے دار رانی پور کے گدی نشین، پولیس، اور فاطمہ کے والدین بھی ذمے دار ہیں۔ کیوں کہ والدین چھوٹی سی عمر میں بچوں سے مزدوری کرواتے ہیں۔ اس مضمون کے ذریعے میری ان لوگوں سے گزارش ہے جو فاطمہ کا آواز بنے ہیں اس دفع اپنے آواز سے ایوانوں کی دیواریں ہلا دو۔ اپنے آواز کو مرنے نہیں دیجیئے گا ورنہ فاطمہ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں مل کر ان پیروں، گدی نشینوں، وڈیروں، جاگیرداروں کے خلاف مل کر بھرپور آواز اٹھانی ہوگی کیوں کہ ان کی نظریں ہمارے بیٹیوں میں ہے۔ ہمیں خود اپنی بیٹیوں کو تحفظ دینا ہو گا اور حکومت کو چاہیے کہ بچوں سے مزدوری لینے اور کروانے والے کو سخت سزا دی جائے۔

