نگران حکومت اور اس سے وابستہ قباحتوں کا حل


دنیا بھر میں صرف پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں نگران حکومت قائم کی جاتی ہے۔ حالانکہ پاکستانی آئین کے اندر اس بارے میں کوئی بیان نہیں ہے۔ نگران حکومت کا تصور سابق مطلق العنان صدر جنرل ضیا الحق کی اختراع ہے جو انہوں نے ایک صدارتی حکم نامہ کے ذریعے پیش کیا۔

انوار الحق کاکڑ ملک کے آٹھویں نگران وزیراعظم بنے ہیں۔ وہ پانچویں سیاست دان ہیں جو نگران وزیراعظم کے عہدے پہ فائز ہوئے ہیں۔ ان سے پہلے غلام مصطفیٰ جتوئی، ملک معراج خالد، میاں محمد سومرو اور بلخ شیر مزاری جیسے جید سیاست دان اس عہدے پہ فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ غیر سیاسی شخصیات میں معین احمد قریشی، میر ہزار خان کھوسو اور جسٹس ناصر الملک بطور نگران وزیر اعظم اس عہدے پہ متمکن رہے ہیں۔

بلخ شیر مزاری اور معین احمد قریشی نے ایک ہی سال یعنی 1993 ء میں نگران حکومت سنبھالی تھی۔ پہلے 18 اپریل سے 26 مئی تک مزاری نگران وزیراعظم رہے۔ جب سپریم کورٹ نے نواز شریف کی برطرف حکومت بحال کی۔ اس کے بعد جولائی میں نواز شریف کے استعفیٰ کے بعد معین قریشی نے ملک کے تیسرے نگران وزیراعظم کے طور پر ذمہ داری سنبھالی۔

دنیا میں اس وقت کسی دوسرے ملک میں نگران حکومت کا تصور موجود نہیں ہے۔ پاکستان میں ہر دفعہ جب اسمبلی اور جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہے تو نئے انتخابات سے قبل نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے جس کی ذمہ داری صاف اور شفاف انتخابات کروانا اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے قیام تک ملک کے انتظامی امور کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ اس دوران نگران حکومتوں کے قیام کے سلسلے میں کافی دن ضائع ہو جاتے ہیں اور ملک کے انتظامی امور تعطل کا شکار رہتے ہیں

دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ نگران حکومت کے قیام کے باوجود ہر دفعہ دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے انتخابات کا عمل متنازعہ قرار دیا جاتا ہے۔ یعنی یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ نگران حکومتیں اپنی ذمہ داری کماحقہ پوری کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

تو پھر اس ساری ایکسرسائز کا کیا فائدہ؟ اس دوران انتظامی امور بھی دو سے تین ماہ کے لئے ایک کمزور حکومت کے سپرد رہتے ہیں۔ اس طرح ہر پانچ سال بعد دو سے تین مہینے ضائع ہوتے ہیں۔ بہتر یہ ہو گا کہ الیکشن کمشن کو مزید اختیارات کے ساتھ مستحکم کیا جائے تاکہ وہ آزادانہ طریقے سے صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنا سکے۔

اس سلسلے میں امریکا کی مثال پر غور کیا جا سکتا ہے، جہاں ہر چار سال بعد نومبر کے پہلے سوموار کے بعد آنے والے منگل کو انتخابات کروائے جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جیتنے والی جماعت تقریباً دو ماہ بعد 20 جنوری کو عنان حکومت سنبھالتی ہے۔ یہ سلسلہ وہاں دو سو سال سے زائد عرصے سے کامیابی سے جاری ہے۔ پاکستان میں بھی عام انتخابات کا انعقاد ہر پانچویں سال ایک مقررہ تاریخ کو ہو جانے چاہئیں اور ان کے نتیجے میں نئی حکومت کو ایک مقررہ تاریخ پر انتظامی امور سنبھال لینے چاہئیں۔

یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ کم سے کم اس عمل میں ایک نگران حکومت کے قیام، نگران وزیراعظم اور دیگر نگران وزراء کی شناخت جیسے جھنجھٹ نہیں ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس سلسلے ضروری قانون سازی کر کے الیکشن کمشن کے اختیارات میں ضروری اضافہ کرتے ہوئے اس فرسودہ طریقۂ کار سے چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے۔ اس طرح ملک میں ایک مستحکم جمہوری نظام کے فروغ کے لئے ہر دفعہ کسی وینٹیلیٹر یا مصنوعی نظام تنفس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

Facebook Comments HS