وقت کے منصف


وقت کے منصف ہماری قسمتوں کے فیصلے بھی خود ہی کر جاتے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ ہمارے ملک میں ماپنے والے آلات کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ کچھ تو فالتو کے ترازو عدالتوں کے باہر بھی نصب ہیں۔ میری چھوٹی بیٹی پوچھتی ہے بابا جی یہ پیمانہ کیا ہوتا ہے۔ شرمندگی سے جواب دیا بیٹا کم تولنے، کم ماپنے والے آلے کو پیمانہ کہا جاتا ہے۔

میں جب بھی کہیں ترازو دیکھتا ہوں خود ہی سوچ لیتا ہوں یہاں پورا نہیں تولا جاتا بے شک وہ عدالت کے باہر ہو یا کسی دکان پر۔ ہر جگہ اس کا کام کم تولنا ہی ہے۔ بے یقینی بھی ہمارا ایک قومی اور اجتماعی مسئلہ ہے۔ ہمیں ہر بات کے ساتھ یقین دلانے کے لئے قسم کھانا ضروری ہے۔ یقین پھر بھی کوئی نہیں کرتا۔ ہم اللہ باری تعالی کے احکامات کو بھی نعوذ باللہ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جب اللہ باری تعالی قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں تو پھر ہم کون ہیں۔ جو اللہ کے کام میں مداخلت کرتے ہیں۔ اللہ پر مکمل یقین رکھیں وہ بہتر حفاظت کرنے والے ہیں۔ ہم نے بہت سے خود ساختہ پیر، فقیر مرشد پال رکھے ہیں جن کی ڈائریکٹ ڈائلنگ آسمانوں تک ہے۔ وہ ایسے واقعات کو نعوذ باللہ کیوں نہیں روکتے کیوں کہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ بے شک اللہ ہی دونوں جہانوں کا مالک ہے اور وہ ہی سب نظام چلاتا ہے۔ اللہ کے کام اللہ کو کرنے دیں پلیز اس میں مداخلت کر کے شرک نہ کریں۔

ایک ایسا ملک جہاں ہر چیز میں ملاوٹ ہے ہر ترازو کم تولتا ہے۔ آن لائن آپ قبروں پر چادریں اور دیگیں چڑھا سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ ترقی یافتہ ملک کون سا ہو گا۔ اگر آپ عشق رسول ﷺ کے دعویدار ہیں تو درخواست ہے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر مکمل عمل کیجئے، ان کے مطابق زندگی گزاریے، نئی رسومات کو پلیز دین مت سمجھئے ان بدعتوں سے بچئے۔ قرآن مجید کی آیات کے اپنی ضرورت کے مطابق تراجم مت کیجئے۔ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اس کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے مت استعمال کیجئے۔ عملی مسلمان بنیے کہ غیر مسلم آپ کے عمل کو دیکھ کر اسلام کی طرف راغب ہوں۔

دینی تعلیمی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیجئے۔ امام مسجد صاحب کے لئے سی ایس ایس طرز کا امتحان بنائیے جو دینی اور دنیاوی علوم پر مبنی ہو۔ تاکہ فرقوں کی آگ کو بجھایا جا سکے۔

اگر صرف ترازو کا استعمال بنیادی سطح سے ٹھیک کر دیا جائے سب کچھ ہر سطح پر ٹھیک ہو جائے گا۔ اور پاکستان ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللہ۔

عوام اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں پھر دیکھتے ہیں ادارے کیسے ٹھیک نہیں ہوتے۔ جب میں خود غلط ہوں تو کسی دوسرے کے ٹھیک ہونے کی میں کیسے خواہش کر سکتا ہوں۔ سب سے پہلے مجھے خود ٹھیک ہونا ہو گا۔ ابھی اسی وقت سے۔ تمام دینی اور دنیاوی کام صحیح طریقے سے انجام دینے ہوں گے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کسی کے بھی مذہبی جذبات کو مجروح کرنا نامناسب ہے اور اس حرکت پر اکسانے والے کو تو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ اس ملک میں سب سے زیادہ توہین عدالت کی ہوتی ہے کیونکہ وہ اس کے مواقع بھی سب سے زیادہ دیتی ہے۔ اگر عدالتی نظام اپنے آپ کو توہین سے بچانا چاہتا ہے تو اسے چاہیے اپنی حرکات درست کرے۔

Facebook Comments HS