تعصب و لسانیت کی عینک اتار کر!


ثنا بلوچ اس صوبے کی سیاست کا اثاثہ ہیں، ایک بہترین مقرر و صوبے کے مظلوم عوام کی مضبوط آواز۔

لیکن اپنے آخری خطاب میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر تعصب و لسانیت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کر گئے۔ شاید اپنی پانچ سالہ ناکام و عوام دشمن حکومت کے دوست نما فرینڈلی اپوزیشن بن جانے سے عوام ووٹرز کی توجہ ہٹانے کے لیے تعصب والا چورن بیچنے کی کوشش کی۔

بی این پی اور باپ دورِِ حکومت

سردار اختر جان مینگل نے کہا تھا کہ باپ کے ساتھ ان کو ملایا جائے جن کا کوئی باپ نہ ہو پھر پوری بی این پی ہی قدوس کو وزیراعلی کی کرسی پر بٹھانے میں پیش پیش رہی۔

مسنگ پرسنز، پنجاب و وفاق مخالف بیانیہ پر عوام سے ووٹ لیا اور خود پنجابی وزیر اعظم سے وفاقی منسٹریاں لے لیں، پی ٹی آئی کے بھی اتحادی رہے اور شہ از شریف کے بھی۔

وزیراعظم یا کوئی بھی وفاقی نمائندہ آج تک کسی مسنگ پرسن کی فیملی سے ملنے یا دھرنے میں کوئٹہ نہ آئے، لیکن ہاں سردار اختر جان مینگل اور شفیق مینگل والے واقعے پر شہباز شریف وڈھ پہنچ گئے۔ پس ثابت ہوا کہ سالوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے لئے کوئٹہ کی سڑکوں پر احتجاج کرتی بلوچ مائیں و بہنوں سے زیادہ اہم مسئلہ سردار اختر جان مینگل و شفیق مینگل کا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں آج تک کوئی ایسا دن نہیں کہ بلوچ ماؤں، بہنوں و بچے بچیوں نے احتجاج نہ کیا ہو۔ لیکن ثنا بلوچ اور ان کی پارٹی قائدین کتنے دھرنوں و احتجاج میں شامل ہوئے۔

ثنا بلوچ صاحب کا کہنا تھا کہ قربانیاں صرف بلوچوں نے دی ہیں اور جن کی ناک سے خون تک نہیں نکلا وہ بھی مزے لے رہے ہیں۔ اشارہ یقیناً پشتونوں اور صوبے میں بسنے والی دوسری اقوام کی طرف ہے۔ بالکل اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صوبے کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں بلوچ قوم نے دی ہیں، لیکن کیا دوسری اقوام کی قربانیاں ثنا صاحب کو نظر نہیں آتی؟

کوئٹہ پولیس لائن دھماکہ،
سول ہسپتال وکلا دھماکہ،
کوئٹہ پولیس کی شہدا کی ایک لاتعداد لسٹ،
شہید ڈسی منصور کاکڑ،
سانحہ کڈھ کوچہ میں جانوروں کی طرح مارے جانے والے پشتون مزدور،
کوئٹہ میں لاتعداد بم دھماکوں میں شہید و زخمی ہونے والے معصوم لوگ،

پھر صوبے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں شاید ہی کوئی پشتون ڈاکٹر اغوا ہونے سے یہ اغوا نہ ہونے کے ڈر سے کروڑوں بھتہ نہ دیا ہو۔ اور تو اور پوری بیوروکریسی میں ایک ہی سیکرٹری (محترم عبداللہ جان صاحب) اغوا ہوتے ہیں اور وہ بھی پشتون،

نیٹو سپلائی چین پر حملوں میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان پشتون تاجروں کا ہوا،

کوئٹہ میں آباد ہزارہ برادری کے سینکڑوں لوگ بم دھماکوں کی نذر ہوئے یا پھر بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر دیے گئے،

پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی ان کو اپنی جائیداد و کاروبار کوڑیوں کے داموں فروخت کرنے پر مجبور کیا گیا،

ان سب واقعات میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان پشتونوں کا ہوا، لکھنے پر آئیں تو ظلم و بربریت کے ان سانحات کی ایک طویل فہرست ہے لیکن ثنا بلوچ صاحب کو یہ تمام انسانیت سوز واقعات اور معصوم لوگوں کی قربانی نظر نہیں آئی۔

ثنا بلوچ صاحب کا مزید کہنا تھا کہ وفاق و صوبائی فنڈ تمام علاقوں میں تقسیم ہوتا ہے، گویا احسان کر رہے ہیں۔ پر یہ بتانا بھول گئے کہ وفاق فنڈ صوبے کی آبادی اور منتخب نمائندوں کی بنا پر دیتا ہے نہ کہ کسی منتخب نمائندے کی وراثت یا جائیداد میں سے۔ عوام کا پیسہ عوام پر لگتا ہے اور کیسے لگتا ہے یہ تو سب کو پتہ ہے، ایک دن روڈ بنتی ہے دوسرے دن بارش اور روڈ ٹائی ٹائی فش۔ ہر علاقے و ضلع کا اپنا فنڈ ہے کوئی کسی پر احسان نہیں کرتا۔

اپنی ناکام و وفاق دوست پانچ سالہ کارکردگی کا ملبہ افغان مہاجرین پر ڈالنے کی کوشش کی کہ تمام انفراسٹرکچر مہاجرین کی استعمال میں ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ پشتون اکثریتی علاقوں میں انفراسٹرکچر مہاجرین کی وجہ سے تباہ ہے۔ لیکن بلوچ اضلاع وہاں تو مہاجر نہیں ہیں۔ صرف خضدار و بیلہ سے اب تک 6 وزیراعلی آچکے ہیں، نصیرآباد ڈویژن سے بھی ہمیشہ منتخب نمائندے اعلی سرکاری محکموں کی وزیر رہے۔ ان علاقوں میں ایک بارش کے بعد نظام زندگی درہم بھرم ہوجاتا ہے۔ پورے صوبے کا نظام تباہ ہے، جہاں ایک مہاجر بھی وہ علاقے بھی ایسے تباہ ہیں کہ انسان کو زمانہ قدیم یاد آ جائے، لیکن ذمہ دار صرف مہاجر۔

واہ بھئی واہ۔ وہ مہاجروں کو ملنے والی کروڑوں ڈالر امداد جو ہم نوشِ جان کر گئے اس کا حساب کون دے گا؟

ثنا صاحب سے گزارش ہے کہ آپ جیسے پڑھے لکھے و سلجھے انسان پر تعصب و لسانیت کی عینک بالکل نہیں جچتی، صوبہ پہلے ہی دہشت گردی، فرقہ واریت اور زئی و خیلی میں تقسیم ہے اور پھر آپ جیسے لوگ بھی اس دوڑ میں شامل ہوجائیں تو بس اللہ کی امان۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کو بلوچستان نیشنل پارٹی ہی رہنے دیں نہ کہ بلوچ نیشنل پارٹی بنائیں۔

Facebook Comments HS