نا شُکرا انسان
کائنات کی تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوقات کے ٹائٹل سے نوازا گیا ہے۔ جہانِ زندگانی میں تمام مخلوق اور آسائشات و انعامات کو اللہ تعالی نے حضرتِ انسان کے فائدہ کے لیے پیدا کیا۔ تخلیقِ کائنات کے تمام عمل میں ذاتِ باری تعالی نے اس اعلی ترین مخلوق یعنی انسان کو اہم ترین امتحان یعنی ”خیر و شر کی طلب“ میں مبتلا کیا ہے تاکہ ہر انسان اپنی اپنی بساط کے مطابق اس احسان کا صلہ خالق کی بارگاہ میں پیش کر سکے۔
طبیعتِ انسانی اپنے مزاج اور روحانی مراتب کے اعتبار سے نصف درجن نفوس کی حامل ہے جس میں اعلی ترین نفس ”نفسِ کاملہ“ اور مہلک ترین ”نفسِ امّارہ“ ہے۔ انسانی مزاج اور اس کے جسم سے ہونے والی حرکات و سکنات انہی نفوس کی مرہون منت ہیں، مثلاً جو انسان جس قدر خواہشات نفسانی کے تابع ہو گا عملاً گناہ و سیاہ کاری اس کا مقدر بنے گی جب کہ جو انسان جتنا زیادہ انعامات خداوندی پر شکران نعمت کرتے ہوئے ہدایت کا طلب گار ہو گا تو نفس لوّامہ یعنی ”گناہوں پر ملامت کرنے والا نفس“ اس انسان کو ترقی کی راہ دکھائے گا۔
بنیادی طور پر انسان کی ظاہری حرکات و سکنات کا تعیین اس کے باطنی سلسلہ یعنی روح کے ساتھ خاص ہے۔ انسان کی باطنی کائنات اگر اعلی ہو گی تو نتیجتاً اس کا ظاہری مزاج بھی شر کے بجائے خیر اور کفر کے بجائے شُکر کی طرف مائل ہو گا۔
بحیثیت قوم ہم نفس امارہ کے تابع ہوتے جا رہے ہیں۔ معاشرتی و سماجی طور پر افراتفری کا بازار گرم ہے۔ سب کچھ ملنے کی خواہش نے ہمیں اہم ترین سے بھی محروم کر دیا ہے۔ ایک امیر ترین شخص اپنی جمع پونجی لوٹانے کے لیے چین و سکون کو ترس رہا ہے۔ علم سے معمور شخص بقیہ انسانیت کو جاہل شمار کر کے خود کو عقل کُل سمجھ بیٹھا ہے۔ کتابوں کے بوجھ تلے دبا شخص اس علمی خزانہ کو مطالعہ کرنے کے لیے وقت کو ترس رہا ہے۔ ایک اچھی نوکری کرنے والا شخص اپنی بہترین زندگی کی خواہش لیے ہم سفر کی تلاش میں ہے تو دوسری طرف کہانیوں سے بھرپور تروتازہ حافظہ ان سامعین کا منتظر ہے جو دو زانو ہو کر اس کے سامنے ہمہ تن گوش ہوں اور ان کہانیوں کو عملی تعبیر سمجھ کر گھنٹوں سنتے رہیں۔
کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ بے تحاشا حسرت اور بے جا ہوس ہمیں ”نفس امّارہ“ کی طرف دھکیل رہی ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم ”نفسِ مطمئنہ“ کے تابع رہتے ہوئے ذات باری تعالی کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کریں۔ ہمارے پاس جو بھی موجود ہے اس سے اپنی محدود زندگی میں استفادہ کرتے ہوئے اسی پر سمجھوتہ کر لیں؟ سہولتوں کی دستیابی میں اپنے سے کمزور انسان پر نظر کرتے ہوئے ”شکر الحمد للہ“ پڑھیں اور اس شُکر کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ضرورت مند انسانیت کے درد کا مداوا بنیں۔

