گرجا اور مندر نہیں، نفرت کے مینار توڑو
1977 میں ضیا الحق نے اسلام کا جو تصور پیش کیا اس نے پاکستان کے ہر طبقہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس نے سب سے اہم اور بڑا کام کتابوں میں تاریخ اور حملہ اوروں کو اسلام کا ہیرو بنا کر پیش کیا۔ اس نے آرٹ، فلسفہ، سائنس کو بھی اسلام ہی کی روح میں متعارف کروایا جس کی وجہ سے نفرت کے مینار آہستہ آہستہ اونچے ہوتے گئے۔ شیعہ اپنی کالونی میں اور سنی اپنی کالونی میں کرسچن اپنی بستی کے اندر رہنے پر مجبور ہوئے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2010 کو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں دو خودکش حملے ہوئے تھے جن میں چھ طلباء و طالبات جاں بحق اور پچاس زخمی ہوئے۔ یونیورسٹی کی کینٹین جو سو دو سو طالبات سے بھری تھی اس میں خودکش حملہ آور نے داخل ہو کر دھماکا کرنا چاہا مگر ایک خاکروب پرویز مسیح آگے بڑھ کر خودکش حملہ اور سے لپٹ گیا۔ یوں وہ خودکش دھماکہ کینٹین کے باہر ہی ہو گیا جس کی وجہ جانی و مالی نقصان کم ہُوا۔ پرویز مسیح نے اپنی جان دے کر سینکڑوں بچیوں کی جان بچائی۔
دوسرے دن بڑے ٹی وی چینل کی ٹیم ایک خاکروب کے گھر گئی۔ اہلِ خانہ کی کسمپرسی و آہ و زاری ریکارڈ کی اور اس کی بنائی ہوئی خبری رپورٹ کی مجھے یاد ہے جس کا ایک جملہ آج تک میرے زخمی دل سے نہیں نکل سکا۔ ”اگرچہ پرویز مسیح کا تعلق مسیحی برادری سے تھا مگر اس نے حُب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے جان کی قربانی دے کر یونیورسٹی طالبات کو ایک بڑے جانی نقصان سے بچا لیا“ ۔ اس رپورٹ میں لفظ ”مگر“ اس کو شہید ہونے کے رتبہ پر فائز ہونے سے روک دیا۔
مگر اس پچیس چھبیس سالہ میڈیا رپورٹر کا بھی کیا قصور۔ اسے تو شعور کی آنکھ کھُلنے سے پہلے ہی بتا دیا تھا سُننے کہ صرف ایک سچا مسلمان ہی محب الوطن ہو سکتا ہے۔ اقلیتیں تو لوٹ کا مال ہیں ان کو ان کی اوقات ہی میں رکھو۔ 22 ستمبر 2013 کو آل سینٹ چرچ پشاور میں خودکش حملہ ہُوا۔ ایک چینل کے خبری بُلیٹن کی سُرخی اسی ذہنیت کی عکاسی کر رہی تھی۔ ”صفائی کرنے والوں کا صفایا“ ۔ قومی اخبارات میں چھپے بلدیہ کے ایک سرکاری اشتہار میں سینٹری ورکرز کی آسامیوں کی تشہیر کی گئی تھی جس پر واضح طور میں ایک لائن چمک رہی تھی ”صرف غیر مسلم اپلائی کریں“ ۔
ٹی ایل پی کے قبلہ رضوی مرحوم ایک سے زائد مواقع پر منبر سے ببانگ دہل فرماتے رہے ”کون کہتا ہے اسلام امن کا دین ہے؟ اسلام امن سے نہیں پھیلا۔ یہ نبی کریم ﷺ کی تلوار سے پھیلا“ اور مجمع داد دیتا۔ بات یہ ہے کہ جب فضا نفرت کی فصل سے تیار ہو تو کاشت کے لیے سازگار ہو تو پھر اس بات پر کیا رونا کہ چیری میں کتنے کانٹے؟ فرق تو بس اتنا ہے کہ کچھ حملہ آوروں کے ہاتھ میں ڈنڈے، آگ کے گولے اور جان لیوا ہتھیار ہوتے ہیں اور باقیوں کے دماغ میں تعصب، مصلحت، خاموشی و منافقت کا بارود کوٹ کوٹ کے بھرا ہوتا ہے۔
شاید آپ کو 2003 کی عراق جنگ یاد ہو۔ اس جنگ کے خلاف اور اسے رکوانے کے لیے سان فرانسسکو سے سڈنی تک ڈیڑھ کروڑ لوگ سڑکوں پر نعرے لگا رہے تھے۔ مجھے وہ مناظر یاد ہیں کہ لندن میں پندرہ لاکھ لوگوں کا جلوس نکلا تھا اور لاہور میں تقریباً 500 کا جلوس تھا جن کے ہاتھوں میں بُش اور ٹونی بلئیر کے خلاف پلے کارڈز تھے۔ الجزیرہ کا رپورٹر ایک خاتون سے پوچھ رہا تھا ”آپ کیوں سردی میں اپنے ننھے بچے کو اُٹھائے عراق جنگ کے خلاف نعرے لگا رہی ہیں؟“ ۔ ماں نے جواب دیا ”جب یہ بچہ بڑا ہو گا تو اسے آج کا دن یاد رہے گا اور احساس دلائے گا“ ۔ رپورٹر نے پھر سوال کیا ”لیکن عراقی تو مسلمان ہیں“ ۔ عورت کا جواب آیا ”مگر انسان بھی تو ہیں“ ۔ اس عورت کے جواب میں ”مگر“ بھی مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔
یوں تو اس ملک میں بلاتفریق مذہب و مسلک سب مرے ہیں سب اُڑے ہیں مگر عجب بات یہ ہے کہ جب سُنی مرتے ہیں تو صرف سُنی ہی جلوس نکالتے ہیں۔ شیعہ مرتے ہیں تو شیعہ ہی دھرنا دیتے ہیں۔ جب مسیحی مرتے ہیں تو صرف مشن سکولز ہی سوگ میں تین دن بند ہوتے ہیں۔ اور احمدیوں کا ذکر ہی کیا کرنا، وہ تو خیر۔
کیسا دردِ دل ہے ہمارا جو فلسطین کے المیے پر پی ایل او سے زیادہ حساس ہے۔ جو برما کے مسلمانوں کے غم میں ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔ جو شام کے المیے پر سینے میں پھانس محسوس کرتا ہے۔ جنہیں کشمیری مسلمانوں کی چیخیں سونے نہیں دیتیں۔ جنہیں بھارتی مسلمانوں کی زباں حالی بے چین کر دیتی ہے۔ جنہیں چیچنیا کا حال تڑپا تڑپا دیتا ہے۔ جنہیں سنکیانگ کے دس کروڑ مسلمانوں پر گزرنے والی قیامت کا ذکر کرنا بوجوہ یاد نہیں رہتا۔
مگر کتنوں کو یہ پوچھنا یاد ہے کہ جڑانوالہ کی مسیحی بستی میں جو گزری اس کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟ لاہور میں احمدی عبادت گاہ میں 90 احمدیوں کو مارنے والے کس جیل میں ہیں؟ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا شکار کرنے والے کتنے پکڑے گئے ہیں؟ قراقرم ہائی وے پر بسوں سے اُتار کر شیعوں کو مارنے والے کن پہاڑوں میں چھُپ گئے؟ دیامر بیس کیمپ میں دس غیر ملکی کوہ پیماؤں کو مارنے والے کتنے پکڑ لیے؟
حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ جب تم ایک اُنگلی دوسرے کی طرف اُٹھاتے ہو تو اُسی ہاتھ کی تین اُنگلیاں تمہاری طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہیں۔ اپنی تین اُنگلیاں بھی دیکھ لیجئیے۔
اس سماج میں بستے مجھے خود کلامی اور خواب دیکھنے کی عادت پختہ ہو چکی ہے۔ قائداعظم کا پاکستان بحال کرنے کا خواب دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ کہنے میں بھی کوئی خطرہ نہیں کہ اس ملک میں ایک ادارہ ہی چلتا ہے اور جس کی چلتی ہے تو وہ فوج ہے۔ یہ کہنے میں بھی کوئی خاص خطرہ نہیں کہ مولوی اور ملائیت پادری اور پنڈت ان کے لبیکی ہیں۔ جن کی سوچ نے اس سماج اور دین کی پوشاک کو تار تار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ضیاء کے مشن مُلا ملٹری الائنس نے اس ملک میں وہ گُل کھلائے ہیں جن کا رنگ سیاہی مائل سُرخ ہے۔ نہ تو میں کوئی فلسفی ہوں اور نہ ہی موٹیویشنل سپیکر، نہ پادری ہوں اور نہ ہی فوجی اور نہ ہی مولوی۔ لہٰذا کسی تجربہ کار ماہر کی نگرانی کے بغیر سچ لکھنے کا کرتب دکھانا جان کھو سکتا ہے۔
میرا ماننا ہے سچ ضرور بولیے مگر کمرے میں، با اعتماد لوگوں کے سامنے، ہو سکے تو تنہائی میں یا زیادہ سے زیادہ شیشے کے روبرو اور خبردار، سچ کو کبھی تنہا باہر مت جانے دینا، بھیجنا ضروری بھی ہو تو جھوٹ کے کپڑے پہنا کے بھیجنا،
اور سب سے اہم بات یہ کہ ہم کبھی جناح کا پاکستان نہیں دیکھ سکتے، جناح نے پاکستان ضیاء الحق سے نہیں، ماؤنٹ بیٹن سے لیا تھا۔ اور ہمیں پاکستان ضیاء الحقوں سے لینا ہے۔ یہ نہ ہو پائے گا۔ اور اس سے زیادہ میں کچھ کہہ نہ پاؤں گا۔ صرف اتنا کہ نفرت کے میناروں کو توڑ دو۔


