منظور پشتین اور پی ٹی ایم ۔۔۔ امن اور حقوق کے طلبگار

کچھ روز قبل پشین (بلوچستان) میں پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ تھا۔ منظور احمد پشتین (بانی پشتون تحفظ موومنٹ) نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تحریک کے بنیادی تین مقاصد/کام ہیں۔ پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرا شروع ہیں۔ واضح الفاظ میں پی ٹی ایم کا لائحہ عمل، مقصد اور ہدف سامنے رکھا۔ وہ تین کام کیا ہے، آئیے مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
پی ٹی ایم کا پہلا کام، لوگوں کی ذہن سازی، سوچ اور نظریہ بنانا تھا۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی ایم کا مقصد کیا ہے؟ اب تک پشتون تحفظ موومنٹ بہت واضح موقف رکھتے ہیں کہ ہماری (پختون/بلوچ) سرزمین پر ہمیں (پختونوں اور بلوچوں کو) امن، عزت، وقار اور سکون کے ساتھ رہنے دیا جائے، ہمارے وسائل پر اختیار اور حق دیا جائے جو کہ آئین اور قانون اس کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کے ذہن میں یہ بات بٹھانا کہ پختون اور بلوچ سرزمین پر بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، نامعلوم افراد، لاپتہ افراد، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل عام، زمینوں پر قبضے، جھوٹے ایف آئی آر s اور بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں کے پیچھے ایک ہی قوت ہیں، جسے اب گلی گلی اور گھر گھر بچہ بچہ جانتا ہے۔
یہ پڑاؤ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔ آج ہر جگہ پی ٹی ایم کی بات ہر کسی کی زبان پر ہے۔ پنجاب سے لے کر کوئٹہ اور کراچی سے سوات تک، ہر جگہ اشرافیہ اور مقدس شخصیات منہ چھپانے پر مجبور ہیں۔ جن سے پہلے بات کرنا بھی ممکن نہیں تھا آج وہ عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔ منظور پشتین کہتے ہیں کہ ہمیں روکنے اور بدنام کرنے کی ہر قسم کوشش کی گئی، ریاستی وسائل کا استعمال کیا گیا، میڈیا پہ آنے نہیں دیا لیکن ہم نے بھی ہمت نہیں ہاری اور سفر جاری رکھا۔ الحمدللہ ہم کامیاب ہوئے، نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
دوسرا کام، تنظیم سازی کرنا ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ یونین کونسل، تحصیل، ضلعے، صوبے اور ملکی سطح پر مضبوط اور عوامی کمیٹیاں /نظم بنائیں گے۔ منظور کہتے ہے کہ یہ مرحلہ شروع ہو چکا ہے اور تنظیم میں علاقے کے بااثر لوگ، مشران اور تحریک کے وفادار ساتھی سب سیاسی وابستگیوں سے بالاتر اس تحریک/مشن کا حصہ ہوں گے۔ پی ٹی ایم کا ٹارگٹ ہے کہ 6 مہینوں میں یہ دوسرا ٹارگٹ سر کریں۔ یہ مرحلہ بہت مشکل اور کٹھن ہے، جس کے لئے ہر قسم کی قربانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
پی ٹی ایم کا مقصد واضح کرتے ہوئے منظور پشتین نے کہا کہ تیسرا اور آخری کام، مزاحمت کرنا ہے۔ امن، تقدس، حق اور اختیار کے حصول اور تحفظ کے لیے مقتدر شخصیات/قوتوں کو چیلنج اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا پی ٹی ایم کا اصل ہدف ہیں۔ البتہ یہ مزاحمتی جدوجہد مکمل آئینی، قانونی اور جمہوری ہو گا۔
اب سوال یہ ہے کہ منظور احمد پشتین کون ہیں اور کیا چاہتا ہے؟ اس سے جڑا بلکہ ایک جیسا سوال پی ٹی ایم کے بارے میں بھی کیا جاتا ہیں۔ دراصل دنیا میں کسی بھی شخصیت یا تنظیم کے اصل مقصد اور عزائم تک پہنچنا انتہائی مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ عام لوگوں کے لیے تو یہ بالکل ممکن نہیں ہوتا جبکہ پہنچے ہوئے /خاص لوگوں کے پاس بھی کچھ ٹھوس معلومات اور زیادہ سازشی تھیوریز ہوتے ہیں لیکن مکمل اور ٹھوس حقائق کسی کے پاس بھی نہیں ہوتے۔ اس لیے کسی شخص/تنظیم کے بارے حتمی رائے دینا یا فیصلہ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ بے فائدہ چیزوں میں پڑنے کی بجائے جو ہوتا ہے، دکھتا ہے اور پیش کیا جاتا ہے، ان کا جائزہ لینا چاہیے۔
منظور پشتین اور پی ٹی ایم کیا کر رہے ہیں؟ کیا کہتے ہیں؟ ریاست اور ریاستی اداروں سے ڈیمانڈ کیا ہے؟ ابھی تک منظور پشتین اور پی ٹی ایم غیر سیاسی اور غیر پارلیمانی تحریک ہیں، آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں، اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کسی عہدے، اختیار یا مراعات کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ امن، عزت و آبرو کی حفاظت اور جائز انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، آئین اور قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لاپتہ افراد کی ماورائے عدالت قتل عام کی بجائے آزادانہ ٹرائل اور بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور زمینوں پر قبضوں کے خاتمے اور تحقیقات کا سوال کرتے ہیں۔
یہ سارے سوالات اور مطالبے مکمل دستوری، قانونی اور جمہوری ہیں۔ یہ سب عام اور مشترکہ مسائل ہیں۔ کوئی بھی اس دنیا میں ارادوں /نیتوں کی جانچ نہیں کر سکتا۔ عمل، کردار اور کام کو دیکھ کر حمایت، مخالفت اور آرا تشکیل پاتی ہیں۔ منظور پشتین اور پی ٹی ایم کے اصول اور قانون پسندی ظاہر کرتی ہے کہ وہ امن اور حقوق کے حامی ہیں۔
ریاست اور ریاستی اداروں نے پی ٹی ایم کو ایجنٹ اور غدار قرار دیا، میڈیا پہ ان کے پروگرام نشر کرنے اور قیادت کو ٹاک شوز میں بلانے پر پابندی عائد کی ( جو کہ آج تک جاری ہے) لیکن عوام میں ان کی مقبولیت، تائید اور مانگ کو نہ روک سکیں۔ یہ اس موومنٹ کی بڑی کامیابی ہے۔ ریاست کی ظالمانہ اور ناقص پالیسیوں، لاشیں اٹھانے، اپنوں کا درد سہنے اور اس خونی کھیل سے عوام تنگ آ چکے ہیں۔ کوئی ڈالر کما رہا ہے، کوئی جزیرے لے رہے ہیں، کوئی مراعات، اختیار اور طاقت حاصل کر رہے ہیں لیکن عوام کے گھر برباد ہو رہے ہیں، شہید مل رہے ہیں، لاپتہ افراد کا درد جھیل رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر خوف اور رعایا جیسی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
آج ہر ماہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی شہری ملک چھوڑ کے جا رہے ہیں، اور جو نہیں جا رہے انہیں موقع نہیں مل رہا ورنہ وہ بھی دیر نہیں کریں گے۔ کیا یہ ریاست اور اداروں سے مایوسی، بیزاری اور اس ظالم نوآبادیاتی نظام پر عدم اعتماد نہیں ہے؟ کوئی مسجد، سکول، بازار اور سڑک محفوظ نہیں۔ ہر طرف خوف اور دہشت کا ماحول ہے۔ عوام کی نظر میں سب کچھ کا ذمہ دار ریاست اور ادارے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کوئی دوسری قوت بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہی ہو، لیکن یہ ریاست کے پالیسی سازوں کی ذمہ داری ہے کہ اس بداعتمادی اور مایوسی کے فضا کو ختم کریں، اپنی حدود اور دائرہ کار میں رہیں، اور عوام کو امن، تحفظ، اختیار اور آزادی دیں۔ سلطنتیں اور ریاستیں راتوں رات ختم نہیں ہو جاتیں، لیکن دھیرے دھیرے اس طرح عوامی حمایت کھو دینا ریاستوں کو ماضی کی چیز بنا دیتا ہے۔ اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے، ایک سنجیدہ اور عملی اقدام کی اشد ضرورت ہے۔

