محکمہ پولیس اور سوشل میڈیا کا استعمال


دنیا میں سائبر کرائم کے بڑے سخت قوانین موجود ہیں۔ پاکستان میں بھی گزشتہ کئی عرصے سے اس پر کام ہو رہا ہے۔ کوئی بھی شخص دوسرے شخص کی مرضی کے خلاف ایسی ویڈیو یا تصویر نہیں بنا سکتا جو اسے ناگوار گزرے، یا باقی لوگوں کے سامنے اِس تصویر یا ویڈیو کی وجہ سے اُسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے یا وہ اس تصویر سے بلیک میل ہو سکے۔ سائبر کرائم قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مجرم کیلئے مختلف سزائیں ہیں، جن میں جرمانہ اور قید شامل ہیں۔
کوئی بھی ریاست ہو، وہ شہریوں کیلئے مائی باپ کا درجہ رکھتی ہے۔اور ریاستی ادارے شہریوں کی محافظ اور ان کی سہولیات و راہنمائی کیلئے بنے ہوتے ہیں۔ تا کہ معاشرے میں کوئی بھی مسئلہ پیدا ہو تو اس کے حل کیلئے اقدامات اٹھائیں جائے۔
جب کبھی معاشرے میں کوئی انتشار اور بگاڑ پیدا کرے  تو اسے میں عوامی خیرخواہ ریاستی ادارے حرکت میں آکر ان کی اصلاح کیلئے جزا  و سزا کا بندوست کرتی ہے۔ یہ معاشرے میں ناسور کو بڑھنے سے روکنے کیلئے ہوتا ہے، اور ملزمان یا مجرمان کو راہ راست پر لانے کیلئے بھی۔
اداروں کی شہریوں کے ساتھ کوئی ذاتی چپقلش نہیں ہوتی، اور نہ ہی کسی ارے غیرے کے کہنے پہ ریاست یا سرکاری ادارے اپنے شہریوں کو زلیل و رسوا کرتی ہے۔
لیکن ایبٹ آباد پولیس نے شہریوں کے ساتھ کچھ مختلف رویہ روا رکھا؛  چودہ اگست کی شب کو ایبٹ آباد میں یومِ آزادی کے جشن میں بمطابق ایبٹ آباد میرپور پولیس کے چھے افغانیوں نے شہریوں کے ساتھ بدتمیزی کی، روڈ بلاک کیا، افغانستان کا پرچم لہرایا اور پاکستان مخالف نعرے بازی بھی کی۔  ویڈوز وائرل ہونے پہ  تھانہ میرپور پولیس نے دفعات 124A/ 123A اور 153/341/147/149 پی پی سی، 14 فارنز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے چھے افغان ملزمان کو گرفتار کیا اور  تفتیش کا آغاز کر دیا تھا۔  سولہ اگست کو نامزد گرفتار چھے افغان شہریوں کو عدالت کے سامنے پیش کر کے ایک روزہ ریمانڈ بھی حاصل کر لیا گیا۔
اس واقعہ میں ایبٹ آباد پولیس (سرکاری ادارے) کی جانب سے کچھ غلطیاں کی گئی، وہ جاننا ضروری ہے۔
اول تو پولیس نے گرفتار ملزمان کی تصاویر بنا کے سوشل میڈیا پہ وائرل کیے، ایبٹ آباد پولیس کے آفیشل فیس بک بیج سے بھی یہ نشر ہوئی۔ دوم یہ کہ تصویر بناتے وقت پولیس نے ان چھے افغان ملزمان کے ہاتھوں میں افغانستان کا جھنڈا بھی پکڑا دیا، اس سے یہ واضح ہوا کہ یہ افغان شہری ہیں۔ سوم یہ کہ پولیس نے سوشل میڈیا پہ ان ملزمان کے نام اور ساکنہ افغانستان لکھا۔
نمبر وائز سمجھتے ہیں؛ یاد رہے جب تک ملزم کا جرم عدالت سے ثابت نہ ہو جائے تب تک وہ قابل عزت ہے۔  سرکاری ادارے باعزت ملزم کی تصویر کیسے وائرل کر سکتی ہے؟  اگر کل کو عدالت سے یہ ملزمان باعزت بھری ہو جائے تو یہ تصاویر ان کیلئے جگ ہنسائی کا سبب بنے گی۔ اس کا زمہ دار کون ہوگا؟ اگر پولیس کی کارروائی میڈیا پہ نشر کرنا ضروری ہے تو ملزمان کی نقاب پوش تصویر کیوں نہیں بنائی جاتی یا تصویر میں چہرے کو بلر کیوں نہیں کیا جاتا؟
دوسری غلطی، ملزمان کے ہاتھوں میں افغانستان کے جھنڈے کیوں پکڑوائے گئے؟ کیا پولیس یہ تصاویر نشر کر کے عوام کو بتانا چاہتی ہے کہ ملک میں مقیم افغانی پاکستان کے مخالف ہیں؟ وہ شہریوں کو ہراساں کرتے ہیں؟ اور سڑکیں بلاک کرتے ہیں؟
ملزمان کے ہاتھوں میں افغانستان کا جھنڈا پکڑا کر تصویر نشر کرنے سے عوام میں تو یہی (Stereotype) تاثر پیدا ہوگا۔
تیسری غلطی، ملزمان کے نام اور سابقہ ساکنہ ( یعنی افغانستان سے) لکھنا بھی تمام افغانیوں کیلئے مسائل پیدا کرنے جیسا  ہے۔ پولیس ایف آئی آر میں یہ سب لکھتی ہے تو وہ دفتری لوازمات ہونگے، لیکن میڈیا پہ ایسا کرنا نفرت پیدا کرنے جیسا ہے۔ ملزمان و مجرمان کے نام کا پہلا لفظ لکھ دیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔
ایبٹ آباد پولیس اور خیبرپختونخوا یا پاکستان دیگر کچھ ضلعوں کی پولیس بھی باقی ملزمان کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے، جو کہ اخلاقیات (Ethics) اور سائبر کرائم قوانین کے خلاف ہیں۔  ایف آئی اے کو سرکاری اداروں کی جانب سے اس قانون شکنی پہ نوٹس لینا چاہئے اور اداروں میں عوام دوست پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔
دنیا کے بہت سے مہذب ممالک میں گرفتار شدہ ملزمان کی بغیر چہرہ ڈھانپے  تصاویر نہیں بنتی۔ بلکہ کچھ ممالک میں تو مجرموں کا چہرہ بھی ڈھانپا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی کہیں کہیں ملزموں اور مجرموں کا چہرہ رومال یا حجاب سے ڈھانپنے کا رواج موجود ہے۔
آپ پولیس کے آفیشل پیجز کا وزٹ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان اکاؤنٹس پر بھی سیاست ہوتی ہے، یہاں کچھ من مرضی کے ملزمان کی گرفتاری کی خبر لگتی ہی نہیں۔ اسی طرح کچھ ملزمان کے چہرے چھپائی بھی جاتے ہیں۔ لیکن  بے یار و مددگار اور کمزور ملزمان کی تصاویر بغیر چہرہ چھپائی نشر ہوتی ہیں؛ جو کہ انتہائی نامناسب اور اخلاقیات کے منافی ہے۔
نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کے مسجد پر حملہ کرنے والے کا چہرہ آج تک کوئی نہیں دیکھ سکا۔ وہاں کی حکومت ملزم اور مجرم کو اس کے عمل کی حد تک رکھتی ہے۔ نہ کہ سوشل میڈیا پر نمبرز بنانے کیلئے استعمال کرتی ہے۔
کسی بھی شخص پر جرم ثابت ہونے سے پہلے اسے جرم سے جوڑنا غلط ہے۔ وہ قابل عزت ہے۔ اور عدالت میں اپنا مقدمہ لڑنے کا حق دار ہے۔ سوشل میڈیا پر ملزمان اور مجرمان کی تصاویر نشر کرنے کے بہت سے نقصانات بھی ہیں۔ اس سے ملزم کے گھر والوں کیلئے اور خود ملزم کو رہائی کے بعد شرمندگی کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ بعد میں کچھ لوگ انہی تصاویر کو بلیک میلنگ کیلئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ کچھ ملزمان یا مجرمان کی تصاویر اور خبر وائرل ہونے کے بعد وہ خود کو علاقے کا ڈون سمجھنے لگتے ہیں، یعنی سادہ لوح عوام  کے سامنے خود کو بڑے خطرناک اور وارداتی ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے لوگ پروفیشنلی اس کام پر لگ جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ یہ لوگ قیدوبند اور جیل سے واپسی پر علاقے کے جرگوئی بن جاتے ہیں اور لوگوں کو ڈرا دمکھا کر  ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
میں نے کچھ عرصہ قبل مانسہرہ پولیس کے حوالے سے لکھا تھا جس پہ انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور بعد ازاں نشر ہونے والے تصاویر میں ملزمان کے چہرے بلر  یا نقاب پوش ہوتے ہیں۔
 میں ڈی پی او ایبٹ آباد، ڈی آئی جی ہزارہ اور آئی جی خیبرپختونخوا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جلد صوبے بھر میں پولیس کے سوشل میڈیا پیجز کیلئے اس حوالے سے جامع حکمت عملی مرتب کرے اور نوٹیفکیشن جاری کرے۔
پولیس عوام کی جان ومال کے ساتھ ان کی عزت کا بھی خیال رکھے۔

Facebook Comments HS