پاکستانی سیاست (فوج اور نوکر شاہی کا کردار)


ضیا الحق کے دور میں پاکستان کے ترقی پسندوں کے لئے حمزہ علوی کے تحقیقی مقالوں کی وہی اہمیت تھی جو آج کے دور میں ارون دھتی کی تحریروں کی ہے۔ ضیا الحق نے معاشرے میں تنقیدی فکر اور روشن خیالی کے دریچے بند کرنے اور لوگوں کو کنویں کا مینڈک بنانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ ایسے میں حمزہ علوی کے مارکسی ویژن نے پاکستان میں جمہوریت کے عاشقوں کو روشنی کی کرن دکھائی۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی کہ یہاں جمہوریت کے لئے حالات شروع سے ناسازگار رہے۔

پہلے سول بیوروکریسی اور اس کے بعد فوجی بیورو کریسی نے جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا۔ آج کل جو کچھ ہو رہا ہے۔ اسے دیکھ کر ریاض شیخ کو حمزہ علوی کے مقالے ”پاکستانی سیاست ( فوج اور نوکر شاہی کا کردار) کا اردو میں ترجمہ کرنے کا خیال آیا۔ بدلتی دنیا پبلیکیشنز نے اسے شائع کیا اور کراچی پریس کلب میں اس کی تقریب رونمائی ہوئی۔ حمزہ علوی نے یہ مقالہ 1967 میں لکھا تھا اور حیرت اور دکھ کی بات یہ ہے کہ آج 2023 میں بھی حالات وہی ہیں اور اسی لئے اس مقالے کے ترجمے کی ضرورت پیش آئی۔

پاکستان میں شروع سے سول اور ملٹری بیوروکریسی مضبوط تھی اور سیاست دان کمزور اور منتشر تھے۔ اور اب بھی وہی صورتحال ہے۔ ہاں پہلے سول سوسائٹی اور اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاحات استعمال نہیں کی جاتی تھیں۔ لیکن شروع سے لے کر آج تک سیاستدانوں کے حالات وہی ہیں۔ ابھی ہم نے پی ڈی ایم کو دیکھا۔ کس طرح شہباز شریف کی قیادت میں تیرہ سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کے چکر میں تھیں۔ تو بات تو یہ ہے کہ ہم نے تو شروع سے ملٹری۔

فیوڈل اور ملا گٹھ جوڑ دیکھا۔ عوام شروع سے پستے رہے۔ جب عوام کی بات ہوتی ہے تو مجھے فیض کی نظم“ کتے ”یاد آ جاتی ہے“ کوئی ان کو احساس ذلت دلا دے۔ کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے ”۔ پاکستانی عوام کو صرف ایک مرتبہ اپنی طاقت کا احساس ہوا تھا جب بھٹو نے روٹی۔ کپڑا اور مکان“ کا نعرہ دیا اور عوام کو عزت نفس کا احساس دلایا تھا۔ لیکن جیسا کہ اپنی کتاب کے باب دوم میں ریاض شیخ نے لکھا ہے ”بھٹو کی حکومت نے کچھ مثبت اقدامات کیے جیسے تعلیم اور ثقافت کا فروغ لیکن منفی اقدامات کی فہرست کچھ زیادہ طویل ہے۔

اس کے بعد ضیا کے فوجی دور میں رشوت ستانی اور کرپشن کے واقعات میں اس قدر اضافہ ہوا کہ ملکی تاریخ میں اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حمزہ علوی کا یہ مقالہ پڑھتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ انہوں نے تو 50 اور 60 کے عشروں میں اپنی تحقیق کی تھی مگر بعد کے ادوار میں ایسی کوئی تحقیق کیوں نہیں ہو پائی۔ کتاب کے باب دوم کے آخر میں ریاض شیخ نے بھی یہی بات کی ہے کہ آج اگر حمزہ علوی صاحب زندہ ہوتے تو شاید اس صورت حال کا بھی کوئی۔

مارکسی تجزیہ پیش کرتے لیکن اب یہ ذمہ داری ہمارے عہد کے دانشوروں پر عاید ہوتی ہے کہ وہ اس صورتحال کا جائزہ لیں اور اس کا تجزیہ پیش کریں۔ میرا ماننا ہے کہ اگر سارے ادارے اپنی حدود میں رہیں اور ہم اپنی اقتصادی پالیسیاں غریب عوام کی حالت سنوارنے کے لئے بنائیں اور اپنی خارجہ پالیسی ایسی بنائیں جیسی کہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی ہونی چاہیے تو سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لئے نیوٹرل کو صحیح معنوں میں نیوٹرل ہونا پڑے گا۔ یاد رکھئیے کہ جمہوریت کی خرابیوں کا علاج مزید جمہوریت ہے اور کچھ نہیں۔

Facebook Comments HS