جِنکو پرندوں کے گھونسلوں کی حفاظت
وطنی بدنامی کے ہر وقوعے کے بعد اخبارات میں یہ کچھ پڑھنے کو بکثرت ملتا ہے۔
جڑانوالہ واقع ناقابل برداشت مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت اور انتہائی رویے کے ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان کے تمام شہری بلا تفریق مذہب، رنگ، نسل، ذات اور قبیلہ برابر ہیں۔ عدم برداشت، بد اعتمادی کے ناسور کو ختم کرنا ہو گا۔ عوام میں دراڑیں ڈالنے والوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ پرتشدد رویوں کو ترک کرنا ہو گا۔ سانحہ جڑانوالہ قابل مذمت ہے۔ تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔
تمام مذاہب اور ادیان کے قائدین اور زعماء کا اجلاس۔ مشترکہ اعلامیہ پیش، ”ہم دل خراش اور افسوس ناک واقعات کی بھر پور مذمت کرتے ہیں، ہم تمام کتب سماویہ کی عظمت کے امین ہیں، ملک میں ایسی دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں“۔ سانحہ جڑانوالہ کے زخمیوں کے لیے وزیر اعلی پنجاب نے ہسپتال کا دورہ کیا اور ڈاکٹروں کو ہدایات دیں۔
جڑانوالہ واقعہ پر سخت ایکشن ہو گا۔ پرتشدد واقعات لمحہ فکریہ، قوم کا سر شرم سے جھک گیا، حکومت تمام شہریوں کا مساویانہ تحفظ کرے گی۔ شہباز شریف و بلاول اور دیگر کا اظہار مذمت (آج کے دیگر وہ ہیں جو چند دن پہلے حاکم تھے)۔
جو لوگ اخبارات دیکھتے رہتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ ہمارے وطن میں ہر بار اس طرح کے قتل عام لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کے بعد ایسی بیان بازی معمول ہے، فرق صرف اتنا کہ اجڑنے والی بستی کا نام اور بیان دینے والے بدلتے ہیں۔ بیان دینے والوں کا بدلاؤ بس اتنا ہی کہ کبھی وہ حاکموں کی لسٹ میں ہوتے ہیں اور کبھی دیگر میں۔
پہلے بھی ایسے کئی واقعات ہو چکے، ایسی بیان بازی بھی کئی بار، بس جو نہیں ہوا وہ یہ کہ پھر ایسا نہ ہونے دینے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہر ایسے واقع کے بعد چند لوگوں پر ایف آئی آر درج کرنا اور چند دنوں کے لیے حوالات میں بند کر دینا کافی ہے، تو کرتے رہیں، ایسے واقعات تو تعداد میں بڑھ رہے ہیں۔
ایف آئی آر تو تھانے والوں کا کام ہے۔ ہر بار صرف ایف آئی آر پر اکتفا کرنا حاکموں کی بیان بازی کو مشکوک بناتا ہے۔ حاکموں کے کرنے والے کام اس کے علاوہ ہیں۔ مثلاً یہ دیکھنا کہ ان واقعات کے پیچھے محرکات کیا ہیں، پتہ کرنے والی بات یہ ہے کہ جن کے اسلاف یہ خیال رکھتے تھے کہ ”ہماری حکومت اندر کوئی کتا پیاس سے نہ مرے“ ، ایسے ذمہ دار اور خلق خدا سے پیار کرنے والوں کے اطاعت گزاروں کے دماغوں نے کیسے مان لیے کہ ”کسی انسان کا گھر جلانے، کسی کو قتل کرنے اور کسی کو لوٹنے سے ثواب ملتا ہے“۔
ہمارے مذہب میں ایسی روایات موجود ہیں جہاں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ پرندوں کے گھونسلوں کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے؟ ہمیں تو یہ بتایا گیا ہے کہ نماز جنت کی کنجی اور جنت ماں کے قدموں تلے ہے پھر بچے سے بوڑھے تک ہم سب کیسے قائل ہو گئے کہ کسی کا گھر جلانے سے جنت ملتی ہے۔
بہت سوں کا خیال ہے کہ آپسی نفرت کے پھیلاؤ کے لیے ہمارے سابقہ حاکموں نے سکولوں کے سلیبس کا سہارا لیا تھا (ان کی کوئی ذاتی ضرورت تھی نہ کہ قومی)۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ بچوں کو سکولوں میں وہی پرانا آپسی تفریق والا سلیبس پڑھایا جائے اور سکول سے باہر آ کر وہ محبت و رواداری کا مظاہرہ کریں؟
اس لیے قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے سکول سلیبس خاص طور پر اردو اور اسلامیات پر نظر ثانی بہت ضروری ہے


