سوچ کی ترجیح


زیادہ پرانی نہیں، گزشتہ صدی کے محض آخری سال کی بات ہے۔ صحرا نوردی جنوبی پنجاب کے صحراؤں سے نکل کے برف پوش پہاڑوں اور ان پہاڑوں میں گھری وادیوں تک پہنچ چکی تھی۔ وہاں ایک نوابی پروفیسر صاحب سے ملاقات رہی۔ وہ اپنے بھاری بھر کم نام محمد سردار خان کے ساتھ طبیعات (فزکس) میں طبع آزمائی کرتے پائے گئے۔ نا صرف اپنے مضمون میں طاق تھے بلکہ نت نئے تجربوں کے بھی مشاق تھے۔ ایک دن کسی ضرورت نے انہیں اپنے لئے سوال کرنے پہ مجبور کیا۔ اس دن پتا چلا کہ سوال کی ندامت کیا ہو سکتی ہے۔

خدمت کے لئے قرعہ فال ہمارے نام کا نکلا تھا تو درخواست کو حکم کا درجہ دیتے ہوئے ان کا حکم بجا لائے۔ شام کی چائے پہ بیٹھے، کچھ روزمرہ کی گفتگو کے دوران کہنے لگے کہ دور طالبعلمی میں مشاہدہ بہت ضروری ہے۔ آگے بڑھنے، کچھ نیا سیکھنے اور معاملات کی نہج تک پہنچنے میں یہی معاون ثابت ہوتا ہے۔ معاملے کی باریکی، حالات کی سنگینی اور درپیش صورتحال کو سمجھنے کے لئے قوت مشاہدہ مضبوط ہونی چاہیے۔

بات کو مزید سمجھانے کے لئے ایک مثال بیان کی کہ ایک محلے کے کچھ دوستوں نے جنگل میں سیروتفریح کی غرض سے جانے کا پروگرام بنایا۔ سارا دن گھوم گھام کے اور تھک ہار کے جب واپس گھروں کو پہنچے تو ان کا ایک نابینا محلے دار لڑکا ان کا منتظر تھا۔ اس نے پوچھا کہ جنگل میں تم لوگوں نے کیا دیکھا کہ وہ کیا کہتے سوائے اس کے کہ جنگل میں درخت تھے، لکڑیاں تھیں اور بس۔

نابینا لڑکا کہنے لگا کہ اللہ کے بندو بس لکڑیاں، پتے اور درخت ہی تھے۔ کیا تم نے غور کیا کہ کیا سب درختوں کے پتے ایک جیسے تھے؟ کیا سب کی شاخیں ایک جیسی اوپر کو جا رہی تھیں؟ کن درختوں سے سورج کی روشنی چھن کے زمین تک پہنچتی ہے اور کون سے پتے سورج کی روشنی کو روک لیتے ہیں؟ کون سے درخت ہیں جن کے پتوں سے ہوا ٹکرائے تو جلترنگ بجنے لگتے ہیں۔ آنکھوں سے جنگل دیکھنے والے ایک نابینا کے سوالات پہ ہی ششدر تھے۔

دیکھنے کی یہ عظیم صلاحیت اللہ نے کم و بیش سبھی انواع کو بخشی ہے۔ کچھ کی آنکھ میں تو ہزاروں کی تعداد میں عدسے ہیں۔ گھروں میں اڑنے والی عام سی مکھی کی مثال لے لیں۔ ہزاروں عدسوں کے باوجود گند پہ بیٹھنے والی بات تو سوشل میڈیا نے خوب مشہور کر رکھی ہے۔ اللہ کریم نے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات پیدا فرمایا ہے، اپنا نائب کہا ہے، فرشتوں سے سجدہ کروایا ہے۔ اگر حضرت انسان بھی دوسروں کی فقط برائی ہی دیکھے اور صرف برائی ہی تلاش کرنے کی ٹوہ میں لگا رہے تو اس کا مطلب کہ اس نے اپنے آپ کو اللہ کریم کے عطا کردہ اشرف مقام سے گرا کر مکھی کے مقام پہ رہنے کو ترجیح دی ہے۔

موسیٰ علیہ السلام کا وہ ایک واقعہ ہی ”چشم کشائی“ کو کافی ہے جس میں وہ سارا دن پھرتے رہے اور کوئی ایک بندہ بھی اپنے سے کمتر تلاش نہ کرسکے۔ ایک نبی اور وہ بھی کلیم اللہ نبی، اگر وہ اپنے سے کمتر نہیں ڈھونڈ پائے تو ہمارے جیسے عام انسان کیسے کسی دوسرے کو خود سے کم سمجھ سکتے ہیں۔ یعنی سمجھنے کا فرق ہے۔ سمجھ کو ٹھیک کر لیں تو سب درست ہو جائے گا۔ سب درست ہو گیا تو ستے ہی خیراں ہیں۔

Facebook Comments HS