بلاسفیمی کی سیاست اور انسانی حقوق
16 اگست 2023ء کو فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالا میں مسیحی آبادی پرایک کالعدم مذہبی جماعت کے شدت پسندوں کی یلغار کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقلیتیں ایک تواتر سے مسلم اکثریت کے ہاتھوں ظلم و ستم سہتی آ رہی ہیں۔ پاکستان میں مذہب کی آڑ میں غیر مسلم آبادیوں پر مظالم کی داستان نہایت خونچکاں ہے۔ انسانی حقوق تو رہ گئے ایک طرف، اقلیتوں کا پاکستان میں زندہ رہنا ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے متعدد شہروں میں جماعت احمدیہ کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس سے قبل ماضی بعید میں گوجرہ اور بادامی باغ میں عیسائی برادری کی بستیوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا تھا اور نہتے عیسائی بھائیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ انفرادی واقعات جن میں صوبہ پنجاب کے گورنر اور ایک وفاقی وزیر کو دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ ایسے واقعات سمیت اتنی بڑی فہرست ہے کہ اس مضمون میں سما نہیں پائے گی۔
مگر ایسے سفاکانہ واقعات کو روکنے کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ بد قسمتی سے بلاسفیمی لاء ایسی کارروائیوں کی خاموش حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس غیر منطقی قانون کی آڑ میں جس کے اندر بلاسفیمی کے جھوٹے الزام کی کوئی سزا مقرر نہیں ہے، پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں میں ڈیڑھ ہزار سے اوپر مسلم اور غیر مسلم افراد عدالتوں میں پیش ہونے سے قبل ہی مشتعل شدت پسندوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں اور بلاسفیمی لاء ہے کہ سخت سے سخت ہوتا جا رہا ہے۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک سنی العقیدہ بلکہ بریلوی پولیس اسٹیٹ بننے جا رہا ہے۔ جہاں اب اہل تشیع بھی ایک مذہبی اقلیت شمار ہوں گے۔ اس کا سبب 17 جنوری 2023 ء کو قومی اسمبلی سے پاس ہونے والا توہین مذہب کا بل بلاسفیمی کے بے مہار قانون کو مزید وسعت دے دے گا۔ جس کے تحت پیغمبر اسلام کی توہین کرنے پر سزائے موت کے علاوہ ان کے صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لیے عمر قید یا 10 سال کی قید رکھی گئی ہے۔ پاکستان میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں نوحہ کناں ہیں کہ نئے قانون کے نفاذ سے پاکستان میں موجود مذہبی اقلیتیں مزید غیر محفوظ ہو جائیں گی کیونکہ یہ قانون بالخصوص اہل تشیع ہم وطنوں کو ہدف بنا سکتا ہے جو قرون اولیٰ کے چند صحابہ کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔
ایران کے بعد پاکستان میں توہین مذہب کا قانون دنیا بھر میں سخت ترین قانون ہے۔ میری تحقیق بتاتی ہے کہ دنیا کے قریب 180 ممالک میں سے 71 ممالک بلاسفیمی کو ایک جرم تصور کرتے ہیں۔ ان میں سے 32 ممالک مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ مگر اس جرم کی سزا مختلف ممالک میں مختلف ہے۔ جس کا تعین عدالتیں ٹھوس ثبوت اور گواہان کی شہادتوں کو پیش نظر رکھ کر کرتی ہیں۔ مسلم ممالک میں ایران، پاکستان، افغانستان، برونائی، موریطانیہ اور سعودی عرب ایسے ممالک ہیں جہاں توہین مذہب کی سزا موت ہے۔ غیر مسلم اکثریتی ممالک میں سخت ترین توہین مذہب کا قانون اٹلی میں نافذ ہے جہاں یہ جرم ثابت ہونے پر 2 سال کی قید ہے۔
اس پر مستزاد یہ کہ اسلام ترک کرنے کے عمل کو بھی بلاسفیمی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ 49 مسلم اکثریتی ممالک میں اسلام کو چھوڑ نے کی سزا توہین مذہب کے مترادف ہے۔ پاکستان کی بات کریں تو پاکستان کا آئین مذہبی آزادی کی بات کرتا ہے جس میں ایک مذہب ترک کر کے دوسرا اپنا لینا یا کوئی مذہب ہی نہ رکھنا، کوئی جرم نہیں ہے اور قرآن میں بھی ایسا کوئی حکم موجود نہیں ہے۔ مگر اسلامی نظریاتی کونسل ایک حدیث کی بنیاد پر اس عمل کو توہین دین قرار دیتی ہے۔ اور بلاسفیمی کی ہی سزا تجویز کرتی ہے۔ چونکہ اسلامی نظریاتی کونسل بنائی ہی اسی لیے گئی ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ مقننہ قرآن اور سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہ کرے لہٰذا وہاں بیٹھے چند ملا ایک کسی بھی قانون کو قرآن و سنت کے خلاف یا قرآن و سنت کے مطابق قرار دینے میں آزاد ہیں۔ یہاں بھی مشکل یہ ہے کہ سنی فرقے قرآن اور حادیث کے حوالے سے کسی ایک تفہیم و تشریح پر متفق نہیں ہیں۔ مگر چونکہ پاکستان میں اکثریت سنی بریلوی مسلک کی ہے لہٰذا ان کی تعبیر و تشریح بزور طاقت درست ہے۔
ریاست پاکستان کو توہین مذہب کا قانون یوں تو سامراج سے ورثے میں ملا تھا۔ جو برطانوی دور میں بنایا گیا اس وقت یہ قانون برطانوی فوج کے اندر مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ اور مکمل طور پر سیکولر رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا تا کہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی پر مشتمل سپاہ کے بیچ مذہبی منافرت پیدا نہ ہو۔ اس کے تحت بلاسفیمی کی سزا بھی چند برس قید تھی۔ مگر جنرل ضیاء الحق جن کا پاکستان میں حکومت پر قبضے کا دورانیہ 1977 ء سے 1988 ء تک محیط تھا، اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے پاکستان میں اسلامی شریعت نافذ کرنے کا نعرہ لگایا۔ ضیا الحق نے اپنی جبری شریعت کے نفاذ کے لیے جہاں انھوں نے حدود آرڈیننس سمیت متعدد غیر فطری و غیر انسانی قوانین بنائے وہاں بلاسفیمی کی سزا موت مقرر کر کے اس قانون کو مزید سخت بنا دیا۔ جس کا مقصد سیاسی تھا تاکہ ان کے تاحیات امیر المومنین بننے میں کوئی امر مانع نہ رہے۔ یاد رہے کہ جنرل ضیا الحق نے اپنے اقتدار کو جواز دینے اور اپنے آپ کو تاحیات صدر پاکستان بنانے کے لیے ایک مضحکہ خیز ریفرینڈم بھی کروایا تھا جس کے تحت عوام کے سامنے یہ سوال رکھا گیا تھا کہ اگر وہ پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں تو جنرل ضیا الحق کو پاکستان کا صدر منتخب کریں۔
آئیے ایک نظر اسلامی ممالک میں اسلامی شریعت پر بھی ڈالیں۔ 2013 ء کے ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک میں سے جن میں جنوب مشرقی ایشیاء، مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیاء کے ممالک شامل تھے % 75 جواب دہندگان نے اسلامی شریعت کو ملکی قوانین بنانے کی حمایت کی۔ جن افراد نے اسلامی قوانین بطور ملکی قوانین بنانے کی حمایت کی ان میں جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک میں ٪ 25، مشرق وسطیٰ میں ٪ 50 اور شمالی افریقی میں % 75 افراد نے رائے دی کہ مذہب اسلام کو ترک کرنے کی سزا موت ہونی چاہیے۔ مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ پچاس سے زائد مسلم ممالک میں سے کسی ایک مسلم اکثریتی ملک میں بھی اسلامی شریعت قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق نافذ نہیں ہے۔ اقتصادی و سیاسی نظام کے حوالے سے تمام مسلم ممالک غیر مسلم مغرب کی تقلید کرتے نظر آتے ہیں اور کمال ہوشیاری سے مذہب کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کھیل میں مذہبی پیشوا بھی ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ریاست اور مذہبی پیشوائیت کا صدیوں پرانا گٹھ جوڑ ہے۔ جو ریاست کی طاقت کا سرچشمہ بھی ہے۔ بقول اقبال :
باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری
اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری
آئیے یہ بھی دیکھ لیں کہ دین اسلام مذہب پر سوال اٹھانے، ترک کر دینے یا تنقید کرنے کے حوالے سے خود کیا کہتا ہے؟
قدامت پسند علماء توہین مذہب اور ارتداد کی بنیاد روایات پر رکھتے ہیں۔ ایک حدیث رسول جو اس ضمن میں بیان کی جاتی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ ”جو شخص دین میں داخل ہونے کے بعد اس کو ترک کرے اس کو قتل کر دو۔“ مگر بہت سے دانشوران اسلام اور علمائے دین اس موقف کو اس بنیاد پر مسترد کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے اپنی زندگی میں دین کو چھوڑنے پر کسی کو قتل نہیں کیا اور نہ کبھی صحابہ کو ایسی تلقین کی۔ قرآن جو اسلامی تعلیمات کا اصل سر چشمہ ہے، دین سے منحرف ہونے کو جرم قرار نہیں دیتا۔ بلکہ قرآن کی 100 ایسی آیات موجود ہیں جن میں انسانوں کو امن کے فروغ، مذہبی آزادی اور مذہبی رواداری صبر اور برداشت کی تلقین کی گئی ہے۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں :
” دین میں کوئی جبر نہیں۔“ ( 2 : 256 )
سورہ الکافرون کا اختتام اس آیت پر ہوتا ہے :
” تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔“ ( 1 : 109 )
” جس محفل میں اللہ کی آیات سے انکار کیا جا رہا ہو یا ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو تو وہاں نہ بیٹھو۔“ ( 4 : 140 )
مگر سیاسی اثر و رسوخ اور تاریخی اختیارات کے بل بوتے پر قدامت پسند علماء قرآنی آیات کا اپنی مرضی کا مفہوم نکال لاتے ہیں۔
بقول اقبال:
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
اسلام کے آغاز کی تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد وہاں موجود یہودیوں سے صرف صلح کر لی۔ بلکہ اپنے صحابہ اور امراء جنگ کو غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچانے کا حکم بھی دیا تھا۔ مندرجہ بالا اسلامی احکامات کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ توہین مذہب کے ریاستی قوانین سیاسی و مذہبی مقاصد کو مد نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں جن پر عمل درآمد سے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔
درج بالا نگارشات کی روشنی میں اس فورم کے توسط سے درج ذیل تجاویز پیش کی جاتی ہیں :
حکومت پنجاب جڑانوالا میں نذر آتش کیے جانے والے گھروں کے مکینوں کو فی خاندان مناسب معاوضہ ادا کرے۔
اس ظالمانہ کارروائی کے ذمہ دار مجرموں کو گرفتار کر کے ان کو موجودہ توہین مذہب کے قانون کے تحت قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ عینی شاہدین کے مطابق جڑانوالا میں مشتعل افراد نے انجیل مقدس کو بھی نذر آتش کی گیا۔
ارباب اختیار، بلاسفیمی لاء کو مزید سخت کرنے کی بجائے اس کو قرین انصاف اور حقیقت پسند بنانے کے لیے قانون سازی کریں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور مغربی ممالک سمیت تمام مہذب دنیا، پاکستان سمیت ان تمام ممالک پر سیاسی و سفارتی دباؤ ڈالے جہاں مذہبی قوانین کی آڑ میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے اور مذہبی اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔


