بابا جی کا حقہ
صبح سے ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ بابا جی برآمدے میں صاف ستھری چار پائی پر بیٹھے، چائے رس کا ناشتہ کر رہے تھے۔ بابا جی کی بیٹیاں اپنے بابا جی کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ بابا جی کی تقریباً اسی سال کی عمر ہو گئی تھی۔ ان کا رعب دبدبہ ہمیشہ کی طرح آج بھی قائم تھا۔ جو بات ان کی زبان سے نکلتی وہ حرف آخر ثابت ہوتی تھی۔ وہ اپنی بیٹیوں کو عموماً ”کڑیو“ کہہ کر بلاتا نام بس کبھی کبھار ہی لیتا تھا، بیٹیوں سے پیار کرتا تھا لیکن ان سے پیار سے بات کم ہی کرتا تھا۔ اپنی بات پوری کرواتا تھا خواہ رات کا ایک ہی کیوں نہ بج چکا ہوتا تھا۔ اگر کوئی بات یاد آ جاتی تو جگا کر پوری کرواتے تھے۔
” کڑیو حقہ ہی بنا دو۔“
”اب دیکھو ذرا، اب بارش ہو رہی ہے اور بابا جی نے حقہ کہہ دیا ہے“ بیٹیاں آ پس میں ایک دوسرے کو کہتیں۔
بابا جی! باہر بارش ہو رہی ہے چولھا گیلا ہے آگ کیسے جلے گی؟ ”بیٹی نے دھیمی آواز میں کہا۔
”کمرے میں جلا دو“
بابا جی نے کہا، عرصہ دراز سے حقے کے نشے میں گھرے بابا جی تو کسی صورت ٹلنے والے نہیں تھے۔ بڑی بیٹی کو آگ جلانا انتہائی مشکل تھا لیکن فوج کی نوکری کی طرح حکم عدولی نہیں ہو سکتی تھی۔
”نشہ بھی کتنی بری بلا ہے۔ نشہ کرنے والے کو تو تباہ کرتا ہی ہے۔ دوسروں کے لیے بھی وبال جان ہے۔“ بیٹی نہ چاہتے ہوئے بھی باہر صحن میں گئی اور تقریباً روہانسی شکل بنا کر آگ جلانے کی کوشش کرتی رہی۔ اگ جلنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ دھوئیں سے آنکھیں پانی سے بھر گئی تھیں۔
”پتر ابھی تک آگ ہی نہیں جلی، اتنی دیر لگا دی۔“ بابا کی کڑک دار آواز آئی۔ جب رعب دار آ واز سے بابا جی بولتے تو دل دہل جاتے تھے۔
”لاؤ میں چلم میں تمباکو اور گڑ ڈال دوں“
بابا جی نے بیٹی سے کہا۔
”بابا جی! میں خود ڈال لوں گی“ بیٹی نے کہا۔
”تمھیں بڑا پتہ ہے؟ میں خود ڈالوں گا مجھے تمباکو والا ڈبہ پکڑاؤ“ بابا جی نے کہا۔
بیٹی نے ڈبہ پکڑایا۔ گڑ بھی دیا۔ لیکن بابا جی۔ ایک بار ہی کام نہ کہتے تھے، نہ کرتے تھے۔
”کوئی سخت تنکا پکڑاؤ، گڑ جم گیا ہے چلم میں“
”یہ لیں بابا جی،“ بیٹی نے چھوٹی سی لکڑی پکڑائی اور ابھی بیٹھنے ہی لگی تھی کہ آواز آئی۔
”پیچ کس دینا ذرا، اس تنکے سے کام نہیں چلے گا“
”یہ لیں بابا جی، آپ گڑ زیادہ ڈال دیتے ہیں“
”تمھیں کیا پتہ حقے کے ذائقے کا گڑ سے ہی تو سواد بڑھتا ہے۔“ بابا نے بیس منٹ لگا دیے چلم صاف کرنے اور تمباکو، گڑ ڈالنے میں۔
”یہ لو چلم اور آگ راکھ جھاڑ کر دھرنا نہیں تو جلدی بجھ جائے گا“
اچھا بابا جی، ”بیٹی چلم لے کر ابھی چلی ہی تھی کہ آواز آئی۔
”سنو! آگ کچی نہ ڈالنا۔ اس میں سے دھواں آئے گا اور مزہ نہیں آئے گا۔“
”اچھا،“ بیٹی نے جواب دیا۔
اب بابا جی حقہ لے کر بیٹھک میں براجمان تھے۔ باہر گلی کا دروازہ کھلا تھا۔ ہر گزرنے والا بابا جی کو سلام کرنے ضرور آ تا تھا۔ حقے کا کش لگانا بھی فرض تھا۔ بابا جی نے چائے کا بھی پوچھنا تھا۔ اکثر لوگ چائے پی کر ہی جاتے تھے۔ چولھا جلتا ہی رہتا تھا۔ بیٹیوں کو یہ سہولت دی تھی بابا جی نے کہ گیس سلنڈر لا کر دیا تھا۔ سارا دن آ یا گیا بھی رہتا تھا اور چائے، حقہ بھی چلتا ہی رہتا تھا۔ زندگی کے دن ایسے ہی گزر رہے تھے۔
دوپہر کا وقت تھا۔ بیٹیاں گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر کھانا پکانے میں مصروف تھیں کہ بابا جی نے چائے پینے کے لیے کہا۔ بابا جی حقہ جتنا شوق سے پیتے تھے۔ اتنے شوق سے۔ کوئی چیز نہیں کھاتے تھے۔
”کڑیو! ایک کپ چائے بنا دو۔بارہ بج گئے ہیں“
”بابا جی، اب کھانا کھائیے گا۔ اپ نے آج پہلے ہی دو دفعہ چائے پی ہے۔“
”میرا روٹی کھانے کو دل نہیں چاہتا“ بابا جی، کو حقہ اور چائے مل جائے تو سارا دن گزر جاتا تھا۔
اب چائے بنانی ہی پڑنی تھی۔ بیٹی نے چائے بنا دی۔ چائے پی کر پھر حقے کی طلب نے بے چین کر دیا۔
”آگ جلا دو، حقہ تازہ کر دو، پانی ڈال دو ورنہ پانی بدبو چھوڑ دیتا ہے۔“
بیٹی نے حکم بجا لاتے ہوئے حقہ تازہ کر دیا اگ جلائی اور چلم بھر کر دی۔ بابا جی حقہ دیکھ کر خوش ہوئے اور کش لگا کر اس کی کمی بیشی بتاتے رہے۔ سچ ہے نشہ انسان کو کسی اور چیز کا خیال نہیں آ نے دیتا۔ گھر کا خرچ بابا جی کی پینشن اور ایک بیٹے کی آ مدنی سے بہت اچھا چل رہا تھا۔ رزق فضل کی کمی نہ تھی۔
ایک دن بابا جی اپنے کسی دوست سے ملنے موٹر سائیکل پر گئے کہ راستے میں کسی تیز موٹر سائیکل سوار نے پیچھے سے ٹکر ماری اور بابا جی زمین پر گرے اور سر پر چوٹ لگی جس کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے۔ وہاں موجود لوگوں نے بابا جی کو ہسپتال پہنچا دیا۔ گھر فون گیا کہ بابا جی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ پریشان بیٹیاں ہسپتال پہنچی بیٹے جو اپنے اپنے گھروں میں مصروف تھے۔ وہ بھی پہنچ گئے۔ اور بابا جی کو۔ گھر لے آئے۔ جس جس کو ایکسیڈنٹ کا پتہ چلا سب حال پوچھنے چلے آئے۔ کچھ عرصہ بابا جی چلنے پھرنے سے رہ گئے کیونکہ کمر پہ چوٹ بھی لگی تھی۔ اب سارا دن بستر پر بابا جی نے حقہ زیادہ پینا شروع کر دیا۔ کھانے پینے کی طرف توجہ بالکل نہ رہی۔ پریشان رہتے اور حقہ پیتے رہتے۔ آہستہ آہستہ یاد داشت کمزور ہونے لگی۔ ڈاکٹر سے باقاعدہ دوائی لیتے رہتے پھر بھی یادداشت ٹھیک نہ ہوئی۔ ہر بات بھولنے لگے۔ ایک دن ڈاکٹر سے دوائی لینے گئے۔ چھوٹی بیٹی ساتھ تھی۔ اس نے ڈاکٹر کو بتایا کہ بابا جی حقہ زیادہ پیتے ہیں شاید اس وجہ سے یادداشت زیادہ کمزور ہے۔
”بزرگو! آپ حقہ نہ پیا کریں اس لیے ہی آپ کی یاد داشت کمزور ہو رہی ہے۔“ ڈاکٹر نے بابا جی کو ہدایت دی۔
”ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب! اب حقہ چھوڑ دیں گے۔ وہ کون سی بڑی بات ہے“ بابا جی نے جواب دیا۔
”کیا بابا جی واقعی حقہ چھوڑ دیں گے، ایسا ہو سکتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟“
بیٹی نے خود کلامی کی۔
گھر واپس آ کر، بابا جی نے سب سے پہلے آگ جلانے اور حقہ تیار کرنے کا حکم دیا۔
”بابا جی ڈاکٹر نے آپ کو حقہ پینے سے منع کیا ہے۔ ورنہ دوائی اثر نہیں کرے گی“ بیٹی نے کہا۔
”اچھا، چلو اس کی بھی قربانی دے لیتے ہیں۔ نہیں پیتے۔“ جیسے تیسے کر کے ایک دن گزرا، دوسرے دن تو بابا جی کی طلب بڑھی انھوں نے کہا ”کڑیو، پتر! حقہ تازہ کرو اور آگ جلاؤ کل کا حقہ نہیں پیا“
”لیکن بابا جی، ڈاکٹر نے آپ کو منع کیا ہے“
بیٹی نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
”ڈاکٹر کو کیا پتہ حقے کے فوائد کا۔ وہ الو کا پٹھا کیا جانے۔ اتا جاتا کچھ ہے نہیں اور کلینک کھول کر لوگوں کو لوٹنے بیٹھ جاتے ہیں۔ حقہ بناؤ“
ناچار بیٹی نے حقہ بنا کر دیا اور بابا جی اب بڑے سے صاف ستھرے صحن میں چار پائی پر گاؤ تکیہ پر ٹیک لگائے بڑے اطمینان سے حقہ کے بڑے بڑے کش لگانے لگے۔
”نشہ بہت بری شے ہے خواہ یہ روٹی کاہو، محبت کا ہو یا حقے کا“


