وزیر اعلی کا علامتی دورہ اور جڑانوالہ کے مسیحی کی مایوسی
میں وہ واحد صحافی ہوں جو جڑانوالہ چرچ میں وزیر اعلی پنجاب کی مسیحوں سے ملاقات کے موقع پر موجود تھا ’اس موقع پر میں نے جو کچھ دیکھا وہ حیران کن ہی نہیں مایوس کن بھی تھا۔ سانحہ جڑانوالہ کے متاثرین سے اظہار یک جہتی کے لئے وزیر اعلی پنجاب نے اتوار کے روز جڑانوالہ کا دورہ کیا‘ اس دورے کا اعلان پہلے سے ہی کیا جا چکا تھا ’دورے کا اعلان کرتے وقت وزیر اعلی نے کہا تھا کہ اتوار کے روز وہ مسیحوں کے ساتھ عبادت کریں گے جس پر 20 اگست اتوار کو کرسچن کالونی سمیت جڑانوالہ کے ان تمام علاقوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے تھے جہاں پر مسیحی رہتے ہیں‘ وزیر اعلی کی آمد سے قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ کرسچن ٹاؤن یا کسی بڑی آبادی کے عبادتی پروگرام میں شرکت کرنے کے بعد متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے، جس پر کرسچن کالونی سمیت دیگر آبادیوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔
سانحہ جڑانوالہ کے بعد اتوار کی پہلی عبادت صبح دس بجے کرسچن کالونی کی گلی میں کرائی گئی اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی اور اس امکان کے پیش نظر کہ وزیر اعلی پنجاب اس عبادت میں شرکت کریں گے چھتوں پر شوٹر تعینات کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے تھے۔ عبادت شروع ہونے سے لے کر آخر تک میڈیا نمائندگان اور مسیحوں سمیت ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار اس بات کے منتظر رہے کہ ابھی وزیر اعلی پنجاب آئیں گے اور عبادت میں شرکت کریں گے مگر وزیر اعلی پنجاب کو نہ آنا تھا اور نہ وہ آئے۔ جس کے بعد میڈیا نمائندگان نے دیگر علاقوں میں ہونے والی عبادات کا رخ کیا۔ عیسی نگر پل کے پاس واقع لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے دفتر کے گراؤنڈ میں اتوار کی عبادت کے بڑے اجتماع کا اہتمام کیا گیا تھا۔
کرسچن کالونی کی عبادت ختم ہونے کے بعد اس امکان کے پیش نظر کہ وزیر اعلی پنجاب اس عبادت میں آئیں گے میڈیا کے نمائندگان اس عبادت میں پہنچ گئے۔ یہاں پر سیکورٹی کے انتظامات بھی غیر معمولی تھے جن کو دیکھ کر میڈیا نمائندگان نے پادریوں کے سامنے کیمرے لگا دیے۔ شرکا کو یقین ہو گیا تھا کہ وزیر اعلی ضرور اس عبادت میں آئیں گے۔ وزیر اعلی کے انتظار میں عبادت بھی طویل کر دی گئی مگر یہاں پر بھی نہ آئے۔ دوپہر 12 بجے کے بعد یہ اطلاع موصول ہوئی کہ عیسی نگری میں واقع ایک چھوٹے سے چرچ میں وزیر اعلی کے آنے کا پروگرام کنفرم ہو گیا ہے۔ چرچ کے سامنے واک تھرو گیٹ لگا دیے گئے ہیں جبکہ سیکورٹی اداروں نے بھی پوزیشن سنبھال لی ہے اس پر تمام میڈیا نے اس چرچ کا رخ کر لیا مگر یہاں منظر ہی کچھ اور تھا۔ چرچ کے گیٹ کے سامنے کھڑے پولیس اہلکاروں اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے بتایا کہ اس عبادتی پروگرام میں میڈیا کے نمائندگان کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ میڈیا نمائندگان کے احتجاج کے باوجود صحافیوں کو چرچ کے اندر نہیں جانے دیا گیا۔ خوش قسمتی سے میں وہ واحد صحافی تھا جسے چرچ میں داخل ہونے کا موقع مل گیا۔
چرچ میں عبادت شروع ہو چکی تھی اور چودہ یا سولہ مسیحی جن میں کچھ خواتین اور بچیاں بھی موجود تھیں عبادت میں مصروف تھیں۔ سابق سینٹر کامران مائیکل، سابق صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو اور مسلم لیگ ”ن“ کے ٹکٹ ہولڈر کامران بھٹی سٹیج پر موجود تھے۔ یہاں بھی وزیر اعلی کے انتظار میں عبادت طویل ہوتی گئی مگر وزیر اعلی نہیں پہنچے تاہم لاہور، سیالکوٹ اور ملتان کے بشپ صاحبان (مسیحوں کے مذہبی رہنما) کے آنے پر چرچ کے پادری نے اپنا پیغام سنانا شروع کر دیا اور عبادت ختم کر دی گئی۔
جس کے کچھ دیر بعد وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی اپنی ساری کابینہ اور انتظامیہ کے درجن سے زائد افسران کے ہمراہ چرچ میں داخل ہوئے۔ میرے لئے یہ منظر حیران کن تھا کہ جتنے افراد وزیر اعلی کے ہمراہ آئے تھے چرچ میں اتنے مسیحی موجود نہیں تھے۔ وزیر اعلی نے چرچ میں داخل ہوتے ہی اپنی کابینہ کے تمام افراد کو وہاں آنے کے لئے کہاں جہاں پر پادری موجود تھے۔ جگہ کم ہونے کی وجہ کچھ پادریوں کو نیچے آنے پڑا۔ وزیر اعلی کے ہمراہ کابینہ سیکرٹری بھی موجود تھے۔ ان کو اپنے پاس بلا کر وزیر اعلی نے کہا کہ میری کابینہ کے تمام افراد چرچ میں موجود ہیں۔ آج ہم اس چرچ میں کابینہ کا اجلاس ہو گا سیکرٹری کابینہ ایجنڈا پڑھ کر سنائیں گے جس پر سیکرٹری کابینہ نے ایک نکاتی ایجنڈا پڑھ کر سنایا اور ساتھ ہی بتا دیا کہ کابینہ کے تمام افراد نے منظوری دی ہے کہ جڑانوالہ سانحہ میں جن افراد کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے انہیں 20 لاکھ روپیہ فی گھر دیا جائے گا۔ یہ اعلان سن کر موقع پر تو مسیحوں نے تالیاں بجا دی مگر جب وزیر اعلی چرچ سے باہر نکل رہے تھے تو کچھ لوگوں نے احتجاج کیا اور کہا کہ یہ اعلان محض ایک لولی پوپ ہے۔ وزیر اعلی نے متاثرین کو اگر کچھ دینا چاہتے تھے تو ان کو ساتھ لے کر آنا چاہیے تھا مگر وزیر اعلی پنجاب احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے پروٹوکول کے ہمراہ چرچ سے نکل گئے۔ وزیر اعلی کے گاڑی میں بیٹھتے ہی میڈیا نمائندگان کی ایک بار پھر دوڑیں لگ گئی۔ کبھی ایک بستی کبھی دوسری بستی کہ شاید وزیر اعلی ادھر ہوں مگر یہاں پر بھی وزیر اعلی کو نہ آنا تھا نہ آئے۔
شام کے وقت جب کرسچن کالونی سمیت دیگر آبادیوں کے مسیحوں کو معلوم ہوا کہ وزیر اعلی ان سے ملے بغیر چلے گئے ہیں تو ان کی طرف سے ڈھکے چھپے نہیں، کھلے الفاظ میں مایوسی کا اظہار کیا گیا۔ مسیحوں کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی کو اگر پندرہ بیس مسیحوں سے ملاقات کرنا تھی تو پھر اتنا سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ ملاقات تو ان لوگوں کو لاہور بلا کر بھی کی جا سکتی تھی۔ دن بھر مسیحوں کو خوار کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
(محترم سمیر اجمل، پاکستان کی مسیحی آبادی خوش قسمت ہے کہ یورپ اور شمالی امریکا میں مسیحی اکثریت کے ممالک سے پاکستان کو قرض اور امداد لینے کی مجبوری لاحق ہے چنانچہ اشک شوئی کی ضرورت پڑتی ہے۔ 28 مئی 2010ء کو لاہور میں احمدیہ عبادت گاہوں پر حملوں میں 86 افراد جان بحق ہوئے تھے۔ شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے۔ انہیں یا ان کے کسی وزیر کو لاہور میں ہونے کے باوجود تعزیت کے لئے جانے کی توفیق نہ ہوئی۔ ایک ماہ کے وقفے کے بعد نواز شریف نے ہمدردی کا ایک جملہ بول دیا تھا جو ان کے گلے میں طوق کی طرح لٹکا دیا گیا۔ صرف گورنر سلمان تاثیر شہید نے تعزیت کے لئے احمدیہ کمیونٹی کے پاس جانے کی ہمت کی تھی اور ہمیں معلوم ہے کہ سلمان تاثیر اب کہاں ہیں۔ و-مسعود)


