سانحہ جڑانوالہ اور مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داریاں


میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے علاقے کرسچن کالونی میں 16 اگست کو قرآن مجید کی بے حرمتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ جس کا الزام مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں پر عائد کیا گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا لیکن ملزمان کی فوری گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی جس پر مقامی افراد نے احتجاج کیا جو بعد ازاں شدت اختیار کر گیا۔ مختلف مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اعلانات کر کے لوگوں کر احتجاج پر اکسایا گیا اور مشتعل ہجوم نے عیسائیوں کے گھروں اور عبادت گاہوں پر ہلہ بول دیا۔ جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے نتیجے میں تقریباً 20 گرجا گھر اور 100 کے قریب رہائشی مکانات تباہ ہوئے۔ عیسائی خاندانوں نے جانیں بچا کر کھیتوں میں پناہ لی جن کی جانب سے مظاہرین پر لوٹ کھسوٹ کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

میڈیا پر خبریں نشر ہونے کے بعد قومی و صوبائی سیاسی قیادت اور ملک بھر سے مختلف طبقات کی سرکردہ شخصیات نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ عوامی و سماجی حلقوں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے مطالبہ کیا کہ توڑ پھوڑ اور گستاخانہ واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ پولیس نے 600 افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے 150 سے زائد کو گرفتار کر لیا ہے۔ واقعہ کے چند روز بعد قرآن مجید کی بے حرمتی کے الزام میں دو ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

جڑانوالہ کے افسوسناک واقعات سے پورے ملک میں بے چینی پھیلی ہے۔ جہاں گستاخانہ واقعات سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں وہاں کرسچن کمیونیٹی کے عدم تحفظ سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ دشمن قوتوں کو اقلیتوں کے حقوق کو لے کر تنقید کرنے کا موقع میسر آیا ہے اور مخالف میڈیا کو کہنے اور دکھانے کے لیے کافی مواد مل چکا ہے۔ پاکستانی میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پر بھی کچھ مسالک کے علمائے کرام اور پیروکاروں پر اس بات کو بنیاد بنا کر تنقید کی گئی ہے کہ اسلامی تعلیمات کی درست انداز میں ترویج نہ کر کے اور من مرضی کی تحریر و تقاریر کے ذریعے عوام میں عدم برداشت کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ جس کے نتائج سانحہ جڑانوالہ اور آئے روز مذہب کے نام پر دیگر متشدد واقعات کی صورت میں بے امنی کا باعث بن رہے ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ معاشرتی و معاشی مسائل، امن و امان کی مخدوش صورت حال اور جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافہ اسلامی تعلیمات سے دوری کا ہی انجام ہے۔

تاہم سانحہ جڑانوالہ پر مختلف مکاتب کے بیشتر علمائے کرام و مشائخ عظام کا انتہائی حوصلہ افزا رد عمل جان کر اطمینان حاصل ہوا ہے۔ اسی طرح ہری پور کی بادشاہی مسجد میں جمعہ کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا معین الدین شاہ نے سانحہ جڑانوالہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس عمل کو نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خدانخواستہ کسی جگہ توہین آمیز یا گستاخانہ واقعہ رونما ہو جائے تو سب سے پہلے علمائے کرام کو آگے آنا چاہیے۔ عوام کو اطلاع کیے بغیر شرعی احکام کے مطابق واقعہ کی غیر جانبدارانہ جان کاری کریں۔ توہین یا گستاخی کا یقین ہونے پر قانون کو ہرگز اپنے ہاتھ میں نہ لیں بلکہ بحیثیت عالم و ذمہ دار شہری عوام کو پر امن رکھنے کی کوشش کریں، فوری متعلقہ اداروں کے نوٹس میں لائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کریں۔ اگر ادارے یا متعلقہ حکام ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے تو روز قیامت اللہ تعالٰی کے سامنے خود جواب دہ ہوں گے۔ اسلام اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کے جرم کا بدلہ مجرم کے اہل خانہ یا عزیزوں و رشتہ داروں سے لیا جائے۔ اسلامی ریاست جتنی مسلمانوں کو عزت و ناموس کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے اتنی ہی اقلیتوں کے عزت و احترام کی محافظ ہوتی ہے۔ مولانا صاحب کا مزید کہنا تھا کہ اسلام کسی مذہب کی عبادت گاہ اور کتب کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلمانوں کے لیے نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم، دین اسلام اور قرآن مجید کی طرح باقی تمام انبیائے کرام، مذاہب اور کتب کا احترام بھی لازم ہے۔ مسلمانوں کو اپنے اخلاق نبی اکرم کی تعلیمات کے مطابق عظیم بنانے چاہئیں تاکہ دیگر مذاہب کے لوگ مسلمانوں کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش سلام ہوں۔ مولانا صاحب نے نبی کریم اور خلفائے راشدین کے اقلیتوں کے ساتھ معاملات پر بھی گفتگو کی جسے سن کر احساس ہوا کہ ہم نے اب تک اسلامی تعلیمات سے سیکھا ہی نہیں ہے۔

اگر تمام مسالک کے علمائے کرام عبادات کے دین کے ساتھ ساتھ اپنے خطابات میں عوام کو معاملات کا دین بھی سکھائیں با الخصوص جمعہ کے اجتماعات میں نبی کریم کی اخلاقی تعلیمات اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو مفصل بیان کریں تو شاید جڑانوالہ کی طرح کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔

اسی طرح ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ باہمی پیار، محبت و بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے لیے وہ بھی کردار ادا کریں اور کوئی ایسا قدم ہرگز نہ اٹھائیں جس سے نقص امن، فساد اور فتنہ کا خدشہ ہو۔ بین المذاہب اور مسالک ہم آہنگی کے لیے تمام مکاتب کے علمائے کرام اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات انتہا پسندی اور فرقہ پرستی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں۔ معاشرہ سے توہین آمیز واقعات، مذہب کے نام پر خلفشار و فسادات، عدم برداشت اور تنگ نظری جیسے مسائل کے حل کے لیے مذہبی شخصیات پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دینی تعلیمات کی روشنی میں عوام کی اخلاقی تربیت کریں تاکہ باہمی عزت و احترام اور ایک دوسرے کا احساس کرنے کے جذبہ کو پروان چڑھایا جا سکے۔ عوام کو مذہبی رواداری اور احترام انسانیت کا درس دیں تاکہ مستقبل میں سانحہ جڑانوالہ جیسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔

Facebook Comments HS