کیا مولانا طاہر اشرفی کی معافی کافی ہے؟


گزشتہ دنوں جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہے وہ مذہب کے نام پر انسانیت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جس کی بازگشت ان کانوں کو ہمیشہ بے چین کیے رکھے گی جن کے ضمیر میں انسانیت ابھی زندہ ہے، جو مذہب، ذات پات، نسل یا رنگ سے ماورا ہو کر کے انسانوں کو برابری کے روپ میں دیکھنے کے سپنے اپنی انکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔ شاید وطن عزیز میں یہ حسین سا سپنا کبھی سچ ثابت ہو جائے۔

انسانوں کو محض اس وجہ سے کاٹ دینا کہ ” ان کی سوچ یا عقیدہ ہم سے مختلف ہے اس سے بڑھ کر کے انسانیت کی تذلیل کیا ہوگی“ ؟ یہ بات تو ویسے ہی خلاف عقل و فطرت ہے کہ سب انسان ایک طرح سے سوچیں یا ان کو ایک طرح سے سوچنے پر مجبور کیا جائے, ”ورنہ سر تن سے جدا“.

اس فارمولے کے تحت کس کی گردن اس کے دھڑ پر رہے گی اس بات کا اندازہ اپ خود لگا لیں۔ انفرادیت کے اس دور میں جہاں جانوروں کے حقوق بھی تسلیم کر لیے گئے ہیں وہاں مائنارٹی کا ”صیغہ“ انسانیت کے منہ پر کالک مل دینے کے مترادف نہیں ہو گا؟

کیا اکثریت کا مطلب بزور طاقت اقلیتوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا ہوتا ہے؟

اگر کوئی توہین مذہب کا ارتکاب کرتا ہے تو اس میں قانون کو اپنا راستہ لینا چاہیے یا ہجوم کو فیصلہ کرنے کا حق دے دینا چاہیے کہ جو من میں آئے کر گزرو؟ کسے زندہ رکھنا ہے یا مارنا ہے اس بات کا فیصلہ ہجوم کرے گا تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس قسم کے سماج کی شیلف لائف کتنی ہو سکتی ہے؟

اگر ہجوم ریاست پر غلبہ پا لے تو پھر ریاست کی حیثیت ایک تماشائی کی طرح سے رہ جاتی ہے، جس کا کام عمل کے وقت چپ سادھ لینا اور تباہی کے بعد مذمتی بیان جاری کر دینا رہ جاتا ہے۔

جب کوئی سانحہ رونما ہو جاتا ہے تو ہمارے مذہبی علماء ایک ہی طرح کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں کہ

مذہب میں تو اس قسم کے رویے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مذہب تو امن و آشتی کا درس دیتا ہے۔

جن لوگوں نے اس قسم کی بربریت یا سفاکیت کا مظاہرہ کیا ہے، ان کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

مذہبی حوالوں میں کوئی ایسا حوالہ موجود نہیں ہے جو اس قسم کے رویے کو مہمیز یا فروغ دیتا ہو۔

اس قسم کے روایتی سے جملے سننے کو ملتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آخر اس قسم کی پروڈکٹ اچانک سے سڑکوں پر کیسے نکل آتی ہے جو لاش کو سرمہ بنا دینے کے بعد نذر آتش کر ڈالتے ہیں اور اپنی جنت پکی کر کے وہاں سے تتر بتر ہو جاتے ہیں؟ ان کو اس قسم کے رویے پر قائل کرنے اور انسانیت کی اس حد تک گھٹیا انداز میں تذلیل کرنے کے جنون میں مبتلا کرنے والے آخر یہ کون لوگ ہوتے ہیں؟ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے آپ ان غازیوں کی سوشل میڈیا ہسٹری نکال لیں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

ان کے تانے بانے ہمارے نامور قسم کے مذہبی علماء سے ملتے ہوں گے، یہ لوگ نہ صرف ان کی اندھی تقلید کرتے ہیں بلکہ ان کے بیانات کو سوشل میڈیا پر شیئر بھی کرتے ہیں۔ معاملے کو مزید ”نیرو ڈاؤن“ کر کے زیادہ گہرائی میں اترنے کی طلب ہو تو یوٹیوب پر چلے جائیں اور ان نامور قسم کے علماء کی مجمع میں کی جانے والی تقاریر نکال لیں تو آپ کو فوراً پتہ چل جائے گا کہ سڑکوں پر مذہب کے نام پر یہ انسانی ایندھن کیسے پہنچتا ہے؟ مولانا طاہر اشرفی کو لے لیں، جو ہر سانحہ کے بعد محض پوائنٹ اسکورنگ کے لیے معافی مانگنے پہنچ جاتے ہیں ان کی بھرپور جوانی والی تقاریر نکال لیں آپ کو ان کی شعلہ بیانی کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔

یہ صاحب اپنے مخالف فرقوں کے متعلق کس قسم کی گوہر افشانیاں کیا کرتے تھے آپ دنگ رہ جائیں گے۔
اگر آپ کا یہ دعوی ہے کہ آپ اخلاقیات کی بلند ترین مچان پر کھڑے ہیں تو آپ پر اتنی ہی بڑی بھاری ذمہ داری بھی عائد ہو جاتی ہے کہ آپ اپنے عمل سے عملی طور پر اس حقیقت کو ثابت بھی کریں کہ ”ہمارے ہاتھ اور زبان سے کسی بھی انسان کو کسی بھی طرح کی کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی“

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا دامن اس قسم کے کامل یا آئیڈیل نمونے سے بالکل خالی ہو چکا ہے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ہمارے علماء میں ذرا سا ”مختلف“ سننے کا حوصلہ بھی نہیں رہا، جیسے ہی کوئی سوال کرنے کی جرات کرتا ہے۔ سر تن سے جدا کرنے کے نعرے بلند ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب زبانوں کو جبری طور پر گنگ کرنے کی رسم چل نکلے تو سماج میں زومبیز کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھنے لگتی ہے، جن کے ہاتھ میں قلم کی بجائے پتھر، اینٹ یا اسلحہ ہوتا ہے جو بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

مولانا طاہر اشرفی سے گزارش ہے کہ ہر سانحے کے بعد معافی مانگنے کی بجائے ان محرکات کو تلاش کریں جو اچھے بھلے انسانوں کو چند لمحوں میں وحشی بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اگر آپ کے بقول مذہب میں اس قسم کی سفاکیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو پھر آپ کو پتا چلانا چاہیے کہ اس قسم کے لوگ کن علماء کی تشریحات سے متاثر ہو کر اس قسم کا رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں؟

دوسروں سے زیادتی کر کے ”سوری“ بول دینے کا چلن اس معاشرے میں پہلے ہی بہت زیادہ ہے، کچھ اور کرنے ضرورت ہے۔ اس لیے معافی مانگ لینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ آپ کو وجہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS