کیا عاجزی و انکساری اسی کا نام ہے؟


عمران خاں اپنے ہر خطاب کا آغاز ”ایاک نعبد و ایاک نستعین“ سے کرتے، امر بالمعروف کی تلقین اور ریاست مدینہ کی تشکیل کے وعدے کرتے رہے۔ یہ وہ ”اسلامی ٹچ“ تھا جو ہمیں ان کی ہر تقریر میں نظر آتا رہا لیکن اعمال کا دار و مدار تو نیتوں پر ہوتا ہے جبکہ مجھے ہمیشہ خان کی نیت میں فتور ہی نظر آیا۔ دین مبیں کا درس اول ہی اخلاق اور عاجزی و انکساری ہے۔ سورة الاعراف آیت 55 میں ارشاد ہوا ”اپنے پروردگار کو عاجزی سے اور چپکے سے پکارا کرو۔ بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا“ ۔ سورة النجم آیت 32 میں ارشاد ہوا ”بس تم اپنے آپ کو بڑا پاک و صاف مت بتایا کرو، وہ خوب جانتا ہے کہ پرہیزگار کون ہے“ ۔ اسی حوالے سے حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ”کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس نے عاجزی اختیار کی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اسے سرفرازی سے نہ نوازا ہو“۔ سائفر، ممنوعہ فنڈنگ، 190 ملین پاؤنڈ کیس، توشہ خانہ کیس اور دیگر کیسز سے قطع نظر دیکھنا یہ ہو گا کہ خارزار سیاست میں قدم رکھنے سے لے کر اب تک عمران خاں نے دین مبیں کے قائم کردہ معیارات کے مطابق عمل کیا یا نہیں۔

اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ عاجزی و انکساری خاں کو چھو کر بھی نہیں گزری۔ نرگسیت کے شکار عمران خاں کے اندر تکبر اور رعونت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا ”میرا پہلا ٹارگٹ جو بڑی مدت سے میری بندوق کی نوک پر ہے وہ آصف زرداری ہے جسے نہیں چھوڑوں گا“ ۔ 2020 ءمیں واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی کمیونٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ”نواز شریف کہتا ہے کہ جیل کا کھانا اچھا نہیں ہوتا، میں گھر کا کھانا کھاؤں گا۔ وہ ائرکنڈیشنڈ کی سہولت بھی مانگتا ہے۔ پھر یہ بھی کہتا ہے کہ ٹی وی اور اخبارات بھی چاہئیں۔ اگر قیدیوں کو یہ سب سہولتیں دے دی جائیں تو پھر وہ جیل تو نہ ہوئی ناں۔ میں واپس جاکر جیل سے ائرکنڈیشنڈ اور ٹی وی نکالوں گا۔ نواز شریف سے ہر سہولت واپس لے لی جائے گی جس پر مریم نواز بہت شور مچائے گی“ ۔ تقریباً یہی کچھ عمران خاں نے آصف زرداری کے بارے میں بھی کہا۔ عرض ہے کہ میاں نواز شریف 3 بار کے منتخب وزیراعظم جن کی 2 مرتبہ ہارٹ سرجری بھی ہو چکی تھی اور ایئر کنڈیشن کی سہولت انہیں ڈاکٹرز کی ایڈوائس پر دی گئی۔ دوسری طرف فوج کا چہیتا، سیاسی حرکیات سے بے بہرہ مگر سازش کرنے میں ید طولیٰ رکھنے والا سلیکٹڈ عمران خاں۔ اس نے 1992 ءکے ورلڈ کپ کی جیت کا سارا کریڈٹ اپنی جھولی میں ڈال لیا حالانکہ اس ورلڈ کپ کے 8 میچز میں اس کے حصے میں کل 165 رنز اور 7 وکٹیں آئیں۔ اسی ورلڈ کپ کی جیت کا سہارا لے کر انہوں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال بنایا جس کی کل لاگت 70 کروڑ روپے تھی، ہسپتال کی 185 کنال زمین اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف نے الاٹ کی اور 70 کروڑ میں سے 50 کروڑ میاں محمد شریف مرحوم نے عطا کیے۔ باقی رقم عطیات کی صورت میں اکٹھی کی گئی۔

انتہائی متکبر عمران خاں نے میاں شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہا ”شہباز شریف! تمہیں بڑا پریشر برداشت کرنا پڑے گا۔ میں جو کرنے جا رہا ہوں، اس کے بعد تمہاری نیندیں اڑ جائیں گی“ ۔ رانا ثنااللہ کو کہا ”او ثناءاللہ سن لو! میں تمہیں مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالوں گا۔ دیکھنا تمہارا کیا حشر کرتا ہوں“ ۔ اپنے دورحکومت میں عمران خاں نے یہ سب کہا ہی نہیں، کر کے بھی دکھایا۔ اس کی ہدایت پر جیل میں رانا ثنااللہ کے سیل میں چینی پھینکی جاتی۔ شدید گرمی میں بھی رانا صاحب جرابیں اپنی شلوار کے اندر پھنساتے اور کانوں میں روئی ڈالتے تاکہ چیونٹیوں سے بچا جا سکے۔ کمر درد کے دیرینہ مریض میاں شہباز شریف کو نماز کی ادائیگی کے لیے کرسی تک مہیا کرنے سے انکار کیا گیا۔ ہمارے معاشرے میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا بہت احترام کیا جاتا ہے لیکن نخوت کا اسیر عمران خاں جانتا ہی نہیں تھا کہ احترام کس چڑیا کا نام ہے۔ ملتان کے ایک جلسے میں اس نے محترمہ مریم نواز کے بارے میں جو الفاظ کہے ان سے اس کے غلاظتوں بھرے ذہن کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس نے کہا ”کل مریم نواز تقریر کر رہی تھی۔ جس میں اس نے اتنی دفعہ اس جذبے اور جنون سے میرا نام لیا کہ میں اس کو کہنا چاہتا ہوں، مریم دیکھو! تھوڑا دھیان کرو، جس طرح تم بار بار میرا نام لیتی ہو تمہارا خاوند ہی ناراض نہ ہو جائے“ ۔ یہ جملے کوئی مادر پدر آزاد شخص ہی کہہ سکتا ہے، شرفا کا یہ وتیرہ ہرگز نہیں۔ اسی ذہن کی جھلک عمران خاں کے جلسوں میں بھی نظر آتی رہی جہاں موسیقی کی دھن پر لڑکیاں اور لڑکے والہانہ رقص کرتے رہتے۔ تب بھی ہماری سوچوں کا محور یہی تھا کہ کیا یہ شخص ریاست مدینہ تشکیل دے سکتا ہے؟ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتی مریم نواز تو آج بھی ڈٹ کر کھڑی ہے لیکن اٹک جیل کا قیدی صرف دو دن میں ہی ہمت ہار کر منتوں ترلوں پر اتر آیا ہے۔

عمران خاں کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پنجاب کی وزارت داخلہ کو خط لکھا ہے کہ اٹک جیل میں اس کے خاوند کو وہ سہولیات میسر نہیں جو اس کا حق ہے۔ بشریٰ بی بی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خاں کو گھر کا کھانا دیا جائے، اٹک جیل سے اڈیالہ جیل میں منتقل کیا جائے، جیل میں بی کلاس دی جائے اور سابق وزیراعظم کی سہولیات دی جائیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ جیل میں اس کی جان کو خطرہ ہے کہ کہیں اس کو زہر نہ دے دیا جائے۔ بشریٰ بی بی کے مطالبات جائز ہیں البتہ اڈیالہ جیل میں منتقلی کا فیصلہ وزارت داخلہ نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ بشریٰ بی بی اس وقت کہاں تھی جب مریم نواز کو جیل میں سی کلاس دینے کے لیے راتوں رات ملائکہ بخاری کا ڈرافٹ کردہ آرڈیننس منظور کروایا گیا جس کے مطابق تمام قیدیوں کے لیے بلاتفریق صرف سی کلاس ہی مقرر کی گئی۔ یہی نہیں بلکہ مریم نواز کے سیل اور باتھ روم تک میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے۔ سیل کے باتھ روم کا دروازہ تک نہیں تھا۔ یہ سب کچھ عمران خاں کے حکم پر ہو رہا تھا۔ اس کے انتقام کی انتہا یہ کہ جب جیل میں میاں نواز شریف اور حنیف عباسی کی ملاقات کرائی گئی تو پتہ چلنے پر اس نے جیل کا سارا عملہ معطل کروا دیا جس میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل فرخ رشید بھی شامل تھا۔ آج وہی فرخ رشید اٹک جیل میں سپرنٹنڈنٹ ہے۔ اس نے اپنے شوہر کو اس وقت کیوں نہیں سمجھایا جب فریال تالپور کو ہسپتال کے بستر سے اٹھا کر جیل میں ڈالا گیا۔ اٹک جیل میں عمران خاں کو جیل مینوئل کے مطابق بی کلاس کے قیدیوں کی تمام سہولیات میسر ہیں۔ اسے 2 مشقتی اور خشک راشن مل رہا ہے اور کھانا تیار ہونے پر باقاعدہ چیک کیا جاتا ہے تاکہ زہر کا احتمال نہ رہے۔ یہی مکافات عمل ہے جس کا آج عمران خاں شکار ہے۔ بھلے جمائما گولڈ سمتھ کی ایما پر یہودی اور یورپین لابی عمران خاں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالتی رہیں مگر ان کا متھا جس شخص سے لگا ہے اس نے سوائے رب لم یزل کے کسی کے آگے جھکنا سیکھا ہی نہیں، نام اس کا جنرل عاصم منیر ہے۔

Facebook Comments HS