سانحہ جڑانوالہ: ہم شرمندہ ہیں!


سانحہ جڑانوالہ میں مسیحی بہن بھائیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا اس پر ہم بطور مسلمان اور پاکستانی انتہائی دکھی ہیں اور شرمندہ بھی۔ دکھ اور شرمندگی یقیناً ان مسیحی پاکستانیوں کے دکھ درد کا مداوا نہیں ہے۔ توہین مذہب کے الزام پر جس طرح چند مشتعل افراد نے بے گناہوں کے گھروں اور عبادت گاہوں کو نذر آتش کیا۔ انہیں گھروں سے بھاگنے اور کھیتوں میں رات بسر کرنے پر مجبور کیا۔ یہ سب بہت افسوسناک ہے۔ اس واقعے کے ذمہ داروں کی کڑی گرفت ہونی چاہیے۔ افسوس کہ ہر کچھ عرصہ بعد توہین مذہب کے نام پر اقلیتی شہریوں کو چند شدت پسندوں کے ظلم کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ کچھ دن یہ معاملہ ارباب اختیار کی بھرپور توجہ حاصل کرتا ہے۔ میڈیا میں زیر بحث آتا ہے۔ ہر طرف سے اظہار افسوس کیا جاتا ہے۔ تاہم کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ سانحہ قصہ پارینہ بن جاتا ہے۔ سانحہ جڑانوالہ کے بارے میں خواہ جتنے مرضی دعوے کریں۔ بلند آہنگ اعلانات ہوں۔ کچھ دن گزرنے کے بعد یہ واقعہ مختلف خبروں اور واقعات کے ہجوم میں گم ہو جائے گا۔ وجہ یہ نہیں کہ یہ کسی اقلیتی برادری کے ساتھ ہونے والا واقعہ ہے اس لئے کم اہمیت کا حامل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سانحات سے سبق سیکھنا۔ ان کے تدارک کے لئے ٹھوس اور طویل المدت منصوبہ بندی کرنا، ہمارے قومی مزاج کا حصہ نہیں ہے۔ ہماری قومی تاریخ سانحات سے بھری پڑی ہے۔ بہت کم ایسا ہوا کہ کسی سانحے کی تحقیقات انجام تک پہنچی ہوں۔ تحقیقات ہو بھی گئیں تو مجرم کئی کئی برس تک کیفر کردار کو نہ پہنچ سکے۔ پولیس کے طریقہ تفتیش اور ناقص کا ر گزاری سے ہم سب آگاہ ہیں۔ انصاف کی فراہمی کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں ہماری عدلیہ 130 ویں نمبر پر ہیں۔ اس سے ان کی کارکردگی کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں سانحات میں ملوث مجرم برسوں تک دندناتے پھرتے رہتے ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے مذہب اسلام میں اقلیتوں اور غیر مسلموں کے کیا حقوق ہیں۔ اللہ پاک رب العالمین ہے اور ہمارے پیارے نبی رحمت العالمین ہیں۔ اسلام میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو تباہ کرنے اور گرانے کی ممانعت ہے۔ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے خدا کو برا بھلا کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ بہت سے واقعات اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں جب پیارے نبی نے غیرمسلموں سے بے انتہا نرمی اور حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ بہت سی احادیث مبارکہ موجود ہیں جن میں نبی نے اقلیتوں کے حقوق کا ذکر کیا ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں فرمان نبوی ہے کہ جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔ قرآن پاک کی سورت مائدہ کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ کسی ایک انسان کا خون ناحق تمام انسانوں کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ بالکل اسی طرح کسی ایک جان بچانے کو تمام لوگوں کی جانیں بچانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

ہمارا آئین بھی اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔ ان کی جان و مال اور عبادت گاہوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے جھنڈے پر موجود سفید حصہ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ملک اقلیتوں کا بھی ہے۔ پاکستان کے وجود کی بنیاد ہی یہ ہے کہ مسلمان اقلیت میں تھے اور اکثریت یعنی ہندو انگریز گٹھ جوڑ کے ظلم و ستم کا شکار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک پاکستان کی بنیاد پڑی۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اس ملک میں اقلیتوں کے ساتھ وہی سلوک کرنے کا سوچیں جو ہمارے آبا و اجداد کے ساتھ ہندوستان میں ہوتا رہا۔ قائداعظم نے اقلیتی برادری کے حقوق اور عزت و احترام کا پیغام دینے کی خاطر ایک ہندو جوگندر ناتھ منڈل کو وزیر قانون مقرر کیا تھا۔ ایک مسیحی جج اے آر کارنیلئس پاکستان کے چیف جسٹس تھے۔ بعد میں جسٹس بھگوان داس بھی چیف جسٹس کے عہدے پر متمکن ہوئے۔ پاکستان کی سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں اقلیتوں کے لئے سیٹیں مخصوص ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ پاکستان کے آئین و قانون میں اقلیتوں کے برابر کے حقوق ہیں۔ یہ فقط چند شرپسند اور منفی سوچ کے حامل افراد ہیں جو ایسے گھناونے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ برس سے ہمارے ہاں عدم برداشت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ عدم برداشت بڑھتے بڑھتے انتہا پسندی کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ عدم برداشت صرف مذہبی معاملات کے ضمن میں نہیں ہے۔ سیاسی اور سماجی معاملات میں بھی اس طرح کی عدم برداشت اور انتہاپسندی نظر آتی ہے۔ 9 مئی کو ایک سیاسی جماعت کے حامیوں نے جو کچھ کیا وہ اس عدم برداشت کی ایک مثال ہے۔ مٹھی بھر سیاسی انتہاپسندوں نے کور کمانڈر کا گھر جلا ڈالا۔ سرکاری اور نجی املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ بے حسی کا اندازہ کیجئے کہ گاڑیوں کو آگ لگاتے ہجوم نے ایک ایمبولینس کو روکا۔ مریض کو باہر نکالا اور اس ایمبولینس کو آگ لگا دی۔ یہ واقعہ کسی اقلیتی برادری کے خلاف نہیں تھا۔ آج کل ایک سول جج کی بیوی کا قصہ زیر بحث ہے۔ ایک معصوم بچی پر مہینوں تک ظلم کیا جاتا رہا۔ وہ کونسا کسی اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی تھی۔ ایک پیر صاحب کی خبر بھی آج کل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے جنہوں نے ایک بچی کو ظلم کا نشانہ بنایا۔ اس کے جاں بحق ہونے کے بعد اسے پوسٹ مارٹم کے بغیر دفنا دیا۔ نور مقدم قتل کیس، جو چند دن کے تذکروں کے بعد قصہ ماضی ہو چکا ہے۔ یہ اور اس جیسے واقعات آئے دن رونما ہوتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ کہ عدم برداشت اور انتہا پسندی کا نشانہ کوئی بھی بن سکتا ہے، اس کا کسی مذہب یا برادری سے تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔

توہین مذہب کے نام پر اقلیتی برادری کے ساتھ ساتھ خود مسلمانوں کو بھی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ پشاور کی با چا خان یونیورسٹی میں ایک بے گناہ مشعال خان کو توہین مذہب کے الزام پر سر عام اینٹیں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے گرد کھڑے دیگر طالب علم اس کو مرتے ہوئے دیکھتے رہے۔ اس کی موبائل ویڈیو بناتے رہے۔ اس کی موت کے بعد تفتیش سے ثابت ہوا کہ توہین مذہب کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا تھا اور وہ بے گناہ تھا۔ سانحہ جڑانوالہ جیسے واقعات میں جب مذہب اور اقلیت کا حوالہ آتا ہے، اس طرح سے دنیا بھر میں پاکستان کی بد نامی ہوتی ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ ہمارے ہاں اقلیتی شہری نہایت عمدہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یقیناً اقلیتوں کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ انہیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابسا اوقات انہیں حقیر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یقین جانیے ہم بلوچ بہن بھائیوں کو سنیں تو انہیں بھی یہی محسوس ہوتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں بسنے والے شہریوں کو بھی یہی گلہ رہتا ہے۔ اندرون سندھ میں رہنے والے بھی یہی رونا روتے ہیں۔ دیہات میں بسنے والے غریب ہاری جو طاقتور زمینداروں کے زیر نگیں زندگی بسر کرتے ہیں، انہیں بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کارخانے میں کام کرنے والا مزدور بھی اپنے حقوق کا رونا روتا ہے اور کارخانہ دار کے استحصالی رویے کا نوحہ پڑھتا ہے۔ ملک کے کسی بھی حصے میں بسنے والا عام شہری جو غربت کی چکی میں پس رہا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اسے برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا۔ اسے حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔

اس سارے قصے میں اطمینان کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بیشتر شہری اقلیتوں کے خلاف ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طبقے اور مکتبہ فکر کے حامل افراد نے سانحہ جڑانوالہ کی پر زور مذمت کی ہے۔ نامزد چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے متاثرہ چرچ اور بستی کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس سانحے پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی تمام کابینہ سمیت جڑانوالہ کی چرچ تشریف لے گئے اور وہاں کابینہ کا اجلاس منعقد کیا۔ ہر مسلک اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما بھی اس واقعے کی مذمت کر رہے ہیں۔ اللہ کرے کہ معاملہ مذمت اور اظہار یکجہتی سے آگے بڑھے۔ اس جرم میں ملوث افراد کی نشاندہی ہو اور وہ اپنے انجام کو پہنچیں۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Facebook Comments HS