انوکھی کاوش


یوں تو کئی مرتبہ ایسا ہوا کی یوم آزادی پر کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور ہوئی کہ جو وقتی طور پر دل کو گرما گئی لیکن اس یوم آزادی پر یوں تو دل خاصا اداس رہا ملکی حالات، عوامی بے چینی، معاشرتی انتشار اور پھر ہوشربا بڑھتی ہوئی مہنگائی نے تو جیسے عوام الناس سے تمام تر خوشیاں ہی چھین لی ہوں ایسی میں معاشرتی اصلاح کی ایک این جی اوو ”میک ون ٹو فائیو میک ہیپی“ نامی سماجی تنظیم کی جانب سے ایک کاوش کی گئی سے دیکھ کر خیال آیا کہ اسے عوام الناس تک ضرور پہنچنا چاہیے کیونکہ یہ ایک منفرد کاش نظر آئی۔

اس پر کچھ لکھنے کا خیال آتے ہی ایک نہایت خوبصورت حدیث مبارکہ بے ساختہ یاد آ گئی جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ ارشاد فر مایا گیا کہ ”کسی کی جانب مسکرا کہ دیکھنا بھی صدقہ ہے“ پھر وہ لوگ جو کسی کی مسکراہٹ کا باعث بنتے ہیں بہت ہی عظیم ہیں ور آج جتنی ضرورت اس پر توجہ دینے کی شاید پہلے کبھی نہ تھی آج کا معاشرہ چاہے وہ معاشی لحاظ سے ہو یا، معاشرتی لحاظ سے، سماجی لحاظ سے اور چا ہے اس کا تعلق کسی بھی خطہ زمین سے کیوں نہ ہو ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکا ر ہے اور معاشرتی اقدار تباہ برباد ہو رہی ہیں کئی نوجوان کسی نہ کسی معاشرتی دبا یا تناؤ کا شکار ہو کر خوشیوں کی تلاش میں مختلف قسم کی نشہ آور ادویات کا استعمال کر کہ وقتی سکون اور حاصل کر کہ خود کو مستقل بنیادوں پر ذہنی پسماندگی میں دھکیل رہے ہیں ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ ایک سما جی تنظیم کی جانب سے کی گئی کاوش کی کہ جس میں ایک مختلف انداز سے یوم آزادی کی خوشیوں کو دوبالا کیا گیا یوں تو ہر سال ہر میڈیا گروپ کی جانب سے کچھ نیا کر دکھانے کی کوششیں کی جاتی ہیں اور کیا بھی جاتا ہے چاہے وہ سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا ہو یا پھر ہما رے معروف چینلز ہوں ان سب کی کاوش معروف چہروں جن کا تعلق یا پھر فلم، ماڈلنگ، کھیلوں اور کھیل بھی صرف ایک ہی سے ہی لیا جائے اور ان ہی ہی کے ذریعے ہوم آزادی کا پیغام پہنچایا جائے لیکن ہمارے دوست معرف اداکار اور سماجی این جی اوو ”میک ون ٹو فائیو پیپل میک ہیپی کے روح رواں شجاٰع سمیع نے دیا ر غیر میں رہنے والے ان پاکستانیوں کے ذریعے یوم آزادی پر قومی ترانہ کے ذریعے پیغام پہنچایا جو کہ ایک انوکھی اور خوشگوار کاوش محسوس ہوئی یہ چہرے شاید عوام کے لئے شناسا نہیں تھے لیکن یہ سب اپنے اپنے محاذ پر دیار غیر میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے ذریعے اپنے ملک کے لئے گراں قدر خدمات سر انجام سے رہے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے جو کہ ہمارے باعث فخر اور صد افتخار ہیں ان میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے افراد شامل ہیں جیسے کہ ڈاکٹر، ٹیچر، مصنف، سوشل ایکٹوسٹ، سیاست دان، بینکر، صحافی، شعبہ ابلاغ، معاشیات، شاعر اور لکھاری وغیرہ ان افراد کا اپنے اپنے ممالک میں ایک خاص حلقہ اثر ہے اور یہ تمام افراد اپنے ملک کے لئے انتہائی اہم اور معتبر ہیں اور رہیں گے ان سب افراد کا ترانہ پڑھنے کا انداز انتہائی سادہ مگر پر اثر تھا جو کہ لائق تحسین ہے ان کی خدامت ہی کی بدولت بیرون دنیا میں ہمیں باصلاحیت اور قابل قدر سمجھا جاتا ہے اس مختصر سی وڈیو جہاں ہم پاکستانیوں کے دل موہ لیے وہیں دنیا بھر سے پاکستانیوں کو یکجا کرنے متحد کرنے کا کام بھی کیا وہیں اس دنیا بھی کو یہ بھی باور کرایا کہ ہم پاکستانی دینا کے کے کسی بھی خطہ زمین پر رہ رہے ہوں اور کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ہوں ہم ایک تھے، ایک ہیں اور ایک ہی رہیں گے انشاءاللہ یہ ایک انتہائی مثبت کاوش تھی اسے عام کیا جانا اور سراہنا بھی ضروری ہے اور یہی اس جشن آزادی کا پیغام بھی تھا۔

اب بات ہو جائے کچھ سماجی تنظیم یا این جی اوو میک ون ٹو فائیو پیپل ہیپی کی جائے جسے ایک منفرد انداز سے شجاع سمیع اور ان کی ٹیم آگے بڑھا رہی ہے اس این جی اوو کا بنیا دی مقصد اس گھٹن زدہ ماحول میں تا زہ ہوا کے ایک جھو نکے کا کردار ادا کرنا ہے اسی مقصد کے حصول کے لئے اس تنظیم نے 14 اگست 2022 میں مختصر دورانئے کی ایک فلم یا وڈیو خوشیاں کے عنوان سے بنائی پھر اکتوبر 2022 میں سوچ بھی بہترین انداز ایک مخصوص پیغام لیے ہوئے نظر آئی اس سال یعنی 2023 میں عالمی یوم والد کے خصوصی موقع پر ایک اور کاوش ابا حضور کے عنوان سے منظر عام پر آئی تمام تر ہی کاوشیں منفرد اور معاشرتی اصلاح لیے ہوئے تھیں اور معاشرے میں خوشیاں بانٹنے میں تناؤ کم کرنے میں اپنا کردار کرتی رہیں اور کر رہیں ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ شجاع سمیع اور ان کی ٹیم کی کا وشوں کو عام کیا، ان کا اس مقصد میں ساتھ دیا جائے اور ان کو سراہا جائے کہ نہ بے جا تنقید برائے تنقید کا نشانہ بنایا جائے ہم تو اس مذہب کے پیروکار ہیں کہ جہاں صرف مسکرانا بھی صدقہ قرار دیا گیا تو پھر معاشرتی اصلاح کی اس طرح کی کاوشوں کا درجہ حد درجہ یقیناً بلند ہو گا تو پھر کیوں نہ ہم بھی اس میں ان کا ساتھ دے کر حصہ دار بن جائیں۔

Facebook Comments HS