”پڑھیں“ یا ”دیکھیں“ ؟


میں نے حال ہی میں اگاتھا کرسٹی کا مشہور ناول
”And Then There Were None“

شروع کیا، پہلے دو چیپٹرز پڑھے تو محسوس ہوا کہ وقت کچھ زیادہ لگ رہا ہے۔ چونکہ انگلش میری ثانوی زبان ہے تو دو چیپٹرز اچھی طرح سمجھ کر پڑھنے اور ہلکے پھلکے نوٹس بنانے میں مجھے تقریباً گھنٹے سے زیادہ وقت لگ گیا۔

جبکہ اس ناول پر مبنی ٹی وی سیریز دیکھنا شروع کی تو پہلے دو چیپٹرز کے اختتام تک کا سین صرف 7 منٹ پر مشتمل تھا۔ یہاں پر مجھے احساس ہوا کہ مطالعہ کرنے اور دیکھنے میں کس قدر فرق ہے۔ ظاہری بات ہے وقت کا فرق تو بالکل واضح تھا، کہاں ایک گھنٹہ کہاں سات منٹ۔ اس کے علاوہ کئی ایک فرق ہیں جو مطالعہ کرنے اور دیکھنے کو ایک دوسرے سے مختلف کرتے ہیں۔ اس معاملے پر غور کیا تو چند ایک نکات سامنے آئے۔

مطالعہ کی رفتار ہمیشہ سست ہوتی ہے، اس لیے نہیں کہ انگریزی ہماری دوسری زبان ہے اور ہر صفحے پر ایک دو بار ڈکشنری دیکھنا پڑتی ہے، بلکہ اس لیے جب ہم کوئی چیز پڑھتے ہیں خصوصاً ناول یا کوئی بھی ادبی فن پارہ تو ہمارا تخیل ہر لفظ کو پراسیس کرتا ہے اور اس کے مطابق ایک تصویر بناتا ہے، ہمارا ذہن ان تصاویر کو ہی لے کر آگے چلتا ہے۔

یعنی ایک لکھاری اگر کسی منظر کی تمام تر باریکیوں کا خیال کرتے ہوئے اسے دو پیراگرافس میں بیان کرتا ہے تو وہی منظر ایک قاری سمجھ کر دماغ میں اس کی منظر کشی کرتے ہوئے پڑھنے میں پانچ سے سات منٹ لگائے گا، (یہاں قاری سے مراد ہم لوگ ہیں جو سیکنڈ لینگویج والے ہیں یا اردو ادب پڑھتے وقت فرسٹ لینگویج والے ) جبکہ وہی منظر ایک فلم پروڈیوسر ہمیں پانچ سے سات سیکنڈز میں دکھا دیتا ہے۔ یعنی جو چیز ہم نے سات منٹ میں پڑھی اور اس کا ایک نقشہ تخیل پر ثبت کیا وہی چیز ہم فلم کی صورت میں چند سیکنڈز میں دیکھ لیتے ہیں۔ یہ مشاہدہ پڑھنے کے مقابلے میں صرف فلم ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ ہمارے روز مرہ کی دیکھنے کی چیزوں سے متعلق بھی ہے۔

اس اعتبار سے فلم یا نظر آنے والا کوئی بھی منظر ہم بہت جلدی سمجھ لیتے ہیں بنسبت اس کے جسے ہم پڑھ کر دماغ میں تخلیق کرتے ہیں۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ سامنے نظر آنے والا منظر جسے ہم لوگ دیکھتے ہیں سب کے لیے ایک سا ہوتا ہے یعنی معروضی حیثیت (objectiviy) کا حامل ہوتا ہے جبکہ جو منظر ہم کتاب سے پڑھ کر اپنے ذہن میں تخلیق کرتے ہیں وہ انشائی حیثیت (subjectivity) کا حامل ہوتا ہے۔ ہر شخص ایک ہی پیراگراف کو پڑھ کر ایک جیسا منظر نہیں بناتا بلکہ پیراگراف پڑھنے کے بعد اسی جگہ کا منظر ہر شخص کے ذہن میں بالکل مختلف ہوتا ہے، اور یہ عمل اس وقت زیادہ متنوع ہو جاتا ہے جب کتاب میں مذکورہ جگہ۔

جس کی تفصیل لکھاری دو پیراگرافس کی صورت میں بیان کرتا ہے۔ بالکل فکشنل ہو۔ اگر مذکورہ جگہ حقیقی ہے جو انٹرنیٹ پر بھی دیکھی جا سکتی ہے تو ہر لکھاری کے ذہن میں تخلیق کردہ منظر کے زیادہ تر پہلو ایک سے ہوں گے جبکہ وہ منظر جو حقیقت میں کہیں موجود نہیں تو ہر قاری اس کا تصور دوسرے پڑھنے والے سے مختلف تخلیق کرے گا۔ کوئی بھی ادبی فن پارہ پڑھتے وقت جب ہم اس کا منظر اپنے ذہن میں تخلیق کرتے ہیں تو اس وقت ہمارے ماضی کے تجربات، مشاہدات، اور حادثات مل کر اسے ذہن میں تخلیق کرتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ناول بہاؤ سے لیا گیا یہ اقتباس پڑھیں۔

” کھیتوں سے پرے اینٹوں کے کئی بھٹے تھے جن میں سے دھواں نکلتا تھا اور نیم آسمان میں کالے رکھوں میں جاتے ہوئے کسی گھوڑے کی طرح گم ہو جاتا تھا۔ یہاں سندھوں کے ساتھ کے رکھ بھٹوں کے کام آ رہے تھے اور کم ہو رہے تھے۔ ادھر بڑے بڑے کنک گھر تھے جو ابھی خالی پڑے تھے“

یہ اقتباس پڑھتے ہوئے ہر قاری کے ذہن میں وہی منظر تخلیق ہوا ہو گا جو ان چیزوں سے متعلق اس نے پہلے کہیں دیکھ رکھا ہو گا، یعنی ”کھیتوں، بھٹوں، رکھوں، اور کنک کے گوداموں کی جو تصاویر اس نے پہلے دیکھ رکھی ہوں گیں ان سے ملتی جلتیں یا تقریباً وہی تصاویر بنی ہوں گی۔

پڑھنا ایک اعتبار سے دیکھنے کی نسبت زیادہ تخلیقی عمل ہے۔ اور جس طرح لکھاری کسی منظر کی باریکیوں کا ذکر مختلف استعارے، علامتیں، تشبیہات اور حروف صفت استعمال کر کے کرتا ہے اس سے قاری کے ذہن میں اس منظر کے وہ پہلو بھی نمایاں ہو جاتے ہیں جو دیکھنے میں شاید اس کے مشاہدے کا حصہ نہ بنیں۔

عین ممکن ہے کہ آپ میں سے کسی کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ ایک طرح سے قاری خود لکھاری کے دیکھے ہوئے منظر کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور اس کی نظر سے ہر چیز کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قاری کے ذہن کا تخلیق کردہ منظر ہر گز لکھاری کے منظر ایسا نہ ہو گا چاہے وہ کسی حقیقی منظر کو بیان کرے یا فکشنل منظر کو۔ جب ایک ہی منظر کو پڑھنے والے دو قارئین کے ذہن میں ایک سا منظر نہیں بن سکتا تو قاری کس طرح لکھاری کا منظر نقل کر سکتا ہے۔

ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ دیکھنا ایک تیز رفتار عمل ہے جبکہ پڑھنا ایک سست عمل ہے، دیکھنے میں تخلیقی کارروائی کم ہے جبکہ پڑھنے کا سارا تعلق تخلیق سے ہے، اور دیکھنے میں ہم باریکیوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے جبکہ پڑھتے وقت جو جو باریکی لکھاری بیان کرتا ہے ہم اسے اپنے تخیل میں تخلیق کردہ منظر کا حصہ بناتے جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS