صدر کا ٹویٹ: کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ایک ٹویٹ نے قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور شدہ انتہائی اہم بلوں کے حوالے سے جو گزٹ نوٹی فکیشن کے بعد باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرچکے اور ان پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ جو نیا پنڈورا بکس کھولا ہے اس سے نئی آئینی بحث شروع ہو گئی ہے جس سے اندرون اور بیرون ملک پاکستان کی ساکھ مجروح ہو رہی ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے صدر کے ٹویٹ کے خاص نکات پر نظر ڈال لیں 1۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور پاکستان آرمی ایکٹ کے ترمیمی بلوں سے متفق نہ ہونے کی باعث دستخط نہیں کیے۔
2۔ دستخطوں کے بغیر بلوں کو واپس بھیجنے کا کہا تا کہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔ 3۔ عملے سے پوچھنے پر عملے نے ان سے جھوٹ بولا کہ بل واپس بھجوا دیے گئے۔ 4۔ اللہ سب جانتا ہے وہ معاف کر دے گا تاہم وہ ان لوگوں سے معافی مانگتے ہیں جو اس سے متاثر ہوں گے۔ آئین کے آرٹیکل 75 ون ( بی) کے تحت صدر مملکت کا کسی بل کی واپسی ان شرائط پرہی کر سکتا ہے۔
1۔ صدر بل کو واپس بھیجے تو اسے جن شقوں پر اعتراض ہے ان کی وضاحت کرے۔ اگر چاہے تو پارلیمان کو بل میں ترامیم بھی تجویز کرے۔ زبانی حکم پر خود صدر نہ اس کا سٹاف بل واپس کر سکتا ہے۔ بادی النظر میں صدر نے بل واپس بھجواتے ہوئے آئینی شرائط پوری نہیں کیں؟ بل واپس بھجوانے کی زبانی بات غیر آئینی کام کا ارتکاب ہے۔
2۔ متعلقہ شقوں کی نشاندہی کی ہوتی تو اس کا ذکر ٹویٹ میں بھی ہوتا۔
3۔ حکم عدولی پر تو صدر کو سوشل میڈیا کا سہارا لیتے کے بجائے متعلقہ حکام کے خلاف بروقت کارروائی کرنی چاہیے تھی 4۔ معافی مانگنے اور اللہ پر چھوڑنے کی بجائے انہوں نے اپنا فرض ادا کرنا چاہیے تھا۔ بظاہر اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ اپنے طرز عمل کے باعث جانتے ہیں کہ آئینی شق کو پس پشت ڈالنے سے یہ بل قانون بن چکے ہیں اسی لیے وہ معافی مانگ رہے ہیں۔
5۔ صدر کو جن شقوں پر اعتراض تھا تو اب تک وہ سامنے کیوں نہیں لائے؟ ایسا لگتا ہے کہ صدر نے اپنا دامن بچا نے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی جو کوشش کی ہے۔ ایک ٹویٹ سے مسئلہ حل ہو جائے گا
آرمی ایکٹ انگریزوں نے بنایا پاکستان میں اغلب خیال یہ ہے کہ 1952 میں نافذ ہوا۔ 2015 ء کی 21 ویں ترمیم کے تحت سول و عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں مقرر کی گئی۔ اب 2023 ء میں آرمی ایکٹ میں جو ترامیم تجویز کی گئیں ان کے مطابق کوئی بھی فوجی اہلکار ریٹائرمنٹ ’استعفے یا برطرفی کے دو سال، جبکہ حساس ڈیوٹی پر تعینات فوجی اہلکار یا افسر ملازمت ختم ہونے کے بعد پانچ سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا۔ خلاف ورزی کرنے والے کو دو سال تک قید بامشقت کی سزا ہو گی، آفیشل سیکرٹ ایکٹ برطانوی دور میں 1923ء میں بنایا گیا تھا جو قومی رازوں، خفیہ مقامات اور دستاویزات کی حفاظت سے متعلق ہے۔
نئے بل کا خلاصہ یہ ہے۔ جان بوجھ کر امن و عامہ کا مسئلہ پیدا کرنے، ریاست مخالف، ممنوعہ جگہ پر حملہ کرنے یا اسے نقصان، براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانے والا، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا، بغیر پائلٹ وہیکل یا آلے کی ممنوعہ جگہ تک رسائی، قریب جانے یا آس پاس ہونے کا ارتکاب کرنے والا، ہتھیار، آلات ضائع کرنے، ملکی مفاد کے خلاف معلومات، دستاویزات کا انکشاف کرنے والا اور دشمن یا غیرملکی ایجنٹ کے ساتھ رابطے میں رہنے یا ملنے والا شخص مجرم متصور ہو گا۔
پاکستان کے اندر یا باہر ریاست کے تحفظ یا مفادات کے خلاف کام کرنے، جان بوجھ کر امن، مفادات یا پاکستان کے لئے نقصان دہ کام پر 3 سال قید، 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی، جرم پر اکسانے، سازش کرنے یا اس کے ارتکاب کی کوشش کرنے والا سزا کا مستحق ہو گا۔ تفتیشی افسر ایف آئی اے کا افسر ہو گا، مذکورہ افسر کی تقرری ڈی جی ایف آئی اے کرے گا، ضرورت پڑنے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی جا سکے گی۔ ان جرائم کے مقدمات خصوصی عدالت کو بھیجے جائیں گے، جو 30 دن کے اندر سماعت مکمل کر کے فیصلہ کرے گی۔ بل میں ترمیم کے تحت ایجنسیز سے بغیر وارنٹ گرفتاری یا چھاپوں کا اختیار واپس لے لیا گیا۔
نگران وزیر قانون احمد عرفان اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 27 جولائی 2023 ء کو سینیٹ سے پاس ہوا۔ دو اگست کو ایوان صدر پہنچا آفیشل سیکرٹ ایکٹ یکم اگست کو قومی اسمبلی نے منظور کر کے سینیٹ کو بھجوایا سینیٹ نے اس بل پر کچھ آبزرویشنز لگا کر قومی اسمبلی کو واپس بھیجا۔ قومی اسمبلی نے اس بل کو سات اگست کو منظور کیا اور بل اگلے روز ایوان صدر کو موصول ہو گیا۔ پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل دو اگست اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل ایوان صدر کو آٹھ اگست کو موصول ہوا۔
جب کوئی بل صدر کو بھیجا جاتا ہے تو صدر کے پاس دو اختیارات ہوتے ہیں۔ 1۔ صدر اس بل کی منظوری دے دیں۔ 2۔ صدر کی بل کے حوالے سے جو آبزرویشنز ہیں تو تحریرات بھجوائیں۔ یہ دونوں اختیارات استعمال کرنے کے لیے 10 دن کا وقت آئین میں متعین ہے۔ یوں صدر مملکت کے پاس 10 دن کا وقت تھا اور دس دن کا وقت گزرنے کے بعد اب مذکورہ بل ایکٹ بن چکے ہیں۔
ترمیمی بلوں کے نوٹی فکیشن کے اجراء کے دو روز بعد صدر نے ٹویٹ کی کہ انہوں نے بلوں کی منظوری نہیں دی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان بلوں کے قانونی شکل اختیار کرنے کے بعد ان کے تحت مقدمات کی سماعت کے لئے خصوصی عدالت بھی قائم ہو چکی ہے اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں اس عدالت کے سامنے پیش بھی کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے معاملہ سپریم کورٹ میں لے جانے کا اعلان کیا ہے جبکہ نگران حکومت کے وزراء اور سابق حکومت کے راہنماؤں کے موقف کی قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں ترمیمی بل پارلیمانی قواعد و ضوابط کے تحت قانون بن چکے ہیں۔
صدر نے مقررہ دس دن میں اپنے مشاہدات کے ساتھ ماضی کی طرح بل پارلیمنٹ کو واپس نہ بھیج کر لگتا ایسے ہے کہ صدر نے اپنی سیاسی پارٹی سے وفاداری کے لیے آئین کو بالائے طاق رکھا اس کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔ تاکہ حقیقت کھلے۔ اپنی نوعیت کا یہ انوکھا واقعہ ملک میں ایک نئے آئینی تنازعے کا سبب بن گیا ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں۔ صدر مملکت اپنے تئیں جو بل اسمبلی کو واپس بھجوا چکے ہیں ’وہ نئی اسمبلی ہی آ کر دیکھے گی۔ نئی اسمبلی آنے میں کم از کم چھ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے، تب تک یہ بل منظوری کے منتظر رہیں گے۔ ہماری دانست میں صدر مملکت نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے ’ایسا ہرگز نہیں ہے۔ وہ بخوبی آگاہ تھے کہ بلوں کو واپس کر کے کس قسم کی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ شاید اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے نگران وزیر قانون نے کہا ہے کہ صدر مملکت نے ماضی قریب اور ماضی بعید میں بہت سے قوانین میں اختیارات کو استعمال کیا، وہ اس سلسلے میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کر سکتے تھے۔ یہ تشویشناک امر ہے کہ صدر مملکت نے اپنے ہی عملے کو مورد الزام ٹھہرانے کا انتخاب کیا۔ صدر مملکت کو اپنے عمل کی ذمہ داری خود لینی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ نو مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترامیم کی ضرورت محسوس کی گئی۔ ان ترامیم پر ایک فریق تحریک انصاف کو تحفظات ہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل کے ذریعے اس کے گرد گھیرا تنگ ہوگا، اس لیے وہ مذکورہ بلوں کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس پس منظر کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جیسے فریقین پیش کر رہے ہیں۔ ابہام کے خاتمہ کے لئے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا اور وہاں جو بھی فیصلہ ہو گا، اس کے قانونی سے زیادہ سیاسی اثرات ہوں گے۔ اسلام آباد میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سپیشل عدالت کا قیام عمل میں آ نا واضح کر رہا ہے کہ ریاستی ادارے کسی تردد میں پڑے بغیر اپنا کام جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

