کوئلے کی کان، گدھا اور مزدور
اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتے ہیں پہاڑ زمین کی میخیں ہیں، اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کر لیں۔ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخیں۔ آج سائنس جو بھی تحقیق کر رہی ہیں وہ سب چودہ سو سال قبل اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں پہلے بتایا دیا ہے۔ ان پہاڑوں میں سونا، چاندی، تانبا، نیلم، زمرد، سنگ مرمر، جپسم اور کوئلے جیسی قیمتیں دھاتیں موجود ہیں۔
چکوال میں کلر کہار کے قریب چواں سیدن شاہ کا علاقے میں گزشتہ روز میرا جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ پورا علاقہ کوئلے کی پہاڑوں سے بھرا ہوا ہے۔ ان پہاڑوں میں کانیں کھود کر آج بھی پرانے اور روایتی طریقے سے کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ مزدور پہلے خود کان کھودتے ہیں کوئلہ کاٹتے ہیں پھر گدھوں کی مدد سے اس کو کانوں سے باہر نکالنے ہیں۔ یہ کانیں عموماً پندرہ سے دو ہزار فٹ تک گہری ہوتی ہیں۔ یہ پورا عمل کسی جدید مشینری سے نہیں بلکہ انسانی محنت اور گدھوں کی بدولت مکمل کیا جاتا ہے۔
میں ایک کوئلے کی کان کے اندر سو فٹ تک گیا تو حبس اور آکسیجن کی کمی کے باعث میرا سانس گھٹنے لگا تو میں تھوڑی دیر بعد ہی کان سے باہر نکل آیا۔ یہ تقریباً صبح ساڑھے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ کچھ ہی دیر میں ایک مزدور کان کے اندر سے باہر نکلا۔ اس کا نام عبداللہ تھا۔ اس نے بتایا وہ صبح پانچ بجے کا اس کان کے اندر کوئلہ کاٹ رہا تھا ان کو کول کٹر کہتے ہیں۔ عبداللہ نے بتایا وہ خیبر پختونخوا کے علاوہ دیر کے رہائشی ہیں۔
عبداللہ کے ساتھ ان کے فیملی کے پانچ دیگر مرد بھی یہاں ہی کام کرتے ہیں۔ کول کٹر ایک دن میں کان کے اندر کم از کم ایک ٹن زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ ٹن تک کوئلہ کاٹتا ہے۔ ایک ٹن کی اجرت ایک ہزار روپے ملتی ہے۔ یہ سارا کام ٹھیکیداری سسٹم کے تحت ہوتا ہے۔ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی کوئی انشورنس نہیں نہ ہی کوئی میڈیکل کی سہولت میسر ہے بس جتنا وہ کام کریں گے اتنا ہی ان کو اجرت ملے گی۔
آپ نے اکثر ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوتے دیکھے ہوں گے کہ کوئلے کی کان بیٹھ گئی۔ چار مزدور اور چھ گدھے کوئلے کی کان میں دب گئے۔ جبکہ ان کانوں میں کام کرنے والے گدھوں سے مزدوروں سے زیادہ مشقت لی جاتی ہیں۔ جن کو کوئی دیہاڑی بھی نہیں ملتی۔ چواں سیدن شاہ میں اس وقت 85 سو کے قریب گدھے کام کر رہے ہیں۔ ان کانوں میں کام کرنے والوں گدھوں کی عمر تین سال سے پانچ سال تک ہوتی ہیں ان سے پانچ سال کام لیا جاتا ہے پھر ان کو کوڑیوں کے بھاؤ مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا ہے کیونکہ اتنے عرصے میں ان گدھوں کی ہڈیوں کے جوڑ کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں۔
ایک گدھا روزانہ پندرہ سے دو ہزار فٹ گہری کان کے اندر دس سے بارہ چکر لگاتا ہے جس کے اوپر کوئلے کے دو بورے لاد کر باہر لائے جاتے ہیں۔ کوئلے کی کانیں پہاڑ میں سیدھی سڑک کی طرح نہیں ہوتی بلکہ سلائیڈ کی طرح نیچے کی طرف جاتی ہیں۔ ایک لمحے کے لیے سوچیں گدھے نے دو من وزن اٹھا کر کان کے اندر سے ایسے ہی باہر نکلنا ہے جیسے کوئی پہاڑ چڑھ رہا ہے۔ ان گدھوں کو خوراک کے نام پر صرف پھک ڈالی جاتی ہے۔ چاولوں کے اوپر جو چھلکا ہوتا ہے صفائی کے دوران جو نکلتا اسے پھک کہتے ہیں۔
بس اسی پر یہ معصوم اور بے زبان گدھے جفا کش بنے اپنی یہی ڈیوٹی اگلے چار سے پانچ سال تک سرانجام دیتے ہیں پھر جب ان کے مالک کو لگتا ہے اب یہ گدھا کسی کام نہیں رہا تو اس کو کسی بے رحم جلاد نما مالک کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ چکوال میں ان گدھوں کے تحفظ کے لئے Brooke نامی ایک تنظیم 1993 سے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے مقامی انچارج ڈاکٹر رب نواز خان بھی ہیں وہ بھی یہاں 1995 سے کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر رب نواز خان ان گدھوں کا ہر ہفتے میڈیکل چیک اپ کرتے ہیں۔ ہر قسم کی ادویات مفت فراہم کرتے ہیں۔ پہلے یہ گدھوں کے لئے چارہ بھی فراہم کرتے تھے لیکن جب گدھوں کے مالکان کی جانب سے اس کو معیوب چیز سمجھا گیا تو ڈاکٹر رب نواز نے تھوڑا سا طریقہ تبدیل کر لیا اب ان گدھوں کے کوئلہ لانے والے بورے، ان کو ڈالنے والا پٹہ اور ان کی کھوریاں مفت فراہم کرتے ہیں۔ یہ تنظیم یوکے کی ہے۔ جو وہاں جانوروں سے پیار کرنے والوں یوکے کے شہریوں سے چندہ جمع کرتی ہے اور دنیا کے گیارہ ممالک میں یہ چندہ بھیجتی ہے۔
یہ تنظیم بھارت اور افغانستان میں بھی کام کر رہی ہے لیکن پاکستان میں سب سے پرانی ہے اور پاکستان میں ہی ان کا نیٹ ورک سب سے بڑا ہے۔ اس تنظیم کا بنیادی ایجنڈا صرف جانوں کا تحفظ ہے۔ اس تنظیم سے منسلک احمد عمر نے بتایا کہ پاکستان میں آج بھی جانوں کے تحفظ کا کوئی قانون نہیں ہے۔ انگریز دور میں 1890 میں ایک قانون بنایا گیا تھا 76 سال بعد بھی اس قانون کے تحت کام ہو رہا ہے۔ ہم نے متعدد بار نئے قانون کا ڈرافٹ محکمہ قانون کو دیا وہ آج بھی ان کے آفس میں پڑا ہے۔
اصولی طور پر ان کول مائنز میں کام کرنے والے مزدوروں کی انشورنس اور گدھوں کے تحفظ کی ذمہ داری محکمہ مائنز اور منرل کی ہے لیکن ان کا کام صرف پہاڑیوں کی بولی کروانے اور سالانہ رقم لینے تک ہی محدود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو تیل، گیس، کوئلے، گلیشئر، دریا، سمندر، زرخیز زمین، سونے، چاندی، تانبے، چار موسم، وافر پانی، اچھے موسم سمیت درجوں قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے جو کھربوں ڈالر مالیت کی ہیں لیکن پاکستان آج بھی اپنے قیام کے 76 سال بعد قرضوں پر چل رہا ہے۔ اگر پاکستان حقیقت میں ترقی کرنا چاہتا ہے تو قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھائے اور ایک ایک ارب ڈالر کی بھیک مانگنے سے جان چھڑائے۔
بلاگر ایک صحافی اور کالم نگار ہیں جو گزشتہ 14 سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ سیاسی، سماجی اور دیگر موضوعات پر لکھتے ہیں۔


