ایک لٹے پٹے ہندو خاندان کی نقل مکانی کی داستان


1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے

جب ہماری گاڑی سورت سے روانہ ہوئی اس وقت رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ گاڑی میں موجود خدمت پر مامور صاحب نے کچھ دیر پہلے ہی ہم سے ہمارے کھانے سے متعلق پوچھ لیا تھا۔ سب نے اپنی پسند بتائی۔

کھانا کھاتے کھاتے تقریباً رات کے نو بج گئے تھے۔ ساتھ بیٹھے باقی لوگوں سے بھی ہماری گپ شپ شروع ہو گئی تھی۔ یہ بات بھی آپ کے لیے حیران کن ہوگی کہ ان میں سے اکثر پہلی مرتبہ کسی پاکستانی کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک صاحب کا چہرہ مجھے اب تک اچھی طرح یاد ہے، ان کی عمر پینتیس سال کے قریب ہوگی اور وہ شکل و صورت اور وضع قطع سے ایک خوشحال آدمی لگ رہے تھے۔ ان کا نام سنیل تھا۔ مجھے ان کے لہجے سے لگا کہ یہ خالصتاً مقامی لہجہ نہیں ہے۔ ان کے لہجے سے مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کبھی کبھی ہندکو کا کوئی لفظ بول رہے ہیں۔

کچھ دیر میں ان کی باتیں سنتا رہا، وہ ایک بہت بڑی کاروباری برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ کچھ تعارف ہو جانے کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے آبا و اجداد کا موجودہ پاکستان کے کس علاقے سے تعلق تھا کیونکہ آپ کا لہجہ یہ بتا رہا ہے کہ آپ ہندکو یا سرائیکی بولتے ہیں۔ جب میں نے یہ بات کہی تو وہ کچھ دیر میری طرف دیکھتے رہے اور پھر انھوں نے کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میں نے ان کے کسی بہت ہی حساس معاملے پر بات کی ہے۔ میں خاموش رہا وہ بالکل میرے ساتھ بیٹھے تھے اس لیے باقی لوگوں کو معلوم نہ ہو سکا کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد سنیل صاحب نے بتایا کہ میرے والد بنوں سے بھارت آئے تھے۔ اس سے میرے اس اندازے کی تصدیق ہو گئی جس کی بنیاد پر میں نے یہ سوچا تھا کہ ان کے آبا و اجداد کا تعلق ہندکو یا سرائیکی لوگوں سے لگتا ہے۔

سنیل نے جب یہ بتایا کہ اس کے آبا و اجداد کا تعلق بنوں سے تھا تو مجھے لگا کہ میں ان سے بہت کچھ جان سکوں گا۔ میں نے ان سے گزارش کی اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اپنے آبا و اجداد اور ان کی نقل مکانی کے بارے میں بتائیں۔ میری بات کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ کوئی بہت خوشگوار بات نہیں ہے اور میں اسے دہرانا بھی نہیں چاہتا۔ میں نے کہا جیسا آپ مناسب سمجھیں۔ میں بھی ایک ایسے والد کی اولاد ہوں جس کا تعلق موجودہ بھارتی پنجاب سے تھا اور وہ بھی لٹ لٹا کر پاکستان گیا تھا۔ اس لیے اس طرح کے موضوع پر بات کرتے ہوئے میں بھی کبھی خوشی محسوس نہیں کرتا لیکن اسے بیان ضرور کرتا ہوں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے اور آنے والی نسلوں کو بھی خبر ہو کہ وہ سب کیا تھا، کس نے کیا، دکھ کیا ہوتا ہے اور اس کا فائدہ کسے پہنچا؟

جب سنیل صاحب کو یہ پتہ لگا کہ میں بھی ایک مہاجر کی اولاد ہوں تو انھوں نے کہا پھر آپ کو تو اس بات کا اندازہ ہو گا کہ جن لوگوں نے یہاں سے وہاں یا وہاں سے یہاں نقل مکانی کی ان کے ساتھ کیا بیتی؟ میں نے جواب میں کہا میں اسے اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ اس طرح کے چند جملوں کے تبادلے کے بعد انھوں نے مجھے جو کچھ بتایا وہ میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اس سے قبل کہ میں آپ کو سنیل کے خاندان کی نقل مکانی کی تفصیل بتاؤں میں چاہوں گا کہ تقسیم ہند سے قبل بنوں میں رہنے والے ہندوؤں سے متعلق کچھ معلومات آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں۔ ایسا کرنے سے میں سنیل صاحب کی باتوں کو زیادہ اچھے طریقے سے بیان کر سکوں گا۔

بیسویں صدی کے آغاز میں بنوں اور وزیرستان کے مختلف علاقوں میں تیس ہزار کے قریب ہندو اور سکھ رہتے تھے۔ جن کی اکثریت براہمن، کھتری اور کراڑ تھی۔ تقسیم ہند کے وقت یہ تعداد 60 ہزار کے قریب تھی۔ ان میں سے قریباً پچاس ہزار لوگوں نے ہندوستان نقل مکانی کی۔ اب ہندوؤں اور سکھوں کی بہت تھوڑی تعداد ان علاقوں میں رہتی ہے

میں نے سنیل سے پوچھا کہ آپ کے آبا و اجداد نے کیسے نقل مکانی کی۔ اب وہ کچھ حوصلے میں تھے لیکن ان کی آواز بتا رہی تھی کہ وہ ایک جذباتی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بنوں میں ان کے والد ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہ رہے تھے۔ خاندان کے سربراہ ان کے دادا تھے۔ بنوں شہر میں ان کا بہت اچھا کاروبار تھا۔ انگریزوں کی آمد کے بعد ہی وہ لوگ بنوں گئے تھے۔ بنوں شہر میں اکثر کاروبار ہندوؤں کے پاس ہی تھے۔ اس سے قبل ہم راولپنڈی کے قرب و جوار میں کہیں رہتے تھے، شاید موجودہ اٹک میں۔ انھیں اس بات کا صحیح علم نہ تھا۔ جب تقسیم کا وقت آیا تو میرے دادا کو اس کی پہلے سے خبر ہو گئی تھی کہ ہندوستان کی تقسیم ہوگی اور بنوں پاکستان کا حصہ ہو گا۔ لوگوں نے مشورہ دیا کہ آپ پہلے ہی دہلی چلے جائیں تا کہ تقسیم ہند کے وقت آپ کو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ ہمارا خاندان دادا کی رہنمائی میں دہلی آ گیا۔ جب دہلی آئے تو دیکھا کہ انھیں مختلف کیمپس میں رکھا جا رہا تھا اور کسی طرح کی بھی کوئی سہولت میسر نہ تھی۔ جب کہ ہم بنوں میں ایک انتہائی خوش حال زندگی گزار رہے تھے۔

ہم کئی ماہ دہلی کے کیمپوں میں رہے۔ پھر ایک دن میرے دادا جان نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم تو بہت کچھ چھوڑ کر آئے ہیں اور یہاں تو ہمیں کچھ بھی نہیں مل رہا تو انھوں نے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس طرح میرے دادا جان اپنے خاندان کے اٹھارہ افراد کو لے کر بنوں کی طرف واپس چل پڑے۔ جب وہ لوگ بنوں پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ان کے گھر بار کو لوٹا جا چکا ہے۔ بہت سارے ہندو اور سکھ نقل مکانی کر کے جا چکے ہیں۔ ان کی جائیدادوں پر مقامی لوگ قبضہ کر چکے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر انھیں بہت دکھ ہوا۔ پہلے جب میرے دادا جان بنوں سے نکلے تھے تو ہم بہت پرامن طریقے سے دہلی آئے تھے۔ اس وقت مشرقی پنجاب میں ہنگامے شروع نہیں ہوئے تھے لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو پاکستان اور بھارت میں فسادات شروع ہو چکے تھے۔ بنوں کے لوگوں کو بھی اطلاع مل چکی تھی کہ بھارتی پنجاب اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں میں ہندوؤں اور سکھوں کے خلاف سخت اشتعال پایا جا رہا تھا۔ جب میرے دادا جان اپنے چھوڑے ہوئے گھروں میں گئے تو انھیں سخت مایوسی ہوئی۔

پھر انھوں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں واپس دہلی چلے جانا چاہیے لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ عارضی طور پر ایک مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک دن کچھ لوگوں نے اس مکان پر حملہ کر دیا۔ اتفاق سے میرے والد صاحب جن کی عمر دس برس کے قریب ہوگی وہاں نہیں تھے۔ وہ محلے میں واقع ایک مسلمان کے گھر میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حملے کے نتیجے میں ہمارے خاندان کے سترہ لوگ مارے گئے۔ جن میں میرے دادا، میری دادی، میری والدہ اور دیگر لوگ شامل تھے۔ جب یہ خبر ان گھر والوں کو ملی جہاں میرے والد صاحب موجود تھے تو انھوں نے میرے والد کو گھر سے باہر نہ نکلنے دیا اور کئی روز تک اپنے گھر میں چھپائے رکھا۔ میرے والد صاحب کو پتہ چل چکا تھا کہ ان کا سارا خاندان قتل کر دیا گیا ہے۔

مسلمان خاندان کے لیے یہ مسئلہ تھا کہ وہ کب تک میرے والد کو اپنے پاس رکھیں اور اگر انھیں بھارت بھیجنا ہو تو کیسے بھیجیں۔ بعد ازاں جب امن وامان ہو گیا تو عام لوگوں نے قتل و غارت کرنے والے لوگوں کی بہت مذمت کی۔ یہ کام عام لوگوں کا نہیں تھا کچھ مخصوص قسم کے غنڈے تھے جو یہ کام کرتے تھے۔ امن امان ہونے کے بعد پتہ چلا کہ راولپنڈی سے ایک ٹرین دہلی کے لیے چلتی ہے جو ہندوؤں اور سکھوں کو لے کر جاتی ہے۔ جنہوں نے میرے والد کو پناہ دی تھی وہ انھیں لے کر راولپنڈی آ گئے۔ کئی دن ٹھہرنے کے بعد انھیں ہمارے دور پار کے کسی رشتہ دار کا پتہ چلا اور انھوں نے میرے والد صاحب کو ان کے حوالے کر دیا۔ میرے والد صاحب اس خاندان کے ساتھ دہلی آ گئے۔ کافی عرصہ کیمپوں میں رہنے کے بعد نقل مکانی کر کے آنے والوں کو حکومت نے یہاں سے جانے والے لوگوں کے گھر الاٹ کرنا شروع کر دیے۔

اس وقت قانون یہ بنایا گیا کہ نقل مکانی کر کے جانے والے کسی کی کوئی جائیداد کوئی بھی مقامی شخص نہ خرید سکتا ہے نہ اس پر قبضہ کر سکتا ہے۔ سنیل نے کہا مجھے پتہ لگا تھا کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ میرے والد صاحب نے اپنی تعلیم دوبارہ سے شروع کی۔ ہمارے رشتہ داروں نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ ہر روز میرے والد اپنے خاندان کو یاد کرتے ہیں اور بنوں میں اپنے بچپن کے دوستوں سے رابطے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

سنیل نے مجھ سے پوچھا کہ بھارت سے جو لوگ نقل مکانی کر کے گئے تھے ان کی جائیداد یا تو نقل مکانی کر کے آنے والوں کو دی گئی یا حکومت نے خود اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ میں نے انھیں بتایا کہ میرا خاندان ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جس مکان میں آ کر آباد ہوا تھا، اسی مکان میں میری پیدائش بھی ہوئی تھی۔ وہ گھر تقسیم ہند سے دس سال قبل ایک امیر ہندو نے بنایا تھا۔

سنیل مجھ سے پوچھنے لگا کہ کیا آپ کبھی بنوں گئے ہیں؟ میں نے کہا کہ مجھے ابھی تک جانے کا موقع نہیں ملا۔ سنیل کے پوچھنے کا مقصد یہ تھا کہ جو گھر ہم چھوڑ کر آئے تھے وہ کس حالت میں ہے؟ کیا ان مکانوں میں یہاں سے جانے والے بس رہے ہیں یا کوئی اور؟ میں نے کہا کہ میرے علم کے مطابق بہت بڑی تعداد میں ہندو اور سکھ موجودہ کے پی کے کے علاقوں سے جسے پہلے صوبہ سرحد کہتے تھے بھارت نقل مکانی کر گئے تھے۔ ان میں اکثر بہت امیر اور بڑی جائیدادوں کے مالک تھے لیکن بھارت سے ہجرت کر کے جانے والے اکثر لوگ پنجاب اور سندھ میں آباد ہوئے۔ ان میں سے شاید ہی کوئی کے پی کے کے علاقوں میں آباد ہوا ہو۔ اس لیے ان کی چھوڑی ہوئی ساری جائیدادیں مقامی لوگوں کے ہی استعمال میں ہیں۔

سنیل یہ سب کچھ بڑے حوصلے سے مجھے سناتے رہے لیکن وہ بھی اپنے خاندان کو یاد کر کے آبدیدہ ہو گئے۔ میں نے انھیں کہا کہ میرے والد بھی اپنی جائے پیدائش کو دوبارہ نہ دیکھ سکے اور آپ کے والد بھی اپنی جائے پیدائش کو دوبارہ نہ دیکھ سکے۔ میرے والد تو اس دنیا سے چلے گئے ہیں اس لیے ان کا کوئی امکان نہیں لیکن آپ کے والد حیات ہیں تو کوشش کریں کہ کبھی انھیں بنوں لے جائیں۔ یقیناً یہ ان کی بہت بڑی خواہش ہوگی اور وہ بہت خوش ہوں گے۔

ہمیں باتیں کرتے کرتے کافی وقت گزر گیا۔ سب لوگ سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ ہمیں بھی سونا ہی تھا لیکن سونے سے پہلے ہم دونوں نے گاڑی کی کھڑکی سے باہر اندھیرے میں دیکھا، بظاہر تو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا لیکن ہمیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں بہتے آنسو ضرور نظر آرہے تھے۔

ہم دونوں اپنوں کو یاد کر کے آنکھیں نم کر رہے تھے۔

آنسو صاف کرنے کے بعد میں نے سنیل سے کہا کہ کتنی بڑی نقل مکانی ہوئی، لاکھوں کی تعداد میں قتل و غارت، ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں سب نے کی، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سے کس کو فائدہ پہنچا؟ کبھی تو معلوم ہو گا، ہم نہیں ہوں گے لیکن ہماری اولاد تو جان سکے گی۔

آج مجھے سفرنامہ لکھتے ہوئے سنیل کا چہرہ پھر سے یاد آیا۔ میں پچھلے چند سالوں میں کئی مرتبہ بنوں گیا ہوں۔ میں تصور ہی میں وہ سارے مناظر دیکھتا ہوں جو مجھے سنیل نے بتائے تھے۔ میں نے اس خاندان کا پتہ پوچھنے کی کوشش کی جس نے سنیل کے والد کی حفاظت کی تھی۔ سنیل نے بتایا کہ والد کو بھی معلوم نہیں کہ وہ لوگ کون تھے۔

رات گہری ہو رہی تھی ہمارا سفر بھی کٹ رہا تھا۔ کیا تھا، کیا ہوا کیوں ہوا۔ یہی سوچتے سوچتے نیند کی دیوی نے آ لیا۔

Facebook Comments HS