جرمن زبان کے شاعر یُرگن اور روزمرہ کی شاعری کی تحریک


یہ رائن کی مچلتی، گنگناتی ریشمی لہریں
حسیں یادوں کے، جل تھل موسموں کے خواب بنتی ہیں
مہکتے شہر کی، بہکی ہوئی یہ نرم رو نیلی ہوائیں
کیوں مری ہم راز بننا چاہتی ہیں
میں کہ ٹھہرا بے وفا، سیماب پا، لفظوں کا بیوپاری
بھلا میں گنگناتی اجنبی لہروں سے کیا وعدہ کروں
( دریائے رائن کے کنارے )

نوے کی دہائی کے اوائل میں جب میں ایسی نظمیں کہتے ہوئے اپنے شاعر، ادیب اور فن کار دوستوں کے ساتھ کولون گردی کرتے ہوئے ہر روز ہی یورپ کے دل کش رومانوی دریائے رائن کے ساحل پر جا نکلتا تھا تب میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کیتھڈرل ”ڈوم“ کے پہلو میں مہکتے اسی تاریخی شہر کی گلیوں میں کوئی دو عشرے قبل رالف ڈیٹر برنک من، رالف رائنا ریگولا، رالف ایکارٹ جان جیسے جرمن زبان کے جدید شاعر مل کر گھوما پھرا کرتے تھے اور شہر کے ادبی ٹھکانوں کو اپنی نت نئی نظموں سے گرمایا کرتے تھے اور پھر اس ٹولی میں ایک اور توانا شاعر آن شامل ہوئے تھے جن کا نام ہے یرگن ٹھیوبالڈی ہے جو پیدا تو 7 مارچ 1944 کو سٹراس برگ کے ایک محنت کش خاندان میں ہوئے تھے مگر ان کی پرورش من ہائیم میں ہوئی تھی۔ اور ستر کے عشرے میں وہ شہر کولون میں مقیم تھے۔ اس شہر میں انھوں نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی اور احباب کے ساتھ مل کر بھرپور ادبی شب و روز بھی بسر کیے۔ کولون کے علاوہ وہ حصول تعلیم کے لیے وہ فرائی برگ، ہائڈل برگ اور برلن بھی گئے۔

یرگن کے ادبی سفر پر سرسری نگاہ کرنے سے ہی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ جرمنی میں 1968 کی طلبہ تحریک کے دوران میں ادبی منظر پر نمودار ہوئے اور یہ کہ انھوں نے نظم کے مروجہ اسلوب اظہار اور فن کی روایتی اور پابند روش سے انحراف کرتے ہوئے عام زندگی کو شاعری میں سمونے کا تخلیقی تجربہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں جدید جرمن شعرا نکولس ؔبورن، رولف ؔڈیٹر برنک من اور وولفؔ وونڈراچک کا شعری تسلسل اور ساٹھ، ستر کی دہائی میں جنم لینے والی اس نئی موضوعی یا داخلی شعری تحریک کے اہم شعرا میں شمار کیا جاتا ہے جسے ”روزمرہ کی شاعری“ کی تحریک کا نام بھی دیا گیا۔ آفاقی موضوعات، تہہ دار لسانیات اور پیچیدہ متون وغیرہ جیسے ادب عالیہ کے روایتی تقاضوں کے برعکس اس تحریک کا بنیادی مقصد زندگی کے روزمرہ معمولات، شخصی تاثرات، ذاتی مشاہدات و تجربات اور فرد کی داخلی واردات کو سیدھے سادے انداز میں شعری روپ میں ڈھال کر پیش کرنا تھا۔ یرگن فطری طور پر بیسویں صدی کے جدید امریکی شعرا ولیم ؔکارلوس ولیمز، فرینکؔ اوہارا، رابرٹ ؔکریلی اور چارلس ؔ اولسن سے خاصے متاثر رہے۔ ان کے نزدیک ’شاعری میں ہر اس شے کو برتنے کی اجازت ہے جو اس کی زبان کو زندگی بخشتی ہو۔‘

ادبی ناقدین کا یہ کہنا بجا ہے کہ یرگن نے ایک دور کے مقبول رجحان یعنی سیاسی اور نظریاتی انداز کی شاعری کے مقابلے میں زندگی کے عمومی تجربات و احساسات کو روزمرہ کے محاورے کی زبان میں بیان کرنے کو ترجیح دی۔

بعد ازاں، یرگن نے فنی پابندیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے روایتی شعری اسالیب میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کے ایک قدرے تازہ شعری مجموعہ ”جنگلی کارنیشنز“ کی نظمیں پڑھ کر احساس ہوتا ہے جیسے وہ ستر کی دہائی کی آزاد اور موضوعی شاعری کی جانب لوٹ آنا چاہتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعہ ”یہاں اور پھر سے یہاں : جاپان سے نظمیں“ میں شامل شاعری پر بھی یہ بات صادق آتی ہے۔

جرمن زبان کے اس اناسی سالہ لکھاری کی زندگی کا یہ المیہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اسی کی دہائی میں ان کی نظموں اور افسانوں کے مجموعے بھی تواتر سے سامنے آئے اور ان کا ناول بھی۔ ان کے اظہار میں امریکی شاعر ایلن گنزبرگ کی کاٹ کے ساتھ ساتھ لاطینی امریکا کے شاعروں کی سی جدت طرازی بھی محسوس ہوئی۔ ساٹھ کی دہائی میں آغاز ہونے والی جرمنی کی طلبہ تحریک کے دوران میں ادبی منظر نامہ پر ابھرنے والے یہ شاعر ستر کے عشرہ میں مقبولیت کے زینے عبور کرتے ہوئے اسی کی دہائی تک ایک ”کلٹ شاعر“ (Cult Poet) کا درجہ حاصل کرچکے تھے۔ مگر پھر یہ ہوا کہ ان کی تخلیقات کی اشاعت مسلسل کم ہوتی چلی گئی اور آنے والے برسوں میں وہ گویا ایک حرف گم گشتہ ہو کر رہ گئے۔ ایک ایسے لکھاری جو اپنی زندگی ہی میں قصہ پارینہ بن گئے۔ ان کی ادبی زندگی ایک طویل اور خاموش وقفہ سے دوچار ہو گئی۔ یہ تو آج سے تین برس پہلے کی بات ہے جب ان کی اب تک کی آخری کتاب ”گزرتی ہوئی کہانیاں“ جو نثرپاروں پر مشتمل ہے شائع ہوئی اور ناقدین ادب نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور یرکن کی تخلیقی راکھ میں چھپی چنگاریوں کو پھر سے الاؤ بنتے محسوس کیا۔ اس کتاب میں انھوں نے سوٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن، جہاں وہ 1984 سے مقیم ہیں، کے مختلف فرضی اور حقیقی مناظر اور کرداروں کو کہانیوں جیسے دل چسپ پیرائے میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب سے پہلے بھی ان کی جو نثری تصانیف شائع ہوئی ہیں ان میں بھی انھوں نے زیادہ تر اپنے ذاتی تاثرات، تجربات اور مشاہدات ہی کو بیان کیا ہے

ادبی سفر کے دوران میں انھیں یورپ کے چند ایک ادبی اعزازات سے ضرور نوازا گیا جن میں برن بک ایوارڈ بھی شامل ہے۔ یرگن کی نظم و نثر کی اب تک تینتیس کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں پندرہ سے زیادہ شعری مجموعوں کے علاوہ، کچھ بین الاقوامی شعری تراجم اور نثر پر مشتمل ہیں۔

جہاں تک جرمن شعر و ادب میں میری دل چسپی کا تعلق ہے تو اس کا باقاعدہ آغاز اسی کی دہائی میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ لاہور میں جرمن زبان کی کلاسز سے ہوا اور اس کا اگلا مرحلہ نوے کی دہائی میں قیام جرمنی کے دوران طے ہوا جب میں یونی ورسٹی آف کولون میں زیر تعلیم بھی تھا اور ریڈیو ڈوئچے ویلے ( دی وائس آف جرمنی) کی اردو نشریات سے بطور پروڈیوسر بھی منسلک تھا۔ جرمن مسودات کو ریڈیو پر پیش کرنے سے قبل اردو میں ترجمہ کرنا بھی میرے فرائض میں شامل تھا۔ یوں جرمن زبان و ادب سے شغف کچھ اور گہرا ہو گیا اور میں نے سنجیدگی سے اس کا مطالعہ شروع کیا جو، بحمدللہ، اب تک جاری ہے۔ رہی بات نظموں کے تراجم کی تو ہوتا یوں تھا کہ مطالعہ کرتے ہوئے جو نظم دل کو بھاتی عادتاً اس کا ترجمہ اردو میں کرتا جاتا۔ اس طرح بہت سی نظمیں ’طالب علمانہ‘ جوش ہی میں اردو کے قالب میں ڈھل گئیں جن میں رلکے ؔ، ایرش ؔ فریڈ، رشاردؔ آندرز، ہانس ؔ ورنرکوہن، والٹر ؔ ہیلموٹ فرٹس، فریڈرشؔ ہیبل، ہائینسؔ پیونٹک، ہانسؔ سبولکا اور مشرقی جرمنی کے نمائندہ شاعر یوہانسؔ بوبروفسکی جیسے اہم شعرا کی متعدد نظمیں شامل ہیں۔

بصد عجز و اعتماد عرض ہے کہ جرمن زبان کے جدید شاعر یرگن ٹھیوبالڈی کی ان آٹھ نظموں کے تراجم پڑھتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ ان میں جہاں اردو شعری آہنگ کو حتی الوسع ملحوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے وہاں اصل نظموں کے اسلوب اور مزاج کو بھی برقرار رکھنے کی سعی کی گئی ہے۔ میری یہ سعی کس حد تک کام یابی سے ہم۔ کنار ہوئی یہ تو پڑھنے والے ہی بتا سکتے ہیں۔

۔
نظم
……
میں لکھنا چاہتا ہوں، مختصر سی نظم
بس دوچار مصرعوں کی
طویل اس سے نہیں
اک نظم سادہ سی!
جو ہم دونوں کے بارے میں کہے سب کچھ
مگر کچھ بھی نہ بتلائے
ترے اور میرے بارے میں

آدھی رات سے تھوڑا پہلے
……..
اک نظم مکمل کرنا
آدھی رات سے تھوڑا پہلے
جبکہ سارا دن
گھر پر ہی بیت گیا ہو
کیونکہ یہاں پر کوئی شناسا چہرہ نہیں ہے
یہ بھی نہ ہو معلوم کہ کس جانب جانا ہے
ایک اداس مسرت ہے
بالکل ایسے
جیسے پیراکی ملبوس میں
آدھی رات سے تھوڑا پہلے
بیچ سمندر تیرتے جانا
جبکہ بیڑا ڈوب چکا ہو

گٹھڑی
…………….
جیسے ہی حکام
اسٹیشن کے لاکر سے ملنے والی
چرمر سے اخبار میں لپٹی
خون کے دھبوں سے آلودہ
میلی گٹھڑی کھولتے ہیں
تو ان پر کھلنے لگتی ہے جاں سوز حقیقت
کام پہ جانے والی اک عورت کی حکایت

روشنی
…………..
جب میں نیچے اترا
سوکھی سڑی ڈھلان سے
دھول کو پار کرتے ہوئے
بس جا چکی تھی
اپنے جمے ہوئے دروازوں کے ساتھ
میں نے دیکھا جزیروں کو
دور کہیں کہرے میں بہتے ہوئے
سبز پتے کہیں بھی نہ تھے
میں نے پانی کو دیکھا
چمکتے ہوئے
سکون، روشنی اور سہ پہر کی
پابندیوں میں
میں نے لہروں کو دیکھا
ہوا سے کھلتے ہوئے
ورق در ورق
موسم گرما چلا گیا
اور ٹھہر گیا اس لمحہ میں
ایک اور سال کے لیے
میں چلا گیا، میں ٹھہر گیا
میں وہیں تھا
میرے پاس کچھ نہ تھا
نہ روٹی، نہ پانی
نہ ہی انگور بھرا تھیلہ
بس یہ لمحہ
یہ نیلی دوری، یہ روشنی
خالی خالی جگہوں میں، میری آنکھوں میں

شیشہ
…………..
ہم نے جب دیوار سے ٹیک لگائی تو دیکھا
ان دونوں کو اک دوجے میں گتھے ہوئے
پھر رقص آغاز ہوا ہر جانب
چمڑے کی جیکٹ پر دھیمی دھیمی پھوار
جمی اندر چلا گیا تھا، اس نے چنے تھے ایلوس کے نیلے سابر جوتے
وہ باہر آیا تو وہ دونوں پاس کھڑی
اک فورڈ کی ٹاؤنس پر جا دھم سے گرے تھے
کار کا شیشہ ٹوٹ گیا تھا اور وہ اپنی قمیضیں پھر سے اڑسنے لگے تھے
جینز کے اندر
ہم بھی وہاں بس یونہی کھڑے تھے۔ ہم کو کوئی کام نہ تھا
پھر ہم اپنے اپنے گلاس کی جانب لوٹ آئے تھے
(بیئر گلاسوں میں باقی تھی)
دونوں لڑکے عقب کی جانب چل نکلے تھے، واش روم کی جانب
اپنے بال بنانے
جہاں پرانا سا اک شیشہ
اب بھی
سلفچی کے اوپر آویزاں تھا

کریم چیز کیک
…………………..
پھر اس نے پلیٹ کو
زور سے پرے ہٹایا
اور مجھے بتانے لگی
وہ ہمیشہ سے کچھ بڑا کرنا چاہتی تھی
کچھ عظیم، کچھ غیر معمولی
وہ چاہتی تھی
اپنی زندگی کو کچھ مول دینا
لیکن اب وہ دیکھ رہی تھی
کیسے سب کچھ
ڈھلتا جا رہا تھا
گھسی پٹی گفتگو میں
لگی بندھی سہ پہروں میں
ایسے لوگوں کے درمیان جو
بس وقت گزاری کر رہے تھے
(وہ کہہ رہی تھی)
اور میں خاموش بیٹھا تھا
کیونکہ کافی دیر سے مجھے واش روم
جانے کی حاجت ہو رہی تھی
اس کریم چیز کیک کی وجہ سے
اور میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی
اس کو ٹوکنے کی
کیونکہ وہ جو بھی، جیسے بھی کہہ رہی تھی
سب دل کش تھا
جب تک کہ اس نے مجھ سے نہیں پوچھا
مجھے کیسا لگ رہا ہے؟
کیا میں شاعری کرتا ہوں؟
اور میں نے کہا تھا
ہاں، میں شاعری کرتا ہوں
پھر میں اٹھ کر
بالآخر واش روم چلا گیا تھا
اور غور کرنے لگا تھا
اپنی گراں بہا زندگی پر

آوارہ
…………
باغبان اکھاڑ کر باہر لا پھینکتا ہے
اپنی گھاس کاٹنے والی مشین سے
ایک گیت
جو صبح گاتی ہے، ان بادلوں سے پرے
اور کھیتوں کی جانب آتے راستوں کے پار
جزیرہ ایک بیڑا ہے۔ بہتا چلا جاتا ہے
پگھلے ہوئے پتھر اور لوہے کے اوپر۔
فی الحال تو ہم محفوظ ہیں
تو فی الحال، ارے او باغبانو!
ہاں تم جو ادھر کھڑے ہو باڑ پر،
میں ادھر ہوں
جوہڑ اور اناج کے بیچ
جو پھوٹ رہا ہے۔ گیت، میں دیکھتا ہوں،
خود کو گا رہا ہے۔ میں بھی اپنے آپ گنگنا رہا ہوں

خیرہ چشم
………………….
وہ بہت قریب تھا
اور وہ۔ اور بھی دور
تکیے کے کنارے سے پرے
لیکن وہ اپنا نقش وہیں چھوڑ گئی تھی
اپنا بدن، جس کو وہ چھوتا جاتا تھا
اپنی زبان کے ساتھ، جہاں نم تھا
گیلا پن، اس کے بال،
چپچپاہٹ، جلد کے اندر
پسینے کے ساتھ
بغلوں کے نیچے، بعد ازاں جب
وہ ملے تھے اور ایک دوسرے کو دیکھا تھا
جیسے وہ پہچان چکے ہوں
ایک دوسرے کو، اسی وقت
جب گلی کا شور
واپس ان میں ڈوب گیا تھا
اور وہ پڑے تھے وہاں، نرم، پھیلے ہوئے
چھلکتے جسم، آنکھیں
پوری کھلی ہوئیں، پھٹی پھٹی سی

Facebook Comments HS