روسی خلائی جہاز کی تباہی


روسی خلائی صنعت کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ روس کوس موس نامی روسی خلائی ایجنسی کے مطابق، لونا 25 نامی خلائی جہاز، جسے روس 50 سال بعد چاند پر اتارنا چاہتا تھا، غیر طے شدہ صورتحال کی وجہ سے اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکا۔ آخری خبروں کے مطابق چاند پر طے شدہ لینڈنگ سے پہلے ہی، خلائی جہاز، چاند کی سطح کو چھوتے ہی غائب ہو گیا ہے۔ اور شاید گر کر تباہ ہو چکا ہے۔

چاند پر، طے شدہ لینڈنگ سے دو دوز قبل، ایک غیر متوقع واقعہ پیش آیا تھا جس کی روسی حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔ اور اس کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خلائی ایجنسی کے مطابق، چاند پر اترنے کی تیاری کے سلسلے میں، خلائی جہاز نے، دو روز قبل ہفتہ کو، دو بجکر دس منٹ روسی وقت کے مطابق، زمین کے ایک نئے مدار میں داخل ہونا تھا۔ اس عمل کے دوران، خلائی جہاز پر ایک غیر طے شدہ صورتحال پیدا ہو گئی جس سے خلائی جہاز کا، دیے گئے پیرامیٹرز کے ساتھ، چاند پر اترنا ناممکن ہو گیا تھا۔ مزید معلومات ناپید ہیں۔

لونا 25، روسی مون لینڈنگ پروگرام، جس کے تحت روس 2040 تک، چاند پر اپنا خلائی اسٹیشن کھڑا کرنا چاہتا ہے، کا حصہ ہے۔ خلائی جہاز، گزشتہ بدھ کو، چاند کے گردونواح میں، مدار میں داخل ہو چکا تھا۔ اور، ایجنسی کے مطابق، اس وقت سے، 1800 کلوگرام وزنی، خلائی جہاز، ، چاند پر لینڈنگ کے لئے کسی مناسب جگہ کی تلاش میں تھا۔ خلائی جہاز کو سوموار کے روز، چاند کے ساؤتھ پول، جہاں منجمد پانی کی موجودگی کا امکان بتایا جاتا ہے، لینڈنگ کرنا تھا۔ جمعرات کے روز، روسی حکام نے چاند کی سطح کی تصاویر بھی شائع کی تھیں۔

خلائی جہاز، دراصل کافی سال پہلے چاند پر اتارا جانا تھا۔ پہلی دفعہ اس کی پلاننگ 2012 میں ہوئی تھی۔ گزشتہ سال مئی کے مہینے میں بھی، چاند پر اتارنے کا عندیہ دیا گیا تھا لیکن کچھ ٹیکنیکل مشکلات کی وجہ سے یہ پروگرام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا تھا

شروعات میں، روسی خلائی ایجنسی اور یورپین خلائی ایجنسی ای۔ ایس۔ اے مل کر، مون لینڈنگ پروگرام کر رہے تھے۔ روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے، یورپین ایجنسی نے، فروری 2022 میں مشترکہ پروگرام سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

Facebook Comments HS