اقلیتوں سے ناروا سلوک


آج ایک مسیحی بہن کی تحریر مقامی اخبار میں ”کیا ہماری اقلیتیں واقعی محفوظ ہیں“ کے عنوان سے پڑھ کر دل کرچی کرچی ہو گیا۔ دل خون کے آنسو رو دیا۔ ان کا یہ کیسا نوحہ تھا جس کی بازگشت گونجی، درد کی ٹھیس اٹھیں لیکن ہمارے معاشرے میں ظلم کے خلاف کوئی ارتعاش پیدا نہ ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی منظم عوامی رد عمل سامنے آیا۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں بے گناہوں کے گھر اجاڑ دیے گئے۔ کیا جڑانوالہ کی مسیحی برادری کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ ہمارے ہم مذہب نہیں۔

وہ معاشرے کی اکثریت سے تعلق نہیں رکھتے۔ اگر معاشرے میں کوئی جرم سرزد ہو تو اس کے لئے عدالتی نظام قائم ہے جس کا کام انصاف مہیا کرنا اور قانون کا بول و بالا بلند کرنا ہوتا ہے۔ تعریف کے قابل وہ ہمسایہ مسلمان ہے۔ جس نے اپنے مسیحی بھائی کے گھر کو جلنے سے بچایا۔ کوئی بھی عملی کام باتوں سے افضل ہے۔ ہم ایک بے حس معاشرہ بنتے جا رہے ہیں۔ لا قانونیت بڑھتی ہی چلی جا رہی۔ عدم برداشت، دل آزاری، منفی رویہ، سماجی و معاشرتی ناہمواری، اقلیتوں سے ناروا سلوک اور پرتشدد واقعات جن میں نہ صرف 19 گرجا گھر بلکہ 89 گھروں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔

ایسی لاقانونیت پھیلتی جا رہی ہے۔ جس کا تدارک وقت کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ 5 گھروں کو جزوی طور نقصان پہنچا۔ 16 اگست کا دن پاکستانی تاریخ میں سیاہ دن کے نام سے جانا جائے گا۔ اس دن کے پرتشدد واقعات نے مقامی مسیحی برادری کے لوگوں کو کماد اور دوسرے کھیتوں میں زندگی بچانے کے لئے رات بسر کرنی پڑی۔ ان کا مال و متاع لوٹ لیا گیا اور جو بچا اسے جلا ڈالا۔ یہ سب لوگ ٹروما کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان میں اکثریت زخموں سے چور ہیں لیکن ان کے دل پر لگے گہرے زخم کون دیکھے گا اور یہ کیسے شفایاب ہوں گے ۔ ان کی تسلی و تشفی کون کرے گا۔

ہمارے ملک میں دستور کے مطابق ہر انسان کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ مذہب و مذہبی کتب کا احترام ہر ایک پر لازم ہے۔ مذہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے مذہب سے لگاؤ ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ دوسرے مذہب کی دل آزاری کی جائے۔ مذہبی کتابوں کی بے حرمتی کی جائے۔ یہی اصول غیر مسلموں کا قرآن پاک کے بارے ہونا چاہیے۔ جڑانوالہ واقعہ میں اگر قرآن پاک کے اوراق کی بے حرمتی کا الزام تھا تو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزم یا ملزمین کو پولیس کے ذریعے گرفتار کروانا، تفتیش کے تمام مراحل سے گزرنا اور پھر عدالتی نظام کے ذریعے مجرم کو سزا دلوانا ہوتا۔

یہ عوام کا کیسا جنوں تھا جس میں مساجد سے اعلانات کرنا، لوگوں کے جذبات کو ابھارنا اور انہیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کرنا اور اکسانا۔ یہ مذہب اسلام کی کون سی دینی خدمت ہو رہی تھی۔ ان واقعات کی تہہ تک پہنچنا اور صولت کاروں سمیت سب کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنا مقدم عمل ہونا چاہیے۔ تا کہ آئندہ ایسے واقعات کا تدارک ہو سکے۔ اگر قرآن پاک اور پیغمبر اسلام کی حرمت پر کوئی بات تھی تو اسے پاکستان کے تعزیری قوانین کی روشنی میں ڈیل کرنا چاہیے تھا۔ نا کہ پر تشدد واقعات میں عمل پیرا ہونا۔ جس کی لاٹھی اسی کی بھینس سے معاشرے میں سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اور ان کا تدارک ہونا لازمی امر ہونا چاہیے۔

اسلام پیار و محبت کا دین ہے۔ جب نجران سے مسیحی وفد آقائے دوجہاں کی خدمت میں مسجد نبوی مدینہ منورہ میں حاضر ہوا اور اپنی عبادت کی اجازت طلب کی تو آقا دو جہاں نے انہیں خندہ پیشانی سے نہ صرف ان کے اپنے عقیدے کے مطابق مسجد نبوی میں عبادت کرنے کی اجازت دی بلکہ حکم صادر فرمایا یہ ہمارے مہمان ہیں ان کی رہائش و خورد و نوش کا بندوبست کیا جائے۔ آپ نے اس وفد کو جب تک انہوں نے مدینہ منورہ میں قیام کیا نہایت احترام کے ساتھ رکھا۔ کیا ہمارے رویے آقاء دو جہاں کی تعلیمات کا پرتو ہیں۔ کیا دین ہمارے قلوب میں مکمل طور جا گزیں ہوا۔ ذرا ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک لیں اور پھر خود ہی فیصلہ صادر کر لیں۔ کہ ہم سے کہاں کوتاہی سرزد ہو گئی ہے۔

ہماری تاریخ میں مسیحی برادری کو وہ مقام نہیں دیا گیا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مسیحی برادری کے لیڈران کے ساتھ نہایت گرمجوش تعلقات تھے۔ جن میں جوزف بر جو وائسرائے کونسل کے ممبر اور بھوپال کے نواب کے مشیر تھے، سر سیمیؤل راگن دھر (لندن میں ہائی کمشنر) ، کے ایل لال کندن (آل انڈیا کانفرنس کے صدر) ، قابل احترام پادری انڈریو اور جان برائٹ۔ ان سب نے غیر مشروط طور پر قائد اعظم محمد علی جناح اور پاکستان کی سپورٹ کی۔

جوشوا فضل دین نے قائد کے ویژن کو پھیلانے کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جنہوں نے سر سرل باؤنڈری کمیشن میں مسلمانوں کے حق میں ووٹ ڈالا۔ 1945۔ 46 کے الیکشن میں جب پنجاب کے بارے ووٹنگ کا وقت آیا کہ اسے کس طرف شامل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان یا انڈیا تو اسمبلی میں 88۔ 88 ووٹوں کی برابری پر مسیحی برادری کے دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے اپنے ووٹ کو مسلمانوں کے حق میں استعمال کیا۔ یہ وہی تھے جنہوں نے تارا سنگھ کی تلوار سمیت للکار کو جس میں انہوں نے نعرہ لگایا کہ جو بھی پاکستان کا نام لے گا اسے اس تلوار سے قتل کر دیا جائے گا، کا آگے بڑھ کر راستہ روکا تھا۔

اس الیکشن میں مسیحی برادری نے نہ صرف نے آل انڈیا مسلم لیگ کی بھرپور معاونت کی بلکہ پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگاتے رہے۔ مسیحی برادری کی افواج پاکستان میں بھی کردار نمایاں ہے۔ ویسے تو یہ ہر رینک میں پائے جاتے ہیں لیکن خصوصی طور آرمی میں میجر جنرل جولین پیٹر، میجر جنرل نوئل کھوکھر، بریگیڈیئر سیمسن سائمن شراف، بریگیڈیئر ماروں کارڈوزہ، برگیڈیر ڈینئل آسٹن۔ ائرفورس میں وائس مارشل مائیکل ایرک گورڈن ہال، ائر وائس مارشل مائیکل جان ’و‘ برائن، ائر کموڈور پیٹرک ڈسمنڈ کہلگان، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، ان کے علاوہ کئی اور افراد۔

نیوی میں ریئر ایڈمرل لیسلی نارمن منگاون جنہوں نے پی این ایس عالمگیر اور پی این ایس بابر کی کمانڈ کی۔ اس کی علاوہ افواج پاکستان میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے کئی افراد مسیحی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہماری جوڈیشری میں دو اقلیتوں نمائندوں کے نام قابل ذکر ہیں۔ پہلے مسیحی برادری سے جسٹس کارنیلئس اور دوسرے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے جسٹس رمدے۔ مسیحی برادری کا تعلیم اور صحت کے سیکٹرز میں کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اور اس میں دو رائے نہیں ہے۔

پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ان کو وہ مقام نہ دے سکے جس کے وہ مستحق ہیں۔ کیا یہ پاکستان کے شہری نہیں؟ کیا انہیں اپنی زندگی پرسکون جینے کا حق حاصل نہیں۔ بار بار مسیحی برادری کے لوگ مقدس کتب جس میں قرآن مجید بھی شامل ہے کی حرمت و احترام کا درس دے رہے ہیں۔ اب وقت ہوا چاہتا ہے کہ ارباب اختیار مقدس کتب کی تحریم و تکریم کے لئے ایک لائحہ عمل بنائیں اور اس پر متفقہ طور عمل پیرا ہوں۔ جہاں قانون سازی کی ضرورت ہے، کی جائے۔

ہماری مذہبی امور کی وزارت کو اب ایکٹیو ہونا پڑے گا۔ خواب خرگوش کے مزے اب تک کافی لے لئے ہیں۔ تمام ادیان کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ان کے درمیان خیر سگالی اور ملکی ماحول کو خوشگوار بنانے کی جستجو میں اکٹھے ہو کر ایک لائحہ عمل بنانے اور پرعزم طور پر ایسے اقدامات کی کرنے کی ضرورت ہے جس سے آئندہ ایسے اقدامات کی بیخ کنی ہو سکے۔ اور حادثہ ظہور پذیر ہونے سے قبل تدارک کیا جا سکے۔

Facebook Comments HS