مثبت سوچ کا پیامبر بھارت


میرے ایک استاد محترم کا 96 برس کی عمر میں کورونا کی بدولت پچھلے سال انتقال ہوا۔ ان کی آخری تحاریر میں سب سے اہم اور معنی خیز تحریر اچانک پڑوسی ملک کی چاند پر کمند ڈالنے والی خبر دیکھ کر دماغ کی سب سے پچھلی بتی میں دوڑی۔ استاد محترم نے اپنے وصال سے قبل کہا کہ اس دنیا میں کامیابی کا راز مثبت سوچ ہے۔ اور اس دنیا میں ناکامی کی جڑ صرف اور صرف منفی سوچ ہے۔ اور یہی اس دنیا میں موصوف کے مطابق ان کی آخری وصیت و آخری ایجاد تھی۔

اس بات کو ہم سب سمیت ساری دنیا نے سنا مگر اس بات پر صحیح معنوں میں عمل تامل ناڈو کے گاؤں ولو پورم سے ایک عام سے ریلوے ملازم کے بیٹے چندریان تھری مشن کے ڈائریکٹر ”ویرامیتھویل“ نے آج کر کے دکھایا ہے۔ ہماری پوری قوم پچھلی آٹھ دہائیوں سے نفرتوں کے بیجوں میں پلی بڑھی ہے۔ منفی سوچ کے ایسے ایسے پہاڑ اس ملک نے سر کیے ہیں کہ اس سے آگے تو چندریان بھی جائے تو ناکام ہی ٹھہرے۔ دوستو، ہماری اس منفی سوچ کے پیچھے صرف میرا، آپ کا، یا کسی ایک گروہ کا قصور نہیں، بلکہ ہم بحیثیت قوم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔

دشمنیوں کے بوئے ہوئے بیجوں نے ہماری نسلوں کو تباہ کر ڈالا ہے۔ ہم اس قدر متکبرانہ جہالت و جمود کے پیامبر بن چکے ہیں کہ ہمیں اپنے ہمسایوں کی اتنی بڑی کامیابی پر بھی میمز، طنز و مزاح کے سوا کچھ نہیں سوجھا۔ ہم بشمول ہمارا ملک تاریخ کی بدترین سطح پر ہے۔ اس نیم مردہ ملک پر کوئی ترس کھانے کی بجائے اس کے رہے سہے سانسوں کو نوچنے کے لیے ایک بار پھر اس ملک کی اشرافیہ اقتدار کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ اک لمحے کے لیے اپنی غیرت جگاتے ہوئے ان دشمن ہمسایوں کا اپنے ملک کے لیے کنٹری بیوشن تو دیکھیے۔

انھوں نے ان جنگوں اور انارکی کو ان کی حدود میں رکھتے ہوئے اپنے مقاصد کو نہیں چھوڑا۔ یقین جانیے وہ اس قدر مثبت ہوئے کہ آج چاند پر کمند ڈال بیٹھے۔ جس ملک سے لڑائی و نفرت کی خاطر ہمارے ملک کی یہ حالت ہو چکی۔ آج وہی ہمسایہ ہمارے ملک کو چاند پر بیٹھ کر دیکھ سکتا ہے، اور ہمارے پاس ایسی آنکھ یا ایسی دور اندیشی سوچ تک بھی نہیں کہ ہم اپنے ملک میں بیٹھے اسے بینائی کے ساتھ دیکھنے کی بصارت ہی رکھیں۔ میرے استاد مرحوم کہا کرتے تھے کہ نفرتیں، حسد یا کھینچا تانی کبھی ختم نہیں ہوتا۔

دانشور وہ ہے جو اس منفی سوچ یا ایسی منفی سوچ رکھنے والے انسان سے خود کو اتنا اوپر لے جائے کہ منفی سوچ رکھنے والا اس تک پہنچ ہی نا رکھتا ہو۔ ہمسایوں نے اس بات کا صحیح معنوں میں ادراک کیا ہے۔ ہمسائے ہم حاسدوں، منافقوں اور جاہلوں سے اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ چاند پر جا بیٹھے ہیں۔ آپ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے یہی سوچ رہے ہیں کہ موصوف آپ میں ایک ایسی سوچ یا جذبہ پیدا کرنے کا خواہشمند ہے کہ جس کی بدولت کوئی ایک ایسا نوجوان اس ملک کو مل جائے جس کی سوچ اور جذبہ ویرامیتھویل جیسا ہو۔

جو وسائل کی پرواہ کیے بغیر اپنے مشن کو لیے چلے اور اتنا آگے تک چلے کہ چاند پر بیٹھے ہوئے اپنے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کر دے۔ دوستو ہمیں بحیثیت قوم اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ وقت اور جدیدیت نے اب دشمنیوں کے رویے و طور طریقے بدل دیے ہیں۔ ہمیں اب اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ فقط واہگہ بارڈر پر ٹانگیں اونچی کرنے کے کرتب دکھا کر داد لینے سے ملک و قوم کی ترقی ممکن نہیں۔ ہمیں کم سے کم اگلے کچھ سالوں میں چاند پر جا کر ہمسایوں کو ان کے اپنے سے پہلے وہاں کمند ڈالنے کی مبارکباد دینی ہو گی۔ ورنہ ہم ہمیشہ کی طرح چاند کے ساتھ اپنا رشتہ عیدیں کرنے تک ہی محدود رہیں گے۔ آخر میں ہمسائیوں کو تہہ دل سے چاند پر کمند ڈالنے کی ڈھیروں مبارکباد۔

Facebook Comments HS