میلبورن میں لوگوں کے اوقات کار
تمہارے جانے کے تین چار دن بعد ہی تیمور آسٹریلیا سے گھر پہنچ گیا۔ آتے ہی جس طرح وہ ٹوٹ کر مجھ سے گلے لگ کر رویا۔ مجھے لگا کہ تمہارے جانے کا دکھ اُسے مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ بڑی دیر تک میرے کندھے پر سر رکھے زار و قطار روتا رہا۔ او ر روتا ہی چلا گیا۔ جب کافی وقت اسی کیفیت میں گزر گیا۔ تو مجھے ہوش آیا اور میں نے اُسے چپ کرانا شروع کیا۔ حوصلہ، تسلی اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے بڑی مشکل سے چپ کرایا۔ اس کے بعد ہم صوفے پر ساتھ ساتھ ہی بیٹھ گئے۔
اپنے اپنے خیالات میں گم۔ چپ اور خاموش ایسے لمحات میں خاموشی بھی شاید ایک بہتر زبان بن جاتی ہے۔ انسان زبان سے اپنے جذبات کا اظہار اس طریقے سے نہیں کر سکتا۔ جس انداز میں خاموش رہ کر کر جاتا ہے۔ کافی دیر ہم دونوں اسی زبان بے زبانی سے ایک دوسرے کو اپنا اپنا حال دل سناتے رہے۔ جذبات و احساسات کا تبادلہ کرتے رہے۔ اس کے بعد وہ بولا۔ استاد محترم آپ جس کیفیت سے آج گزر رہے ہیں۔ میں گزشتہ تیس سال سے اس میں مبتلا ہوں۔
جب میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا تھا۔ میں آج تک اس صدمے سے باہر نہیں آ سکا۔ اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ میں نے کچھ دیر اسے دل کا بوجھ ہلکا کرنے دیا۔ اندر کا غبار دھل جانے دیا۔ واضح کرتا چلوں کہ تیمور اعجاز میری بڑی بیٹی اصفیٰ کا خاوند ہے۔ اور وہ دونوں اپنے بچوں ولی اور زہرا کے ساتھ آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں مقیم ہیں۔ کافی دیر کے بعد جب جذبات کا طوفان کچھ کم ہوا تو اصفٰی بھی ہمارے پاس آ بیٹھی اور تیمور سے سے پوچھنے لگی کہ تیمور تمہارا سامان کہاں ہے۔
وہ کچھ دیر خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ اور پھر بے بسی کی سی کیفیت میں یوں گویا ہوا۔ اصفی تمہارے آنے کے بعد جب میں نے آنٹی کے انتقال کی خبر سنی تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کہ میں کیا کروں۔ میرے ذہن میں بس ایک ہی خیال تھا۔ کہ مجھے فوراً پاکستان پہنچنا ہے۔ سب سے پہلے دستیاب ہونے والی سیٹ لے کر میں تین ماہ کے لیے یہاں پہنچ گیا ہوں۔ اور سامان یہی شلوار قمیض ہے۔ جو میں نے پہنی ہوئی ہے۔ اصفیٰ اطمینان سے بولی چلو بہت اچھا کیا کہ تم یہاں پہنچ گئے ہو۔
سامان کا کیا ہے وہ یہاں سے بھی مل جائے گا۔ دفعتاً مجھے محسوس ہوا کہ اصفیٰ اور تیمور ایک ایسے آئینے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ جن میں میں تمہارے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کو ایک فلم کی صورت میں دیکھ رہا ہوں۔ تیمور کی میری طرح لا پرواہ، لا ابالی اور تمہارے بغیر ادھورا پن کی سی کیفیت اور اصفیٰ کی تمہاری ہی طرح حوصلہ افزائی کرتی، تسلی دیتی اور چلو کوئی بات نہیں کا اظہار کرتی ہوئی شخصیت۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں تین بیٹیوں سے نوازا ہے۔
تم شادی کو لے کر ان کے بارے میں اکثر متفکر رہتیں۔ اور اکثر و بیشتر سوہنے رب کے حضور یہ دعا مانگا کرتیں۔ کہ یا اللہ مجھے اتنی زندگی ضرور عطا کرنا کہ میں اپنی تینوں بیٹیوں کی شادیوں کے فرائض سے عہدہ برآ ہو سکوں۔ اور میری ہر بیٹی کو ایسا ہی خاوند عطا فرمانا۔ جیسا کہ مجھے عطا کیا ہے۔ جب کبھی اونچی آواز میں دعا مانگتیں۔ تو میں تم سے اکثر الجھ جاتا کہ اللہ سے اس کی شان کے مطابق مانگا کرتے ہیں۔ اللہ سوہنے سے صحت مندی کے ساتھ عمر درازی کی دعا مانگا کرو۔
یہ کیا کہ بیٹیوں کی شادی تک ہی زندگی کی دعا مانگتی ہو۔ کیا اس کے بعد تمہیں زندگی نہیں چاہیے۔ تمہارا ہر بیٹی کے لیے مجھے جیسے خاوند کی تمنا کرنے اور دعا مانگنے کا عمل میرے لیے تمغہ افتخار کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن پھر بھی میں اکثر تم سے پوچھتا رہتا۔ کہ تم ہماری بیٹیوں کے لیے مجھ جیسے خاوند کی تمنا کر کے ان کا راستہ کیوں کھوٹا کرنا چاہتی ہو۔ میں ایک درویش نما غریب سا آدمی جو تمہارے لیے کچھ بھی نہیں کر سکا۔
نہ تمہیں اچھا طرزِ زندگی مہیا کر سکا۔ نہ زندگی کی آسائشیں اور سہولتیں دے سکا۔ نہ سماجی مقام و مرتبہ تمہارے حصے میں آیا۔ تمہارے اس درجے اطمینان کی وجہ آخر کیا ہے۔ تم نہیں سمجھو گے انجم۔ تم نے مجھے عزت نفس دی۔ احساس ملکیت دیا شراکت داری دی اور یہی میری سب سے بڑی دولت ہے۔ تیمور تین ماہ میرے ساتھ رہا پیاروں سے بچھڑنے کا دکھ اور درد ایک ایسی مشترک قدر تھی۔ جس نے ہم دونوں کو ایک دوسرے کے اس قدر قریب کر دیا۔
کہ ہم سسر اور داماد کے روایتی رشتے سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کے بے تکلف دوست بن گئے۔ ہم جب بھی اکٹھے مل بیٹھتے تو میں اکثر تمہاری اور تیمور اپنے والد کی باتیں کیا کرتا۔ تیمور نے ایک چھکڑا سی گاڑی کا بندوبست کر لیا تھا۔ سارا سارا دن اس پر گھومتے رہتے۔ پاکپتن جاتے۔ دیوان صاحب جاتے تیمور کی موجودگی نے تمہارے غم اور دکھ کی شدت میں نمایاں کمی کردی تھی۔ میں نے تمہارے ہجر کے بحرِ بیکراں میں ڈوبنے کی بجائے اس کی سطح پر دھیرے دھیرے تیرنا سیکھ لیا تھا۔
تین ماہ کا عرصہ گزرتے ہوئے پتہ ہی نہیں چلا۔ اصفیٰ و تیمور کی واپسی کی تاریخ قریب آ رہی تھی۔ ایک دن وہ میرے قریب بیٹھ گیا اور بولا۔ کہ استادِ محترم میں زندگی میں پہلی بار ایک ایسے گھر میں رہا ہوں۔ جہاں پر ایک والد موجود ہے میں بہت چھوٹا تھا۔ جب میرے والد محترم فوت ہو گئے تھے۔ اس کے بعد میں نے اپنے گھر کو ہمیشہ والد کے بغیر ہی دیکھا ہے۔ مجھے یہاں پر آپ سب لوگوں کے ساتھ اکٹھے مل کر رہنا بہت اچھا لگا ایک ایسا گھر جہاں پر ایک والد ہمہ وقت موجود ہے۔
اب مجھے بھی احساس ہوا کہ اصفیٰ و تیمور کی شادی کو نو برس کا عرصہ بیت چکا تھا۔ ان نو برسوں میں وہ پہلی بار ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ رہا تھا۔ اس سے پہلے وہ جب بھی چھٹی پر آتا ہیلو ہائے کر کے اپنے گھر چلا جاتا۔ عموماً اصفیٰ بچوں سمیت ہمارے پاس رہتی۔ اور تیمور اپنے گھر میں رہتا۔ ایک ڈیڑھ ماہ کی چھٹیوں کے دوران دوچار بار کھانا ہمارے ساتھ کھا لیتا۔ اور بس اس مرتبہ پہلی بار ہمیں اکٹھا رہنے کا موقع ملا۔
اب وہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔ میری دلی خواہش ہے کہ آپ آسٹریلیا ہمارے پاس آئیں۔ میں اپنے اس گھر میں بھی آپ کی موجودگی کا احساس کرنا چاہتا ہوں۔ ہم سب آپ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ آپ آسٹریلیا میں ہمارے پاس آنے کا پروگرام ضرور بنائیں۔ اب میرے پاس ہاں کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا۔ تیمور کی خواہش کے مطابق آج کل آسٹریلیا میں ان کے پاس ہوں۔ لیکن تمہاری کمی یہاں پر اور بھی زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
آسٹریلیا آنے کا پروگرام تو ہم دونوں نے اکٹھے مل کر بنایا تھا۔ پاسپورٹ بھی اکٹھے ہی بنوائے تھے۔ لیکن یہاں آتے ہوئے تم ساتھ نہیں تھیں۔ تم اکثر مجھے کہا کرتی تھیں۔ کہ انجم جب میں تمہارے پاس نہ ہوئی تو تمہیں لگ پتہ جائے گا۔ اور مسز مجھے واقعی لگ پتہ گیا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ زندگی کی ساری دل کشیاں اور خوبصورتیاں تم اپنے ساتھ ہی لے گئی ہو۔ سارے رنگ اور خوشبوئیں تمہارے ساتھ ہی چلی گئی ہیں مسز مجھے اس بات کا بھی بڑی شدت سے احساس ہے کہ بار بار تمہارا ذکر ہمارے سب پیاروں کے زخم تارہ کر دیتا ہے۔
لیکن کیا کروں خود پر اختیار نہیں ہے۔ جب اندر کی تپش بڑھتی ہے اور لگتا ہے کہ جل اٹھوں گا۔ تو اس بھڑاس کو الفاظ کی صورت میں باہر نکال دیتا ہوں۔ اور مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کہ میں تمہارے ساتھ باتیں کر رہا ہوں۔ اور تم میری ان تمام باتوں کو سن رہی ہو۔ اس غیر مرئی رابطے سے کچھ تسلی سی ہو جاتی ہے۔ اندر کی تپش کچھ کم ہو جاتی ہے۔ اور زندگی ایک بار پھر رواں دواں ہوجاتی ہے۔ جونہی میں میلبورن ائرپورٹ سے باہر نکلا تو مجھے سب سے پہلا احساس فضا میں پھیلی ہوئی صفائی اور ستھرائی کا بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے فضا میں موجود پاکیزگی اور طہارت کا ہو رہا تھا شام کے آٹھ بجے کا وقت تھا۔
سڑکوں پر کوئی خاص رش نہیں تھا۔ سب لوگ بڑے آرام اور سکون سے چل رہے تھے۔ کوئی بھی گاڑی کو دائیں بائیں سے نکالنے کی کوشش میں نہیں تھا۔ چوکوں میں اشاروں میں کوئی اہل کار موجود نہیں تھے۔ لوگ خود بخود ہی اشاروں کی پابندی کر رہے تھے۔ تیمور نے وضاحت کی کہ یہ قانون کی پابندی بلاوجہ نہیں ہے۔ اگر کوئی آدمی قانون توڑتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو اسے ایسی سخت سزا دیتے ہیں کہ نانی یاد آجاتی ہے۔ بہت مصروف لوگ ہیں ان کے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت موجود ہی نہیں ہے۔
یہ فجر کے وقت بیدار ہو جاتے ہیں۔ گو کہ یہ لوگ نماز تو نہیں پڑھتے لیکن ان کا تمام معمولات نمازوں کے اوقات کار کے مطابق ہیں۔ فجر کے وقت اٹھ کر تیار ہوتے ہیں۔ بچوں کو تیار کرتے ہیں۔ میں اصفیٰ کا ٹائم ٹیبل بتا رہا ہوں۔ یہی سب کا ٹائم ٹیبل ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ جاتی ہے۔ اپنا تیمور کا اور بچوں کا ناشتہ تیار کرتی ہے۔ بچوں کو جگا کر منہ ہاتھ دھلاتی ہے۔ ناشتہ کرواتی ہے۔ اور کپڑے وغیرہ تبدیل کر کے اپنے ٹفن اٹھائے وہ سب لوگ تقریباً ساڑھے سات بجے گھر سے نکل جاتے ہیں۔
کیوں کہ کرونا کے بعد تیمور ورک فرام ہوم کرتا ہے۔ اس لیے اسے کہیں باہر نہیں جانا ہوتا۔ بلکہ وہ گھر بیٹھ کر ہی کام کرتا ہے۔ تیمور اصفیٰ کو ریلوے سٹیشن چھوڑتا ہے۔ جہاں سے وہ اگلے سٹیشن پر پہنچتی ہے۔ پھر وہ دس پندرہ منٹ پیدل چل کر اپنے آفس پہنچ جاتی ہے۔ واپسی پر وہ ولی کو اس کے سکول میں اور زہرہ کو اس کی نرسری میں چھوڑ آتا ہے۔ یار رہے کہ ولی کی عمر آٹھ سال اور زہرہ کی عمر ایک سال ہے۔ مغرب کے آس پاس اصفیٰ واپس گھر پہنچتی ہے۔
اور واپسی پر وہ لوگ زہرہ کو اس کی نرسری سے لیتے آتے ہیں۔ ولی تین بجے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ لیکن ایک سال عمر کی زہرا کا ٹائم ٹیبل اس کی ماں کے ٹائم ٹیبل کے ساتھ ساتھ ہی چلتا ہے۔ مغرب کے وقت گھر پہنچ کر وہ امورِ خانہ داری کے معاملات کو دیکھتی ہے۔ کھانا پکانا ہے۔ دن بھر کے برتن دھونا ہیں اور باقی سارے چھوٹے موٹے کام۔ اس کے بعد سب اہل خانہ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ عشاء کے وقت تک ان سب کاموں سے فارغ ہوجائیں اور پھر اس کے فوراً بعد وہ سونے کے لیے چلے جاتے ہیں۔
کیوں کہ صبح انہوں نے جلدی اٹھنا ہوتا ہے۔ تیمور کے بالکل ساتھ والا گھر اس کے بھائی سرمد کا ہے۔ اور ٹائم ٹیبل ان کو بھی یہی ہے۔ تیمور تو ورک فرام ہوم کی وجہ سے گھر پر ہی ٹھہرتا ہے۔ لیکن سرمد اس کی مسز نادیہ اور ان کے دونوں بچے آیان او ر نور صبح نور کے تڑکے گھر سے نکلتے ہیں۔ اور اپنی اپنی ڈیوٹی کر کے بعد از مغرب گھر واپس پہنچتے ہیں۔ ہماری طرح یہاں پر فراغت کسی کو بھی نہیں ہے۔ لیکن پاکستان سے پہنچنے والے دو افراد جن میں ایک میں ہوں اور دوسری تیمور کی سسٹر صاعقہ ہے۔ ہم یہاں آسٹریلیا میں بھی پاکستان کی طرح چوبیس گھنٹے فارغ ہی رہتے ہیں۔ صاعقہ نے تو پھر بھی اپنے آپ کو امورِ خانہ داری میں مصروف کر لیا ہے۔ لیکن مجھے سیر سپاٹے اور آوارہ گردی کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں۔


