چندریان تھری! پوری انسانیت کی کامیابی ہے

مجھے آسمان سے عشق ہے زمین پے ہموار نظر دوڑائیں تو تقسیم ہے باڑیں ہیں کئی تعصب ، نفرتیں، بغض، دشمنیاں، سرد جنگیں انسانیت کے پاؤں میں بیڑیاں بنی ہوئی ہیں پر جیسے ہی آپ اوپر سے دیکھیں تو ساری باڑیں چھٹ جاتی ہیں اور پوری دنیا سمٹ کر ایک پلانٹ بن جاتی ہے، پلانٹ ارتھ ہمارا گھر۔ ایک بہت دلچسپ کہانی ہے ناسا نے دہائیوں پہلے خلا میں ایک روور Voyager_1 لانچ کیا جسکا مقصد محض ڈیپ سپیس میں جانا اور معلومات دینا تھا یہ روور آج بھی برق رفتاری سے ڈیپ سپیس میں محو سفر ہے اور ہمارے گھر سے تقریبآ 14.8بلین کلومیڑ دور ہے مگر یہ بات ہے 1990 کی جب Voyager_1 ہم سے 3.7 بلین کلومیٹر دور تھا اور ویلنٹائن ڈے پر اسے اپنے گھر "پلانٹ ارتھ” کی یاد ستانے لگی تو اس نے یارگار کے طور پر Neptune کے پرے سے اپنے گھر کی ایک تصویر کھینچی جو آج "بلیو ڈاٹ پک” کے نام سے مشہور ہے۔ سارے ملک ساری انائیں سارے فخر اور ساری رنجشیں کہیں گم بس ایک نقطے میں سمٹ گئیں تھیں۔ ہمارے یہ سارے تعارف ہمارے ذاتی تخلیق کردہ ہیں فرض کریں آپ بہت دور نہیں بس ہماری ذمین کی واحد نیچرل سیٹلائٹ چاند پر کھڑے ہیں اور کوئی بہت ہی فرینک قسم کا ایلین آپ سے پوچھتا ہے بھئی کہاں سے آئے ہو؟ آپ کیا کہو گے میں فلاں فلک کے فلاں صوبے کے فلاں شہر کے فلاں محلے سے ہوں یا بس انگلی اٹھا کر اوپر آسمان میں اسے ارتھ دکھا دو گے۔ جب آپ زمین کی سرحدوں سے باہر نکلتے ہو تو آپکا محلہ نہیں پورا گلوب آپکا واحد تعارف ہوتا ہے۔
چندیان تھری کے لانچ ہوتے ہی ہمارے ہاں اکثر لوگ سوشل میڈیا پر اتنے خائف نظر آئے کہ انکا بس چلتا تو خود جا کر اسے ڈیپ سپیس میں پٹخ دیتے۔ مگر ایسے مشن میرے دل کے خاص قریب رہتے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کسی سپیس مشن پر کوئی خاص ملک کے لوگ جی جان لگا دیتے ہیں اسکی کامیابی پر اپنے مخصوص نعرے لگاتے ہیں مگر جیسے ہی کوئی مشن زمین کے Orbit سے نکلتا ہے اس پر آپ کے قوانین آپ کے تعصب اور غم وغصہ حاوی نہیں ہو سکتے وہ مشن Outer Space Treaty کے قوانین کے دم پر ہوتا ہے جو پوری انسانیت کے فائدے کی ضامن ہے۔ چندیان تھری پر پوری انسانیت بلا شبہ فخر کر سکتی ہے کیونکہ یہی ISRO ہے جسکے سائنسدان 1963 میں لانچر تک راکٹ کے پرزوں کو لانے کے لیئے سائیکل استعمال کررہے تھے مگر صرف محنت ہی تھی کہ 2014 میں یہ ایجنسی ماریخ کے آربٹ میں اپنا سیٹلائٹ بھیج پائی۔ اس مشن سے ہونے والی تحقیق صرف بھارت ہی نہیں پوری انسانیت کے لیئے فائدے کا سبب بننے والی ہے اس لیئے آج رات ایک نظر چاند پر ڈالیے اور مسکرائیے یہ سوچ کر کے یہ چاند تو کیا پورا سولر سسٹم ہم انسانوں کی پہنچ سے باہر نہیں ہو سکتا۔ ہم جلد Interplanetary species بننے کو ہیں۔
آپ کو شاید یہ جان کر حیرت کا شدید جھٹکا لگے کے پاکستان میں سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمشن (SPARCO) کے نام سے 1961 میں ڈاکٹر عبدالسلام کے زیر سایہ ایک ادارہ بن چکا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب پاکستان ساوتھ ایشیاء میں سپیس ایجنسی رکھنے والا پہلا ملک بنا۔ سپارکو نے 1962 میں پہلا ساونڈنگ راکٹ خلا میں لانچ کیا۔ ساونڈنگ راکٹ اصل میں ریسرچ کی غرض سے بنے خاص راکٹ ہوتے ہیں جن پر مختلف انسٹرومنٹ لگے ہوتے ہیں ہمارے لیے فخر کی بات یہ ہے کہ 1972 تک پاکستان 200 تک ساونڈنگ راکٹ لانچ کر چکا تھا مگر افسوس! 1971 کی جنگ اور پھر آمروں اور سیاستدانوں کی کھینچا تانی نے ماحول بدل دیا۔ ایک وجہ تو یہ بھی تھی کہ اس جنگ کے بعد بیشتر سائنسدانوں کو سپیس سے ہٹا کر ایٹم بم بنانے پر لگا دیا گیا مگر ساتھ ساتھ حکومتی عدم توجہی اور fund crunches نے اس ادارے کو سپیس ایجنسیوں کی دوڑ سے باہر ہی کر دیا۔
خلائی تحقیقات کے مخالفین ہمیشہ ایک بنیادی بحث کرتے نظر آئیں گے "اتنا بجٹ سپیس پر پھونکنے کی بجائے یہاں کے مفلس و نادار لوگوں پر خرچ کیوں نہیں کرتے؟ پہلے زمین رہنے کے قابل بنا لو پھر اور سیارے ڈھونڈو” تو بھئی صاف جواب ہے ایسا نہیں ہو سکتا یہ تحقیق انسانی نسل کو بچانے کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی سانس لینے کے لیے آکسیجن۔ گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس ایفکٹ نے ہمارے گھر (ذمین) کو وینٹی لیٹر پر ڈال دیا ہے۔ کلائمیٹ چینج ہمارے لیے ایٹم بم سے بڑا خطرہ ہے مگر ہم سمجھتے نہیں۔ ہماری ذمین کا درجہِ حرارت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور عنقریب ناقابل برداشت ہو کر انسانوں ، جانوروں حتیٰ کے پودوں کے لیئے بھی موت کا باعث ہو گا۔ناسا کے گلوبل کلائمیٹ چینج ابزویشن ادارے کے مطابق2037 تک ہمارے نارتھ پول پر برف کا کوئی گلیشیر نہیں بچے گا۔ اس کا صاف صاف مطلب ہے مالدیپ آہستہ آہستہ سمندر میں جا رہا ہے، 2028 تک اٹلی کا شہر وینس نا قابل رہاہش ہو گا, انڈونیشیا، سری لنکا، بھوٹان، سنگاپور بھارت اور پاکستان کے پورا سندھ سمیت آدھی سے ذیادہ ذمین سمند میں ہو گی۔ طوفانی بارشوں اور حبس کا عذاب الگ۔ قحط سے تڑپتے لوگ ایک دوسرےکو نوچ کھائیں گے اور جو بچ گئے انہیں موسم خونی دانت دکھاتا ملے گا۔ صورتحال بتانا محال ہے مگر یہ دور کے مستقبل کے اندازے نہیں یہ خطرات چند سال بعد ہمارے منتظر ہیں۔ ہماری نسل پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں ایک سرپرائز یہ بھی ہے کہ ایک مستند ریسرچ کے مطابق 2045 تک ہماری تخلیق کردہ مصنوعی ذہانت (AI) ہمارے ہی خلاف ہتھیاروں سے لیس کھڑی ہو گی۔
کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ نصف صدی بعد چاند اچانک ہماری تمام تر توجہ کا مرکز کیوں بن گیا ہے بنا ہوا اور پانی کے؟ تو اطلاع عرض ہے ذمین پر کوئی بھی سپیس مشن لانچ کرنے پر بہت آلودگی ہوتی ہے کم گریویٹی ہونے کے سبب چاند ہمارا لانچنگ پیڈ بن سکتا ہے۔ چاند پر ہمیں کلین انرجی کا بہت بڑا سورس ہیلیم تھری ملا ہے یہ ائسوٹوپ بے حد طاقتور ہے۔ ذمین پر ہم نیوکلیر انرجی کو سب سے طاقتور مانتے ہیں مگر اس میں یورینیم کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے تابکاری کے خطرات جڑے ہیں مگر ہیلیم تھری میں یہ مسائل نہیں۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ چاند کی فار سائیڈ جو ہمیں کبھی نظر نہیں آتی اس پر پانی اور برف کے 600ارب کلوگرام کے ذخائر ملے ہیں وہاں برف کی جھیلیں ہیں جو ذندگی گزارنے اور آکسیجن سلنڈر بھرنے کے کام آ سکتے ہیں۔ اور یہ جھیلیں ہیں کہاں ؟ چاند کے ساوتھ پول میں وہیں جہاں چندیان تھری اترا ہے۔ برائے مہربانی تعصب کی عینک اتاریے اور انسانیت کی اس کامیابی کو کھلے دل سے تسلیم کیجئے۔

