کھلی آنکھوں کا خواب (3)
فلائی بغداد کا چھوٹا سا طیارہ بالآخر عراق اور دوبئی کا ویزا لگ کر آیا تو تیاری کے لیے ہمارے پاس محض دو چار دن تھے۔ چار گھنٹے کی فلائٹ تھی اور میں یادوں کے رتھ پر سوار بچپن، لڑکپن، جوانی کن کن وادیوں اور جزیروں کی سیر کرتی رہی۔
ضیاء الحق کا زمانہ ہے۔ 1983 ء میں پہلی بار خواتین کونسلرز کی سیٹیں اناؤنس ہوئی ہیں۔ میں پہلی بار الیکشن جیت کر ٹاؤن کمیٹی امان گڑھ کی خاتون کونسلر بنی ہوں۔ حلف لینے کے بعد فوراً کراچی کا دورہ آ گیا جہاں پاکستان بھر سے خواتین کونسلرز مدعو تھیں۔ مہمان خصوصی فخر امام تھے۔ ساتھ ان کی بیگم جھنگ کونسل کی چیئرمین بیگم عابدہ حسین تھیں۔ رات کے وقت کراچی پہنچے اور صبح قصر ناز میں سب اکٹھے ہوئے۔ اس وقت کراچی کے مئیر جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی تھے۔ عصر کے وقت بہت سی گاڑیوں پر مشتمل قافلہ مورو اندرون سندھ روانہ ہوا جہاں سکھر میں اسلام الدین شیخ نے میزبانی کی اور چوں کہ فخر امام وفاقی وزیر بلدیات تھے، اس لئے جگہ جگہ ہر یونین کونسل، ٹاؤن کمیٹی والے ڈھول کی تھاپ پر روکتے ہوئے استقبال کرتے۔ مرد حضرات کو ٹوپیاں اور ہمیں اجرک دیتے۔
یوں ہی رکتے رکاتے رات گئے مورو پہنچے جہاں ایک صنعتی نمائش کا افتتاح ہوا۔ سٹال دیکھے۔ زبردست قسم کا عشائیہ جو سندھ والوں کی مہمان نوازی کا مظہر تھا، کھایا اور جب ثقافتی شو شروع ہوا تھا تو اسے دیکھے بنا تھک ہار کر سو گئے۔
اصل بات بیچ میں رہ گئی کہ جب رکتے رکاتے مورو پہنچے تو راستے میں سہون شریف کا سنگ میل دیکھا اور دوسری جانب مڑ گئے تو دل میں سوچا
کہ واہ اتنے قریب آ کر لال شہباز قلندر کے مزار پر نہ گئے تو کیا فائدہ۔ پھر اندرون سندھ کے اس علاقے میں کون آئے گا۔ خیر دل میں ایک خیال آیا اور گزر گیا۔ دوسرے دن سیمینار تھا۔ وہاں بیگم تزئین فریدی، گلزار انڑ اور دیگر کئی معروف خواتین کونسلرز موجود تھیں۔ سلمان فاروقی سندھ کے صوبائی وزیر بلدیات تھے۔ تقریب جاری تھی کہ وہ ہمارے پاس آئے۔ میرے ساتھ ڈسٹرکٹ کونسل مردان کی کونسلر بیگم علی اکبر تھیں۔ انہوں نے پوچھا آپ صوبہ سرحد سے ہماری مہمان ہیں، آپ کچھ کہنا چاہیں گی؟
بیگم علی اکبر نے میری طرف دیکھا کہ تم کچھ کہہ لو۔ خود انہوں نے معذرت کرلی۔ میں نے جلدی جلدی کچھ پوائنٹ لکھے۔ تقریر کی تو سب نے پسند کی۔ ظہرانے پر کافی لوگوں نے تعریف کی۔ ظہرانے کے بعد ہم کراچی کے لئے روانہ ہوئے۔ واپس جاتے ہوئے کسی یونین کونسل میں رکے۔ چائے پیتے ہوئے سب بیٹھے ہوئے تھے کہ سلمان فاروقی نے مسکراتے ہوئے کہا بھئی آج تو آپ نے انہیں (فخر امام کی طرف اشارہ کر کے ) فخر عالم کا خطاب دے ڈالا۔ ہائیں ہم شرمندہ ہو گئے کہ گھبراہٹ میں فخر امام کی بجائے فخر عالم کہہ گئے مگر ان کے اگلے جملے نے سیروں خون بڑھا دیا۔ ”تقریر آپ نے بہت اچھی کی اور اسی خوشی میں ہم نے اپنے پروگرام میں تبدیلی کی ہے اور اب آپ لوگوں کو سہون شریف لے کر جا رہے ہیں۔“
مغرب سے کچھ پیشتر ہم سہون شریف پہنچے۔ باہر عالم چنا کھڑے تھے۔ اندر ہمیں مزار تک لے جایا گیا اور مزار سے دوپٹے اٹھا کر ہر ایک کو دیے گئے۔ میرے حصے میں سبز دوپٹہ آیا۔ پھر بیگم عابدہ حسین کی فرمائش پر دھمال کا انتظام کیا گیا۔ ہم سب کو ایک اونچے چبوترے پر بٹھا دیا گیا۔ نیچے صحن میں قد آدم ڈھول اور درویشوں کا دھمال، رات کا وقت لگا جیسے ساری کائنات رقص میں ہے۔ سہون شریف خصوصی طور پر لے جایا جانا، مزار کے اندر تک رسائی، کیونکہ قد آدم بڑے بڑے ڈھولوں کی تھاپ پر یہ دھمال خاص مواقع پر ہوتا ہے مگر بیگم عابدہ حسین کی فرمائش پر متعلقہ لوگوں کو بلوایا گیا۔
ایسا پرجوش دیوانہ وار دھمال منعقد ہوا کہ ہم سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگے۔ ایک ایسا منظر جو کئی دہائیوں کے بعد بھی تازہ ہے۔ دوپٹے کا تحفہ، پھر دھمال کا اہتمام کرنا، یہ سب اب بھی ذہن کے دریچے پر جیسے نقش ہے۔ میں نے مزار سے اٹھایا گیا دوپٹہ سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ رات گئے دھمال دیکھ کر نکلے تو حیدرآباد بیگم امینہ اشرف کے گھر ٹھیکی لی۔ ان کا وسیع و عریض ڈرائنگ روم، ڈائننگ روم اور گھر دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔ وہاں سے نکل کر جب کراچی مہران ہوٹل پہنچے تو رات ڈھلنے کو تھی۔ ہم اتنے تھکے ہوئے تھے کہ جاتے ہی سو گئے۔ دوسرے دن ہماری واپسی کی فلائٹ تھی۔
گھر آ کر بھی بار بار شکر ادا کیا کہ دل سے ایک خیال گزرا اور میرے مہربان رب نے کیسے پروگرام کو بدلوا کر حقیقت کر دیا۔ دل خوش گماں کو کیسی مسرت اور قرب کا احساس ہوا۔ کیا بتائیں۔
اب ہمیں ایران، شام اور بغداد کی زیارات کرنے کا بھی شوق رہا۔ ایک عمرے کے دوران ایک اہل تشیع خاتون سے گفتگو ہوئی تو پتہ چلا کہ ان کے عمرہ پیکج میں کربلا، شام اور ایران بھی شامل ہے اور پیکج زیادہ مہنگا بھی نہ تھا۔ نسیم کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ سنیں اگلا عمرہ اہل تشیع کے ساتھ کرتے ہیں اور یہ سب جگہیں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی احمقانہ بات کر دی ہو۔
خیر پھر ایبٹ آباد میں عائشہ کی اہل تشیع دوست ایران سے واپس آئیں تو میں نے انہیں کہا اگلی بار آپ جائیں تو مجھے بھی ساتھ لے چلیں مگر چاہت کے باوجود بوجوہ ایسا نہ ہو سکا کہ نسیم رضامند نہ ہوتے۔ ان کی اجازت اور ساتھ کے بغیر تو یہ ممکن نہ تھا۔
عراق میری پہلی ترجیح تھا کہ یہاں اہل بیت کے علاوہ شیخ عبدالقادر جیلانی اور امام ابو حنیفہ جیسی جلیل القدر ہستیاں بھی تھیں۔ سہون شریف کا قصہ بیان کرچکی ہوں۔ تو اسی کو یاد کر کے خود کلامی کرتے ہوئے کہتی، لو جی دل میں اک خیال گزرا اور فوراً بلاوا آ گیا۔ جب کہ یہاں تو۔
2007 ء میں قطر ائر لائن سے کینیڈا گئے تو سامنے لگی سکرین پر نظر آیا کہ عراق پر سے گزر رہے ہیں۔ کھڑکی سے جھانکا تو سلام بھیجے۔ دل کو تسلی دی کہ بلاوا تو نہیں آیا مگر چلو خیر عراق کے اوپر سے گزر رہے ہیں تو انشاءاللہ کبھی بلاوا بھی آ جائے گا۔ دل میں دبی دبی یہ خواہش سر اٹھاتی کوشش کرتے مگر
اے بسا آرزو کہ خاک شد
پھر 2021 ء میں ہم دوبئی میں ہی تھے کہ پتہ چلا داماد جی کی پوسٹنگ عراق ہونے کا امکان ہے۔ دل خوش گماں نے کہا کہ ان کی پوسٹنگ انشاءاللہ عراق میں ہوگی۔ پھر عراق ہو گئی تو دل خوش فہم کی مت پوچھیں۔ لگا یہ سارا انتظام ہمارے لئے ہے۔ اپنے سوہنے رب سے کیا کیا باتیں کیں۔ کیا بتائیں۔ دو سال گزر گئے مگر دل کو اک گونہ اطمینان تھا کہ انشاءاللہ جائیں گے۔ خیر اب جب پروگرام بنا تو پھر ہمارے نصف بہتر کی وہی رٹ عمرہ نہ کر آئیں!
عمرے اللہ نے نصیب کیے ہیں۔ اپنے پیارے نبی کے چہیتے اور پیاروں کے در پر بھی جانا چاہیے نا اور ہاں حج کے دن ہیں، ان دنوں عمرہ کہاں ہو سکتا ہے۔ خیر عائشہ حج کر کے واپس آئی تو ہمارے دوبئی اور عراق کے ویزے لگ کر آ گئے۔ کوئی خواب نہیں دیکھا۔ کوئی اشارہ نہیں ملا مگر سوئے نجف رواں ہیں۔ تو یہ کئی برسوں کی محبت اور کھلی آنکھوں کا وہ سندر سپنا تھا جو اللہ کے کرم سے شرمندۂ تعبیر ہوا اور بالآخر بلاوا آہی گیا۔ ہم سرخوشی، شکر کی کیفیات اور یادوں میں گم تھے کہ ائر ہوسٹس شبانہ نے حفاظتی بیلٹ باندھنے کا کہا۔ ہم جانے کن کن جہانوں کی سیر کرتے ہوئے لمحۂ موجود میں واپس آئے۔ (جاری ہے )


