مانگنے والے کو ہی ملے گا
نوکری کے بچپنے ہی سے سنتے آئے ہیں کہ بن روئے تو ماں بھی بچے کو دودھ نہیں دیتی۔ اس لئے اپنا کام کاج پورا کرنے کے بعد بھی ضرور ”رویا“ کریں تاکہ مناسب عوضانہ ملتا رہے اور سہولیات میں بھی کچھ اضافہ ہو جائے۔ کچھ قسمت کے دھنی ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو مالک کل بن مانگے ہی آسائشوں کی گٹھری عطا فرما دیتا ہے اور کچھ کے نصیب کی آسانیوں کو ان کے مانگنے سے جوڑ دیا جاتا ہے اور کچھ خوش قسمت لوگوں کو وہ آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخش دیتا ہے۔ جیسے جیسے تقسیم بڑھتی ہے ویسے ویسے عطا میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
اک بصری فیتا (ویڈیو کلپ) نظر سے گزرا ’سکھ مذہب کا کوئی نوجوان ہے۔ کسی میلے کا سا سماں ہے۔ نوجوان سٹیج پہ بیٹھا ہے‘ اس کے لمبے بالوں میں اٹکی گلاب اور گیندے کے پھول کی پتیاں بتاتی ہیں کہ ابھی تازہ تازہ ہی گل پاشی کی رسم ادا ہوئی ہے۔ پس منظر میں سازندے موقعے کی مناسبت سے منقبت کی طرز جیسی کوئی موسیقی پیش کر رہے ہیں۔ سامنے اک ہجوم ہے جو سٹیج پہ بیٹھے نوجوان کی اک جھلک دیکھنے کو بیتاب ہے۔ نوجوان کے گرد اس کے محافظ ’حواری یا چیلے بیٹھے ہیں جو لوگوں کی عرضیاں اس تک پہنچا رہے ہیں۔
چند ثانیے گزرے کہ کسی نے ایک پاسپورٹ اس نوجوان کے آگے رکھ دیا۔ نوجوان کے ہونٹوں پہ بے اعتنائی والی اک مسکراہٹ ابھری۔ پاسپورٹ کھولا اور جو بھی صفحہ کھلا اس پہ ’کھبے ہاتھ‘ کی شہادت والی انگلی سے کچھ لکھنا شروع کر دیا۔ تحریر کے آخر میں لکیر ضبط کرتے ہوئے اس کی مسکراہٹ معنی خیز اور قابل دید تھی۔ اس کی مسکراہٹ میں سائل کے لئے یقین کا پیغام تھا۔ کہ اسے لگے کہ اس کا آنا رائیگاں نہیں گیا ’یہاں تک پہنچنے کی محنت اکارت نہیں گئی‘ دستخط کی ضبطی نے یقین کو بڑھا دیا کہ وہ منزل جس کو پانے کی دھن میں وہ یہاں آیا تھا اب بچ کے کہیں نہیں جا سکے گی۔ اس سکھ نوجوان کا عمل جیسا بھی تھا لیکن اس نے سائل میں یقین بھر دیا۔
جب ایک عام سا شخص ایک اور بندے سے یقین کی حد کو پا سکتا ہے اور حقیقت میں وہی یقین اس کی اپنی کامیابی کا باعث بنتا ہے تو اس مالک کل کے سامنے ’جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے‘ جس کی کن کی محتاج ہر چیز ہے ’جہاں سے سب ہونے کا یقین ہے‘ اسے اپنی بپتا بتاتے ہوئے جب ہم امید اور یقین سے خالی ہوتے ہیں تو اس خالی اور کھوکھلے پن کا اثر ہماری دعاؤں کو ’التجاؤں کو اور ہماری مناجات کو بے اثر کر دیتا ہے۔ الفاظ محض حلق سے نکل کے ہونٹوں پہ ہی گم ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب سے بھی کوئی ایسا اشارہ یا کنایہ نہیں ملتا کہ کچھ امید بندھے تو بالآخر ہم خود ہی مایوسی کو پر پھیلانے کا موقع دیتے ہیں۔
آج کل تو گاڑیوں کی قطاروں کے درمیان پیشہ ور بھکاری بھی تب تک شیشے کا ”کھیڑا“ نہیں چھوڑتے جب تک آپ کچھ دے نہ دیں ’یا جب تک ٹریفک کا سگنل نہ کھل جائے۔ تو ہم اپنے رب کے ”کھیڑے“ کیوں نہیں ”پے“ سکتے۔ یقین سے مانگی گئی دعا ہی دراصل کامیابی کی کنجی بن جاتی ہے۔ اور اس کنجی سے وا ہونے والے در کی فیوض و برکات کا شمار ممکن ہی نہیں۔ اسی وحدہ لاشریک رب سے کامل یقین سے مانگنا ہی اصل مانگنا ہے۔ اور ملتا‘ مانگنے والے کو ہی ہے۔ جس کی جیسی طلب اس کو ویسی ہی عطا


