پاکستان پر عفریت کا سایہ


قیام پاکستان کے وقت گو کہ قائد اعظم کو زیادہ وقت نہ ملا، لیکن پھر بھی پاکستان کے لیے ایسے فلاحی نظام کے قیام کا خاکہ بنایا گیا تھا، جیسا کہ آج مغرب کے مثالی فلاحی ممالک میں موجود ہے، جس میں عوامی ضروریات اور سہولیات و خدمات کے شعبے سرکاری تحویل میں اور حکومت کی ذمہ داری ہوتے، اور اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر صنعت کاری، بینک کاری اور تحقیق کے شعبوں میں میں سرکاری اداروں کے شانہ بشانہ کام کرتا ہے۔ کچھ سال تک تو یہ نظام کسی حد تک کامیابی سے کام کرتا رہا، جس دور کو آج بھی بہت سے لوگ یاد کرتے ہیں، اس فلاحی نظام کے تحت خوراک، تعلیم، علاج، رہائش اور رسل و رسائل حکومت کی ذمہ داری تھا، برا بھلا چند سال تک یہ نظام جاری رہا اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں قابل ذکر طور پر اپنی افادیت ثابت کرتا رہا، ہماری نسل کو اب تک وہ راشن ڈپو سے سستے داموں خوراک کی بنیادی اشیاء کی فراہمی، سرکاری تعلیمی اداروں میں یونیورسٹی کے درجے تک کی معیاری تعلیم، رسل رسائل کی بہترین سرکاری سہولیات جن میں شہروں کے لیے اربن ٹرانسپورٹ، شہروں کے درمیان اور بین الاضلاعی اسفار کے لیے گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کا بہترین نظام، طویل سفر اور اشیاء کی نقل و حمل کے لیے کے لیے پاکستان ریلوے اور اندرون ملک اور بیرون ملک سفر کے لیے ”پی آئی اے“ جیسی مثالی اور بہترین سروس جو سرکاری سرپرستی اور انتظام کے تحت کام کر رہی تھی، یاد ہے۔

سرکاری ہاؤسنگ کا شعبہ مختلف شہروں میں عوام کو رہائش کی فراہمی کے لیے انتہائی بہترین، تمام سہولتوں کے ساتھ انتہائی سستے داموں عوام کی قوت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاؤسنگ سکیمز کی تیاری اور الاٹمنٹ کا کام کر رہا تھا۔ اس زمانے میں ان سہولیات اور ان کا بہتر ہوتا ہوا معیار دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان اپنے قیام کے بعد کی مشکلات پر قابو پا کر بہت جلد دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہونے لگے گا۔

لیکن دوسری طرف ایک ”کھیل“ اور بھی جاری تھا جس میں انتہائی اعلیٰ درجے کی فنکارانہ مہارت سے رچی سازش کے ذریعے پاکستان کی سیاسی قیادت کو راستے سے ہٹایا گیا، ایک پراسرار فضائی حادثے میں پاکستان کے سینئیر ترین اور آئندہ آرمی چیف بننے والے جنرل افتخار اور چند دوسرے سینئیر افسران کی ہلاکت کے واقعے سے میدان میں حسب منشاء ری پوزیشننگ کی گئی، اور ایوب خان کو آگے لایا گیا، اور ملک کا اقتدار سیاسی قیادت سے چھین کر کمزور سول نوکر شاہی کے حوالے کر دیا گیا، ان کی سرپرستی سے کچھ عرصہ تک پاکستان میں اقتدار کے لیے ”میوزیکل چئیر“ قسم کا کھیل کھلایا جاتا رہا، اور پھر ”مناسب وقت“ آنے پر ان کمزور اور عوامی حمایت سے محروم بیوروکریٹس کو ہٹا کر اس وقت کی عسکری قیادت نے ایوب خان کی قیادت میں براہ راست اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

آج ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو واضع طور پر ایسا دکھائی دیتا ہے، کہ قیام پاکستان کے فوری بعد سے بیرونی طاقتوں برطانیہ اور امریکہ نے اپنے سابقہ قریبی تعلق اور ”رشتے“ کی بنیاد پر کچھ اداروں کی پس پردہ مدد اور حوصلہ افزائی کے ذریعے پاکستان کے اقتدار کا میدان اپنے مفادات کے مطابق ترتیب دیا، اور پاکستان کے اقتدار کو اپنے کنٹرول سے باہر والی سیاسی قیادت سے بتدریج چھین کر ان کو راستے سے ہٹا دیا گیا، اس ضمن میں لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی کے پائے کے لیڈرز کو جنہوں نے تحریک پاکستان کی تحریک کی قیادت میں قائد اعظم کے شانہ بشانہ کام کیا، ان کو راستے سے ہٹا دیا گیا، اس عمل میں سازش کنندگان کو حاصل بیرونی طاقتوں کی سرپرستی کے شواہد بھی واضح ہیں۔

ان تمام سازشوں اور جوڑ توڑ کے بعد اکتوبر 1958 میں جب ایوب خان نے براہ راست اقتدار سنبھالا تو اس کے بعد جو سلسلہ اور تعلق پوشیدہ تھا، وہ رفتہ رفتہ منظر عام پر آنا شروع ہو گیا، امریکہ ہی کی ہدایت بلکہ حکم پر بھارت کے ساتھ اس کے مفادات کے مطابق ”سندھ طاس معاہدہ“ کیا گیا جس میں تین جنوبی دریا، راوی، ستلج اور بیاس مکمل طور پر بھارت کے حوالے کر دیے گئے اور تین شمالی دریاؤں چناب، جہلم اور سندھ پر پاکستان کا مشروط اور محدود حق طے کیا گیا ساتھ ہی پاکستان کے حصے میں آنے والے ان تینوں دریاؤں پر بھارت کا ”حق استعمال“ بھی تسلیم کیا گیا، جبکہ بھارت کے حصے میں آنے والے تین جنوبی دریاؤں پر بھارت کا مکمل حق تسلیم کرتے ہوئے ان پر پاکستان کے ”حق استعمال“ سے دستبرداری قبول کی گئی۔

اسی دور کا ایک تاریخ ساز واقعہ پاکستان کا روس کے خلاف تشکیل دیے گئے امریکی فوجی اتحاد سیٹو کا حصہ بن جانے کا فیصلہ تھا، جو واضح طور پر پاکستان کے خلاف روس کی کسی ”امکانی جارحیت“ کے خلاف امریکی مدد پر مشتمل تھا، لیکن اس معاہدے میں واضح طور پر تحریر کر دیا گیا کہ دی جانے والی امریکی عسکری امداد کسی بھی طرح بھارت کے خلاف استعمال نہیں کی جا سکے گی، بھارت کے وزیر اعظم پنڈت نہرو نے اسی معاہدے کو بہانہ بنا کر کشمیر میں رائے شماری کے اپنے ہی وعدے پر عمل سے صاف انکار کر دیا۔

اسی معاہدے کی وجہ سے انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے دوران امریکہ نے ہم پر ، کئیے گئے معاہدے اور امریکی اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال نہ کرنے کے وعدے کو وجہ بتا کہ ہمیں اسلحہ اور اس کے فاضل پرزوں اور ایمونیشن کی سپلائی روک دی تھی۔ اسی دور میں پاکستان میں نظریاتی محاذ پربھی سرمایہ دارانہ نظریے کے مقابل ترقی پسندانہ اشتراکی نظریہ پر کڑی ضرب لگائی گئی، اس دور میں سوشلزم کا نظریہ ایک ناقابل معافی جرم تصور کیا جانے لگا، اور اس نظریے پر یقین رکھنے والی قیادت کو صرف ان کے نظریے کی پاداش میں چن چن کر جیلوں میں ڈالا گیا، کئی ایک کو اذیت گاہوں میں تشدد کر کے ہلاک تک کر دیا گیا، پاکستان میں ترقی پسند پارٹی کے لیڈر اعلی تعلیم یافتہ حسن ناصر کو شاہی قلعے میں تشدد سے ہلاک کر دیا گیا، یہ بنیادی طور پر سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت کے نظریات کی جنگ تھی جس میں پاکستان کی اسلامی سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں کی حمایت ہمیشہ کی طرح سرمایہ دارانہ نظام کی طرف رہی، سوشلزم اور مساوات انسانی کی بات کرنا یا نظریہ رکھنا ناقابل معافی جرم قرار دے دیا گیا، اس تمام نظریاتی کشمکش کے پس منظر میں امریکی مدد، سرپرستی اور حمایت مکمل طور پر پاکستان کے اقتدار پر قابض آمر ایوب خان کو حاصل رہی۔

پاکستان کی ریاست اور سیاست میں اس بالواسطہ امریکی نفوذ نے بتدریج اپنے سرمایہ دارانہ نظریے کے تحت حکومتی سرپرستی کے تحت عوامی فلاحی نظام پر کڑی ضرب لگائی اور بتدریج پاکستان کی اقتصادیات پر چند سرمایہ دار خاندانوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا جانے لگا، اسی لیے صدر ایوب کے طویل دور حکومت میں پاکستان کی معیشت اور سرمائے کا ارتکاز بتدریج سرکاری شعبے کے ہاتھوں سے نکل کر ”بتیس“ خاندانوں کے ہاتھوں میں آ گیا، اس بنیادی تبدیلی کو عوام کے مفاد میں بتانے کے لیے میڈیا کے ذریعے ایک منظم مہم چلائی گئی، جس میں عوامی بنیادی ضروریات اور خدمات کی فراہمی کے حکومت پاکستان کے وعدے اور اقدامات کو ملکی معیشت کے لیے تباہ کن بتایا جانے لگا، اس پراپیگنڈہ کی اڑائی ہوئی دھول میں کوئی یہ نہ دیکھ سکا کہ پاکستان کے تقریباً ہمسائے میں روس نے کس طرح ریاستی ذمہ داری میں ایک ایسا نظام تشکیل دیا جس نے ان کو علم و ترقی کی اس معراج پر پہنچا دیا کہ وہ ہر شعبے میں امریکہ کی برابری کرنے لگا بلکہ بعض شعبوں میں اسے کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔

لیکن ہمارے ملک میں سرمایہ دارانہ نظام کی حمایت میں ہمارے دینی طبقات اور مکاتیب فکر ذاتی ملکیت کے تقدس کے نام پر سرمایہ دارانہ نظام اور آمریت کے مددگار کا کردار ادا کرتے رہے۔ آج ہم جس مقام پر پہنچ چکے ہیں یہ اسی ”نظریاتی“ تسلسل کا منطقی نتیجہ اور شاخسانہ ہے، جس نے رفتہ رفتہ ہمیں تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے، موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ اس وقت مشکل میں صرف عوام ہیں جو اپنے بچوں کو ہلاک کرنے اور خود کشی تک پہنچ چکے ہیں، جو ”آئی ایم ایف کا قض عوام کی مشکلات کم نہیں کر سکتا اس کو نہ لینا ہی زیادہ فائدہ مند ہو گا۔

حکومت کروڑوں ڈالرز ایسی اشیاء پر خرچ کر رہی ہے جو صرف امراء کے استعمال میں آتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایسی درآمدی اشیاء پر محدود پابندی لگانے کی کوشش کی لیکن آئی ایم ایف نے یہ پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کی شرط عائد کر دی، گویا انہوں نے ہمیں ایسے اقدامات بھی نہیں کرنے دینے، جو ہمیں اس کیفیت سے نکلنے میں تھوڑی سی بھی مدد کرتے ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی تمام اشیاء کی برآمد پر مکمل پابندی لگا دی جائے اور اپنا نظام اس طرح ترتیب دیا جائے، کہ اپنے ملک میں پیدا ہونے والی اشیاء کو ہی استعمال کیا جائے، جو کچھ ہم خود بنا سکتے ہیں ان اشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے، ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں قیام میں لائے گئے اداروں ہیوی مکینیکل کمپلیکس، اور ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کو دوبارہ جدید بنیادوں پر فعال کیا جانا چاہیے، سٹیل مل ایک اثاثہ ہے، پوری دنیا میں کوئی بھی سٹیل مل نقصان میں نہیں جا رہی سوائے ہماری اس سٹیل مل کے، اس مل میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی کئیے گئے تمام فالتو ملازمین کی بھاری تعداد کو گولڈن شیک ہینڈ دے کر فارغ کیا جانا چاہیے، اور سٹیل مل کو جدید کاری اور بحالی کے لیے کم از کم دس سال تک کے لیے روس کے حوالے کر دیا جانا چاہیے، ہمارا ہمسایہ برادر ملک ایران شدید ترین پابندیوں کے باوجود بھی انتہائی معیاری پراسیسڈ فوڈ آئٹم تیار کر رہا ہے، جو سمگل ہو کر انتہائی سستے داموں ہمارے ملک میں بھی دستیاب ہیں، ہم یہ کیوں نہیں کر سکتے، پھلوں، ڈیری مصنوعات اور پراسیسڈ زرعی مصنوعات، لائیو سٹاک فارمنگ کی منظم ملکی پیداوار کے ذریعے پاکستان کے عوام کو سستی اور معیاری اشیاء خورد و نوش ملک کی ہی پیداوار سے تیار کر کے مہیا کی جا سکتی ہیں، خوردنی تیل ملک زرعی پیداوار مثلاً سرسوں اور کینولہ وغیرہ کی ملکی پیداوار میں اضافے کے ذریعے اندرون ملک تیار اور عوام کو فراہم کیا جانا چاہیے، تیل ایران سے سستے داموں درآمد کیا جا سکتا ہے، افغانستان کی طرف سمگلنگ کا مکمل خاتمہ کیا جانا چاہیے۔

لیکن ہمارے مقتدر یہ سب کبھی نہیں کریں گے، تقریباً سب بڑے سیاسی خاندان اور ان کے لواحقین خود سرمایہ دار اور کارخانہ دار ہیں، یہ عوام کے ٹیکسز سے قائم کئیے ہوئے کارخانوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پہلے انتظامی طور پر اوورلوڈ کرتے ہیں، بدانتظامی کا شکار بناتے ہیں پھر ان کو خسارے کا شکار کر کے پرائیویٹائزیشن کے بہانے خود براہ راست یا بالواسطہ طور پر خرید لیتے ہیں، اور پھر معجزانہ طور پر یہی ادارے شاندار کارکردگی دکھانے لگتے ہیں لیکن اس پر بھی یہ مراعات یافتہ طبقہ ٹیکس چوری کرتا ہے، کارٹل بنا کر مصنوعات میں مصنوعی اضافے کو برقرار بھی رکھتے ہیں اور اس کا تحفظ بھی کرتے ہیں، دوسری طرف حکومت میں بھی باری باری یہی چہرے اور خاندان قابض رہتے ہیں لہذا تمام پالیسیاں ایسی بنائی جاتی ہیں جن سے ان درندہ صفت سرمایہ داروں کی مراعات اور ناجائز منافع کا تحفظ اور ان میں اضافہ ہوتا رہے، اس وقت ہماری بڑی صنعتوں اور کارخانوں پر ان ہی سیاسی سرمایہ دار اور جاگیر دار خاندانوں کی اجارہ داری ہے، عوام ان کے لیے ”لائیو سٹاک“ یعنی زندہ ذخیرہ ہیں، جن کو ہر طرح سے لوٹ کر نچوڑ کر ان کے خون سے اپنے چہروں کی سرخی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے انہوں نے امریکی اور عالمی سرمایہ کار اداروں کی ہمیں کمزور، مجبور اور بالآخر تباہ کرنے کی پالیسیوں پر چلنا ہے، اور ان کی ہدایت اور حکم پر اپنے ہی ہاتھوں اپنے ملک کا گلہ گھونٹتے چلے جانا ہے۔ ملک کی قیادت اور انتظام جب تک ان موجودہ خونی جونکوں کے ہاتھ میں رہے گی عوام اسی طرح مشکلات کا شکار اور ذلیل و خوار رہیں گے، افلاطون نے ڈھائی ہزار سال پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ وہ اقوام ناکامی اور تباہی کا شکار بن جاتی ہیں جن کی قیادت سرمایہ دار یا عسکری شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے ہاتھ ہوتی ہے، افلاطون اس کی وجوہات بھی بتاتا ہے کہ ان طبقات کے برسراقتدار رہنے سے کوئی ملک کیسے تباہ و برباد ہوتا ہے، کوئی بھی سرمایہ دار ہو اس کے لیے سب سے مقدم اس کا سرمایہ ہوا کرتا ہے، اور ملک و قوم کے مفادات اس کے لیے ضمنی حیثیت رکھتے ہیں، لہذا وہ اپنے سرمائے اور اثاثہ جات کے تحفظ کے لیے ملک کے مفادات داؤ پر لگا دیتا ہے اسی طرح عسکری شعبوں سے تعلق رکھنے والے اپنی بنیادی تربیت کے تحت ہر کسی کو صرف دو طریقے سے دیکھنے کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں ان کے لیے کوئی یا ان کا دوست ہوتا ہے یا ان کا دشمن، اپنی غیر لچکدار اور محدود ذہنیت کی وجہ سے ان کی سوچ کی حدود بہت محدود ہوا کرتی ہیں، ہمارے ہاں تو بدقسمتی سے اب انحطاط اور بگاڑ کا یہ عالم ہو چکا ہے کہ ان دونوں طبقات میں فرق کرنا مشکل ہو چکا ہے، یہ دونوں طبقے ایک جیسے ہو چکے ہیں، جن میں قدر مشترک سرمایہ اور ذاتی مفادات ہیں۔

جیسا کہ موجودہ حالات میں یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا، لہذا اس ہلاکت خیز نظام کو ہی جاری رکھنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں، یہ بات کرنے اور پھیلانے والے وہ لوگ ہیں جن کے معاشی مفادات اندرون ملک اور بیرون ملک محفوظ ہیں، یا عوام میں سے ایسے جاہل روایت پسند جو ہر مصیبت اور ہر ظلم و استحصال کو ”لوح محفوظ“ پر لکھا ہوا سمجھ اور بتا کر بدستور اس صورتحال کے سامنے جھک جانے اور اس صورتحال کے ساتھ سمجھوتہ کر لینے کو ہی واحد ممکن راستہ سمجھتے اور بتاتے ہیں۔

ان کے پاس تمام انسانی آلام و مصائب کا مداوا اور حل صرف ”بعد از موت“ ہے لہذا ان کے مطابق صبر سے خود بخود حالات بدلنے یا اپنی موت کا انتظار کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ جب تک ہم اپنے ملکی اور عوامی مفاد میں پالیسیاں تشکیل نہیں دیں گے عوام اسی طرح اپنے بچوں کو ہلاک کر کے خود کشیاں کرتے رہیں گے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ہم کبھی بھوکے نہیں مر سکتے لیکن ہر شعبے میں پالیسی ساز پوزیشنز پر ایسے بکے ہوئے مفاد پرست افراد بٹھائے گئے ہیں، جن کے تمام ذاتی مالی مفادات بیرونی ممالک میں ہیں۔ ان حالات میں موجودہ نظام کا تسلسل اور اس پر اصرار قومی خودکشی کے علاوہ کچھ نہیں۔

Facebook Comments HS