اتنے پیدا کرو، جتنے پال سکو


ہمارے گھر ایک ملازمہ کام کرتی تھی گی الوقت رانی نام سمجھ لیں۔ اکثر اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی ہوتی تھی جس عمر ہوگی یہی کوئی تیرہ چودہ سال۔ جس نے کبھی سات آٹھ ماہ کا بچہ اٹھایا ہوتا تھا۔ اور کبھی بچہ اٹھانے کے لیے ساتھ اس کی چھوٹی بیٹی بھی آ جاتی اور وہ ماں بیٹیاں بھاگم بھاگ کام نبٹا لیتی۔

رانی اول تو کبھی ٹائم سے کام پر نہیں آئی اوپر سے ہفتے میں دو تین چھٹیاں اور پھر کام کے لیے اکثر اس کی وہ چودہ سالہ بیٹی آ جاتی کہ ماں کی طبیعت خراب ہے۔ خیر بات مختصر کرتے ہیں رانی کے چھے بچے تھے جن میں سے سب سے بڑی بیٹی یہ چودہ سال کی تھی اور سب سے چھوٹا بیٹا سات آٹھ ماہ کا جو ابھی شیر خوار تھا۔ رانی خود بھی کام کرتی تھی اور خاوند اس کا کسی ہوٹل پر روٹیاں لگاتا تھا۔ اور یہ چودہ سالہ بیٹی بھی کام پر تھی۔ ایک دن رانی نے انتہائی شرماتے لجاتے ہوئے کہا کہ کل سے وہ کام پر نہیں آئے گی اور اب اس کی بیٹی ہی مستقل طور پر کام پر آیا کرے گی اگلا کچھ عرصہ۔

وجہ پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ پھر امید سے ہے۔ میرا تو مارے حیرت و پریشانی کے برا حال۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس بیوقوف عورت پہ ترس کھایا جائے یا اس کی حماقت پہ غصہ کیا جائے۔ میں نے اس کو کہا کہ تم آپریشن کیوں نہیں کروا لیتی۔ پہلے ہی تمہارے چھے بچے ہیں۔ ان کا خرچ تم سے اٹھایا نہیں جا رہا۔ بیٹی تم نے کم سنی میں کام پہ ڈال رکھی ہے۔ خاوند تمہارا بیمار، خود تم ہر وقت ہائے وائے کرتی پھرتی ہو۔ مکان کے پیسے تم سے بن نہیں پا رہے اور یہ ساتواں بچہ وہ بھی اس حال میں کہ تمہارا بیٹا محض سات ماہ کا ہے جو تمہارا دودھ پیتا ہے۔ اپنا نہیں تو اس کا ہی سوچ لو؟

تو جو جواب اس نے مجھے دیا وہی اس المیے کی جڑ ہے۔

کہنے لگی ”باجی میری سس تے بندہ نہیں مندا، اوہ آہندے اللہ نراض ہندا اے۔ میری درانڑی بال بند کرن آلا پریشن کروایا ہا تے ہجے تائیں اوہندے خاباں اچ چٹیاں کپڑیاں آلے بابے اوندے تے آہندے نیں بھئی جیاں اوناں ہا تے توں انہاندا راہ ڈک کے بڑا ظلم کمیایا۔ اساں پیراں کولوں پچھیا خاب دا تے اوہناں آکھیا بھئی جیہڑا گناہ ایس بیبی پریشن کروا کے کھٹیا اے اللہ ایہندے تے رنج اے۔ تے ہنڑ کوئی ڈیگ شیگ پکاؤ ساڈے دربار تے نالے چاندی تے دس بت چاہو ہا تان جے مافی ہو جائے اللہ سوہنڑے توں“

(باجی میری ساس نہیں مانتی آپریشن کو نہ خاوند۔ کہتے ہیں اللہ ناراض ہوتا ہے۔ میری دیورانی نے آپریشن کروایا تھا تو اس کے خوابوں میں ابھی تک سفید لباس والے بزرگ آتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم نے بہت ظلم کیا ہے جو بچوں کے آنے کا راستہ بند کیا ہے۔ ہم نے جب اس خواب کے متعلق پیر صاحب سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ آپریشن کروا کے جا گناہ اس نے کیا ہے یہ اسی وجہ سے ہو رہا ہے اب دربار پر دیگیں وغیرہ پکواؤ اور چاندی کے دس بت بطور چڑھاوے دو تا کہ اللہ راضی ہو)

میں نے پوچھا کہ تمہاری دیورانی کے پہلے کتنے بچے ہیں کہتی ہے پانچ، دو بیٹے تین بیٹیاں۔ میں نے پوچھا کہ ان کی کیا عمریں ہیں اور کیا وہ سکول جاتے ہیں۔

کہنے لگی باجی سب سے بڑا بیٹا تیرہ سال کا ہے اور بیٹی بارہ سال کی۔ وہ دونوں جٹوں کے گھر کام کرتے۔ بیٹی گھر پہ ان کا بچہ سنبھالتی ہے اور بیٹا باہر ڈیرے پہ چھوٹے موٹے کام کر دیتا۔ وہ لوگ گندم چاول بھی دے دیتے ہیں، دونوں بہن بھائیوں کا روٹی کپڑا بھی اور مہینے کا پانچ ہزار بھی مل جاتا ہے۔ باقی غریب لوگ ہیں ہم سکول بھیجنے کی اوقات ہے نہ پہنچ۔ بس روزی روٹی چل جاتی ہی۔ میں نے کہا اس کا مطلب ہے ابھی سے کمائی کر رہے ہیں بچے۔ بڑے فخر سے بولی ہاں جی ہاں جی۔

رانی کے اپنے بچوں کا بھی یہی حال ہے۔

تو میں نے رانی سے کہا کہ اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ جس نے دنیا پہ آنا ہے اس کا راستہ روک کر تم گناہ کما رہی ہو تو تمہیں یہ نہیں لگتا کہ یہ بے دریغ بچے پیدا کر کے بھی تم گناہ ہی کما رہی ہو۔ کہتی ہے ہائے باجی اللہ توبہ میری وہ کیسے۔ میں نے کہا کہ وہ ایسے کہ ان کے بچپن تم لوگ رول رہے ہو۔ نہ سکول نہ دوا نا دارو۔ اوپر سے تم لوگوں نے ان کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ ان کو لوگوں کی جھڑکیاں اور مار کھانے کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔ اللہ نے ان کو بطور انسان پیدا کیا ہے جن کو تم لوگ جانور کے بچے کی طرح پال رہے ہو۔ کیا یہ گناہ نہیں ہے؟

کہنے لگی لو باجی ہم غریب لوگ ہیں ہم کیا کریں غریب کے بچے ایسے ہی پلتے ہیں۔ ہم کہاں سے لائیں سہولتیں۔ بچے تو اللہ کی دین ہیں اوپر سے حکومت بھی تو کچھ نہیں کر رہی۔ بیڑا غرق ہو حکمرانوں کا۔

میں نے کہا کہ جب پال نہیں سکتے ہو تو اتنے بچے پیدا کیوں کرتے ہو؟ کیا اللہ نے تمہیں کہا ہے کہ پیدا کرتے جاؤ یا حکومت نے کہا ہے۔ یہ سب تمہاری اپنی کرنیاں ہیں۔ جن کو تم اللہ اور حکومت پہ ڈال رہی ہو۔ اوپر سے تمہارے پیر صاحب کے فتوے۔ کبھی پیر صاحب نے تمہارے گھر راشن بھجوایا ہے؟ الٹا تم لوگوں سے ہر چھ ماہ بعد چڑھاوے لیتے ہیں۔ کبھی دربار کے نام پر تو کبھی رد بلا کے لیے۔ پیر صاحب خود کیوں نہیں پیدا کرتے اتنے بچے بقول تمہارے ان کے دو بچے ہیں اپنے۔

کہتی باجی توبہ کریں کیوں گناہ کما رہی ہیں گستاخی کر کے۔ آپ کو نہیں پتا ان کرمان والوں کا اتنا بڑا مدرسہ ہے جہاں بچیاں اور بچے پڑھتے ہیں ان کی روٹی بھی پیر صاحب کے ذمے ہے۔ تو میں کہا بیبی وہ مدرسہ بھی پیر صاحب کی دولت اور طاقت کا ایک ذریعہ ہے۔ مدرسے کے نام پہ جتنا کچھ ان کو ملتا ہے ناں اگر اس کا عشر عشیر بھی وہ ان بچوں کی تعلیم و تربیت پہ لگا دیں تو ان کی زندگیاں سنور جائیں۔ خیر یہ بات تمہاری سمجھ میں ابھی نہیں آنی۔ تم اپنے اس چھ ماہ کے بچے کا سوچو۔ جو تمہارے دودھ پر ہے۔ اور جس اللہ کی ناراضی سے ڈر کر تم یہ بچہ پیدا کرنے جا رہی ہو اسی اللہ نے قرآن مجید میں دو سال تک بچے کو ماں کا دودھ پلانے کا حکم نہیں دیا؟ کیا اس کا دودھ چھین کے تم اس کا حق نہیں مار رہی؟

دیکھو میری اپنی چھے ماہ کی بیٹی ہے اور میں انشاءاللہ اس کو دو سال تک تو پکا اپنا دودھ پلاؤں گی یہ اس کا حق ہے میری ذات پر کیونکہ میں اس کی پیدائش کا ذریعہ بنی ہوں۔ میرا فرض ہے کہ میں اس کو ہر وہ سہولت دوں جو میری پہنچ میں ہے۔ اور بطور انسان اس کو اچھی تربیت دوں۔ بطور مسلمان مجھ پہ لازم ہے کہ میں اتنے ہی بچے پیدا کروں جن کو میں بہترین انسان اور اچھا مسلمان بنا سکوں نہ کہ بچوں کی لائن لگا کر ان میں سے ایک کا بھی حق ادا نہ کر پاؤں اور پھر وہ رل کھل کے دوسروں کی جھڑکیاں اور ماریں کھاتے پھریں۔

اور پھر اگر وہ اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہو سکے تو وہ آگے بھی اپنے جیسی نسل ہی پیدا کریں گے نہ؟ تو کیا یہ گناہ نہیں ہو گا؟ کیا اللہ اس پر ناراض نہیں ہو گا؟ پتا نہیں رانی کی پلے میرا کھپ سیاپا پڑا یا نہیں مگر وہ یہ کہتے ہوئے چلی گئی کہی باجی تسی بڑیاں اوکھیاں گلاں کردے اوہ۔ اس کے بعد میں رانی سے کبھی میری ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ میں ملک چھوڑ آئی۔ اب سنا ہے اس کے ہاں ساتواں بچہ پیدا ہوا ہے۔

بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک رانی کا نہیں ہے۔ ایک پوری نسل ہے جن میں سے کوئی رانی ہے کوئی اس کی سسرال تو کوئی پیر یا مولوی صاحب۔ جو آگے تیز رفتاری سے انسانوں کی ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو نہ تو اپنے کام آ سکتے ہیں اور نہ ملک و قوم کے۔ جنہوں نے جو اپنے بچپن میں جو سہن کیا ہوتا ہے وہی وہ معاشرے کو لوٹاتے ہیں۔ بھوک، افلاس، مار دھاڑ، شدت پسندی، غربت، چھینا جھپٹی، امتیازی سلوک وغیرہ وغیرہ۔

اور میرے جیسے یہاں ان معاملات پر کڑھنے اور پھر ایسے پیروں اور مولویوں اور پھر آگے ان کے ماننے والوں یا پھر رانیوں اور اس کے گھر والوں کی گالیاں کھانے کے لیے خود کلامی کرتے رہتے ہیں کہ اتنے پیدا کرو ناں جتنے اچھے سے پال سکو۔

کیونکہ جس کی پیدائش کا سبب تم بنتے ہو اس کی پرورش اور بطور انسان بہترین پرورش کے فرائض بھی تمہاری طرف نکلتے ہیں۔ جس کو تم پیدا کرنے کا سبب بنے ہو اس کی ہزانت کا جواب بھی تم ہی کو دینا ہو گا نہ کہ ریاست دے گی۔

ہر بات کا الزام ریاست کو دینا ٹھیک نہیں ہے۔ ریاست کو گالی دے کر اپنے سر سے بوجھ اتار دینا اور اندرونی شرمندگی سے آزاد ہوجانا ہمارا قوم وتیرہ ہے۔ مانا کہ ریاست ہر طرح سے فلاحی ریاست بننے میں ناکام ہو چکی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے کیے کرائے بھی ریاست پہ ڈالی جائیں۔

کیا اللہ کے ہاں ہم یہ کہہ کر بچ جائیں گے کہ ہم غریب تھے تو پرورش کا حق ادا نہ کر سکے۔ یہ بات ایک یا تین بچوں تک تو شاید سمجھ میں آ جائے مگر ان کا کیا جو درجن درجن بچے پیدا کر کے پھر ان کو کسی چوہدری، کسی وڈیرے کسی زمیندار کسی پیر کسی یا جج وغیرہ کے ہاں چھوڑ آتے ہیں کیونکہ وہ غریب ہیں اور ان کو پال نہیں سکتے مگر ان کے ننھے ننھے وجود اور کومل ہاتھوں کی تنخواہ کھا سکتے ہیں۔ ان کے بچپن کو کسی ذہنی یا جنسی مریض کی وحشت و بربریت کی نظر کر سکتے ہیں۔ کیا ریاست نے ایسا کرنے کو کہا تھا؟

یار ریاست تو چیخ چیخ کر مر گئی ہے کہ بچے دو ہی اچھے۔ چھوٹے چھوٹے تھے ہم لوگ تب سے سرکاری چینل پر بہبود آبادی کے اشتہار دیکھ رہے ہیں۔ اب تو متعلقہ محکمہ کے علاوہ اس کام کے لیے پروجیکٹس چل رہے ہین جن کے لوگ لوگ گھر گھر جا کے آبادی کنٹرول کرنے کا سامان لوگوں کو ہاتھ باندھ باندھ کے بانٹتے پھرتے ہیں۔ لیڈی ورکرز عورتوں کی منتیں کرتی پھر رہی ہوتیں ہیں کی آپریشن کروا لو، نس بندی کروا لو مگر عورتیں ان کے ہاتھ آتی نہیں اور اگر آتی ہیں تو کسی کی ساس نہیں مانتی کسی کا شوہر۔ اور کسی کے پیر صاحب یا مولوی صاحب (پھر بعد میں یہی مولوی اور پیر صاحب کبھی مدرسوں میں تو کبھی گھروں میں جو ان بچوں کا حال کرتے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ )

اخے اللہ ناراض ہوتا ہے خدائی کاموں میں دخل اندازی سے۔ مخے اللہ نے تم کو نہیں کہا کہ بس کرتے جاؤ اور لاتے جاؤ۔ اور پھر چھوڑ دو کسی اور کے رحم کرم پر۔ جو ان کے لیے روٹی کپڑے کا انتظام کردے اور تمہارے لیے ان کی تنخواہ کا۔ وہ ان سے جو چاہے سلوک کرے۔ ان ننھے ننھے پھولوں کو اپنی وحشتوں اور حیوانیت سے مسل دے اور پھر تم اپنی غربت کا رونا رو دو۔ اور پھر معاشرہ بھی تمہارے لیے رو دے۔ دو چار مہینے کیس چلے فائل جب ڈب جائے تو چونکہ تم غریب ہو تم کیس نہیں لڑ سکتے کسی بڑے سے ٹکر نہیں لے سکتے تو تم دیت لے کر اسے معاف کر دو اور وہ حیوان پھر باہر آ کر کسی اور بچے یا بچی کی غربت کا فائدہ اٹھائے۔ اور یہ لوگ حکومت کو گالیاں دے دے کر چپ کر جائیں جو تمہیں انصاف نہ دلا سکی۔

یہی تو ہوتا ہے آیا ہے اس ملک میں اور یہی ہو رہا ہے۔ میری بات بہت سوں کو بری لگے گی۔ میں شاید بے حس ترین لگوں گی آپ لوگوں کو کہ اس دکھ کی گھڑی میں میں دکھیارے ماں باپ کے زخموں پر نمک پاشی کر رہی۔ مگر آپ کے ایسا کرنے سے یا مجھے برا بھلا کہنے سے سچ بدل جائے گا کا؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جس بھی بچی یا بچے پر کسی گھریلو ملازمت کے دوران تشدد ہوتا ہے اس کے ماں باپ بہت غریب اور بہن بھائی بہت سے ہوتے ہیں۔ تو کیا ان ماں باپ پر لازم نہیں تھا کہ اتنے بچے پیدا کریں جن کو عزت سے روٹی کھلا سکیں جن کو ننھی عمر میں ہی کسی کے ہاں ملازمت پہ نہ چھوڑنا پڑے۔ مجھے بتائیے کہ کیا حکومت نے زیادہ بچے پیدا کروائے؟

ٹھیک ہے ہمارا ملک اول روز سے ہی نا اہل اور کرپٹ لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔ مگر یہ بچے پیدا کرنے اور بے دریغ پیدا کرنے اور پھر ادھر ادھر چھوڑ دینے میں حکومت کدھر سے آ گئی۔ حکومت کو تو پچھلے پچیس سال سے ہم دیکھ رہے ہیں پیٹتے ہوئے کہ بچے دو ہی اچھے۔ اب تو ابے دریغ افزائش نسل کی روک تھام کا سامان بھی حکومت مفت میں گلی گلی بانٹتی پھر رہی۔ مفت آپریشن کی سہولت موجود ہے جس کے لیے متعلقہ اہلکار لوگوں کے ترلے کرتے پھر رہے ہوتے ہیں۔

کیوں کہ ان کے بھی ماہانہ ٹارگٹس ہوتے جن کے بارے میں رپورٹ دینا ہوتی ہے اور اس میں ناکامی پر اگلوں کی پوچھ ہوتی۔ مگر اب لوگوں کا کیا کریں کوئی رانی ہے تو کوئی اس کی ساس اور خاوند یا کوئی پیر صاحب ہے اور کچھ خوابوں میں آنے والے سفید پوش بزرگ۔ جو ان معصوم بچوں کو مناسب زندگی تو دے نہیں پاتے مگر پیدا کیے جا رہے اور پھر جب ایسے سانحے ہو جاتے ہیں تو سب مل کر حکومت کو لعن طعن کرتے ہیں کچھ دن۔ اس کے بعد کیس جب ڈوب جاتا تو یہی گھر والے غربت کے رونے رو کر دیت قبول کر لیتے۔ کسی کا کچھ نہیں جاتا۔

بس معصوم اور ننھے ننھے بچپن کچلے جاتے ہیں۔ جن کی نہ اس دنیا میں آنے میں کوئی مرضی تھی اور نہ اس بے دردی سے روندے جانے میں کوئی خطا۔ بس ہم ہی شڑاپ زدہ لوگ ہیں جو ان معصوم فرشتوں کی بے حرمتی کا سبب بنتے ہیں اور بنتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ بہت سے مہذب ملکوں کی طرح ہم بھی یہ قانون بنانے پر زور دیں کہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنا قابل سزا ہے؟ یا ابھی اور قیامتیں دیکھنا باقی ہے؟

Facebook Comments HS