خالد سہیل: ستّر سُنہری برس اور ستّر ادبی تحفے


(یہ مضمون امیر حسین جعفری کی مرتب کردہ کتاب ”ڈاکٹر سہیل: فن اور شخصیت“ کی تقریبِ پذیرائی منعقدہ ٹورانٹو، کینیڈا کے لیے لکھا گیا)

………………………………
خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار
جانے کیوں جب بھی کسی محفل یا تقریب کی دعوت ملتی ہے مجھے بے ساختہ احمد مشتاق کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے
یار سب جمع ہوئے رات کی خاموشی میں
کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا

اِس شعر کا عصری جواز یا ریلے وینس جاننے کی غرض سے بھی میں اگر آج کی اِس محفل میں موجود حضرات سے یہ سوال پوچھوں کہ کون کون رو کر آیا ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے سمیت حاضرین کی اکثریت ہاتھ اٹھا کر ’لبیک‘ کہے گی

وجہ؟

وجہ یہ کہ بے چارے سبھی شادی شدہ ہیں۔ یارانِ نو اور ”گُرگانِ کُہن“ کے اِس اجتماع میں بال بنا کر آیا ہوا ایک ہی فرد اور مسکراتا ہوا اور تمتماتا ہوا ایک ہی چہرہ دکھائی دے رہا ہے۔ اور وہ ہے آج کی تقریب کے (غیر شادی شدہ) دولہا یعنی ہمارے خالد صاحب کا جو ایک مدت سے شعبہِ ’سہیلیات‘ کے اعزازی صدر نشیں چلے آرہے ہیں۔

تفنن برطرف جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے مجھے ڈاکٹر خالد سہیل کی شخصیت میں ان کے چچا اور ہم سب کے محترم عارف عبدالمتین صاحب کی دل نشیں اداؤں کی جھلک زیادہ سے زیادہ نمایاں ہوتی دکھائی دینے لگی ہے۔ لہجے میں انھی کا سا ٹھہراؤ، طبیعت میں انھی کی سی ملنساری اور تواضع اور پھر تخلیق کاری میں اصنافی و موضوعاتی تنوع بھی انھی کی طرح۔ اور اب تو ان کی وضع قطع میں بھی مماثلت کے عناصر بڑھتے جا رہے ہیں۔

لاہور کے ادبی کوچوں کی خاک چھاننے والے پرانے دیدہ ور اس بات کی گواہی دیں گے کہ عارف صاحب بھی جوانی میں فیلٹ ہیٹ پہنا کرتے تھے جسے ہمارے ڈاکٹرصاحب اب اپنی ”نوجوانی“ میں پہن رہے ہیں۔

کیسا حُسنِ اتفاق ہے کہ اپنے ان گنت ہیٹوں میں سے انھوں نے آج جو ہیٹ پہن رکھا ) یا پہن رکھی ( ہے وہ درحقیقت عارف صاحب کے برخوردار ہمارے عزیز دوست نوروز عارف صاحب کا تھا جو نہ جانے انھوں نے کیا ”نفسیاتی حربے“ استعمال کر کے اُن سے ہتھیا لیا اور اپنے سر کی زینت بنا لیا۔ ویسے حقیقت یہ ہے کہ ابنِ عارف کا یہ عارفانہ تحفہ ہمارے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پر جچ بھی بہت رہا ہے۔

یوں تو میں بھی دھوپ کا جواز بنا کر گرمیوں میں اپنا واحد ہیٹ پہن لیا کرتا ہوں تاہم آج سے میں نے تقریبات میں ٹوپی پہن کر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سبب اس ”دُور مار فیصلے کا یہ ہے کہ تقریبات کے بعض منتظمین امتِ مسلمہ یعنی میرے خلاف سازش کرتے ہوئے لیکٹرن یعنی یہ خطابی سٹینڈ عین لائٹ کے نیچے سجانے کا اہتمام کرنے لگے ہیں میں نے پچھلی کچھ تقریبات کی تصاویر پر سرسری نظر ہی ڈالی تو منتظمین کی سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ دماغ کا تو پتہ نہیں البتہ ہر تصویر میں میرا“ گنجِ گراں مایہ ”خوب روشن دکھائی دیا۔ سو، وسیع تر قومی مفاد کے پیشِ نظر ٹوپی پہننے کا فیصلہ کیا گیا۔ حالانکہ قوم ہزار اختلاف کے باوجود اس امر پر متفق ہے کہ ٹوپی پہننے کی نہیں پہنانے کی چیز ہے۔ اب سچ بولنے کی طرح پڑ ہی گئی ہے تو یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ یہ گنجِ گراں مایہ کینیڈا کی کمائی ہرگز نہیں۔ یہ سارا خزانہ میں وطنِ عزیز ہی سے سمیٹ کر لایا تھا۔ افسوس، کسی سوِئس بنک میں اکاؤنٹ نہ ہونے کے باعث اسے کبھی چُھپا بھی نہیں پایا۔

مجھے یاد ہے یہ میرا عزیز شاعر اور خاکہ نگار دوست اعجاز رضوی تھا جس نے عشروں پہلے ساہیوال میں منعقدہ ایک تقریب میں میرا خاکہ پڑھتے ہوئے میرے ادبی ”قد کاٹھ“ کی نشان دہی کچھ اِن الفاظ میں کی تھی

میرا دوست حامد یزدانی اتنا قد آور تخلیق کار ہے کہ اس کے پست قد حریف اُس کے برابر نہیں پہنچ پاتے ورنہ وہ جان لیتے کہ یہ سر کے عین بیچ سے گنجا ہو رہا ہے

تقریب کے بعد میں نے اعجاز رضوی کا شکریہ ادا کیا اور اس کی قوتِ مشاہدہ کی داد دیتے ہوئے کہا

”تم بھی تو میرے ہم۔ عصر ہو اور قد میں بھی کچھ۔ تم پر کیسے میری“ عظمت ”کا یہ بُلند مگر کم دیدہ رُخ آشکار ہوا؟“

تو بلا تامل بولا

”پیارے، ہم لوگ جس زمانے کا یار ہیں۔ اگر دیدہ، نادیدہ سارے پوز آشکار کرنے لگوں تو وہ دستار بھی تمھارے سر سے ڈھلک جائے گی جو ابھی پہنی بھی نہیں۔“

اب میں نے خاموشی ہی میں اپنی عافیت جانی۔
ویسے خاموشی کی یہ پریکٹس شادی کے بعد میرے بہت کام آئی۔ اس کے لیے بھی اعجاز رضوی کا شکر گزار ہوں۔
خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار

میری داستانِ بے بال و پری کے تناظر میں میرے ٹوپی پہننے کا جواز تو امید ہے اب آپ کو بھی سمجھ آ گیا ہو گا مگر ڈاکٹر صاحب کے ہیٹ پہننے کی اصل وجہ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔

چاندنی شب کی طرح چمکتی ان کی لانبی زلفوں اور لٹوں کے ساتھ تو بیک وقت کئی دخترانِ خوش گِل جھولے ڈال کر ’ساون‘ کے گیت گا سکتی ہیں۔ سوچتا ہوں کہ ہیٹ پہننے کا سبب ان سے کبھی اکیلے پوچھوں گا۔ مطلب یہ کہ کبھی نہیں پوچھ پاؤں گا۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب کبھی اکیلے ہوتے ہیں نہیں۔ ہمیشہ اپنے کسی دوست یا کسی ’دوستی‘ کے ساتھ ہوتے ہیں۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ شادی کے بندھن سے آزاد ہیں گویا یہ بات پکّی ہے کہ بال بنائیں نہ بنائیں کم از کم رو کر تو محفل میں نہیں آتے۔ قدرت سے دلِ درد مند ایسا نرم پایا ہے کہ اپنی خوشی میں بھی اپنے شادی شدہ دوستوں کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔

وقتاً فوقتاً فون کر کے ان سے اظہارِ ہمدردی کا فریضہ بھی ادا کرتے رہتے ہیں۔ اپنے دیگر شادی شدہ دوستوں کی طرح مجھے بھی کئی بار زبانی کلامی ان تمام خصوصی مراعات کا حق دار قرار دے چکے ہیں جن کی سہولت ترقی یافتہ ممالک میں ”معذور“ افراد کو حاصل ہوتی ہے۔

خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ڈاکٹر صاحب کا حلقہ احباب بہت وسیع ہے۔ اس کا ایک سبب تو ان کا انسان دوست مزاج ہے جو ہر ملنے والے اور ملنے والی کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے اور دوسری وجہ ان کے تخلیقی کینوس کی وسعت ہے۔ وہ متنوع موضوعات پر لکھتے ہیں اور بہت موثر انداز میں لکھتے ہیں۔ انسانی نفسیات پر ان کی تصانیف اور کالم پڑھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ادبی دنیا میں ان کی مقبولیت کا گراف نیچے آ گیا ہے۔ وہ اس شعبے میں بھی میدان پر میدان مار رہے ہیں۔ ان کے قلم کی روانی بے مثل ہے۔ ایک ہی برس میں تین چار کتابوں کی اشاعت اور پھر مختلف موضوعات پر کالم، مضامین اور ادبی خطوط الگ سے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب سے مل کر پتہ چلا کہ فعالیت یا مستعدی بھی کینٹیجِس یعنی متعدی ہو سکتی ہے ورنہ میرے جیسا کم رفتار لکھاری جس نے اپنی کتابوں کی اشاعت میں غیرارادی طور پر پندرہ برس کا وقفہ لازم کر رکھا تھا ایک ہی سال میں دو کتابوں کی اشاعت کا سزاوار کیسے ٹھہر سکتا تھا۔ شاید یہی حرکیات کا نظریہ ہو۔ یہ تو میں بھائی امیر حسین جعفری صاحب سے پوچھ لوں گا تقریب کے بعد ۔ کیونکہ سرِ دست تو مجھے امیر بھائی کی ہمت کی داد دینا ہے کہ انھوں نے کس لگن، مہارت اور خوبی سے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے فن و شخصیت پر لکھی گئی مہکتی ہوئی رنگا رنگ تحریروں کو ایک کتابی گلدستے کی صورت میں ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی ستّرویں ( ت پر تشدید کو پوری شدت سے ادا کر رہا ہوں کہ کہیں سترویں نہ سمجھ لیا جائے۔ اسے کہتے ہیں پروفیشنل جیلیسی۔ ) مسکان

تو ان کی ستّرویں سال گرہ کے موقع پر ستّر یادگار تحریروں پر مشتمل یہ کتاب
ڈاکٹر سہیل: فن اور شخصیت

ایک کتاب نہیں بلکہ بجا طور پر ایک ادبی دستاویز ہے جو کئی جامعاتی تحقیقی مقالوں پر بھاری ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی ہفت پہلو شخصیت کی مناسبت سے اس کتاب کو بھی سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں شاعری، افسانے، ناولٹ، فلسفیانہ مضامین، خطوط، سوانح، نفسیات اور شخصیت گویا ہر موضوع کا بھرپور احاطہ کیا گیا ہے۔

اس کتاب کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ اس میں پرانے لکھنے والوں کی تحریریں بھی شامل ہیں اور نئے لکھاریوں کی بھی۔ یوں اس کتاب کے ذریعے ڈاکٹر صاحب بیک وقت کئی نسلوں سے منسلک اور مخاطب دکھائی دیتے ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ ایسی کتاب کم کم ہی نظر سے گزرتی ہے جس کا سرورق تو بلیک اینڈ وائٹ ہو مگراس کے مشمولات اس قدر رنگا رنگ ہوں کہ جن کے مقابل ہفت رنگ طیف کی بوقلمونی بھی ماند پڑ جائے۔

امیر حسین جعفری جیسے ہُنر مند اور جدید نظم گو نے یہ شان دار کتاب ترتیب دے کر جن عمدہ ادارتی صلاحیتوں اور بے لوث محبت کا ثبوت دیا ہے وہ حیران کُن بھی ہیں اور لائقِ ستائش بھی۔

انھوں نے اپنے ادبی دوست کو سال گرہ کی مبارک باد دینے کا ایک ایسا تخلیقی انداز اپنایا ہے جو ادبی دنیا میں سرگرداں منافرت اور تنگ نظری کی لہروں کو غیر موثر کر کے باہم محبت اور وسیع الظرفی کی فضا کو پروان چڑھانے کی جانب ایک احسن قدم ہے۔ اور اس قدم پر میں بھی ان کا ہم۔ قدم ہونے کا خواہاں ہوں۔

اپنے دونوں عزیز تخلیق کار دوستوں کو ”فیملی آف دی ہارٹ“ کی اس پُروقار تقریب میں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی لٹوں کی طرح بل کھاتی میری باتیں سُننے کے لیے آپ سب کا بھی شکریہ۔

بے حد نوازش۔

Facebook Comments HS